ادھورا دائرہ/مقصود جعفری

کمرے کی چھت پر لٹکا ہوا بلب کسی خودکشی کرتے ہوئے سورج کی طرح زرد تھا۔ دیوار پر لگی کیل سے لٹکی ہوئی قمیض اب ایک پھانسی گھاٹ معلوم ہوتی تھی اور کمرے کی حبس زدہ خاموشی میں پنکھے کے تینوں پر کسی زخمی پرندے کی مانند ہوا کو کاٹ رہے تھے۔ مرد، جس کے جبڑے ابھی تک ایک انجانے تناؤ سے جکڑے ہوئے تھے، بستر کے کنارے بیٹھ گیا۔ اس کی آنکھوں میں وہ مخصوص خالی پن تھا جو فتح کے فوراً بعد شکست کے احساس سے جنم لیتا ہے۔اسے لگ رہا تھا جیسے اس کی ریڑھ کی ہڈی میں پگھلا ہوا سیسہ اتر رہا ہو۔کمرے میں سیگریٹ کے دھوئیں اور پسینے کی ایک ایسی ملی جلی بو تھی جیسے کسی نے کچی قبر پر عطر چھڑک دیا ہو۔
اس نے پہلو میں دیکھا۔ وہ عورت، جو اب ایک سمٹی ہوئی لکیر کی مانند اس کے پہلو میں ساکت تھی، اس کے لیے اب کوئی معمہ نہیں رہی تھی۔ تھوڑی دیر پہلے تک جو بدن ایک شعلہ تھا، اب وہ راکھ کی ایک ڈھیر کے سوا کچھ نہ تھا۔ وہ عورت، جو اب محض گوشت کا ایک ڈھیر تھی، اپنی بکھری ہوئی زلفوں کے پیچھے سے اسے دیکھ رہی تھی۔ اس کی آنکھیں دو خالی پیالے تھے جن میں کائنات کا سارا زہر تھر تھرا رہا تھا۔تم کیا سوچ رہے ہو؟۔ عورت کی آواز ریشم کی طرح نرم تھی، مگر اس مرد کے کانوں میں یہ آواز کسی پرانے دروازے کی چولوں کی طرح چبھ گئی۔
اس نے پہلو بدلا۔ کھڑکی سے چھنتی ہوئی چاندنی نے عورت کے چہرے پر ایک ادھورا عکس ڈالا تھا۔ مرد نے سوچا۔ کیا یہ وہی ہے جس کے لیے میں نے زمانوں کی خاک چھانی تھی؟ یا یہ محض مٹی کا ایک برتن ہے جسے میں نے اپنی پیاس بجھانے کے لیے توڑ دیا ہے؟۔اس نے جواب نہیں دیا۔ اس کے ذہن میں ایک عجیب سا عمل جاری تھا۔ اسے لگا جیسے اس کا اپنا وجود پگھل کر بستر کی چادر میں جذب ہو رہا ہے۔ وہ اب ایک گوشت پوست کا انسان نہیں رہا تھا، بلکہ ایک گہری، کالی کھائی بن چکا تھا جس میں صدیاں گر رہی تھیں۔
کچھ بولو نا۔۔۔ عورت نے اپنا ہاتھ اس کے سینے پر رکھا۔مرد کو محسوس ہوا جیسے اس کے سینے پر کوئی گرم چٹان رکھ دی گئی ہو۔ اس نے آہستہ سے اس کا ہاتھ ہٹا دیا۔کچھ نہیں، بس تھکن ہے۔یہ جھوٹ تھا۔ وہ تھکن نہیں تھی، وہ ایک اذیت ناک آگہی تھی۔ اسے محسوس ہو رہا تھا کہ اس ملاپ نے اسے مکمل نہیں کیا، بلکہ اسے مزید ادھورا کر دیا ہے۔ایک گہری گھٹن، جہاں ہر خواہش ایک گناہ کی چادر اوڑھ کر جنم لیتی ہے، اب اس کے اعصاب پر سوار تھی۔ اسے اپنی ہی سانسوں سے اجنبی بو آنے لگی—ایک ایسی بو جو شاید صدیوں کے دبے ہوئے تضادات کی تھی۔
کیا تمہیں لگتا ہے کہ ہم نے ابھی کچھ فتح کیا ہے؟ مرد کی آواز کسی ٹوٹے ہوئے گلاس کی کرچوں کی طرح فرش پر بکھر گئی۔عورت نے ایک لمبا سانس لیا، جیسے پھیپھڑوں میں ہوا نہیں بلکہ ریت بھر رہی ہو۔ ہم نے صرف وقت کا قتل کیا ہے، اور اب اس کی لاش ہمارے درمیان پڑی سڑ رہی ہے۔مرد اٹھا اور ننگے پاؤں فرش پر ٹہلنے لگا۔ ٹھنڈا فرش اسے کسی برفیلے سمندر کی طرح کاٹ رہا تھا۔ اس نے میز پر پڑا ہوا ایک اخبار اٹھایا اور اسے چیرنا شروع کر دیا—ٹکڑے، مزید ٹکڑے، چھوٹے چھوٹے سفید پرندے۔تمہارے اس سماج میں، اس نے ایک ٹکڑا ہوا میں اچھالا۔عورت ایک پیاز کی طرح ہے۔ ہم چھلکے اتارتے ہیں، تہیں کھولتے ہیں، اس امید میں کہ اندر کوئی ہیرا ملے گا، مگر آخر میں صرف آنسو بچتے ہیں اور ہاتھ خالی رہ جاتے ہیں۔
عورت ہنسی۔ وہ ہنسی نہیں تھی، ایک پرانے انجن کے سٹارٹ ہونے کی آواز تھی۔ اور مرد ؟ ، مرد وہ اشتہار ہے جو دیوار پر چسپاں تو ہے مگر بارش کے پہلے قطرے کے ساتھ ہی اس کی رنگت اڑ جاتی ہے۔ تم ابھی مجھ سے ملے ہو، یا مجھ سے بھاگے ہو؟مرد نے الماری کا دروازہ زور سے مارا۔ دھماکہ ہوا۔ اسے لگا جیسے اس کے اندر کا سارا نظام درہم برہم ہو گیا ہے۔ گلیوں کی وہ مخصوص باس، وہ کچلے ہوئے جذبات، وہ مسجدوں کے سپیکروں سے نکلتی تادیبی آوازیں اور چوراہوں پر کھڑے پولیس والوں کی نظریں—سب اس وقت اس کے بستر کی سلوٹوں میں گھس آئے تھے۔مجھے گھٹن ہو رہی ہے۔ وہ چلایا۔یہ جو ہم نے کیا، یہ ضرورت تھی یا سزا؟
یہ احتجاج تھا۔ عورت نے تکیے کے نیچے سے ایک مرجھایا ہوا پھول نکال کر اسے سونگھا۔اپنی موجودگی کا احتجاج۔ ہم جب ایک دوسرے میں دھنستے ہیں، تو دراصل ہم خدا کو ڈھونڈ رہے ہوتے ہیں، مگر ملتا ہمیں صرف ایک دوسرے کا پسینہ ہے۔بکواس ! شٹ ! مرد نے میز پر پڑا پانی کا گلاس فرش پر دے مارا۔ شیشہ پاش پاش ہو گیا۔ ہم صرف دو جانور ہیں جنہوں نے انسانوں کے کپڑے پہن رکھے ہیں۔ یہ ملاپ ایک دھوکہ ہے۔ ایک کائناتی مذاق۔وہ دیوار کے پاس گیا اور وہاں لگے ایک پرانے کیلنڈر کو پھاڑ کر اس پر اپنے خون سے (جو شیشے کے لگنے سے اس کے پاؤں سے بہہ رہا تھا) ایک دائرہ بنایا۔
یہ ہے کائنات ! اس نے چیخ کر کہا۔ ایک دائرہ ! جس کا نہ آغاز ہے نہ انجام۔ ہم اس کے اندر قید ہیں۔ تم، میں، یہ بستر، یہ غلیظ بو۔ عورت تھوڑی دیر خاموش رہی، پھر دبی آواز میں بولی۔تمہیں پتا ہے، اس لمحے مجھے لگتا ہے جیسے میں مر گئی ہوں۔ ایک ایسی موت جو زندگی سے زیادہ خوبصورت ہے۔مرد کے لبوں پر ایک تلخ مسکراہٹ آئی۔موت خوبصورت نہیں ہوتی۔ وہ صرف خاموش ہوتی ہے۔ اور ہم اس وقت خاموشی سے ڈر رہے ہیں، اسی لیے باتیں کر رہے ہیں۔
تم ہمیشہ فلسفہ کیوں جھاڑتے ہو؟۔ عورت نے شکوہ کیا۔فلسفہ نہیں ہے۔ اس نے چھت کی طرف اشارہ کیا۔وہ دیکھو، اس پنکھے کی گردش میں ایک جبر ہے۔ ہم بھی اسی جبر کے قیدی ہیں۔ ہم ملتے ہیں تاکہ جدا ہو سکیں، ہم پا لیتے ہیں تاکہ کھونے کا دکھ سہہ سکیں۔ یہ جو ابھی ہم نے کیا، یہ ملاپ نہیں تھا، یہ ایک دوسرے سے فرار کی کوشش تھی۔
