”دیکھو فاطمہ! یہ ایسی بچی ہے جو پنگوڑے میں بڑی ہوگئی“ اور وہ عورت جو ان کی نئی نویلی بیوی تھی معصومیت اور حیرت سے انھیں دیکھ رہی تھی۔ چہرے پر شرمیلی مسکراہٹ لیے۔
”نیازی صاحب آپ نے بھی تو اس بچے کو زندہ رکھا ہے جس سے عورتیں پیار کرتی تھیں۔“
”ہاں میں خوبصورت بچہ تھا اور عورتیں مجھ سے پیار کرتی تھیں۔“
”آپ اب بھی وہی ہیں۔ کیوں ناہید باجی“میں نے اُن کی بیگم سے تصدیق چاہی
”تمہیں کیسے پتہ؟“ منیرنیازی پوچھتے ہیں۔
”آپ ہی نے تو لکھا تھا۔“
میں جیسا بچپن میں تھا
اسی طرح میں اب تک ہوں
کھلے باغ دیکھ کر
بری طرح حیران
آس پاس میرے کیا ہوتا ہے
اس سب سے انجان (میں جیسا بچپن میں تھا)
یہ اور ایسے مکالمے ان سے ہوتے رہتے تھے۔ کبھی ان سے کوئی بات کہتے ڈر نہ لگا۔ جب جوبات دل میں آئی کہہ دی۔ جو چاہا پوچھ لیا۔ عجب رشتہ رہا ہے۔ مکمل ابلاغ کا۔۔شاعری میں بھی، مکالمے میں بھی۔ ہم جو، ان سے بہت چھوٹے تھے، ان کے مداح تھے۔ابھی تک تعلیمی اداروں میں کسب علم کی کوشش میں تھے۔انھیں مکالمے کیلئے کیسے موزوں لگتے تھے۔ شاید وہ اپنے عہد سے آگے دیکھتے تھے۔ شاید وہ وقت سے پہلے پیدا ہوگئے تھے۔ یا سچے تخلیق کار کی کوئی عمر نہیں ہوتی۔ غالب کی طرح وہ ہونے نہ ہونے کے درمیان یقینی اور بے یقینی کی کیفیت میں سب کچھ منکشف کرتا رہتا ہے جو ایک عام وجود نہیں کرسکتا۔ غالب ہر عصر کا ہم عصر ہے۔منیر ہر عمر کا ہم عمر۔
یہ 1974ءتھا۔ جامعہ کراچی میں ثروت حسین، منیرنیازی کا پرستار‘ ان کے رنگ میں رنگاہوا۔ ان کی نظمیں سناتا۔
ایک نگر ایسا بس جائے جس میں نفرت کہیں نہ ہو
آپس میں دھوکا کرنے کی‘ ظلم کی طاقت کہیں نہ ہو
اس کے مکیں ہوں اور طرح کے، مسکن اور طرح کے ہوں
اس کی ہوائیں اور طرح کی، گلشن اور طرح کے ہوں
(ایک نیا شہر دیکھنے کی آرزو)
عذرا عباس‘ شاہدہ حسن اور میں چلچلاتی دھوپ میں گھر کی طرف لوٹتے ہوئے‘ راہ چلتے ہوئے اور ایک دوسرے کے گھروں میں بیٹھے ہوئے یہ نظم پڑھتے۔
کچھ اپنے جیسے لوگ ملیں
ان رنگ برنگے سے شہروں میں
کوئی اپنی جیسی لہر ملے
ان سانپوں جیسی لہروں میں
کوئی تیز نشیلا زہر ملے
اتنی قسم کے زہروں میں
ہم بھی نہ گھر سے باہر نکلیں
ان سونی دوپہروں میں
نارتھ ناظم آباد میں وہ گھرجہاں ڈھاکہ سے آکر ہم نے بسیرا کیا تھا، بڑے سے لان میں ایک چھوٹا کاٹیج تھا۔ لان کو اونچے اونچے پیڑوں نے گھیرا ہوا تھا۔ یہ گھر میری شاعر سہیلیوں اور دوستوں کو متاثر کرتا تھا۔یونیورسٹی کی کلاسوں سے فارغ ہوکر ہمارا گروپ ریڈیو پاکستان میں بزم طلبہ کے کمرے میں اور کبھی کینٹین میں براجمان ہوتا۔ ریڈیو اسٹیشن پر قمر جمیل‘ ضمیر علی اور عصمت زہرہ کسی نہ کسی پروگرام کے لیے ہمارے منتظر ہوتے۔ ہر بڑا ادیب و شاعر جو کراچی آتا اس کے ساتھ مذاکرہ‘ اسکی کتابوں پر تبصرہ اور اسکا انٹرویو بزم طلبہ سے نشر ہوتا۔ انٹرویو زیادہ تر پروین شاکر اور میرے حصے میں آتے۔ شاہدہ حسن خطوں کے جواب دیتی۔ ثروت حسین‘ اقبال فریدی‘ شوکت عابد‘ انور سن رائے‘ ایوب خاور‘ مذاکرے اور مشاعرے میں شریک ہوتے۔ میں اگرچہ ڈھاکہ سے نئی نئی آئی تھی مگر قمرجمیل‘ ضمیر علی اور عصمت زہرہ نے میری تربیت کی ٹھان لی تھی۔ بغیر کسی پیشگی اطلاع کے کوئی مذاکرہ یا انٹرویو میرے ذمے لگا دیتے۔ چونکہ ادب ہمارا اوڑھنا بچھونا تھا،اس لیے امتحان سے گزر بھی جاتے تھے۔ کون سا بڑا ادیب وشاعر تھا جس سے بزم طلبہ میں ملاقات نہ ہوئی ہو۔ مجتبیٰ حسین‘ ڈاکٹر احسن فاروقی‘انتظار حسین‘ مسعود اشعر‘ ن م راشد‘ کشور ناہید‘ محبوب خزاں، سب سے پہلی ملاقات وہیں ہوئی۔سلیم احمد ریڈیو سے وابستہ تھے۔عزیز حامد مدنی‘ احمد ہمدانی‘ رئیس فروغ‘ رضی اختر شوق بھی وہیں تھے۔
منیر نیازی آنے والے ہیں، ہمارے لیے بہت بڑی خبر تھی۔ عذرا عباس‘ شاہدہ حسن‘ سیما خان اورکزئی اور میں، ہم سب ان کے منتظر تھے۔ ثروت اب منیرنیازی کے زیادہ اشعار سنارہے تھے۔ ریڈیو پر ہم سب کو ان کے ساتھ مذاکرے میں شریک ہونا تھا۔ حسب دستور انٹرویو مجھے کرنا تھا۔ عزیزآباد میں قمرجمیل کے گھر ان کی دعوت تھی۔ قمرجمیل کی بیٹھک ہماری تربیت گاہ تھی۔ وہاں جدیدادب‘ تازہ تحریروں اور عالمی رجحان پر گفتگو ہوتی۔ ترقی پسند تحریک اور قیام پاکستان کے بعد ادیبوں کے مسائل اور موضوعات کیا ہیں، تقسیم کی ہجرت‘ گاؤں سے شہروں کو ہجرت کے بعد ادبی منظرنامے نے کوئی کروٹ لی۔ کون سے ادیب و شاعر ہیں جو اپنے عہد کو لکھ رہے ہیں۔ انتظار حسین‘ خالدہ حسین‘ ن م راشد‘ ناصر کاظمی اور منیر نیازی جدید لکھنے والے تھے۔
منیرنیازی بہت اہم شاعر تھے۔ ان کی شاعری میں ہجرت اور شہری زندگی کے وہ بہت سے رخ اجاگر ہوئے تھے جو بچھڑے ہوئے منظروں کے خواب اوریادوں کے جنگل سے نکل کر شہر کی سڑکوں پر آسیب بن گئے تھے۔ وہ لاشعور کے پُر پیچ راستوں سے چڑیلوں‘ سانپوں اور بھوتوں کا خوف تعاقب میں شہر تک لے آئے تھے۔ شہر کے کتنے ہی رنگ ان کی شاعری میں نمایاں تھے۔ گلیوں‘ راستوں‘ مکانوں کی کھڑکیوں‘ چھتوں اور دیواروں سے وابستہ کتنی ہی نئی کہانیاں ان کی نظموں میں سموئی رہتی تھی۔ شاعری کی پوری فضاء پر اسراریت اور حیرت کے ساتھ ایک مسلسل خوف کے آمیزش کے ساتھ، جیسے وہ سب کچھ ایسا نہ ہوجیسا انھیں نظر آرہا ہے یا ہونا چاہئے تھا۔ پہلے مکالمے کے بہت دنوں بعد میں نے پوچھا تھا۔
”نیازی صاحب یہ خوف کہاں سے آیا تھا؟ آپ نے تو بڑی بہادری سے چھلانگ لگادی تھی سمندر میں‘ اس وقت خوف نہیں آیا تھا۔“
