مشاہداتِ ایران/تبصرہ:غازی پرویز

سعد مکی شاہ کا سفرنامہ “مشاہداتِ ایران” محض ایک سیاح کی روداد نہیں بلکہ ایک حساس، متجسس اور سوال اٹھانے والے ذہن کی فکری ڈائری ہے۔ یہ ان کتابوں میں سے ہے جو قاری کو صرف ایک ملک کی سیر نہیں کرواتیں بلکہ اسے ایک پورے معاشرے کی تہذیبی، سماجی، فکری اور نفسیاتی پرتوں سے بھی آشنا کرتی ہیں۔ مصنف نے ایران کو صرف تاریخی مقامات، بازاروں، شاہراہوں اور سیاحتی مناظر کے ذریعے نہیں دیکھا بلکہ اس کے لوگوں، ان کی سوچ، روزمرہ زندگی، ریاستی نظم، سماجی تضادات اور تہذیبی ارتقاء کو بھی اپنے مشاہدات کا موضوع بنایا ہے۔

اس سفرنامے کی ایک نمایاں خصوصیت اس کا غیر رسمی، رواں اور بے تکلف اسلوب ہے۔ مصنف سنجیدہ مباحث کے درمیان مزاح کا ایسا عنصر شامل کرتا ہے جو نہ صرف تحریر کو بوجھل ہونے سے بچاتا ہے بلکہ قاری کو مسلسل اپنے ساتھ جوڑے رکھتا ہے۔ کئی مقامات پر طنز، شگفتگی اور موقع محل کی مناسبت سے بیان کی گئی لطیف باتیں تحریر کو زندگی سے بھر دیتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کتاب محض معلوماتی دستاویز نہیں رہتی بلکہ ایک جیتی جاگتی رفاقت کا احساس دیتی ہے۔

مصنف کا فکری جھکاؤ واضح طور پر ترقی پسند اور بائیں بازو کے نظریات کی جانب محسوس ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ بعض سماجی، مذہبی اور ثقافتی موضوعات پر روایتی احتیاط سے ہٹ کر سوال اٹھاتا اور اپنی رائے کا اظہار کرتا ہے۔ تاہم قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ اس بے باکی کے باوجود تحریر میں اشتعال انگیزی یا محض مخالفت برائے مخالفت کا عنصر غالب نہیں آتا۔ مصنف بعض ایسے موضوعات اور سماجی ٹیبوز پر بھی گفتگو کرتا ہے جن سے عموماً گریز کیا جاتا ہے، لیکن مجموعی طور پر اس کا انداز مکالماتی اور فکری رہتا ہے۔

کتاب کی ایک اور دلکش خوبی مصنف کی کسر نفسی ہے۔ وہ خود کو کسی ماہر، دانشور یا اتھارٹی کے منصب پر فائز کرنے کی کوشش نہیں کرتا بلکہ متعدد مواقع پر اپنی کم فہمی، محدود معلومات اور انسانی کمزوریوں کا کھلے دل سے اعتراف کرتا ہے۔ یہ وصف تحریر کو مصنوعی سنجیدگی سے بچاتا اور قاری کے ساتھ ایک دوستانہ تعلق قائم کرتا ہے۔ قاری کو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے کوئی رفیقِ سفر اپنے تجربات بیان کر رہا ہو، نہ کہ کوئی واعظ منبر سے خطبہ دے رہا ھے ۔

“مشاہداتِ ایران” کی وسعت بھی اس کی اہم خوبیوں میں شامل ہے۔ کتاب صرف ایک یا دو شہروں کے تاثرات تک محدود نہیں بلکہ مصنف کے چار مختلف اسفار اور بے شمار متنوع موضوعات پر مشتمل ہے۔ تاریخ، ثقافت، مذہب، سیاست، تعلیم، معیشت، شہری زندگی، نوجوان نسل، خواتین، سیاحت، خوراک، ادب اور روزمرہ معاشرت ، شاید ہی کوئی ایسا اہم پہلو ہو جس پر مصنف نے کسی نہ کسی انداز میں روشنی نہ ڈالی ہو۔ یہی تنوع کتاب کو یکسانیت سے بچاتا اور ہر چند صفحات بعد قاری کے سامنے ایک نیا منظرنامہ پیش کرتا ہے۔ حالیہ ایران ، امریکہ ، اسرائیل تنازعے کے تناظر میں مختلف اردو ویب سائٹس پر شائع ھونے والے اپنے چند تجزیاتی بلاگز کو بھی اس کتاب کا حصہ بنایا گیا ھے جس سے جزوی اختلاف کی گنجائش موجود ھے ۔

اردو سفرنامہ نگاری کی روایت میں اس کتاب کو نمایاں مقام دیا جا سکتا ہے۔ بالخصوص ایران کے حوالے سے لکھی گئی اردو کتب میں یہ سفرنامہ اپنی وسعتِ مشاہدہ، موضوعاتی تنوع اور فکری جرات کے باعث ممتاز نظر آتا ہے۔ میری ذاتی رائے میں اسے ایران کے بارے میں اردو زبان میں تحریر کیے گئے بہتر اور قابلِ توجہ سفرناموں میں شمار کیا جا سکتا ہے۔

یہ بات بھی یاد رکھنے کے قابل ہے کہ سفرنامہ ایک ایسی ادبی صنف ہے جو نئے قارئین میں مطالعے کا ذوق پیدا کرنے کی غیر معمولی صلاحیت رکھتی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ بچوں اور نوجوانوں میں کتاب بینی کا شوق بیدار کرنے کے لیے سب سے پہلے ان کے ہاتھ میں ایک اچھا سفرنامہ دینا چاہیے، کیونکہ سفرنامے میں علم، کہانی، کردار، منظر نگاری اور تجسس سب کچھ ایک ساتھ موجود ہوتا ہے۔ قاری سفرنامہ نگار کے کردار میں ڈھل کر نہ صرف دور دراز مقامات کی سیر کرتا ہے بلکہ مختلف زمانوں، حالات اور واقعات کو بھی اپنے اندر محسوس کرتا ہے۔

البتہ ایک غیر جانبدار مبصر کی حیثیت سے یہ عرض کرنا بھی ضروری ہے کہ چونکہ مصنف کا فکری رجحان نسبتاً آزاد خیال اور بائیں بازو کی طرف جھکا ہوا ہے، اس لیے بعض مقامات پر وہ بالغانہ موضوعات، اصطلاحات اور حساس مباحث پر خاصی بے باکی سے گفتگو کرتا ہے۔ اگرچہ یہ انداز بہت سے قارئین کے لیے فکری کشادگی کا باعث بن سکتا ہے، تاہم روایتی مزاج رکھنے والے بعض قارئین ان حصوں سے مکمل اتفاق نہ بھی کریں۔ یہی اختلافِ رائے دراصل کتاب کو بحث و مکالمے کے قابل بناتا ہے۔

پاکستانی اردو ادب میں “مشاہداتِ ایران” ایک گراں قدر اضافہ ثابت ہونے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ محض ایک ہمسایہ ملک کا سفرنامہ نہیں بلکہ مشاہدے، سوال، تجزیے اور مکالمے کی ایک ایسی دعوت ہے جو قاری کو کتاب ختم ہونے کے بعد بھی سوچنے پر مجبور رکھتی ہے۔ اس کی اصل قوت اس کی دیانت دارانہ مشاہداتی روش، موضوعات کی رنگا رنگی، مصنف کی بے تکلف شخصیت اور فکری جستجو میں پوشیدہ ہے۔

مصنف نے چونکہ توصیفی تقریظ کے بجائے غیر جانب دارانہ تبصرہ طلب کیا تھا، اس لیے امید ہے کہ وہ اس رائے کو بھی اسی کشادہ دلی سے قبول کریں گے جس کشادہ دلی سے انہوں نے اپنے مشاہدات قارئین کے سامنے پیش کیے ہیں۔

اللہ کرے زورِ قلم اور زیادہ۔

اپنا تبصرہ لکھیں