محبت فاتح عالم/محمد وسیم ماتریدی

جب تک تم کسی انسان کے لیے محبت کا الہام بنتے رہو، تم خوش بخت ہو۔ ہر انسان کے ضمیر میں تمہارا حضور اس روشن نقش سے ظاہر ہوتا ہے جو تم اس کے دل میں چھوڑ جاتے ہو۔ محبت بغیر جبر اور قہر کے خودی کی تبدیلی کا الہام ہے۔ محبت ہی وہ محرک ہے جس نے انسانیت کی سائنسی، فنی اور ادبی تخلیقات، ایجادات اور انکشافات کو جنم دیا۔ محبت اور شغف ہمیشہ انسان کو طویل صبر اور بڑے خوابوں کی تکمیل کے لیے درکار توانائی عطا کرتے رہے ہیں۔ محبت کو بیدار کرنا اور اس کے سرچشموں کو سیراب کرنا ایک تربیتی، اخلاقی، روحانی اور جمالی ضرورت ہے۔ محبت خوش گوار خاندان کی بنیاد، تنوع اور اختلاف کے ساتھ سماج کی ہم آہنگ زندگی، سماجی امن کے استحکام، اور معاشرے و ریاست کی ساخت کے استحکام کی اساس ہے۔

جو شخص دوسروں میں محبت کا الہام پیدا کرتا ہے وہ سکون کے ساتھ جیتا ہے، مگر ایسے لوگ جو دوسروں کے لیے محبت کا سرچشمہ بن جائیں بہت کم، بلکہ شاید نادر ہوتے ہیں۔ زیادہ تر انسان جذباتی اور روحانی عطا کی صلاحیت نہیں رکھتے، اسی لیے انسان کو چاہیے کہ وہ ایسے لوگوں کا انتخاب کرے جو اس کی زندگی کو سب سے شیریں معانی عطا کرنے کی قدرت رکھتے ہوں۔ انسان سے محبت کرنا خود انسان کے لیے ایک کٹھن کام ہے؛ خالص محبت عطا ہے، اور ہر انسان عطا کرنے کے قابل نہیں ہوتا۔ بخل انسانی زندگی میں کوئی استثنا نہیں، انسان کی بخل کی آمادگی اس کی عطا کی آمادگی سے کہیں زیادہ ہوتی ہے۔ اسی طرح انسان میں ندامت اور دوسروں کی قدر و محبت کا رجحان اُن کے اس دنیا سے رخصت ہو جانے کے بعد کہیں زیادہ ہوتا ہے، بنسبت اس کے کہ وہ اُن کی زندگی میں ہی شکر گزاری، قدردانی، اعتراف اور محبت کا اظہار کرے۔

ہم بارہا سنتے آئے ہیں کہ لوگ اُن مرحومین کی تعریف کرتے ہیں جن کے فضل و احسان کو وہ اُن کی زندگی میں تسلیم کرنے کو تیار نہ تھے، خواہ اُن کے اثرات کتنے ہی نمایاں کیوں نہ ہوں اور انہوں نے انسانوں کی خوشی کے لیے کتنا ہی کام کیوں نہ کیا ہو۔ لیکن جب وہ اس دنیا سے رخصت ہو جاتے ہیں، اور اُن کے نیک اعمال معاشرے میں نمایاں ہو کر سراہنے کا موضوع بنتے ہیں، تو وہی لوگ جو کبھی اُن کا اعتراف نہیں کرتے تھے یا اُن پر تنقید کرتے تھے، پلٹ کر اُن کی خدمات اور اثرات کا اعتراف کرنے لگتے ہیں۔

بخل کی بدترین صورت یہ ہے کہ انسان کسی دوسرے کو سچی محبت کے ایک لفظ سے بھی محروم رکھے، اور اس کی صلاحیتوں اور کارناموں کے اعتراف سے گریز کرے۔ سچی محبت کا ایک لفظ روشن دلوں کی مہر ہوتا ہے۔ ایسا لفظ بیدار اخلاقی ضمیر سے صادر ہوتا ہے، جو انسان کی انسانیت کو پہلے دیکھتا ہے، اس کے دین، عقیدے، نسل، ثقافت اور وطن کو بعد میں۔
ہم دوسروں کے لیے اسی حد تک اہم ہوتے ہیں جس حد تک ہم اُنہیں اُن کی زندگی کے لیے درکار معنی عطا کرتے ہیں۔ دوسروں کے دل میں تمہاری حیثیت اُن کے اس احساس سے متعین ہوتی ہے کہ انہیں تمہاری ضرورت ہے یا نہیں، اور تم کس قدر نرمی اور فراخ دلی سے اس ضرورت کو پورا کرتے ہو۔ امان، محبت، قدر شناسی اور شکر گزاری ہر انسان کی بنیادی ضرورتوں میں شامل ہیں۔

جو شخص خود سے نفرت کرتا ہو وہ دوسروں کو محبت نہیں دے سکتا، اور جو اپنے ساتھ سخت اور ظالم ہو وہ دوسروں پر رحم نہیں کر سکتا۔ بعض لوگ محبت پیدا کرنے سے قاصر ہوتے ہیں، حالانکہ وہ خود اس کے شدید محتاج ہوتے ہیں۔ ممکن ہے وہ جذباتی طور پر بے حد حساس ہوں، ایسی حساسیت رکھتے ہوں جو بہت سوں میں نہیں پائی جاتی، لیکن محبت پیدا کرنے میں ان کی ناکامی نفسیاتی گرہوں، تربیتی نقصانات اور بچپن کے اُن زخموں کا نتیجہ ہوتی ہے جو ان کے لاشعور کی گہرائیوں میں پیوست ہوتے ہیں۔ یہ زخم اُن پر ایک گھٹن زدہ اور افسردہ زندگی مسلط کر دیتے ہیں، جس سے نجات یا جس کی شدت میں کمی صرف ماہرِ نفسیات سے رجوع کے ذریعے ہی ممکن ہوتی ہے۔

کبھی انسان صرف محبت سے ہی عاجز نہیں ہوتا، بلکہ لوگوں سے نفرت اور دل میں کینہ و بغض بھر جانے سے بھی نجات نہیں پا سکتا۔ تم دیکھو گے کہ وہ ہر ایک سے نفرت کرتے ہوئے اذیت میں مبتلا رہتا ہے، اور اگر کسی دن اسے نفرت کے لیے کوئی نہ ملے تو وہ اپنی ذات ہی کو نفرت کا نشانہ بنا لیتا ہے۔

جو شخص اپنی ذات کو حقیر سمجھتا ہے، دوسرے بھی اسے حقیر سمجھتے ہیں اور وہ کسی کے احترام کا مستحق نہیں رہتا۔ اور جو اپنی ذات کا احترام کرتا ہے، دوسرے بھی اس کا احترام کرتے ہیں اور وہ سب پر اپنا وقار منوا لیتا ہے۔ لیکن جو شخص ذلت، پستی اور کم ہمتی کو اپنا لیتا ہے، اور احساسِ کمتری و تحقیر میں ڈوب جاتا ہے، وہ ایک سستا اور بے قدر انسان بن جاتا ہے جسے کوئی بھی غلام بنا سکتا ہے۔ ایسا انسان ضمیر کی آواز، اقدار اور قانون کی پروا کیے بغیر ہر کام کے لیے آمادہ ہو جاتا ہے، اور بسا اوقات خود کو بدترین افعال کے لیے وقف کر دیتا ہے، یہاں تک کہ دوسروں کے ہاتھوں ایک آلہ بن کر نہایت گندے کام سرانجام دینے لگتا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں