آج سہ پہر یہ فقیر سائبان کی ادبی بیٹھک کے نعتیہ مشاعرہ میں شریک تھا کہ معأ میرے سیل کی سکرین روشن ہوئ ۔ دوسری طرف اکادمی ادبیات کی صدر نشین محترمہ نجیبہ عارف تھیں ( جن سے احترام و موانست کا پرانا تعلق ہے اور اکادمی سے ہزار اختلاف کے باوصف، میں ان کے اچھے کام اور بعض تحرک آفریں اقدامات کا دل سے قائل) ۔ خیر رسمی دعا سلام کے بعد انہوں نے فرمایا کہ آپ کو چند روز قبل ایک برقی سندیسہ بھجوایا گیا تھا کہ اس برس کے تمغۀ حسن۔کارکردگی کیلۓ اپنے کوائف اور رضامندی بھجوائیں جس کے جواب کا شدت سے انتظار ہے اور میں نے اسی امر کی یاددہانی کیلۓ آپ کو کال کی ہے۔ میں نے عرض گزاری کہ سرکار دربار اور نظام۔جاریہ کی بابت میرے معلوم مؤقف کو جانتے ہوۓ بھی ۔ ! فرمانے لگیں کہ ہاں آپ کا تخلیقی کام اور مسلسل ادبی خدمات اس امر کی متقاضی ہیں کہ ان کا اعتراف کیا جاۓ ۔ تس پر میں نے گزارش کی آپ کی محبت اور خوش گمانی کا دلی شکریہ لیکن میں تو ” نہ صلے کی تمنا نہ ستائش کی پروا” قسم کا درویش ہوں ۔ دوسرے ان اعزازات کے عطا کیۓ جانے میں برسوں سے جو بندر بانٹ اور ناانصافی روا رکھی جارہی ہے اور بہت سے اہل اور مستحق ادیبوں کو جس طرح متواتر نظرانداز کیا جارہا ہے، اس پر میرا اصولی اور اخلاقی فریضہ یہی ہے کہ میں اس ‘ کلب ” کا حصہ بننے سے انکار کردوں (حالانکہ مجھے اپنی ذاتی ضرورتوں اور سائبان تحریک کے ہر آن پھیلتے منصوبوں کیلیۓ پائ پائ کی ضرورت ہے اور برسوں سے میرا کوئ ذریعۀ روزگار ہے نہ آمدن کی صورت ، بس جمع جتھا ہی کی کھرچن پر کفایت ہے۔) موصوفہ فرمانے لگیں کہ آپ کا روۓ سخن کس جانب ہے تو میں نے ترت جواب دیا کہ یوں تو ایک لمبی فہرست ہے لیکن فوری طور پر جو ناانصافیاں/غلط بخشیاں ذہن میں آتی ہیں ان کی رو سے خالد شریف، حلیم قریشی ، غلام حسین ساجد اور اعتبار ساجد کے ہوتے ہوۓ، شکیل جاذب، خالد مسعود (تک بند) اور عنبرین حسیب عنبر کو یہ اعزاز ات کس استحقاق کی بنیاد پر عطا ہوۓ اور چند پیران۔تسمہ کو سال بہ سال کس نمایاں ادبی ادبی کارنامے پر ایک کے بعد ایک اعلی ترین خلعت پہنادی جاتی ہے جبکہ ناصر عباس نیئر اور سلیم شہزاد ایسے ہمہ جہت تخلیق کاروں کو محض تمغۀ امتیاز کی ریوڑی پر ٹرخا دیا جاتا ہے !! اس پر موصوفہ نے فرمایا کہ ہمارا کام تو سفارشات بھجوانا ہے، حتمی فیصلے تو کہیں اور ہوتے ہیں ۔ دوسرے یہ کہ نامزدگی اور سفارش کیلۓ سنیارٹی کے علاوہ مجوزہ شخص کے کام اور امپیکٹ کو بھی ملحوظ رکھا جاتا جو آپ کے کیس میں بہت مضبوط ہے ۔ سو آپ پہلی فرصت میں اپنے مطلوبہ کوائف اور اپنی رضامندی سے آگاہ کریں۔ میں نے مؤدبانہ عرض گزاری کہ آپ کی تحسین اور قدر افزائ کا بار۔دگر شکریہ لیکن مجھے اس ‘رضا’ کیلۓ معزور ہی سمجھا جاۓ کہ یہ فقیر ایک بار پہلے بھی اس خلعت کا بار اٹھانے سے انکار کرچکا ہے۔ جس پر انہوں نے بہ کمال۔مہرپانی ارشاد فرمایا کہ میں آپ کو مجبور تو نہیں کرسکتی لیکن ہماری دلی خواہش تھی کہ اس بار یہ اعزاز آپ کو ملے جس پر میں نے ایک بار پھر ان کا شکریہ ادا کیا اور فون بند کردیا۔
لگے ہاتھوں اس اعزاز کیلۓ کی گئ پہلی پیشکش کا احوال بھی سن لیجیۓ۔ اس صدی کے آغاز میں جب یہ خاک بہ سر پاک ٹی ہاؤس کی بحالی تحریک کی ‘اگواہی’ کررہا تھا ( اس جرم کی پاداش میں اس فقیر پر دو مقدمات بھی قائم ہوۓ جنہیں مختلف سطحوں پر ابھی تک بھگت رہا ہوں) ایک صبح اسلام آباد سے سےاس وقت کے صدر نشین اکادمی ادبیات پاک ٹی ہاؤس آن پہنچے اور بتایا کہ ادیبوں کے سڑک پر آنے اور بین الاقوامی میڈیا پر اس کی پرزور کوریج سے حکومت کیلۓ بہت پریشانی پیدا ہورہی ہے، سو ‘ملکی مفاد میں’ اسے معطل یا مدھم کردیا جاۓ۔ اس فقیر نے عرض کی کہ ہمارے کوئ سیاسی عزائم ہیں نہ ملک کی بدنامی مقصود۔ ہم تو فقط ٹی ہاؤس کی بحالی اور اسے ٹائروں کی دکان میں تبدیل کرنے سے باز رکھنے کے مشن پر ہیں اور اس پر کوئ سمجھوتہ ممکن نہیں۔ یہ سنتے ہی موصوف نے مجھے ایک طرف لے جاکر اپنے معروف ریشمی لہجے میں لالی پاپ دیا : ‘مجروح بھائ! آپ کن جکروں میں پڑگۓ، ہم تو اس مرتبہ آپ کو تمغۀ حسن کارکردگی دلوانے کا سوچ رہے ہیں ” جس پر میرا فوری رد۔عمل تھا “Over my dead body” ۔
بخدا ! اس واقعہ کو بیان کرنے میں کسی خودستائ کو دخل ہے نہ کسی نوع کی حرف زنی مقصود ، بل کہ مدعا فقط یہ ہے کہ یہ ادبی اعزازات جو مملکت کی امانت ہوتے ہیں اور اسی باعث محترم بھی، صرف اور صرف میرٹ پر عطا ہوں نا کہ اندھے کی نیاز کی طرح لٹا دیے جائیں ۔ اس بندر بانٹ پر یہ فقیر ماضی میں بھی واشگاف الفاظ میں آواز بلند کرتا رہا ہے اور آئندہ بھی خاموش نہیں رہے گا کہ ادب میں اس خاک بسر اور سائبان تحریک کا ایک ہی مطمع۔نظر ہے : ادب کا فروغ، ادیب کی فلاح۔
بشکریہ فیس بک وال