کمرے کی دیواریں اب آہستہ آہستہ قریب آتی محسوس ہو رہی تھیں۔ مرد کو لگا جیسے وہ کسی تنگ نالی میں پھنس گیا ہے۔ اسے اپنے باپ کی آوازیں سنائی دینے لگیں، اپنے بزرگوں کی نصیحتیں، مسجد کے مینار سے اٹھتی ہوئی صدا، اور گلیوں میں پھیلی ہوئی وہ اخلاقیات جو اس وقت اس کے بستر کے چاروں طرف کسی جلاد کی طرح کھڑی تھیں۔اس نے محسوس کیا کہ اس کے پہلو میں لیٹی عورت اب عورت نہیں رہی، بلکہ ایک آئینہ بن گئی ہے۔ ایک ایسا آئینہ جس میں اسے اپنا اصل چہرہ نظر آ رہا تھا—ایک ایسا چہرہ جو کئی تہوں میں چھپا ہوا تھا، جس پر کئی نقاب تھے، اور جو اس مختصر سے جسمانی عمل کے بعد بالکل برہنہ ہو گیا تھا۔اسے گھٹن ہونے لگی۔ اسے لگا کہ اگر وہ فوراً اس کمرے سے نہیں نکلا تو یہ دیواریں اسے کچل دیں گی۔
عورت نے اسے بغور دیکھا اور پھر بستر سے اٹھی۔ اس کا بدن اب کسی پینٹنگ کے بے ترتیب رنگوں کی طرح لگ رہا تھا۔ اس نے اس کے قریب آ کر اس کے ماتھے پر بوسہ دیا، مگر وہ بوسہ نہیں تھا، ایک ٹھنڈا لیپ تھا۔جاؤ، اب تم آزاد ہو۔ اپنی قید میں واپس جاؤ۔وہ تیزی سے اٹھا اور اپنے بکھرے ہوئے کپڑے سمیٹنے لگا۔ اس نے قمیض کے بٹن بند کیے اور جوتے پہنے۔ اس کی حرکات میں ایک ایسی بے رحمی تھی جیسے وہ کسی جرم کے مقام سے ثبوت مٹا رہا ہو۔ اس کا ہاتھ کانپ رہا تھا۔ اس نے اپنی پتلون کی جیب میں ہاتھ ڈالا تو اسے کچھ محسوس ہوا۔اس نے باہر نکالا۔ وہ اس کی اپنی زبان تھی۔ایک کٹی ہوئی، لہو لہان زبان اس کی ہتھیلی پر پڑی تھی۔ اس نے آئینہ دیکھا۔ اس کا منہ بند تھا، سلا ہوا تھا۔ وہ چیخنا چاہتا تھا مگر آواز نہیں نکل رہی تھی۔
وہ دروازے تک پہنچا اور ہینڈل پر ہاتھ رکھا۔اس نے کمرے کا دروازہ کھولا تاکہ باہر بھاگ سکے۔ مگر باہر گلی نہیں تھی۔ باہر ایک لامتناہی گہرائی تھی، ایک کالا خلا، جس میں کروڑوں اخبار کے ٹکڑے اڑ رہے تھے اور ان سب پر صرف ایک ہی لفظ لکھا تھا۔کچھ بھی نہیں۔اسے محسوس ہوا کہ وہ خود بھی اخبار کا ایک ٹکڑا بن چکا ہے جس پر کسی نے سیاہی کا ایک بڑا سا دھبہ لگا دیا ہے۔اس نے مڑ کر بستر کی طرف دیکھا۔چاند کی روشنی اب پورے بستر پر پھیل چکی تھی۔ لیکن وہاں کوئی عورت نہیں تھی۔بستر بالکل ہموار اور صاف تھا۔ چادر پر ایک بھی شکن نہیں تھی۔ تکیہ اپنی جگہ پر ساکت تھا۔ کمرے میں صرف وہ اکیلا تھا، اور پنکھے کی وہی تھکی ہوئی آواز۔
اس نے اپنے ہاتھوں کی طرف دیکھا۔ وہ پسینے سے تر تھے، مگر ان میں کسی دوسرے وجود کی لمس کی کوئی رمق نہیں تھی۔ اسے ادراک ہوا کہ وہ پچھلے کئی گھنٹوں سے اس خالی کمرے میں، ایک تصوراتی عورت کے ساتھ، اپنی ہی تنہائی سے ہم آغوش تھا۔اس نے باہر جانے کے بجائے دروازے کو اندر سے لاک کر دیا اور دیوار کے ساتھ لگ کر بیٹھ گیا۔ اندھیرے میں اسے ایک زوردار قہقہہ سنائی دیا—یہ اس کا اپنا ہی قہقہہ تھا جو اب کمرے کی خاموشی میں گونج رہا تھا۔اس نے جیب سے ماچس نکالی اور ایک تیلی جلائی۔ تیلی کی روشنی میں اس نے دیکھا کہ سامنے والے آئینے میں اس کا عکس غائب تھا۔ آئینہ بالکل خالی تھا، جیسے وہاں کبھی کوئی تھا ہی نہیں۔اس نے بجھتی ہوئی تیلی اپنی ہتھیلی پر رکھ لی۔ جب گوشت جلنے کی بو آئی، تب اسے یقین ہوا کہ وہ زندہ ہے، مگر صرف ایک درد کی صورت میں۔

اپنا تبصرہ لکھیں