رات کے سناٹے میں بنگلور ریلوے اسٹیشن ایک عجب دنیا کا منظر پیش کر رہا تھا۔ پلیٹ فارم پر مسافروں کی نیم خوابیدہ چہل پہل، کہیں سامان گھسیٹنے کی آواز، کہیں بچوں کی مدہم سرگوشیاں اور کہیں چائے والوں کی آخری صدائیں۔یہ سب مل کر ایک ایسا سماں باندھ رہے تھے جس میں بیداری اور خواب کے درمیان ایک لطیف سی سرحد کھنچی ہوئی تھی۔ ہم نے میسور کے لیے اپنی ٹرین پکڑی تو یوں محسوس ہوا جیسے ہم محض ایک شہر سے دوسرے شہر نہیں جا رہے بلکہ وقت کی ایک نئی پرت میں داخل ہو رہے ہوں۔ٹرین نے جیسے ہی بنگلور کی شہری حدود کو پیچھے چھوڑا، منظرنامہ یکسر بدلنے لگا۔ قدرت نے آہستہ آہستہ اپنا دامن پھیلایا۔ سرسبز کھیت، قطار در قطار ناریل کے درخت، چھوٹے چھوٹے دیہات جن کے گھروں کی مدھم روشنیاں رات کی تاریکی میں جگنوو ¿ں کی طرح ٹمٹما رہی تھیں، اور دور افق پر پھیلے پہاڑی سلسلے یہ سب ایک خاموش مکالمے میں مصروف تھے۔ وقت بھی جیسے اپنی رفتار بھول چکا تھا، نہ جلدی، نہ اضطراب،صرف ایک پرسکون بہاو ¿، جو دل و دماغ کو ایک عجیب سی طمانیت عطا کر رہا تھا۔یہ سفر محض فاصلہ طے کرنے کا عمل نہیں تھا۔ یہ ذہنی اور روحانی طور پر ایک نئی دنیا میں داخل ہونے کی تمہید تھی۔ ٹرین کی کھڑکی سے گزرتے مناظر ہمیں بتا رہے تھے کہ اصل سفر باہر نہیں، اندر ہوتا ہے،جہاں انسان اپنے مشاہدے، یادداشت اور احساسات کے ساتھ آگے بڑھتا ہے۔
صبح جب ہم میسور پہنچے تو دن کی پہلی روشنی نے ہمارا استقبال کیا۔ اسٹیشن سے باہر قدم رکھتے ہی شہر کی فضا میں ایک خاص طرح کی تہذیبی شائستگی اور ٹھہراو ¿ محسوس ہوا۔ یہ بنگلور جیسا تیز رفتار، ہنگامہ خیز شہر نہیں تھا بلکہ ایک ایسا شہر تھا جو اپنی رفتار خود طے کرتا ہے،وقار کے ساتھ، اعتماد کے ساتھ۔
میسور، کرناٹک کا دوسرا بڑا شہر، بنگلور سے تقریباً 150 کلومیٹر جنوب میں واقع ہے۔ مگر اس کی اہمیت محض جغرافیے تک محدود نہیں۔ یہ شہر صدیوں تک وڈیار خاندان کی حکمرانی کا مرکز رہا 1399 سے لے کر 1947 تک اور اسی طویل دورِ حکومت نے اسے ثقافت، فنِ تعمیر، موسیقی، مصوری اور روایتی وقار کا گہوارہ بنا دیا۔ یہاں کی سڑکیں، عمارتیں اور باغات گویا تاریخ کے اوراق ہیں جن پر وقت نے بڑی نفاست سے اپنے نقوش ثبت کیے ہیں۔
میسور کی فضا میں ایک شائستہ خاموشی ہے۔ یہاں شور نہیں، گفتگو ہے؛ جلدی نہیں، ٹھہراو ¿ ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ یہ شہر آتے ہی اجنبیت محسوس نہیں ہونے دیتا، بلکہ ایک مانوس قربت کا احساس دلاتا ہے۔
میسور شہر میں داخل ہوتے ہی ایک الگ سی شان اور وقار کا احساس ہوا۔ کشادہ سڑکیں، صاف ستھرا ماحول اور تاریخی عمارتوں کی جھلکیاں بتا رہی تھیں کہ ہم کسی عام شہر میں نہیں بلکہ تاریخ کے زندہ استعارے میں قدم رکھ چکے ہیں۔ فریش ہوکر ہم دونوں ایک ہوٹل میں پہنچے۔ہوٹل ساف ستھرہ اور میسور کی ثقافت کو پیش کر رہا تھا ۔کھانے میں ہم لوگوں نے چاول پسند کیا ۔اس کے ساتھ کی ڈشیں بے حد لذیذ تھیں ۔شکم سیر ہو کر کھایا اور تجربہ ہوا کہ یہاں بھی کھانے کے شوقین موجود ہیں ۔
دن چڑھنے کے ساتھ ہی میسور کی ہوا میں ایک عجیب سی تازگی تھی۔ آسمان کے نیلے پردے پر بادلوں کی باریک لہریں جیسے قلم کی جنبش سے کھینچی گئی ہوں۔ میں اور ڈاکٹر انتخاب ہاشمی میسور کی سرزمین پر قدم بہ قدم چلتے ہوئے اس مقام کی طرف بڑھے جہاں حقیقت اور مجاز ایک دوسرے سے آغوش گیر ہوتے دکھائی دیتے ہیں
چام ±نڈیشوری سیلیبریٹی ویکس میوزیم کے دروازے سے اندر داخل ہوتے ہی ایسا محسوس ہوا جیسے ہم وقت کی لکیر کے دوسری طرف کھڑے ہوں، جہاں شخصیات ماضی کے چراغ نہیں بلکہ حال کے مسافر معلوم ہوتی ہیں۔
31500مربع فٹ کا یہ ہال کسی عظیم کتب خانے کی مانند تھا، البتہ یہاں الفاظ نہیںچہرے بولتے تھے، نگاہیں مکالمہ کرتی تھیں اور مجسمے زندگی کی آہٹ دیتے تھے۔گاندھی جی کا موم کا جسم، مگر ان کی آنکھوں میں صداقت کا وہی نور؛مدر ٹریسا کی خاموشی میں وہی دعا کی خوشبو،ڈاکٹر عبدالکلام کے چہرے پر مستقبل کے سپنوں کی چمک،سچن تندولکر کی آنکھوں میں کھیل کا جنون،اور امیتابھ بچن کے انداز میں وہی شہنشاہی وقار ۔یہ سب کچھ دیکھ کر دل کو یقین نہ آیا کہ یہ صرف موم ہے یا انسان کا فن خدا کی تخلیق سے مقابلہ کرنے کی جرات کر رہا ہے۔
جہاں دیکھا، ہجوم تھا۔بچے حیرت میں گم، جوان تصویریں بنا رہے اور بزرگ ان مجسموں کی صورت میں اپنے بیتے زمانوں سے ملاقات کر رہے تھے۔یوں لگتا تھا جیسے ہر شخصیت کے گرد ایک خاموش داستان لکھی ہو،جو صرف انہی کو سنائی دیتی ہے جو دل سے سننے کی قوت رکھتے ہیں۔
میوزیم کا ایک گوشہ مزید طلسمی تھا۷ ڈی تھیٹر۔جب پردہ اٹھا تو صرف نگاہیں نہیں،ہوا کے جھونکے، پانی کی بوندیں اور زمین کی لرزش بھی ساتھ بولنے لگے۔یوں محسوس ہوا جیسے زندگی ایک لمحے کے لیے ہماری مٹھی میں سمٹ آئی ہو۔سفر کے اختتام پر ہم سووینئر شاپ کی طرف بڑھے،جہاں چھوٹے چھوٹے مجسمے اور یادگار سامان ایسے رکھے تھے جیسے کوئی وقت اپنی یادیں سنبھال کر بیٹھا ہو اور کہہ رہا ہو:
“جاو ¿، جو لمحہ چاہو اپنے ساتھ لے جاو ¿۔”
اور ہم جب باہر نکلے تو دروازے کے اس پار ہوا میں کچھ مختلف تھا۔شاید مسافت کا اک بھاری پتھر دل سے اتر چکا تھا،یا شاید ہم وہیں کہیں پیچھے رہ گئے تھے۔موم کی دنیا میں، جہاں انسان زندہ بھی ہے اور جامد بھی۔
یہ میوزیم ایک مقام نہیں.ایک تاثر ہے، ایک لمس ہے، ایک لمحہ ہے جو دل پر ہمیشہ کے لیے ٹھہرتا ہے۔چام ±نڈیشوری ویکس میوزیم کی حیرت انگیز دنیا دیکھنے کے بعدمیں اور ڈاکٹر انتخّاب ہاشمی نے سوچا “آخر موم کے مجسموں میں موسیقی کہاں سے؟”
لیکن جیسے ہی دروازے کے کواڑ دھیرے سے پیچھے ہٹے ۔یوں محسوس ہوا جیسے ہم کسی اور ہی عہد میں داخل ہو گئے ہوں۔ایک ایسا عہدجہاں نہ بجلی کا شور تھا،نہ موبائل کی ٹن ٹن صرف ماضی کی سانسیںاور سازوں کی خاموش دھڑکن۔جنوبی ہند کے روایتی سازوں کی دلکش نمائش ہمارے سامنے پھیلی ہوئی تھی۔
ہال کے بیچوں بیچ موم سے بنا ایک موسیقاروینا ہاتھ میں تھامے یوں بیٹھا تھاجیسے ابھی اگلے لمحے ،راگ بھیروِی کی پہلی لَے چھڑنے والی ہو۔ستار کے تاروں پر پڑتی ہلکی روشنی،یوں لگتی تھی جیسے دھوپ بھی موسیقی بجا رہی ہو۔مرڈنگم اور طبلہ کنارے سجے تھے،دونوں ایسے جیسے کسی محفلِ سماع میں ہیںاور تال لگنے کا وقت بس چند سانسوں کی دوری پر ہے۔
ہم آہستہ آہستہ گیلریوں کے راستے چلتے گئے۔مجسمے خاموش تھے،مگر ان کی خاموشی میں آوازیں چھپی تھیں۔ہر ساز ایک خط تھاجو کسی تہذیب نے آنے والی نسلوں کے نام لکھا تھا۔میں نے محسوس کیا کہ یہاں آواز سنی نہیں جاتی،دل محسوس کرتا ہے۔
ڈاکٹر ہاشمی، جو میرے ساتھ ہم سفر تھے،کبھی کبھی ٹھہر جاتے،کسی مجسمے کی آنکھوں میں دیکھ کرجیسے کہہ رہے ہوں:
“یہ صرف موم نہیں، یہ ایک تاریخ ہے جو سانس لے رہی ہے۔”
ایک دیوار پر تصویریں لٹکی تھیں،بچپن کے گیت، شادیوں کی شہنائی، مندروں کے بھجن،اور کہیں دور کسی گاو ¿ں کی ڈھولک،یوں محسوس ہوا جیسے پورا ہندوستان،ایک میوزک کی لڑی میں پرویا گیا ہو۔وقت جھک کر سلام کرنے لگااور ہمایک ایسی دنیا میں گم تھےجہاں آوازیں نہیں تھیںمگر سماعت بھری ہوئی تھی۔جہاں ساز موم کے تھے مگر احساس جیتا جاگتا تھا۔واپسی کے وقت دل پر ایک عجیب سا بوجھ تھا
جیسے کچھ ادھورا چھوڑ آئے ہوں۔میں نے ایک لمحہ رک کر دروازے کے باہر مڑ کر دیکھا۔وہ خاموش میوزیم اب بھی اندر کہیں گنگنا رہا تھا۔ایک مدھم… مگر ہمیشہ کے لیے رہ جانے والی دھن۔اور یوںمیسور کی اس دوپہر نے ہمیں ایک نغمہ دے دیاجو آج بھی دل کی دھڑکن میںآہستہ آہستہ بجتا رہتا ہے۔
ہماری گاڑی جب میسور پیلس کے احاطے کے قریب پہنچی تو فضا میں ایک انجانی سی رعنائی گھلنے لگی تھی۔ہم نے گاڑی پارک کی اور ٹکٹ لینے کے لیے قطار میں لگ گئے۔ قطار میں کھڑے ہو کر میں محل کے بیرونی حصے کو دیکھتا رہ گیا۔ بلند و بالا گنبد، محرابیں، مجسمے اور باریک نقش و نگار،سب کچھ ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے تاریخ خود سنگ ِ مرمر میں ڈھل کر سامنے کھڑی ہو۔ ٹکٹ ہاتھ میں آیا مگر دل و نگاہ ابھی تک محل کی عظمت میں گم تھے۔
میسور محل، جسے اَمبا ولاس محل بھی کہا جاتا ہے، وجے نگر طرزِ تعمیر کا ایک بے مثال شاہکار ہے۔ اس کی تعمیر میں ہندو، مسلم، راجپوت اور گوتھک طرزِ تعمیر کا حسین امتزاج نظر آتا ہے۔ یہ امتزاج محض فنِ تعمیر کا نہیں بلکہ ہندوستان کی مشترکہ تہذیب کا علامتی اظہار بھی ہے۔ محل کے دروازے سے اندر قدم رکھتے ہی ایسا لگا جیسے وقت کی سوئیاں پیچھے کی طرف چلنے لگی ہوں۔
اندرونی حصوں میں بلند ستون، رنگین شیشوں کی کھڑکیاں، سنہری محرابیں، اور دیواروں پر بنی ہوئی تصویریں شاہی زندگی کی جھلک دکھا رہی تھیں۔ ہر ہال، ہر راہداری، اور ہر کمرہ اپنی ایک الگ کہانی سناتا محسوس ہو رہا تھا۔ میں خاموشی سے چلتے ہوئے ان کہانیوں کو سنتا رہا، اور ڈاکٹر انتخاب احمد ہاشمی بھی اسی انہماک کے ساتھ اس تاریخی ورثے کا مشاہدہ کر رہے تھے۔
خاص مواقع پر میسور محل کو ہزاروں بلبوں سے روشن کیا جاتا ہے۔ اگرچہ اس وقت مکمل روشنی کا منظر سامنے نہیں تھا، لیکن تصور ہی میں وہ منظر آنکھوں کے سامنے جگمگا اٹھا،ایک ایسا محل جو رات کی تاریکی میں روشنی کا سمندر بن جاتا ہے۔
میسور محل محض ایک عمارت نہیں، بلکہ یہ کرناٹک کی تاریخ، ثقافت اور شاہی وقار کا جیتا جاگتا استعارہ ہے۔ یہاں حیدر علی اور ٹیپو سلطان کے عہد کی بازگشت سنائی دیتی ہے، اور ساتھ ہی وجے نگر سلطنت کی عظمت کا احساس بھی جاگ اٹھتا ہے۔
جب ہم محل سے باہر نکلے تو ۴ بج رہے تھے۔ فضا میں ہلکی سی خنکی اور دل میں ایک عجیب سی طمانیت تھی۔ یہ سفر محض آنکھوں کا مشاہدہ نہیں تھا بلکہ دل و ذہن کی تربیت بھی تھا۔ میسور پیلس نے ہمیں یہ احساس دلایا کہ تاریخ صرف کتابوں میں نہیں، بلکہ اینٹوں، پتھروں، اور انسانی تخلیق کے شاہکاروں میں بھی زندہ رہتی ہے۔
شام کی ہلکی دھوپ اور فضا میں موجود نمی نے موسم کو دلکش بنا دیا تھا۔ جب ہم محل سے کچھ دور گئے تو سامنے لہلہاتے درخت اور پرندوں کی چہچہاہٹ نے ہمیں خوش آمدید کہا۔ “آج ہم تاریخ کے ایک ایسے باب کو اپنی آنکھوں سے دیکھنے جا رہے ہیں جو بہادری، قربانی اور آزادی کے جذبے سے عبارت ہے۔” میں نے اپنے دوست سے کہا۔ اس نے سر ہلایا اور گاڑی کی طرف بڑھ گئے۔
اٹھارہویں صدی میں میسور کی تاریخ نے ایک نیا اور فیصلہ کن موڑ لیا۔ حیدر علی اور بعد ازاں ان کے فرزند سلطان فتح علی ٹیپو نے اقتدار سنبھالا تو میسور محض ایک علاقائی ریاست نہیں رہا بلکہ استعمار کے خلاف مزاحمت کی ایک مضبوط علامت بن گیا۔ ٹیپو سلطان کا نام آتے ہی ذہن میں صرف ایک حکمران نہیں آتا بلکہ ایک نظریہ، ایک مزاحمتی فکر اور آزادی کی تڑپ ابھر آتی ہے۔
میسور کی سرزمین نے وہ دور بھی دیکھا جب انگریز طاقت کے خلاف یہاں فولاد کی طرح مضبوط عزم پروان چڑھا۔ قلعے، محلات اور تاریخی مقامات آج بھی اس عہد کی داستانیں سناتے ہیںِایسی داستانیں جن میں شجاعت بھی ہے، قربانی بھی اور شکست کے باوجود سرخرو رہنے کا حوصلہ بھی۔
میسور کی خوبصورتی اس بات میں مضمر ہے کہ یہ شہر اپنے ماضی کو سینے سے لگائے ہوئے حال میں سانس لے رہا ہے۔ یہاں جدیدیت ہے مگر تہذیب کے دائرے میں؛ ترقی ہے مگر روایت کی جڑوں کے ساتھ۔ شام کے وقت شہر کی سڑکوں پر چلتے ہوئے یوں لگتا ہے جیسے ہر موڑ پر تاریخ کھڑی مسکرا رہی ہو۔
میسور کے سفر کا سب سے گہرا، سنجیدہ اور روح پرور مرحلہ سری رنگا پٹنہ تھا،وہ مقام جہاں سلطان فتح علی ٹیپو نے جامِ شہادت نوش کیا۔ دریائے کاویری کے کنارے واقع یہ قلعہ برصغیر کی آزادی کی ابتدائی جدوجہد کا خاموش مگر مضبوط گواہ ہے۔سلطان فتح علی ٹیپو (1750–1799) محض ایک حکمراں نہیں تھے بلکہ ایک صاحبِ فکر مجاہد، جدید ذہن رکھنے والے منتظم اور انگریز استعمار کے سب سے بڑے مخالفین میں سے تھے۔ انہوں نے زرعی اصلاحات، جدید ٹکسال، سفارتی روابط اور راکٹ ٹیکنالوجی جیسے شعبوں میں غیر معمولی کام انجام دیے۔ انگریزوں کے خلاف ان کی چار جنگیں تاریخ کے اہم ابواب ہیں۔
سری رنگا پٹنم کی طرف جاتے ہوئے راستہ سبزے سے گھِرا ہوا تھا، درمیانی اونچائی والے درخت جیسے کسی قدیم دربار کی چوکھٹ پر پہلی پہرا داری دیتے ہوں۔ میں راستے میں سوچوں میں کھویا ہوا تھا کہ کیسے ایک وقت تھا جب اس سرزمین کے سینے پر ٹیپو سلطان کا پرچم لہراتا تھا۔ وہ بہادر جو شیرِ میسور کہلایا، جس نے انگریزوں کے خلاف ڈٹ کر مزاحمت کی۔
میں اس مقام پر بھی گیا جہاں سلطان ٹیپو کو شہید کیا گیا۔ قلعہ سری رنگا پٹنہ کے ایک دروازے کے قریب، شدید لڑائی کے دوران، جب برطانوی فوج قلعے میں داخل ہو چکی تھی، سلطان نے پسپائی اختیار کرنے سے انکار کر دیا۔ روایت ہے کہ ایک برطانوی سپاہی نے انہیں زندہ پکڑنے کی کوشش کی، مگر سلطان نے تاریخی الفاظ کہے:
“شیر کی ایک دن کی زندگی، گیدڑ کی سو سالہ زندگی سے بہتر ہے۔”
اسی مقام پر انہیں گولی ماری گئی۔ ان کی لاش کئی گھنٹوں تک وہیں پڑی رہی، حتیٰ کہ شناخت ممکن ہوئی۔ اس جگہ کھڑے ہو کر میں نے محسوس کیا کہ زمین اب بھی اس قربانی کی گواہ ہے۔
جب ہم سلطان ٹیپو سلطان کے مقبرے کے قریب پہنچے تو فضا میں ایک عجیب سا سکوت محسوس ہوا۔ جیسے ہوا کے ہر جھونکے میں تاریخ کی صدائیں ہوں، اور ہر پتھر کوئی کہانی سنانے کو بے تاب ہو۔ مقبرہ سفید سنگِ مرمر سے بنا ہوا، سنہری اور نیلے رنگ کا گنبد سر اٹھائے کھڑا تھا۔ ہم آہستہ آہستہ جوتے اتار کر اندر داخل ہوئے۔
قبروں کے سامنے کھڑے ہوکر دل خود بخود جھک گیا۔”یہ دیکھو… یہ ٹیپو سلطان کی قبر ہے۔” میرے دوست نے آہستگی سے کہا۔
“اور یہ ا ±ن کے والد حیدر علی اور والدہ فاطمہ فخرالنساءکی۔” میں نے سادگی سے جواب دیا۔
ہم نے ہاتھ اٹھائے اور فاتحہ خوانی کی۔ دل میں بے شمار دعائیں ا ±بلتی رہیں۔ ایک عجیب سا روحانی سکون پوری ذات پر چھا گیا۔ کچھ لمحوں کے لیے ہم سب خاموش رہے تاکہ دل اپنی بات دل سے کرسکے۔فاتحہ سے فارغ ہو کر ہم نے میوزیم دیکھنے کا ارادہ کیا۔ سبھی میں ایک چہل پہل سی آگئی۔
“چلو یار! ٹیپو سلطان کی تلوار، ان کے خطوط اور جنگی لباس بھی دیکھیں گے!” ڈاکٹر انتخاب ہاشمی نے جوش سے کہا۔ہم تیز قدموں سے بڑھنے لگے کہ کہیں دیر نہ ہوجائے۔ مگر جب ہم میوزیم کے دروازے پر پہنچے تو گارڈ نے ہاتھ سے اشارہ کرتے ہوئے کہا:
Sorry! Time over… 5 o’clock ho gaye… ab museum band hai.