”کچھ معلوم نہیں۔ بس ایسا لگا تھا جیسے اب یہاں نہیں رہ سکتا۔ وہ سب کچھ میرے لیے نہیں تھا مجھے تو کہیں اور ہی جانا تھا کسی اور نگر“۔۔
منیرنیازی برٹش نیوی میں بھرتی کردیے گئے تھے۔ مگر یہ جبر ان کی برداشت سے باہر تھا۔ایک مرتبہ فرار کی کوشش کی پکڑے گئے۔ ایک رات چلتے جہاز سے سمندر میں چھلانگ لگادی۔ کسی طرح کنارے آئے۔ گھر پہنچے تو چچا نے جو ان کے سوتیلے والد بھی تھے بس ایک جملہ کہا۔”مجھے پتہ تھاتم یہی کرو گے۔“
انھیں کورٹ مارشل سے بچانے کیلئے راتوں رات گھر سے روانہ کردیا گیا۔ وہ تو پاکستان بن گیا ورنہ گرفتار ہوجاتے۔ پھر یہ شاعر کہاں جاتا؟نہیں معلوم۔
منیرابن فتح خان نیازی اپنی تنہائی اور خوف کے ساتھ اجنبی زمین پر تھا۔ ماں جو بچپن میں ہی سوتیلے بھائی بہنوں کی پیدائش کی وجہ سے بچھڑ گئی تھی۔ اب نظروں سے بھی دور تھی۔ واپسی کے راستے بند تھے۔
17سال کے منیر نیازی نے ایک خوبصورت بیوہ خاتون کی محبت میں پناہ لی۔ بیحدحسین باوقار‘ کم گو‘ خدمت گزار‘ منیر نیازی کے ساتھ کھڑی چاند اور سورج کی جوڑی لگتی۔ 1985میں جب انکا انتقال کینسر سے ہوا تو ہمیں اندیشہ ہوا کہ یہ جدائی وہ کیسے برداشت کریں گے۔ ان کا آٹھواں مجموعہ ”پہلی بات ہی آخری تھی“ کا انتساب صغریٰ خانم کے نام ہے۔ اس مجموعے میں ان کا دکھ پوری طرح محسوس کیاجاسکتا ہے۔ ایک نظم ”میں اور صغریٰ“ میں لکھتے ہیں۔
ہم نے اکھٹے دکھ سکھ کاٹے راحت اور مجبوری میں
وصل کی جھلمل جھلمل راتیں‘ دن غربت کی دوری میں
ایک ناواقف شہر کے اندر چھپے ہوئے شرماتے ہوئے
دو جنگوں میں ساتھ رہے ہم ڈرے ہوئے گھبرائے ہوئے
بگڑے ہوئے رشتوں کے جنگل‘ وحشت کے صحراؤں میں
ہم نے اکھٹے عمربتادی وقت کی دھوپ اور چھاؤں میں
اپنی عمر سے بڑی بیوہ سے شادی کوئی آسان فیصلہ نہ تھا۔
سمندر میں کود جانے جیسا ہی فیصلہ تھا۔ پھر اس ساتھی کا بچھڑجانا، عمر کے اس دور میں جب رفیق اپنے وجود کا سایہ بن جاتا ہے۔ وہ بچہ دوبارہ خوف میں مبتلا ہوگیا۔ اسی مجموعے میں ایک نظم دیکھیے۔
گم شدہ ننھا بچہ۔
میرے بابا…… میرے بابا…… تم کہاں جارہے ہو۔
خدا کیلئے اتنا تیز نہ چلو
بات کرو میرے بابا! اپنے ننھے بچے سے کوئی بات کرو
نہیں تو میں گم ہوجاؤں گا
رات تاریک تھی‘ باپ وہاں نہیں تھا
بچہ شبنم سے بھیگ گیا
دلدل گہری تھی اور بچہ رودیاہوکے مجبور
اور پھر دُھنداڑ گئی بہت دور
صغریٰ باجی کی تکلیف دہ بیماری اور موت کے صدمے کو انھوں نے کس طرح سہا۔ کیسا گہرا دکھ تھا۔ رفاقت کے اس تکلیف دہ دور میں کیا کیا گزری۔ مجموعہ ”پہلی بات ہی آخری“میں محسوس کیاجاسکتا ہے۔
