ٹرمپ کے بیان پر انڈین سوشل میڈیا میں پاکستانی وزیراعظم کا چرچا کیوں؟

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے یونین آف اسٹیٹ خطاب کے بعد انڈین سوشل میڈیا پر پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف کا ذکر غیر متوقع طور پر موضوعِ بحث بن گیا۔
ٹرمپ نے اپنے خطاب میں پاکستان اور بھارت کے درمیان ممکنہ ایٹمی جنگ کے خطرے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ “ساڑھے تین کروڑ لوگ مر سکتے تھے، پاکستان کے وزیراعظم نے کہا، اگر میں مداخلت نہ کرتا۔” اس بیان کو کئی بھارتی سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور میڈیا اداروں نے سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا، جس سے یہ تاثر پیدا ہوا کہ ٹرمپ نے براہِ راست شہباز شریف کی جان بچانے کا دعویٰ کیا ہے۔
یہی تاثر برکس کے آفیشل اکاؤنٹ کی ایک پوسٹ میں بھی نظر آیا، جہاں لکھا گیا کہ “لوگوں نے کہا پرائم منسٹر آف پاکستان جان سے جا سکتے تھے”۔ تاہم بعد میں متعدد صارفین نے اصل ٹرانسکرپٹ شیئر کر کے وضاحت کی کہ ٹرمپ کا بیان ایک ممکنہ ایٹمی جنگ کے تناظر میں تھا، نہ کہ کسی مخصوص فرد کی جان بچانے کے بارے میں۔
انڈین صحافی سیدھانت سبال نے بھی ابتدائی طور پر بیان کو مس کوٹ کیا، مگر بعد میں اپنی پوسٹ ڈیلیٹ کر کے درست ویڈیو شیئر کی۔
یہ واقعہ اس بات کی مثال ہے کہ سوشل میڈیا پر بیانات کو کس طرح سنسنی خیز انداز میں پیش کیا جاتا ہے، جس سے اصل مفہوم بدل جاتا ہے اور غیر ضروری تنازع جنم لیتا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں