(نوٹ: طویل عرصے سے خواہش تھی کہ کلاسیکی شاعری کی وحشت پر تفصیل سے لکھوں۔ اتنے اہم موضوع پر اردو میں کوئی قابل ذکر تحریر نہیں ملتی۔ ۲۰۲۱ میں شائع ہونے والی ’جدیدیت اور نوآبادیات ‘ میں وحشت پر چند صفحے لکھے تھے۔اب ایک طویل باب لکھا ہے۔اس سے ایک مختصر اقتباس احباب کے مطالعے کے لیے پیش ہے۔)
…. دشت، وحشت کا مقام نہیں ہے؛ دشت صرف وحشت کی زبان سمجھتا ہے۔
وحشت کاتو سرے سے کوئی مقام ہی نہیں ہے۔ شاعر کا جی یا دل ِ وحشی ، شہر سے بھاگ کر، دشت کا رخ کرتا ہے۔ دشت، وحشت کے اظہار کا مقام بن جاتا ہے۔
دشت ، بے کنار ضرور ہے ،اور آدمی کی انا کو خود میں تحلیل بھی کرسکتا ہے ،مگر وحشت، دشت میں ٹھکانہ نہیں بناسکتی؛ دشت میں تحلیل بھی نہیں ہوسکتی۔
وہ یہاں اپنا گیت ضرور گاسکتی ہے،مگر وحشت جیسے جیسے اپنا گیت گاتی ہے، مزید مضطرب ہوتی جاتی ہے۔
وحشت، مجنوں کا جنوں نہیں، جو دشت نجد میں صرف لیلیٰ لیلیٰ پکارتا ہے اور دشت کے ہر بگولے میں ،لیلیٰ کے محمل کا گمان کرتا ہے۔
وحشت، خواہش نہیں کہ جو پہلے تسکین کے لیے بے تاب ہو، پھر تسکین پانے کے بعد، اپنی موت کا نوحہ لکھے۔
وحشت، ایک فزوں ہوتا اضطراب ہے، جو پہلے درودیوار ،گھر ،شہر سے نکل کر دشت کا رخ کرتا ہے، پھر دشت سے بھی اکتا جاتا ہے۔ وہ کون ومکاں سے بھی نکل جانا چاہتا ہے۔
وحشت کی اس حقیقت کو پہلے غالب ،پھر حالی نے پیش کیا ہے۔
وحشت پہ مری عرصہ آفاق تنگ تھا
دریا زمین کو عرق انفعال ہے
کیا تنگ ہم ستم زدگاں کا مکان ہے
جس میں کہ ایک بیضہ مور آسمان ہے
غالب
کون ومکاں سے ہے دل وحشی کنارہ گیر
اس خانماں خراب نے ڈھونڈا ہے گھر کہاں
حالی
یہ کہ وحشت پہ عرصہ ء آفاق تنگ ہوتا ہے، اور دل ِ وحشی محض گھر ، شہر اور پھر دشت ہی سے نہیں ، کون ومکاں سے بھی کنارہ گیر ہونا چاہتا ہے….اسے ہماری روایتی تنقیدمبالغہ کہتی ہے، یا وحشت کے مضمون میں، معنی آفرینی کی کوشش کہتی ہے؛ اسے انسانی روح کے گہرے اضطراب کے طور پر نہیں دیکھتی۔
عمرانی نقاد، اسے انیسویں صدی کی تاریخی صورتِ حال کی روشنی میں دیکھتے ہیں۔ نوآبادیات نےمقامی باشندوں کی ایک ہمہ گیر بے دخلی (displacement) کا آغاز کیا۔ لوگ اور ان کی ثقافتیں جڑ سے اکھڑ کر دربدر ہوگئیں۔ یہ سب وحشت خیز تھا ،جس کے نتیجے میں ہر شے سے ایک گہری لاتعلقی پیدا ہوگئی۔
وحشت سے متعلق یہ نتیجہ غیر منطقی نہیں،مگر محدود اور ناقص ہے۔
وحشت کا محرک تاریخ نہیں ، انسانی حالت ہے۔یوں سمجھیے، انسان کے شعور کی مظہری حالت ہے۔
وحشت ، لاتعلقی ، بیگانگی ، بے دماغی سے کوئی علاقہ نہیں رکھتی۔
سارتر نے کہا تھا کہ ہمیں آزادی کی سزا دی گئی ہے۔(We are condemned to be free.)اسی طرح ہم کہہ سکتے ہیں کہ ہم دل ِ وحشی رکھنے کے ازلی جرم میں مبتلا ہیں۔
وحشت کی اب تک کی وضاحت ، وجودی فلسفیوں کی طرف متوجہ کرتی ہے۔
کرکیگارڈ ، نطشے،ہائیڈگر، سارتر، کامیو اور باقی وجودی فلسفی ، اپنے شعور کی مظہری حالتوں ہی کو لکھتے ہیں۔ ان کے لیے فلسفہ، عظیم مجرد خیالات کانام نہیں،آدمی کے اپنے وجود کے حقیقی ومستند تجربے کا اظہار ہے۔
چناں چہ ان کے یہاں ہمیں انسانی وجود کی کچھ معروف حالتوں: جیسے افسردگی ، جی کا متلانا، تشویش، خوف، بیگانگی کا ذکر کثرت سے ملتا ہے۔
چوں کہ وجود اپنا تجربہ، شعور کے ذریعے کرتا اور اسی کے ذریعے بیان کرتا ہے، اس لیے شعور جن کیفیات سے گزرتا ہے، وہ دوسروں کا( جنھیں ہائیڈگرthe they کہتا ہے) اور وقت(سارتر کے یہاں بالخصوص) ، اور لغویت (کامیو کے یہاں خاص طور پر)کا جس طور تجربہ کرتا ہے، اس لیے شعور ،ان کے فلسفے میں کلیدی اہمیت اختیار کر جاتا ہے۔
وہ سب شعور کو کسی شے کا شعور کہتے ہیں۔ یعنی شعور، خالی نہیں ہوتا؛ وہ لازماً کسی سے متعلق ہوتا ہے ۔ لیکن شعور میں، بہ قول سارتر، ایک عدم موجود ہوتا ہے۔اسی عدم میں، شعور ، کسی شے سے متعلق اپنے طرزعمل کا انتخاب کرتا ہے۔
ہائیڈگر کے یہاں ہیبت (angst) کا ذکر خصوصاً ملتا ہے،جسے تشویش اور خوف کا امتزاج کہنا چاہیے۔ وجودی خوف، کسی چیز کا ڈر نہیں ہے؛ یہ سانپ ،بچھو، دشمن کا ڈر نہیں ہے۔
یہ اپنے ہونے کی ہیبت ہے۔ اپنے ہونے میں ’نہ ہونے ‘ (nothingness) کی ہیبت ہے۔یعنی اس باعث کہ کوئی ٹھوس چیز موجود نہیں ہے؛ کسی چیز کی کوئی بنیاد نہیں ہے۔
جنھیں بنیاد سمجھا جاتا تھا، ان کا فریب ظاہر ہوچکا ہے۔ اس ہیبت میں آزادی ،انتخاب، ذمہ داری کے سوالات پیدا ہوتے ہیں۔ہم آزادی کی سزا جھیلتے ہیں، یعنی خود اپنا انتخاب کرتے ہیں، اورخو دکو بناتے ہیں۔ ہم خود ہی اپنے معمار ہیں۔
وجودی خوف اور وحشت میں ایک بنیادی مماثلت ہے۔ وجودی خوف ، کسی شے کاخوف نہیں۔ وحشت بھی کسی چیز سے نہیں ہے۔
کسی چیز کے خوف کا خاتمہ آسان ہوتا ہے۔ا س چیز کو مٹادینا ، یااس چیز کا جو پہلو خوف ناک ہے، اس کا سد باب کر لینا۔ اسی طرح اگر وحشت کسی چیز سے ہو تو اس سے بچاجاسکتا ہے،یا اس کے ساتھ جینے کی کوئی سبیل پیدا کی جاسکتی ہے۔
یعنی وحشت اگر واقعی عشق یا کسی دوسری شے کا جنون ہوتا تو وصل یا اس شے کا حصول ، وحشت کا خاتمہ کردیتا۔ وجودی خوف اور وحشت ،دونوں آدمی ہونے کی اساسی ترکیب میں شامل ہیں؛ انھیں مشتعل کرنے والے عناصر باہر ہوسکتے ہیں ،مگر باہر کا کوئی عنصر انھیں پیدا نہیں کرتا۔
جس طرح شعور کو باہر کی کوئی چیز پیدا نہیں کرتی ، مگر وہ شعور کاموضوع بن سکتی ہے،اور شعور کی حالتوں اور سطحوں میں تبدیلی کا محرک ہوسکتی ہے۔
تاہم وحشت اور وجودی ہیبت میں ایک بنیادی فرق بھی ہے۔
وجودی ہیبت ، جلد سے جلد ، اپنا خاتمہ چاہتی ہے۔
کرکیگارڈ نے ’آزادی کی دھند ‘ کا ذکر کیا تھا۔ وہ اس دھند سے نکلنا چاہتی ہے۔
کرکیگارڈ،گہرے سمندر پر جھکی ، نوکیلی چٹان کی مثال دیتا ہے، جس کے کنارے پر آدمی کھڑا ہے۔ وہ تادیر اس پر کھڑ ا نہیں رہ سکتا۔ اسے ایک یا دوسرا فیصلہ اور انتخاب کرنا ہے۔
اسے سمندر میں کود جانا ہے یا خدا کی پناہ میں پہنچ جانا ہے۔ وہ آزادی کی اس دھند میں گویا ایک راستہ بنائے گا اور جلد بنائے گا۔ سارتر ، انسانی شعور میں جس عدم کا ذکر کرتا ہے، اس سے پہلے کہ وہ انسان کو کھاجائے، اسے پر کرنا ہے، اپنے آزادانہ انتخاب سے۔
اس طورآدمی اپنی وجودی ہیبت کا گیت نہیں گاتا، اسے ایک موقع بناتا ہے؛اسے اپنے شعور کے خام مواد کے طور پر لیتا ہے،اوراس سے خود کو کسی ایک شکل میں ڈھالتا ہے۔
وجودی فلسفہ اپنا آغاز، ایک فن کار کے طور پر کرتا ہے،لیکن ایک شہری تہذیب کے فلسفی کے طور پر اپنے سفر کا اختتام کرتا ہے۔
وجودی ہیبت کا بیان ، سراسر فن کارانہ ہے؛ یعنی آدمی کی حالت کو جملہ حسیات کے ساتھ محسوس کرنا، ان حسیات میں تبدیلیوں کو محسوس کرنا اور بیان کرنا ہے،لیکن خود کو کسی ایک یا دوسری صورت میں ڈھالنا، اور اپنے اس انتخاب کی ذمہ داری قبول کرنا، ایک عقلی تجرید ہے، جو بالآخر فلسفے کے ادارے یا سماج اور ریاست کے کام آیا کرتی ہے۔
واضح رہے کہ اس طرح کی عقلی تجرید کا کوئی تعلق ، عام انسانی ہمدردی اور انسانی مصائب کو دور کرنے کی کسی کوشش سے نہیں ہے، بلکہ یہ اپنی ذات کے بہترین عنصر کو طاقت کے نظام میں بروے کار لانے کی رضاکارانہ کوشش ہے۔
اس کے مقابلے میں وحشت سراسر فن کارانہ ہے۔وحشت ، آدمی کے وجود میں ایک بگولے کی طرح اٹھتی ہے، دنیا جہان سے اس کی مانوسیت کو بھک سے اڑادیتی ہے؛اسے ہر محسوس ونامحسوس سے آزاد اور ماورا ہوجانے کے ایک قدیمی سوز کے سپرد کردیتی ہے۔
وحشت کے سوز میں ، ہر مانوس و معلوم کی حد کو پگھلا دینے کی خصوصیت ہے۔
وحشت کا بگولا، راستے کی کسی چیز سے الجھتا نہیں ، وہ کسی سے کش مکش میں مبتلا نہیں ہوتا۔ وہ اپنی ہیبت کا گیت گاتے ہوئے، کون ومکاں کی حدوں سے نکل جانا چاہتا ہے۔
وہ کون ومکاں کی کسی چیز میں منتقل نہیں ہونا چاہتا؛ وہ خود کو ایک موقع اور سہارے کے طور پر بھی پیش نہیں کرتا۔ وہ کسی کو اپنا کاندھا نہیں پیش کرتا۔ وہ ارتفاع کا قائل نہیں۔
وہ اپنی حقیقی حالت کی ہیبت اور اپنے قدیمی سوز کی قربانی دے کر، کسی مانوس ہیئت میں گھٹ کر نہیں رہ جانا چاہتا۔
وحشت ،وحشت ہی رہنا چاہتی ہے۔
وحشت کا بگولہ دشت کی دنیا کا ایک مستقل مہمان بن کر نہیں رہ جانا چاہتا۔
وہ دشت میں تحلیل بھی نہیں ہو جانا چاہتا۔ وہ دشت کی حدوں کو بھی پھاڑ کر نکل جانا چاہتا ہے۔
اسے عرصہ آفاق بھی تنگ دکھائی دیتا ہے،اور آسمان ، چیونٹی کے ایک انڈے کی مانند محسوس ہوتا ہے،اور اشیا کی ہستی ، ایک وہم سے زیادہ نہیں …..یہ سب وحشت کے گیت ہیں۔
اسی گیت کی یہ لائنیں، غالب کی زبانی سنیے:
منظر اک بلندی پر اور ہم بناسکتے
عرش سے پرے ہوتا کاش کے مکاں اپنا
غالب
ہے کہاں تمنا کا دوسر اقدم یارب
ہم نے دشت امکاں کو ایک نقش پاپایا
غالب
جز نام نہیں صورتِ عالم مجھے منظور
جز وہم نہیں ہستی اشیا میرے آگے
غالب
(زیر تصنیف تنقید ی کتاب میں شامل وحشت پر طویل مضمون سے اقتباس)
ناصر عباس نیّر
۲۹ مئی ۲۰۲۶ء


