بادام ناتواں: سندھی ادب کا وہ چراغ جو عورت کے درد سے ے روشن ہوا/کلاونتی راجہ

سندھی ادب کے افق پر جب عورت کے قلم کی بات ہوتی ہے تو بادام ناتواں کا نام ستارے کی طرح جگمگاتا ہے۔ وہ محض لکھاری نہیں تھیں، وہ اپنے عہد کی آواز تھیں۔ انہوں نے عورت کے دکھ، اس کی محرومی، اس کے خواب اور اس کی خاموش چیخ کو لفظوں کا پیرہن دیا۔ ان کا قلم تلوار سے زیادہ کاٹ رکھتا تھا، اور ان کی سیاہی دل کے خون سے تیار ہوتی تھی۔
پیدائش، گھرانہ اور ابتدائی زندگی
بادام ناتواں ۷ مارچ ۱۹۲۴ء کو شکار پور کے قدیم شہر میں پیدا ہوئیں۔ بعض روایتوں میں ان کی ولادت ۱۹۳۰ء کے آس پاس بھی ملتی ہے۔ شکار پور علم و ادب کا گہوارہ تھا، اور اسی مٹی نے بادام کو سوچنے، پڑھنے اور لکھنے کا حوصلہ دیا۔
وہ ایک مغل گھرانے میں آنکھ کھولتی ہیں۔ والد کا نام محمد حسن تھا۔ مگر ان کی شخصیت پر سب سے گہرا رنگ ان کی والدہ نے چڑھایا۔ والدہ اسکول کی ہیڈ مسٹریس تھیں۔ علم دوست، باوقار، اور زمانے سے آگے سوچنے والی۔ گھر میں کتاب تھی، گفتگو تھی، اور سوال کرنے کی آزادی تھی۔ اسی ماحول نے بادام کے اندر کی لکھاری کو جنم دیا۔
انہوں نے شکار پور میں تعلیم پائی اور بمبئی یونیورسٹی سے میٹرک کیا۔ لیکن ان کی اصل درس گاہ کتابیں تھیں۔ وہ سندھی، اردو، فارسی اور انگریزی پر یکساں عبور رکھتی تھیں۔ ان زبانوں کے چشموں سے ان کا اسلوب سیراب ہوا اور ان کی فکر میں وسعت آئی۔
“بادام” سے “ناتواں” تک: نام کا سفر
ان کا نام خود ایک کہانی ہے۔ لوگ حیران ہوتے، “بادام؟ عورت کا یہ نام کیسا؟” اس کا جواب انہوں نے خود دیا۔ بہت پہلے ماہنامہ “ادیوں” میں ان کا انٹرویو چھپا۔ اس میں انہوں نے بتایا:
“سردیوں میں کوئٹہ کے پٹھان خاندان شکار پور آتے تھے۔ ان کی بیٹیاں ہمارے اسکول میں پڑھتی تھیں۔ ان میں سے کچھ کے نام ‘بادام’ ہوتا تھا۔ میری والدہ ہیڈ مسٹریس تھیں۔ انہیں یہ نام بھایا۔ انہوں نے میرے لیے ‘بادام’ چن لیا۔”
اور “ناتواں”؟ یہ ان کا خود چنا ہوا قلمی نام تھا۔ ناتواں یعنی کمزور، بے بس۔ وہ کہتی تھیں، “ معاشرہ عورت کو ناتواں سمجھتا ہے۔ میں نے اسی لفظ کو اپنی شناخت بنا لیا، تاکہ دنیا کو آئینہ دکھا سکوں۔” یوں وہ ادبی دنیا میں “بادام ناتواں” کہلائیں۔
ازدواجی زندگی اور خاندان
بادام ناتواں نے عبد الباقی تھیبو سے شادی کی۔ وہ محر، ضلع دادو کے زمیندار تھے۔ یہ رشتہ محبت اور وقار کا رشتہ تھا۔
اللہ نے انہیں سات اولادوں سے نوازا — پانچ بیٹے اور دو بیٹیاں۔ ان میں سے دو نام تاریخ کا حصہ بنے۔