ہم چونک کر گھڑی دیکھنے لگے۔ واقعی پانچ بج چکے تھے۔”بھائی! بس پانچ منٹ کی اجازت دے دو، دور سے آئے ہیں۔” میں نے ا ±ردو میں التجا کی، مگر اس نے نفی میں سر ہلایا۔
Rules are rules… kal morning me aana.”
کچھ دیر ہم نے اور کوشش کی، مگر اس کی ہٹ دھرمی کے سامنے ہماری خواہش بے بس تھی۔ ہم نے ایک دوسرے کو دیکھا اور ایک لمبی سانس لی۔
“چلو… شاید اللہ نے چاہا ہے کہ ہم دوبارہ لوٹ کر آئیں۔” میں نے مسکراتے ہوئے کہا۔
سب نے سر ہلایا اور واپسی کی طرف قدم بڑھا دیے۔ مگر جاتے ہوئے بھی دل میوزیم کے دروازے پر ہی اَٹکا ہوا تھا۔گاڑی میں بیٹھ کر دوبارہ میں نے آخری بار ا ±س سفید مقبرے کو دیکھا۔ شام کی روشنی میں وہ ایسا لگ رہا تھا جیسے کسی بادشاہ کا تاج، سورج کی آخری کرنوں کو اپنی چوٹی پر سجا کر سو جانے کی تیاری میں ہو۔دل میں ایک عجیب سی آواز گونجی:
“یہ زمین بہادروں کی امانت ہے اور ان کے قصے جیتے جاگتے ہیں… صرف سننے والے چاہئیں۔”
واپسی کے راستے میں گاڑی کی کھڑکی سے باہر جھانکتے ہوئے مجھے یوں لگا جیسے شام کی سرمئی دھند میں تاریخ کی پرچھائیاں ابھر رہی ہوں۔ کہیں ٹیپو سلطان گھوڑے کی لگام تھامے اپنی فوج کے ساتھ بڑھ رہے ہوں، کہیں حیدر علی کسی جنگی نقشے پر جھکے اپنے وطن کی تقدیر کا فیصلہ کر رہے ہوں، اور کہیں فاطمہ فخر النساءاپنے بیٹے کے لیے دعائیں کرتی نظر آتی ہوں۔
اسی لمحے دل نے آہستہ سا کہا:
“تاریخ کبھی ختم نہیں ہوتی، وہ صرف آنکھوں سے اوجھل ہوتی ہے…
اور جب کوئی مسافر دل سے اسے تلاش کرے،تو زمانہ خود راستہ کھول دیتا ہے۔”میں نے ایک آخری بار سرنگاپٹنم کی جانب نگاہ ڈالی اور دل میں یہ وعدہ کیا:
“اے شیرِ میسور…! ہم پھر آئیں گے۔
ا ±س دن جب ہمارے قدموں میں وقت بھی قید نہ ہوگا،اور ہم تمہاری تلوار کے قصے نہ سنیں گے،بلکہ انہیں دلوں میں جیتا جگاتا محسوس کریں گے۔”شام کی خاموشی میں صرف ایک ہی احساس باقی رہ گیا تھا
یہ سفر ختم نہیں ہوا… یہ صرف ایک کہانی کی پہلی سانس تھی۔
برنداون گارڈن: شام کی روشنی میں ایک خواب ناک منظر
ہمارا اگلا پڑاو ¿ برنداون گارڈن تھا۔ میں اور ڈاکٹر انتخاب احمد ہاشمی تقریباً چھ بجے شام کے وقت وہاں پہنچے۔ سورج ڈھلنے کے قریب تھا اور آسمان پر سنہری و نارنجی رنگوں کی ہلکی سی آمیزش پھیل چکی تھی، جو فطرت کے حسن میں ایک نیا رنگ بھر رہی تھی۔برنداون گارڈن میں داخل ہوتے ہی دل خوش ہو گیا۔ سامنے پھیلا ہوا وسیع و عریض باغ، قرینے سے تراشی ہوئی جھاڑیاں، رنگ برنگے پھول، اور ترتیب سے بہتے فوارے سب کچھ ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے حسن کو باقاعدہ نظم و ضبط میں ڈھال دیا گیا ہو۔ یہ باغ محض سبزہ زار نہیں بلکہ انسانی ذوقِ جمال اور فطری حسن کے حسین امتزاج کی زندہ مثال ہے۔
ہم آہستہ آہستہ باغ کی پگڈنڈیوں پر چلتے رہے۔ ہر قدم پر ایک نیا منظر سامنے آتا تھا۔ کہیں پانی کی سطح پر پڑتی روشنی چمک بن کر آنکھوں میں ا ±ترتی، تو کہیں فواروں کی ہم آہنگی دل میں ایک عجیب سی طمانیت پیدا کر دیتی۔ ڈاکٹر انتخاب احمد ہاشمی بھی اس حسن سے متاثر نظر آ رہے تھے۔ کبھی وہ کسی منظر کی طرف متوجہ کرتے، کبھی خاموشی سے دیکھتے رہتے۔جیسے الفاظ بھی اس خوبصورتی کے سامنے کم پڑ گئے ہوں۔
شام گہری ہونے کے ساتھ ہی برنداون گارڈن کا حسن دوبالا ہونے لگا۔ روشنیوں کے جلتے ہی فواروں اور پانی کے بہاو ¿ میں ایک جادو سا پیدا ہو گیا۔ رنگین قمقموں کی جھلک پانی میں عکس بن کر ابھرتی اور پھر بکھر جاتی۔ یہ منظر ایسا تھا کہ آنکھیں دیکھتی رہ جائیں اور دل شکرگزاری سے بھر جائے۔ واقعی، اس لمحے دل بے اختیار کہہ اٹھا: کیا خوبصورتی تھی، دل خوش ہو گیا۔
برنداون گارڈن ہمیں یہ احساس دلاتا ہے کہ میسور صرف تاریخ اور محلات کا شہر نہیں، بلکہ فطرت، ترتیب اور سکون کا بھی گہوارہ ہے۔ یہاں گزرا ہوا ہر لمحہ یادوں کے نہاں خانے میں محفوظ ہو گیا۔ جب ہم واپسی کے لیے مڑے تو یوں لگا جیسے ہم کوئی منظر نہیں بلکہ ایک خواب پیچھے چھوڑ کر جا رہے ہوں۔ایک ایسا خواب جو مدتوں دل و نظر کو منور رکھے گا۔
برنداون گارڈن میں ہماری موجودگی کا سب سے مسحور کن لمحہ میوزیکل فاو ¿نٹین شو تھا۔ جیسے ہی اندھیرا گہرا ہوا، لوگ مخصوص جگہوں پر جمع ہونے لگے۔ فضا میں ایک خوشگوار بے چینی تھی۔سب کی نگاہیں فواروں پر جمی ہوئی تھیں اور دل اس لمحے کے انتظار میں دھڑک رہے تھے جب پانی، روشنی اور موسیقی مل کر اپنا جادو جگانے والے تھے۔
اچانک موسیقی کی پہلی لے ابھری اور ساتھ ہی فوارے حرکت میں آ گئے۔ پانی کی باریک دھاریں کبھی آسمان کی طرف بلند ہوتیں، کبھی قوس و قزح کی صورت جھک جاتیں۔ روشنیوں کے رنگ بدلتے رہے،کبھی نیلا، کبھی سبز، کبھی سرخ اور کبھی سنہری،اور یہ تمام رنگ پانی کے پردے پر ایسے رقص کر رہے تھے جیسے کسی ماہر رقاص نے انہیں تربیت دی ہو۔
موسیقی کی تھاپ کے ساتھ فواروں کی جنبش میں ایک ہم آہنگی تھی۔ کبھی دھیما ساز دل کو سکون بخشتا، تو کبھی تیز لے میں فوارے جوش و خروش کے ساتھ بلند ہو جاتے۔ اس لمحے یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے پانی بھی موسیقی کو سمجھتا ہو اور ہر س ±ر پر اپنا ردِعمل ظاہر کر رہا ہو۔ میں اور ڈاکٹر انتخاب احمد ہاشمی خاموشی سے یہ منظر دیکھ رہے تھے،الفاظ کہیں کھو گئے تھے اور صرف احساس باقی رہ گیا تھا۔
