جھیل، شام اور عارضی رفاقتیں /سید مہدی بخاری

یہ اُس جھیل کی کہانی ہے جو میرے پہنچنے تک سُنسان بہتی رہی۔ نیوزی لینڈ کے دور دراز علاقے میں سفر کرتا میں اس جھیل تک پہنچا تھا۔ جھیلوں سے مجھے دیوانگی کی حد تک اُلفت ہے۔ راہ چلتے مرکزی شاہراہ پر کتبہ لکھا نظر آیا ” ٹی اناو جھیل سینتالیس کلومیٹر”۔ ایک چپ چاپ تنگ سی سڑک تھی جو مرکزی شاہراہ کو چھوڑتے ہوئے دو رویہ گھنے چیڑ کے درختوں کی ہمسری میں جھیل کی جانب جا رہی تھی۔ میں نے گاڑی اس تنگ سڑک پر ڈال دی۔ دور تک ہُو کا عالم تھا۔ میں تنہا چلا جا رہا تھا۔ اور پھر سامنے جھیل کا منظر کھُلا۔ اِرد گرد ناں کوئی بشر ناں کسی ذی روح کا امکاں۔ بس جھیل تھی اور میں تھا۔ شام ڈھل رہی تھی۔ اس ویرانے میں پڑاؤ ڈالنا میرے پلان میں شامل نہیں تھا۔
آدھ گھنٹہ گذرا ہو گا کہ ایک وین اس جانب آتی دکھائی دی۔ میں الرٹ ہو گیا کہ اس سُنسان مقام پر کون آ گیا۔ اندر سے ایک درمیانی عمر کا شخص نکلا۔ اس نے مجھے دور سے “ہیلو” بولا۔ میں نے اس سے دور سے ہی ہائے کہا اور پھر وہ شخص اپنے کام میں مصروف ہو گیا۔ وہ میری طرح کا کوئی دیوانہ تھا۔ اس نے وین میں سے چھوٹی کیاک (کشتی) نکالی اور جھیل میں ڈال دی۔سورج بادلوں میں جا چھُپا تھا۔ وہ جھیل میں اُترا تو جھیل زندہ ہونے لگی۔ میں ٹرائی پوڈ لگا کر کنارے کھڑا ہو گیا اور آسمان کے بدلتے رنگ دیکھنے لگا۔ کیاک جھیل میں گھومتی رہی۔ اک بار اُس نے مجھے جھیل سے آواز دی
” تم فوٹوگرافر ہو میری تصویر لے لو۔ میں تم سے لے لوں گا۔”
میں نے تصویر اُتار لی۔کچھ دیر بعد کنارے پر آ کر اس نے کیاک کو واپس وین میں ڈالا۔ میرے پاس آیا۔ اپنا تعارف کروانے لگا اور پھر رخصت ہو گیا۔ وہ ایک مقامی شخص تھا جو اس جھیل سے نوے کلومیٹر دور کسی چھوٹے سے قصبے کا رہائشی تھا۔اس نے بتایا کہ وہ اکثر اس جھیل پر آ جاتا ہے وجہ بس یہ کہ یہ جھیل اسے تنہا ملتی ہے وگرنہ تو اس کے اطراف کئیں جھیلیں ہیں جو سیاحوں سے آباد رہتی ہیں۔ پھر جاتے جاتے مجھے بولا
“سورج غروب ہونے سے قبل چلے جانا ورنہ یہ جھیل تم کو ڈبو دے گی۔ ہاہاہا”
وہ جا چکا تو اک بار پھر جھیل میری ملکیت ہو گئی۔ میں گئے زمانوں میں جا کر اُن جھیلوں کو یاد کرتا رہا جہاں میرے قدم بنا کسی پلان کے پڑ چکے تھے۔سردی کی شدت میں اضاٖفہ ہوا جاتا تھا۔ میں بُت بنا منظر میں گُم تھا کہ نجانے کب پیچھے سے ایک مردانہ آواز گونجی
” ہیلو، گڈ ایوننگ۔”
میں نے دیکھا تو ایک شخص قریب ہی گاڑی پارک کئے کھڑا تھا۔ میں نے اسے گڈ ایوننگ کہا۔ یہ چینی نژاد شخص تھا۔
” تم یہاں فوٹوگرافی کر رہے ہو َ؟۔ میں نے دور سے دیکھا تو چلا آیا۔”
ہاں ۔ بس میں بھی اس جانب یونہی چلا آیا۔ مگر جھیل خوبصورت ہے۔
“ہاں۔ میرا نام لی ہے۔ میں تایئوان سے ہوں اور یہاں جاب کرتا ہوں”