”میں کوئی فیصلہ نہیں کرسکتا“، ”سپنا آگے جاتاکیسے، اُس دن“ ایسی نظمیں ہیں جو ان کی کیفیات،‘ جذبات اور احساسات کا اظہار بن گئیں۔ اسی مجموعے میں تین شعر”سہہ حرفی“ کے عنوان سے دیکھیے۔
اتنی آساں زندگی کو اتنا مشکل کرلیا
جو اٹھاسکتے نہ تھے وہ غم بھی شامل کرلیا
بار ہستی ہی بہت تھا بستیوں کی زیست میں
نیستی کے خوف کو بھی خواہشِ دل کرلیا
ہم تھے تنہا بے روایت ساعتوں کی قید میں
جس سبب سے ہم نے خود کو اتنا مہمل کرلیا
انہی دنوں جب میں صغریٰ باجی کے پُرسے کیلئے گئی تو انھیں بہت دل گرفتہ پایا۔ وہ کہنے لگو چلو وہ باغ جو صغریٰ نے لگایا ہے وہاں چل کر فاتحہ پڑھتے ہیں۔ گھر کے پچھواڑے وہ پیڑاُداس کھڑے تھے جو صغریٰ باجی نے بڑے چاؤ سے لگائے تھے۔ وہ کچن بھی خالی تھا جہاں بیٹھ کر وہ کھانا پکاتی تھیں۔ میں جب بھی منیر نیازی صاحب کے یہاں جاتی، پہلے بھی اور اب بھی، کھانا باورچی خانے میں کھاتی تھی جیسے لڑکیاں میکے میں کرتی ہیں۔ صغریٰ باجی براہ راست پتیلی سے میری پلیٹ میں کھانا ڈالتیں۔ مجھے رونا آرہا تھا۔ مگر نیازی صاحب کا حال برا تھا۔ تب شوکت (میرے شوہر) نے کہا تم کچھ دیر ان کے ساتھ ٹھہرو میں بعد میں آکر لے جاؤں گا۔ منیر نیازی صاحب کی ایک بہن کسی دوسرے ملک سے آکر گھر سنبھال رہی تھیں۔ انھیں واپس جانا تھا۔ وہ تنہا کیسے رہیں گے۔ یہ بڑا سوال تھا۔ منیر نیازی نے کہا۔
”یہ لوگ بڑے ظالم ہیں۔ صغریٰ کا کفن بھی میلا نہیں ہوا اور یہ کہتے ہیں کہ شادی کرلو۔ اشفاق اور بانو قدسیہ بھی ان کا ساتھ دے رہی تھیں“
”نیازی صاحب یہ ٹھیک کہہ رہے ہیں۔ آپ کے ساتھ کسی کو ہونا چاہیے۔ تنہا گھر میں آپ نہیں رہ سکتے۔ مرنے والی کا دکھ اپنی جگہ۔ زندگی کے حقائق اپنی جگہ۔ آپ گر گئے تھے تو اٹھانے والا کوئی نہیں تھا۔ اب بہن چلی جائیں گی تو کیا ہوگا۔“
کچھ دیر کے بعد وہ سنبھل گئے۔
”عجیب عجیب خواتین آجاتی ہیں۔ میرے ساتھ رہنا چاہتی ہیں۔ عورتیں نہیں چڑیلیں ہیں یہ۔“
”آپ سے کون کہہ رہا ہے کہ ان سے شادی کیجئے۔ اشفاق صاحب اور بانو باجی جو فیصلہ کریں گے سوچ سمجھ کر کریں گے۔
کچھ دیر کے بعد شوکت مجھے لینے آگئے۔ منیرنیازی اب شوکت کی طرف متوجہ ہوئے۔
”تم بہت اچھے ہو۔اتنے اچھے کہ تمہیں فاطمہ ہی کا شوہر ہونا چاہیے تھا۔“ عجیب تعریف تھی منیر نیازی ایسے ہی غیرمتوقع جملے بولتے تھے۔
رخصت ہوتے وقت میں اور شوکت متفکر تھے۔ اب ان کی زندگی کیسی گزرے گی۔ پھر جلد ہی پتہ چلا کہ منیر نیازی کی شادی ہورہی ہے۔ کراچی میں رام پور سے آکر لیاقت آباد میں آباد خاندان میں، مکمل طے کی گئی (arranged) شادی۔ منیر نیازی اب کراچی کے داماد بننے والے تھے۔ ناہید باجی‘ بیگم ناہیدمنیرنیازی بن کر ہمارے گھر آئیں تو میں نے اور شوکت نے اطمینان کا سانس لیا کہ محبت ان کی آنکھوں سے جھلکتی تھی۔ خدمت ان کی سرشت کا حصہ۔ منیر نیازی کو ایک مرتبہ پھر عورت کی محبت و مامتا دونوں مل گئیں۔ اب تو توجہ اتنی بھرپور اور بے ساختہ تھی کہ وہ بچوں کی طرح خوش ہوجاتے کبھی کبھی وہ انھیں پنگھوڑے میں بڑی ہونے والی بچی نظر آتیں۔ ناہید باجی نے اپنی توجہ سے ان کی خوش لباسی کو مزید نکھار دیا تھا۔ غذا و دوا کا خیال رکھتی۔ غرض وہ خوبصورت بچہ گم ہوتے ہوتے پھر ان میں واپس آگیا۔اپنی تمام تر حس جمالیات کے ساتھ خود بھی حسین اور دنیا کو حسین دیکھنے کی تمنا لیے منیر نیازی نے اگلا مجموعہ جو نواں تھا، ناہید منیر نیازی کے نام انتساب کیا۔ مجموعے کا آغاز اسی عنوان کی نظم سے ہوا ہے جو اسکا ٹائٹل تھا۔
”ایک دعا جو میں بھول گیا تھا“
اے طائر مسرت اڑ کر کسی شجر سے
آ بیٹھ میرے گھر پر تیری صدا ئے خوش سے
خوش ہو یہ گھر ہمارا
دیکھے خوشی سے اس کو غمگین شہر سارا
اس مجموعے میں وہ خوبصورت غزل بھی موجود ہے۔
ہیں رواں اس راہ پر جس کی کوئی منزل نہ ہو
جستجو کرتے ہیں اسکی جو کبھی حاصل نہ ہو
انھیں ناہید باجی کے مستقبل کی بھی فکر رہتی۔
”فاطمہ! میں نے گھر ناہید کے نام کردیا ہے۔“
”میری کلیات ناہید چھاپ رہی ہے۔“ گھر سے باہر رہتے تو مستقل ان کی فکر رہتی۔ ”ناہید کو فون کرنا ہے“ اس کے لیے کچھ خریدنا ہے۔ وہ خوش ہوتی ہے۔“ ناہید کی خوشیاں انھیں بیحد عزیز تھیں۔
ایک دن میں نے پوچھا۔ نیازی صاحب عشق تو آپ کو ناہید باجی سے ہوا ہے۔ صغریٰ باجی سے کیا تھا؟
”وہ کچھ اور بات تھی“
”کیا بات؟”میں نے اپنی نادانی میں پوچھ لیا۔ وہ نبھا گئے۔“
”شروع عمر کی تنہائی تھی“ وہ خاموش ہوگئے۔ وہ جھجک اورحیا جوان کی فطرت میں تھی اس کا رنگ چہرے پر آگیا۔ میں سمجھ گئی بات بدل گئی۔ منیر نیازی نے ایک دن جب وہ کسی اور ہی دھن میں تھے۔ شوکت سے کہا تھا۔
”میں ساری عمر ون ڈش مرد رہا ہوں“
مجھ سے گفتگو میں وہ بلکہ میری شادی سے قبل میرے سامنے پینے میں بھی لحاظ کرتے تھے۔ ہمارے گھر میں رہتے تھے تو کبھی کھلے عام نہیں پی۔ اپنی گھریلو زندگی کی بہت سی باتیں مجھ سے کرتے تھے۔ ناہید باجی سے شادی کے ابتدائی دن تھے۔ مداح لڑکیاں گھر پر آجاتی تھیں۔ ایک دن کسی سر پھری نے ناہید باجی سے کہا۔ ”ان کا میرا ساتھ توآسمانوں پر لکھا گیا تھا، تم کہاں سے آگئیں“۔ یہ مقدمہ میرے سامنے پیش ہوا۔
میں نے کہاناہید باجی اب وہ آئے تو کہہ دیجئے گا۔
”تم ان سے آسمانوں پر مل لینا۔ یہاں تو میں ان کے ساتھ ہوں“
نیازی صاحب یہ سن کر خوش ہوگئے۔
”دیکھو ناہید میں نہیں کہتا تھا فاطمہ میں Wisdomہے۔“ مجھے اس کا وزڈم اور انکار اچھا لگا ہے۔“
انکار کا سلسلہ یہ تھا کہ ایک روز جب منیر نیازی اور جگن ناتھ آزاد دونوں میرے یہاں ڈائننگ ٹیبل پر تھے، دوبئی سے ایک مشاعرے کے آرگنائزر کا فون آیا۔ ان کا مدعو کرنے کا انداز ایسا تھا کہ میں نے کہا کہ میں مشاعرے میں نہیں آؤں گی۔ جگن ناتھ آزاد نے کہا تم نے کیوں انکار کیا۔اس مشاعرے کی صدارت میں کررہا ہوں۔ میں نے کہا رات کو ڈھائی بجے اگر کوئی نشے میں دھت مجھے فون کرکے مشاعرے کی دعوت دے تو مجھے انکار ہی کرنا چاہیے۔
نیازی صاحب نے کہا ”مجھے فاطمہ کا انکار اچھا لگا۔ اسکی بھی اپنی طاقت ہوتی ہے۔“
منیرنیازی کے ساتھ میں نے سفر کیا ہے۔ قطر میں بھائی عبدالحمیدمفتاح نے میرے مجموعہ کلام ”دستک سے در کا فاصلہ“ کی تقریب رکھی تھی۔ منیر نیازی کو صدارت کرنی تھی۔ انھوں نے اس موقع پر بہت اچھا مضمون لکھا۔ ایئرپورٹ سے ہی ایک خوشگوار سفر کا آغاز ہوا۔ لاؤنج میں داخل ہوتے ہی اے ایس ایف کا ایک نوجوان دوڑتا ہوا آیا اور نیازی صاحب سے بغل گیر ہوگیا۔
”آپ کا نیاز مند ہوں‘ پنجابی میں شاعری کرتاہوں“
چیک ان کاؤنٹر پر منیر نیاز ی کو دیکھتے ہی ہماری سیٹ اپ گریڈ کردی گئی۔ اب ہم اکنامی کلاس کے ٹکٹ پر فرسٹ کلاس میں سفر کررہے تھے۔ جہاز جیسے ہی اڑا خاتون اور دیگر عملے نے نیازی صاحب کو گھیر لیا اور ہماری خاطر شروع ہوگئی۔ اتنے قسم کے کھانے پیش کیے گئے کہ انھیں گنا ہی جاسکتا تھا۔ قطر کا قیام بھی بڑا دلچسپ رہا۔ مجھے اور شوکت کو وہاں سے عمرے کے لیے جانا تھا۔ منیر نیازی صاحب کو واپس لاہور آنا تھا۔ منیر نیازی صاحب کو خیال آیا کہ وہ بھی عمرے کے لیے جائیں۔ گرمیوں کا موسم دیکھتے ہوئے ہم نے انھیں کہا کہ پھر کسی وقت، جب ناہید باجی بھی ساتھ ہوں تو چلیے گا۔ یہ موسم سخت ہے۔ وہاں ہمارے میزبانوں میں سے ایک صاحب جمشید رضوی مجھے اور منیرنیازی صاحب کو ایک ایک تسبیح تحفے میں دے گئے۔ میں تو باقاعدگی سے نماز کے بعد تسبیح پڑھتی ہوں۔ منیرنیازی صاحب کو خیال ہوا کہ وہ کیا پڑھیں۔ انھوں نے اپنی اسی سادگی کے ساتھ جو بچوں کی معصومیت جیسی ہوتی تھی۔
پوچھا
”تم اس پر کیا پڑھتی ہو۔”مجھے بتاؤ میں بھی پڑھوں گا۔“
میں نے کہا۔”آپ تو وہ تسبیح پڑھیے جو حضرت علی ص پڑھتے تھے۔یا کریم ُ “
”مگر علی تو غریب آدمی تھے۔“
”وہ غریب اس لیے تھے کہ جو کچھ ان کے پاس آتا بانٹ دیتے تھے۔ دولت تو آتی تھی رکھتے نہیں تھے۔“
”یہ بھی تم ٹھیک کہتی ہو۔“ انھوں نے یا کریم ُ کی تسبیح پڑھنی شروع کردی۔
اگلے روز ان کا ایک مداح آیا اور بغل گیر ہوتے ہوئے جیب میں ایک ہزار ریال ڈال گیا۔
وہ خوش خوش میرے کمرے میں آئے۔ ”تم ٹھیک کہتی ہو میں تو امیر ہوگیا۔ میرے جیب میں ایک ہزار ریال ہیں۔“
اسی وقت انھوں نے ناہید باجی کو فون کرکے بھی یہ سارا واقعہ سنایا۔ پھر وہ ساری عمر یہ تسبیح پڑھتے رہے۔ اسکے علاوہ آیۃ الکرسی بھی پڑھتے تھے۔ ناہید باجی نے بتایا کہ اب وہ پنج سورہ باقاعدگی سے پڑھتے تھے۔
روپے اور چیزیں بانٹنے کابھی فیاضانہ رویہ ان میں رہا۔ ابتدائی زندگی میں جو کچھ ملا اسے اسی طرح لوگوں میں تقسیم کیا اور اپنا پبلشنگ ہاؤس تباہ کردیا۔ ن م راشد کے مجموعے المثال کی طرف سے شائع کرکے مثال بنادیا۔ وہ قیمتی تحفے جو انھیں ملتے بانٹ دیتے تھے۔ مجھے کئی مرتبہ قیمتی قلم یہ جانے بغیر کہ وہ کتنی ویلیو رکھتے ہیں تحفے میں دیے۔
ہمارے گھر رہتے تو انھیں بچوں اور ملازموں کو رقم بانٹنے سے روکنا پڑتا۔
”میرا دل چاہ رہا ہے اسے کچھ روپے دیدوں“ وہ کہتے اور میں اس رقم کی مقدار گھٹانے کیلئے ان کا پرس اپنے ہاتھ میں لے لیتی انھیں کئی مرتبہ چھپادیتی اور جاتے وقت دیتی۔
مہمانوں کو کھانا کھلانے کا بھی ان کو شوق تھا۔
ناہید باجی اس تواضع کی پیشگی تیاری رکھتی تھیں۔میرا آخری بار ان کے یہاں قیام فہمیدہ ریاض کے ساتھ ہوا تھا۔ فہمیدہ نے ان کی شفقت کا یہ نظارہ جو وہ کھانا کھلانے کی صورت میں کرتے تھے پہلی بار دیکھا تھا۔ وہ ان کے اس گھریلو برتاؤ سے اتنی متاثر ہوئیں کہ اس رات انھوں نے ایک نظم لکھی تھی۔
”منیرنیازی کے گھر میں“
چاندی کے چہرے میں جڑے تھے آنکھوں کے دو نیلم
طاق پہ بوتل میں جھل مل تھی گہری سرخ شراب
میز پہ رکھی تھی اس کی اک جادو بھری کتاب
جالی کے دروازوں کے پیچھے تھا خفیہ باغ
نصب تھا جس کے سیہ فلک پر زرد نصف مہتاب
ایک پرائے گھر کا دریچہ دور سے روشن تھا
صاف نظر آتی تھیں جس میں گڑی سلاخیں چار
اس گھرمیں رہتے ہیں شاعر اور اک میٹھی عورت
اور تکیے پر سوتا ہے اک گہری نیند کا خواب
منیر نیازی صاحب آخری بار کراچی جم خانہ کی ایک شام کے لیے آئے تھے۔ وہ بڑی یادگار شام تھی۔ اس شام یہ ہال کھچا کھچ بھرا تھا۔ ڈاکٹراسلم فرخی‘ فہمیدہ ریاض‘ یوسف جمال‘ شاہدہ حسن‘ آصف فرخی‘ ڈاکٹرپیرزادہ قاسم‘ ثمینہ راجہ گفتگو کیلئے موجود تھے۔ مشتاق یوسفی صاحب‘ لطف اللہ خان صاحب‘ دوست محمدفیضی‘ بھی موجودتھے اور ظاہر ہے کہ اس تقریب کا انعقاد بھی شکیل اسلم اور نسیم گاندھی ہی نے کیا۔ منیر نیازی نے کلام سنایا تو مجمع محوبیٹھارہا۔ پھر شکیلہ خراسانی نے ان کی غزلیں گانی شروع کردیں۔ شکیلہ خراسانی، پورے جذبات اور عقیدت کے ساتھ گارہی تھیں۔ منیرنیازی کی آنکھوں میں آنسو تھے اور مجمع سحرزدہ تھا۔ گانا ختم ہوا تو ایک غیرمرئی سا سکوت کچھ دیر تک ہال پر طاری رہا۔
اس شام تمام سامعین ایک ہی کیفیت سے گزرے۔
اسکے بعد جم خانہ سے مسلسل فرمائشیں ہوئیں کہ انھیں بلایاجائے۔ دوماہ قبل اسکا انتظام بھی کردیا گیا تھا۔کارڈبھی تقسیم ہوگئے مگر علالت کی وجہ سے وہ نہیں آسکے۔ طے یہ ہوا کہ جب طبیعت بحال ہوجائے گی آئیں گے۔ کراچی آنے کی وہ خواہش بھی رکھتے تھے۔ یہاں انھیں مشتاق یوسفی‘ ڈاکٹراسلم فرخی‘ڈاکٹرپیرزادہ قاسم‘ لطف اللہ خان‘ انور شعور سے خاص لگاؤ تھا۔ ان کے دوست شفیع عقیل اور یوسف جمال اور محمود شام یہاں تھے۔ ایک اور ادب دوست مداح ذوالفقار صاحب سے انھیں بہت محبت تھی۔ یہ بڑی باقاعدگی سے ان کی پسندیدہ جن سنگ منگواتے رہتے تھے۔” یہ تمہارے لوگ بہت اچھے ہیں انھیں میرا سلام پہنچا دیا کرو“ وہ ہر فون پر کہتے۔ مشفق خواجہ کی وفات پر انھوں نے باقاعدہ تعزیت کا فون کیا کہ ان سے بھی وہ ہمارے گھر ملاقات کرکے گئے تھے۔ جنھیں عزیز رکھتے بہت عزیز رکھتے تھے۔پیرزادہ قاسم کے ساتھ انھوں نے امریکہ میں مشاعرے کے لیے سفر کیا تھا۔ انھیں وہ بہت پسند کرتے تھے۔ تنہائی اور نفاست پسندی کی وجہ سے اپنے کمرے میں کسی اور کی موجودگی انھیں قبول نہیں لیکن امریکہ میں ایک موقع پر وہ پیرزادہ صاحب کے ساتھ قیام پر تیارہوگئے۔
ان دنوں جب میں نے یہ دیکھا کہ اب سفر ان کے لیے آسان نہیں تو فون پر گفتگو کے دن مقرر کرلیے تھے۔ ہراتوار کو انھیں فون کرتی۔ جانے کس موڈ میں تھے، جب انھوں نے اپنی آخری غزل اور تین نظمیں مجھے سنائیں۔ وہ غزل میں نے لکھ کر فوراً ڈاکٹرشاہ محمدمری کو سنگت کوئٹہ میں شائع کرنے کیلئے بھیج دی تھی۔ انھیں بتا بھی دیا تھا۔رسالہ ان کی وفات کے چوتھے دن چھپ کر آیا جس میں شاہ محمدمری نے آہ منیرنیازی کے عنوان سے وفات کی خبر اور ایڈیٹوریل بھی لکھا تھا کہ فہمیدہ ریاض کی انجمن وعدہ کی جانب سے لاہور میں سیمینار جب ہوا تھا تو منیرنیازی فہمیدہ کا حوصلہ بڑھانے کو موجود رہے تھے۔ اور ڈاکٹرشاہ محمدمری ان کے میزبان بنے ہوئے تھے۔ غزل کے علاوہ انھوں نے مجھے دو پنجابی اور ایک اردو نظم بھی ٹیلیفون پر سنائی۔ میں نے بھی اپنی ایک نظم جو بالکل مختلف انداز کی تھی انھیں فون پر سنائی تو کہنے لگے، یہاں ناہید اور میرے ایک عزیز بیٹھے ہیں۔ تم پھر سناؤ میں دہراتا ہوں وہ بھی سن لیں۔ یہ وضع داری تھی ان کی۔ ایسے محبت کرنے والے چلے جائیں تو اپنا گھر خالی محسوس ہونے لگتا ہے۔ جیسے وہ اسی گھر میں رہتے رہے ہوں۔گذشتہ تیس سال سے وہ کراچی میں بھی مقیم تھے۔ اپنے بعد کی نسل کے ہر شاعر کے ساتھ خواہ وہ ثروت حسین ہوں‘جمال احسانی ہوں صغیرملال ہوں‘پروین شاکر ہوں جو اب اسی دنیا میں ان کے ساتھ ہیں یا یہاں رہ جانے والے کراچی‘ اسلام آباد‘ لاہور‘ کوئٹہ اور ملک کے اندرونی علاقوں میں بسنے والے شعرا منیرنیازی اپنی یاد رہ جانے والی شاعری کے ساتھ ہرجگہ موجود ہیں۔


