سب سے پہلے ایڈورڈ سعید کی کتاب ” Humanism and Democratic Criticism ” سے طویل اقتباس :
“یہاں میں اپنی دلیل کو ذرا روک کر جمالیات کے سوال کی طرف آنا چاہتا ہوں، کیونکہ ایک ایسے شخص کے طور پر جس کی فکری زندگی بڑی حد تک ادب اور موسیقی کے عظیم فن پاروں کو سمجھنے اور پڑھانے کے لیے وقف رہی ہے، اور ساتھ ہی سماجی اور سیاسی وابستگی اور عمل کی زندگی بھی رہی ہے، اگرچہ یہ دونوں ایک دوسرے سے الگ رہے ہیں، میں نے یہ پایا ہے کہ آدمی جو کچھ پڑھتا ہے اس کا معیار اکثر اتنا ہی اہم ہوتا ہے جتنا یہ کہ وہ کیسے پڑھتا ہے اور پہلے سرے سے کیوں پڑھتا ہے۔ میں جانتا ہوں کہ تمام قاریوں کے درمیان پہلے سے اس بات پر اتفاق ممکن نہیں کہ فن پارہ کس چیز کو کہا جائے، مگر اس میں شک نہیں کہ انسان دوست منصوبے کا ایک حصہ، جس پر میں ان لیکچروں میں گفتگو کر رہا ہوں، اس خیال سے شروع ہوتا ہے کہ ہر فرد، خواہ روایت کے ذریعے، ذاتی حالات اور کوشش کے ذریعے، یا تعلیم کے ذریعے، جمالیاتی معیار اور امتیاز کو پہچاننے کی صلاحیت رکھتا ہے، جسے پڑھنے یا تجربہ کرنے کے دوران محسوس کیا جا سکتا ہے، اگر پوری طرح سمجھا نہ بھی جا سکے۔ یہ بات ہر اُس روایت میں درست ہے جس سے میں واقف ہوں۔ مثال کے طور پر ادب کے ادارے ان سب روایتوں میں موجود ہیں، اور مجھے اس وقت اسے طویل دلیل سے ثابت کرنے کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی۔
میرے خیال میں یہ بھی درست ہے کہ جمالیاتی شے، ایک زمرے کے طور پر، بہت گہری سطح پر وجود کے اُن روزمرہ تجربات سے ممتاز ہے جو ہم سب کو حاصل ہوتے ہیں۔ ٹالسٹائی، محفوظ یا میل ول کو پڑھنا، باخ، ڈیوک ایلنگٹن یا ایلیٹ کارٹر کو سننا، اخبار پڑھنے یا اُس ریکارڈ شدہ موسیقی کو سننے سے مختلف عمل ہے جو آپ کو اس وقت سنائی دیتی ہے جب ٹیلی فون کمپنی یا آپ کا ڈاکٹر آپ کو انتظار میں رکھتا ہے۔ تاہم اس کا مطلب یہ نہیں کہ صحافت یا پالیسی دستاویزات کو جلدی اور سطحی طور پر پڑھا جائے۔ میں ہر صورت میں توجہ کے ساتھ پڑھنے کی حمایت کرتا ہوں، جیسا کہ آگے دکھاؤں گا۔ لیکن عمومی طور پر میں ادورنو سے اتفاق کروں گا کہ جمالیاتی اور غیر جمالیاتی کے درمیان ایک بنیادی ناقابلِ مصالحت فرق ہے، جسے ہمیں انسان دوستوں کی حیثیت سے اپنے کام کی لازمی شرط کے طور پر برقرار رکھنا چاہیے۔ فن محض موجود نہیں ہوتا؛ وہ روزمرہ زندگی کی دست درازیوں کے مقابل، اور حیوانی زمین پر شاعرانہ بھید کے طور پر، ایک شدید ناقابلِ مصالحت حالت میں موجود ہوتا ہے۔ فن کی اس بلند حیثیت کو کوئی کارکردگی کا نتیجہ کہہ سکتا ہے، کوئی طویل elaboration کا، جیسے کسی عظیم ناول یا نظم کی ساختیں، کوئی ماہرانہ تکمیل اور بصیرت کا۔ میں خود جمالیاتی زمرے کے بغیر نہیں رہ سکتا، کیونکہ آخری تجزیے میں یہ صرف قاری کی حیثیت سے سمجھنے، واضح کرنے اور تشریح کرنے کی میری اپنی کوششوں کے خلاف ہی مزاحمت نہیں کرتا، بلکہ روزمرہ تجربے کے برابر کر دینے والے دباؤ سے بھی بچ نکلتا ہے، اگرچہ فن متضاد طور پر اسی روزمرہ تجربے سے جنم لیتا ہے۔”
اب اگلی پوسٹ میں ہم اس طویل اقتباس پر بات کریں گے