میرا نام سید مہدی بخاری ہے ۔ میں پاکستان سے ہوں اور یہاں یونہی ہوں۔
“ہاہاہاہا۔ گڈ۔ تم فوٹوگرافر ہو۔ ٹورسٹ ہو۔ یونہی تو یہاں نہیں ہو۔”
لی نے کافی دیر وہاں قیام کیا۔ وہ موبائل سے تصاویر لیتا رہا اور میرے ساتھ گپ شپ کرتا رہا۔ وہ انجینئیر تھا اور یہاں کی شہریت لے چُکا تھا۔ یکایک مجھے ایک خیال آیا۔ میں نے سوچا کہ اس کو فریم میں شامل کر کے ایک تصویر لی جائے۔
لی۔ تم ذرا اس بوٹ ریمپ پر جا کر کھڑے ہوتے ہو ؟ مجھے بس ایک تصویر لینا ہے۔
“ہاں ہاں۔ لی تمہارے لئے جھیل میں بھی کھڑا ہو سکتا ہے۔ تم کہو تو سہی”
میں نے اس کی اس بات پر قہقہہ لگایا تو لی نے بھی باچھیاں پھیلا دیں۔ پھر وہ بوٹ ریمپ پر چلنے لگا۔اور میرے بتائے ہوئے پوز میں کھڑا ہو گیا
لی ۔ تم نے پندرہ سے بیس سیکنڈز سانس روک کر ایکدم ساکت رہنا ہے۔ اگر ہلے تو تصویر بلر ہو جائے گی۔ اوکے ؟
“اوکے۔ کیا میں گنتی کر سکتا ہوں ؟”
لی شغل مزاج آدمی تھا۔ وہ ساکت کھڑا رہا اور اونچی اونچی گنتی کرتا رہا۔
تصویر دیکھ کر بہت خوش ہوا اور مجھے واٹس ایپ دے کر بولا
” مجھے گھر جانا ہے۔ یو ناؤ ناں کہ وقت پر گھر ناں پہنچو تو ڈارلنگ کیا کیا سوچنے لگتی ہے ؟”
ہاہاہا ۔ ہاں میں جانتا ہوں۔ تم جاؤ اس سے قبل کہ وہ “کیا کیا” سوچنے لگے۔
میں اک بار پھر جھیل پر تنہا رہ گیا۔ سورج ڈھل چکا تھا۔ شام کے سائے لمبے ہو رہے تھے۔ میں سوچ رہا تھا کہ اب اس جھیل کو خیر باد کہہ کر اپنی منزل کی جانب چلنا چاہیئے۔اتنے میں ایک کار آتی دکھائی دی۔ وہ قریب آ کر رُکی۔ اندر سے ایک لڑکی نکلی۔ اس نے مجھے دیکھا۔
“گڈ ایوننگ۔ کیا یہی ٹی اناو جھیل ہے ؟”
گڈ ایوننگ۔ ہاں یہی جھیل ہے۔
“اوہ۔ میں لیٹ ہو گئی۔ میں اسے سن سیٹ پر دیکھنے آئی تھی”
نہیں۔ تم نے کچھ بھی نہیں کھویا۔ سورج بادلوں کے پیچھے ہی ڈوب گیا۔ یقین مانو سن سیٹ تم نے مِس نہیں کیا۔
“اوہ۔ میرا نام کیتھرین ہے۔ میں سٹوڈنٹ ہوں اور نارتھ آئی لینڈ میں دارلحکومت ولنگٹن میں رہتی ہوں۔”
میں سید مہدی بخاری ہوں اور ٹورسٹ ہوں۔
“اچھا۔ تم کہاں سے آئے ہو ِ؟”
پاکستان
“اچھا۔ تو تم فوٹوگرافر ہوِ؟”
ہاں۔ بس شوقیہ۔
“اچھا۔ اب مجھے بچا کچھا سن سیٹ دیکھنا ہے۔”
ضرور۔
وہ بوٹ ریمپ پر چلی اور آخر میں جا کر ٹانگیں لٹکائے بیٹھ گئی۔ میں کنارے پر سگریٹ پینے لگا۔ پانچ منٹ گذرے ہوں گے کہ اس نے گردن گھُما کر دیکھا۔
“اوہ تھینک گاڈ تم یہیں ہو۔ میں جھیل میں مگن ہو گئی تھی۔ پھر اچانک دھیان آیا کہ رات آ رہی ہے اور تم کہیں چلے ناں گئے ہو۔یہ سڑک بھی ساری سُنسان سی ہے”
اچھا۔ میں اس انتظار میں ہوں کہ ایک آخری تصویر لوں اور پھر چلوں۔
“سوری۔ سوری۔ سوری۔ تم میری وجہ سے رُکے ہوئے ہو ؟ مجھے اس کا خیال ہی نہیں رہا کہ میں کیمرے کے سامنے جا کر بیٹھ گئی ہوں۔سوری۔ میں جا رہی ہوں بس تم جتنی مرضی تصاویر لے لو”۔