میوزیکل فاو ¿نٹین شو محض ایک تفریحی مظاہرہ نہیں تھا بلکہ یہ انسانی تخلیق، فطری عنصر اور فن کے حسین امتزاج کی علامت تھا۔ روشنی، آواز اور پانی جب ایک نظم میں بندھ جائیں تو منظر خواب سے کم نہیں رہتا۔ اس شو نے برنداون گارڈن کے حسن کو ایک نئی جہت عطا کر دی اور ہمارے سفر کو ایک یادگار اختتام بخشا۔جب آخری س ±ر کے ساتھ فوارے تھم گئے اور روشنیوں کی چمک مدھم پڑ گئی تو دل میں ایک عجیب سی اداسی اور ساتھ ہی شکرگزاری کا احساس تھا،اداسی اس لیے کہ یہ جادو ختم ہو گیا، اور شکرگزاری اس لیے کہ ہمیں اس حسن کو دیکھنے اور محسوس کرنے کا موقع ملا۔ یہ لمحہ ہمیشہ کے لیے یادوں میں محفوظ ہو گیا۔
جب ہم واپس ہونے لگے تو میرے ڈرائیور نے بتایا کہ پاس ہی ایک سرکاری شاپ ہے جس میں ریشم کی ساڑیاں نہایت کفایتی داموں میں ملتی ہیں ۔وہاں پہنچے میں اور ڈاکٹرانتخاب نے کئی جوڑی ریشم کی ساڑیاں پسند کیں ۔تقریبا تیس ہزار روپے کی ساڑیاں لے کر ہم دوں خوشی خوشی باہر نکلے ۔ ہوٹل پہنچ کر گھر کے لوگوں کو واٹس ایپ پہ دکھایا ۔ حیرت کی انتہا نہ رہی کہ ہم دونوں بری طرح ڈھگے گئے تھے ۔ذرائع سے پتہ چلا کہ یہ اسکیم گاڑی والے کرتے ہیں ،ان کا اچھا خاصا کمیشن ہوتا ہے ۔سیاح کو ان چیزوں کا خیال رکھنا چاہئیے۔
جب میسور کی یہ شام اپنے دامن میں سمٹنے لگی اور ہم واپسی کی تیاری کرنے لگے تو یوں محسوس ہوا جیسے وقت تھم جانا چاہیے۔ میسور پیلس کی شاہانہ عظمت، برنداون گارڈن کی ترتیب و لطافت، اور میوزیکل فاو ¿نٹین شو کا جادو،یہ سب مناظر محض آنکھوں کا مشاہدہ نہیں رہے تھے بلکہ دل کی گہرائیوں میں اتر چکے تھے۔میسور سے ہماری واپسی رات کی ٹرین کے ذریعے ہوئی۔ پلیٹ فارم کی روشنیاں، گاڑی کی سیٹیاں اور رات کی خاموشی،سب مل کر ایک عجیب سی کیفیت پیدا کر رہے تھے۔ چلتی ہوئی ٹرین کی کھڑکی سے باہر جھانکتے ہوئے ایسا لگ رہا تھا جیسے میسور آہستہ آہستہ یادوں میں بدلتا جا رہا ہو۔ یہ واپسی جسمانی تھی، مگر ذہن اور دل ابھی تک ان مناظر میں ٹھہرے ہوئے تھے جنہیں ہم پیچھے چھوڑ آئے تھے۔
صبح ہم بنگلور پہنچے۔ رات کے سفر کے باوجود دل میں کسی تھکن کا احساس نہیں تھا، بلکہ ایک عجیب سی تازگی تھی ،جیسے یہ سفر ہمیں بوجھل کرنے کے بجائے ہلکا کر گیا ہو۔ بنگلور وہی شہر تھا جہاں سے یہ سفر شروع ہوا تھا، مگر اب ہم پہلے جیسے نہیں تھے؛ ہم اپنے ساتھ میسور کی تاریخ، اس کا حسن اور اس کی خاموش تاثیر لے کر لوٹے تھے۔
بنگلور سے دربھنگہ ایئرپورٹ کے لیے ہماری فلائٹ تھی۔ ہوائی جہاز کے اڑان بھرتے وقت نیچے پھیلتا ہوا شہر دیکھتے ہوئے دل میں یہ خیال ابھرا کہ سفر دراصل مقامات بدلنے کا نہیں، انسان کے اندر کچھ نیا جوڑ دینے کا نام ہے۔ میسور نے ہمارے اندر بھی کچھ جوڑ دیا تھا۔حسن کی قدر، خاموشی کی معنویت اور تاریخ سے مکالمے کا ذوق۔
میسور اب میرے لیے محض نقشے پر ایک شہر نہیں، بلکہ ایک مستقل حوالہ بن چکا ہے۔ایسا حوالہ جو ہر نئے سفر میں، ہر نئی تحریر میں، اور ہر یاد کے دریچے میں کسی نہ کسی صورت روشن ہو جاتا ہے۔ یہی کسی سفر کی سب سے بڑی کامیابی ہے، اور کسی سفرنامے کی سب سے بڑی صداقت بھی۔
٭٭٭