بیٹا میر تھیبو، پاکستان کمیونسٹ پارٹی کا سرگرم رہنما بنا۔ فکر کا مسافر، آج وہ امریکہ میں مقیم ہے۔
بیٹی نسیم تھیبو نے ماں کے نقشِ قدم پر قدم رکھا۔ وہ ترقی پسند سندھی افسانہ نگار بنی۔ اس نے کہانیوں سے سندھی ادب کا دامن بھر دیا۔ نسیم کی شادی برصغیر کے نامور انقلابی رہنما رسول بخش پلیجو سے ہوئی۔ یوں بادام ناتواں کا گھر علم، ادب اور جہدوجہد کا مرکز بن گیا۔
ان کی ایک بہن تھیں، روشن آرا مغل۔ وہ بھی لکھتی تھیں۔ مختصر لکھا، مگر ان مٹ نقوش چھوڑے۔ جب روشن آرا دنیا سے رخصت ہوئیں تو بادام کا دل کرچی کرچی ہو گیا۔ انہوں نے غم کو روشنائی بنایا اور رسالہ “تنہنجی یاد میں” شائع کیا۔ یہ رسالہ بہن سے محبت، جدائی کا کرب اور یادوں کی خوشبو سے لبریز تھا۔
ادبی سفر: کتابیں، مضامین اور نیا اسلوب
بادام ناتواں کا قلم تیز تھا، اور سچا تھا۔ انہوں نے عورت کے اخلاق، کردار، اعتماد، ذمہ داری اور علم کو موضوع بنایا۔ ان کا سب سے بڑا کارنامہ یہ ہے کہ وہ سندھی ادب کی پہلی خاتون تھیں جنہوں نے مضمون کو فکشن کا روپ دیا۔ انہوں نے خشک مضمون نگاری کو خیرباد کہا۔ اس کی جگہ جذبات، علامت اور کہانی کا رنگ بھرا۔ یہ اس دور میں ایک انقلابی تجزیہ تھا۔
۱۔ شکستہ زندگي ۔۔ “ٹوٹی ہوئی زندگی” (۱۹۵۰ء)
یہ ان کی پہلی کتاب تھی۔ دو جلدوں میں، ہر جلد ۲۵۰ صفحات پر محیط۔ ایک خاتون کے قلم سے اس ضخامت کی کتاب اس زمانے میں حیرت کی بات تھی۔ اسے بشیر احمد اینڈ سنز، کراچی نے شائع کیا۔ کتاب ٹوٹے خوابوں کا نوحہ ہے۔ عورت کی اندرونی دنیا کا آئینہ ہے۔ معاشرے کے سرد رویوں پر ضرب ہے۔
۲۔ خوش خصلت خاتون — “اچھی سیرت والی عورت” (۱۹۵۶ء)
یہ کتاب سندھی ادبی بورڈ نے شائع کی۔ اس میں دس مضامین تھے۔ بادام ناتواں نے خود لکھا: “اس کتاب کو لکھتے وقت سیاہی کی جگہ میں نے جگر کا خون استعمال کیا ہے۔” بورڈ نے ان کی قدر کی۔ انہیں انعام سے نوازا۔ سیکریٹری محمد ابراہیم جویو نے ۲۰۰ نسخے اور انعام ان کے نام بھیجا۔ اس دور میں کسی خاتون لکھاری کے لیے یہ شرف کم نہیں تھا۔
سید میراں محمد شاہ نے تبصرہ کرتے ہوئے لکھا: “یہ تصنیف پہلی کتابوں سے کہیں بہتر ہے… ایسی محنت اور لگن کے لیے یہ خاتون تعریف اور مبارکباد کی مستحق ہے۔”
۳۔ قلبی  اُڃ  “دل کی پیاس” (۱۹۶۶ء)
یہ کتاب مولوی محمد عظیم اینڈ سنز، شکار پور سے چھپی۔ یہ بادام ناتواں کے قلم کا نکھار ہے۔ سندھ کے محسن عالم علامہ آئی آئی قاضی نے اس پر اپنی رائے لکھی۔ ان کی تحسین نے کتاب کو سندِ اعتبار بخشا۔
اس مجموعے کے مضامین میں جوش ہے، درد ہے، اور سچ ہے۔ انہوں نے شاعر کی آنکھ سے معاشرہ دیکھا۔ جہاں برائی دیکھی، بے خوف لکھ دیا۔ انہوں نے عورتوں سے کہا: روحانیت کا راستہ چنو۔ حقوق اللہ ادا کرو۔ حقوق العباد نبھاؤ۔ جہالت کو دھتکار دو۔ علم کا دیا جلاؤ۔
ان کی تحریر مطالعے کی گواہ ہے۔ وہ فارسی، انگریزی، عربی اور سندھی کے اشعار، اقوال اور حکایتیں برمحل استعمال کرتیں۔ اس سے ان کا بیانیہ مہک اٹھتا۔
دیگر اہم تحریریں
ان کے قلم سے مزید تین کتابیں نکلیں جو بدقسمتی سے آج تک غیر مطبوعہ ہیں:
• نماڻي نار  “بے بس عورت”
• خلوت ۾  “تنہائی میں”
• رنم رت ڦڙا “خون کے آنسو کے قطرے”
یہ تینوں کتابیں عورت کے اندر اترتی ہیں۔ اس کا کرب بیان کرتی ہیں۔ سماج کا رویہ بے نقاب کرتی ہیں۔ ان کا چھپنا ضروری ہے۔ یہ سندھی ادب کا قرض ہیں۔
عہد ساز اثرات اور فراموشی کا المیہ
بادام ناتواں نے عورت کو جگایا۔ اسے کتاب سے جوڑا۔ اسے اس کے حق یاد دلائے۔ ان کے دور میں محترمہ زینت عبداللہ چنہ بھی نئیں زندگی میں لکھتی تھیں۔ لوگ دنگ رہ جاتے تھے۔ اسی ماحول میں شکار پور سے بادام ناتواں کی آواز بلند ہوئی۔ ان کی کتابیں آئیں تو لوگوں نے جانا کہ یہ قلم صرف لکھتا نہیں، سوچتا بھی ہے۔
ان کی تحریروں نے دو کام کیے۔ ایک طرف سندھی ادب کو نیا اسلوب دیا۔ دوسری طرف سندھ کی پڑھی لکھی عورتوں تک سچ، شعور، علم اور نصیحت پہنچائی۔ ان کے لفظوں سے عورتوں میں اپنی ذمہ داری نبھانے کا جذبہ جاگا۔ اپنے حق کے لیے بولنے کا حوصلہ پیدا ہوا۔
مگر افسوس! جس تیزی سے ان کا قلم چلا، اسی تیزی سے ہم نے انہیں بھلا دیا۔ ان کا علمی کام نصاب کا حصہ نہ بن سکا۔ کالج اور یونیورسٹی کی کلاسوں میں نہ پڑھایا گیا۔ ان کی کتابیں بازار سے غائب ہو گئیں۔ ان کی غیر مطبوعہ تحریریں الماریوں میں بند رہیں۔ یہ ادب کا نہیں، ہمارا نقصان ہے۔
رخصتی اور امر ہو جانے والا نام
۸ فروری ۱۹۸۸ء کو بادام ناتواں نے شکار پور میں آخری سانس لی۔ وہ اسی مٹی میں سو گئیں جہاں انہوں نے پہلا لفظ لکھا تھا۔ جسم فانی تھا، مگر لفظ باقی ہیں۔
آج بادام ناتواں کا نام سندھی خواتین کے ادب کا درخشاں باب ہے۔ وہ شکار پور کی بیٹی تھیں۔ وہ باغی بیٹوں کی ماں تھیں۔ وہ ہر پڑھنے والی عورت کی استاد تھیں۔ وہ ہر درد مند دل کے لیے مرہم تھیں۔
ان کا پیغام آج بھی تازہ ہے: مضبوط بنو۔ سچ بولو۔ سیکھو۔ اور سکھاؤ۔

اپنا تبصرہ لکھیں