نہیں۔ تم چاہو تو وہیں بیٹھی رہو۔ بس حرکت ناں کرنا۔ مجھے پندرہ بیس سیکنڈز کی ایک تصویر لینا ہے۔
“گڈ۔ میں ریڈی ہوں۔ مجھے بتا دینا جب سٹارٹ کرنا ہوا ،میں سٹل رہوں گی”
شام گہری ہو گئی۔ کیتھرین سردی سے کانپتی اپنی گاڑی میں جا بیٹھی اور بولی
“مرکزی سڑک تک ساتھ ساتھ آگے پیچھے چلتے ہیں۔ پھر تم اپنے راستے چلے جانا”
ہاں ٹھیک ہے۔
مڑتے ہوئے میں نے جھیل پر آخری نظر ڈالی۔آسمان کا آلاؤ بُجھا چاہتا تھا۔ اس جھیل نے آج کیسے کیسے رنگ دکھائے تھے اور کن کن لوگوں سے ملوایا دیا تھا۔کسی بھی جھیل سے رخصت ہوتے میں نجانے کیوں اُداس ہو جاتا ہوں۔
پھرے در بدر شاید در و بام کی اُداسی
میرے بعد کیا کرے گی میرے نام کی اُداسی
کیتھرین نے ہارن بجایا۔
“کیا ہُوا ؟ تم نے یہاں رُکنا ہے یا چلنا ہے ؟”
ہاں چلنا ہے۔ مسافر کو قیام سے کیا غرض۔
دو گاڑیوں کا قافلہ مدھم پیلی ہیڈ لائٹس کی روشنی میں سنسان سڑک پر چلتا رہا اور پھر شاہراہ آ گئی۔
شام جب ڈھل گئی اور میں اور میری ساتھی کیتھرین جھیل سے وداع ہو کر مرکزی سڑک پر پہنچے جہاں سے ہمارے راستے جُدا ہونے تھے تو وہیں ایک کیمپر وین (مسافر وین رہائشی سہولیات کے ساتھ) رُکی، مرد نے ڈرایئونگ سیٹ پر بیٹھے ہاتھ کے اشارے سے مخاطب کرتے کہا “کیا تم جھیل سے آ رہے ہو ؟ اگر ہاں تو ہمیں بتاؤ وہ کیسی جگہ ہے، کیا وہ دیکھنے لائق ہے ؟”۔ میں اسے کہنے لگا کہ ہاں جھیل خوبصورت ہے۔ اس کی ساتھی یا بیوی نے اب کے گاڑی کے اندر سے آواز دی “کیا وہاں مکمل تنہائی ہے یا جھیل کنارے ہوٹلز و ریسٹورانٹس ہیں ؟”۔ میں نے کہا کہ مکمل تنہائی ہے۔ جواب آیا “تھینکس گاڈ، اسی کی تلاش میں تو ہم نکلے تھے۔ چلو سمتھ جھیل پر چلتے ہیں”۔
کیمپر وین جھیل کی جانب مڑ گئی۔ رات کے سائے پھیل رہے تھے۔ گاڑیوں کی ہیڈ لائٹس آن ہو گئیں تھیں۔ اس تنہا پتلی سڑک پر ایک تنہا جھیل کی جانب ایک تنہا گاڑی چلی جا رہی تھی۔ شاید ایسی ہی راتیں میں ویرانوں میں، جھیلوں کنارے بِتانا چاہتا تھا۔ ایک لمحے کو خیال آیا کہ میں بھی پھر سے واپس مڑ جاؤں اور رات وہیں جھیل کنارے گزار لوں، پھر خیال آیا کہ ان دونوں کے پاس تو کیمپر وین ہے میں اپنی چھوٹی سی گاڑی میں سیٹ لمبی کیے نہیں سو پاؤں گا۔ پھر یخ سرد ہوا کا جھونکا آیا جس نے میرے خیال کو تقویت دے دی۔ میں نے وہ جھیل ہمیشہ کے لئے چھوڑ دی۔اب یہ جھیل خوابوں میں آتی ہے۔۔
نوٹ: یہ تینوں تصاویر بدلتے وقت کے ساتھ بدلتے کرداروں کی ہیں۔ ایک خالی ریمپ کی تصویر ہے کہ میں نے اسے پہلی نظر میں تنہا ہی دیکھا تھا۔جھیلیں مزاج میں تنہا ہی ہوتیں ہیں۔ پل بھر کو کوئی رکتا ہے۔ دیکھتا ہے۔ چھُوتا ہے اور پھر اپنی منزل کو روانہ ہو جاتا ہے۔ پیچھے رہ جاتی ہیں یادیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں