پاکستان کے موجودہ حالات میں علما کے قتل کا تسلسل محض امن و امان کا مسئلہ یا بیرونی ہاتھ نہیں، بلکہ ایک گہرا فکری بحران ہے جس کی جڑیں ہماری اجتماعی دینی تعبیر اور اس کے فروغ کے طریقۂ کار میں پیوست ہیں۔ یہ سمجھنا کافی نہیں کہ چند گمراہ افراد یہ سب کر رہے ہیں؛ اصل سوال یہ ہے کہ وہ فکری فضا کون سی ہے جس نے ایسے افراد کو جنم دیا اور انہیں یہ جرات بخشی کہ وہ اپنے ہی معاشرے کے اہلِ علم کو نشانہ بنائیں۔ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ جب دین کی تعبیر میں توازن، حکمت اور وسعت کی جگہ سختی، قطعیت اور خود ساختہ تقدس لے لیتا ہے، تو نتیجہ ہمیشہ انتشار اور خونریزی کی صورت میں نکلتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ابتدائے اسلام میں خوارج جیسے گروہ پیدا ہوئے، جو اپنی عبادت گزاری اور ظاہری دینداری کے باوجود اس بنیادی حقیقت سے محروم تھے کہ دین محض ظواہر کا نام نہیں، بلکہ فہم، حکمت اور اعتدال کا تقاضا کرتا ہے۔ انہوں نے اپنے آپ کو حق کا واحد علمبردار سمجھا اور باقی امت کو گمراہی بلکہ کفر تک سے تعبیر کیا، یہاں تک کہ جلیل القدر صحابہ بھی ان کے تیروں سے محفوظ نہ رہ سکے۔ آج کے بعض انتہاپسند گروہوں میں اسی ذہنیت کی بازگشت سنائی دیتی ہے، جو اپنے محدود فہم کو دین کا کامل نمونہ سمجھ کر دوسروں کو دائرۂ اسلام سے خارج کرنے میں کوئی تامل نہیں کرتے، اور پھر اسی بنیاد پر قتل جیسے سنگین جرم کو ایک مذہبی کارنامہ بنا دیتے ہیں۔ان کو ہم نے انہی غلط تعبیرات اور محدود مقاصد کو حاصل کرنے کے لیے خود ہی بنایا اور اج ہم خود ہی اس کے سب سے بڑے شکار ہیں ۔
یہ موازنہ محض تاریخی نہیں، بلکہ فکری نوعیت کا ہے۔ خوارج کی اصل خرابی ان کے عقائد کی جزئیات میں نہیں تھی، بلکہ ان کے طرزِ فکر میں تھی، جہاں دین کو ایک سخت، غیر لچکدار اور یک رخی قالب میں قید کر دیا گیا تھا۔ وہ اختلاف کو برداشت کرنے کے بجائے اسے بغاوت سمجھتے تھے، اور اپنے فہم کو حرفِ آخر قرار دیتے تھے۔ یہی ذہنیت آج بھی مختلف صورتوں میں ہمارے معاشرے میں موجود ہے، جہاں بعض حلقے اپنے مسلکی، فرقی یا گروہی نقطۂ نظر کو اس شدت کے ساتھ پیش کرتے ہیں کہ اس سے ہٹ کر ہر آواز مشکوک، بلکہ قابلِ نفی قرار پاتی ہے۔ یہ رویہ اس وقت مزید خطرناک ہو جاتا ہے جب اسے مذہبی تقدس کا لبادہ پہنا دیا جائے، کیونکہ پھر اس کے خلاف کوئی تنقید سننا یا برداشت کرنا بھی جرم بن جاتا ہے۔
اہم بات یہ ہے کہ اس طرزِ فکر کی تردید خود دینی اصولوں کے اندر موجود ہے۔ دین کی اصل روح انسان کو جوڑنے، اسے اخلاقی بلندیوں تک پہنچانے، اور معاشرے میں عدل و رحمت کو قائم کرنے کی ہے۔ جب دین کو اس کے سیاق و سباق سے کاٹ کر محض چند جزوی احکام یا فروعی مسائل تک محدود کر دیا جائے، تو اس کا نتیجہ لازماً سختی اور عدمِ برداشت کی صورت میں نکلتا ہے۔ اس کے برعکس ایک متوازن دینی فکر ہمیشہ یہ سکھاتی ہے کہ ایمان کا تعلق دل کی گہرائیوں سے ہے، اور اس کا فیصلہ انسانوں کے بجائے خدا کے سپرد ہے۔ اسی طرح اختلافِ رائے کو ایک فطری امر سمجھا جاتا ہے، جسے مکالمے اور دلیل کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے، نہ کہ طاقت اور تشدد کے ذریعے۔
اسی تناظر میں یہ بات بھی قابلِ توجہ ہے کہ بعض معاصر اہلِ فکر نے اس مسئلے کی جڑ کو نہایت باریکی سے واضح کیا ہے۔ ان کے نزدیک دین کے نام پر تشدد دراصل دین کی ایک ایسی تعبیر کا نتیجہ ہے، جہاں دعوت اور اصلاح کے بجائے تصادم اور جبر کو اختیار کر لیا جاتا ہے۔ وہ اس بات پر زور دیتے ہیں کہ دین کا اصل طریقہ قائل کرنا ہے، نہ کہ زبردستی مسلط کرنا۔ جب اس اصول کو نظر انداز کیا جاتا ہے، تو دین ایک اخلاقی قوت کے بجائے ایک سیاسی یا عسکری ہتھیار بن جاتا ہے، جس کا نتیجہ وہی ہوتا ہے جو آج ہم اپنے گرد و پیش میں دیکھ رہے ہیں۔
مزید یہ کہ ہمارے معاشرتی حالات بھی اس مسئلے کو بڑھا رہے ہیں۔ غربت، بے روزگاری، اور معیاری تعلیم کی کمی نے ایک ایسا ماحول پیدا کیا ہے جہاں نوجوانوں کے لیے انتہاپسند بیانیہ زیادہ پرکشش بن جاتا ہے، کیونکہ وہ انہیں ایک سادہ، قطعی اور جذباتی جواب فراہم کرتا ہے۔ جب جدید علوم، تنقیدی سوچ، اور متوازن دینی تعلیم سے محرومی ہو، تو ذہن یک رخی ہو جاتا ہے، اور ایسے میں کوئی بھی شدت پسند نظریہ آسانی سے جگہ بنا لیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمیں اس مسئلے کو صرف سیکیورٹی کے زاویے سے نہیں، بلکہ ایک ہمہ جہت فکری اور تعلیمی بحران کے طور پر دیکھنا ہوگا۔
یہاں یہ نکتہ بھی اہم ہے کہ یہ انتہاپسند عناصر تعداد میں ہمیشہ کم ہوتے ہیں، لیکن ان کا شور اور ان کا اثر اس قدر زیادہ ہوتا ہے کہ وہ پورے معاشرے کو یرغمال بنا لیتے ہیں۔ اس کے برعکس جمہور، جو اعتدال، رواداری اور امن کے قائل ہوتے ہیں، اکثر خاموش رہتے ہیں یا منظم انداز میں اپنی آواز بلند نہیں کر پاتے۔ نتیجتاً ایک اقلیت کا بیانیہ غالب آتا دکھائی دیتا ہے، حالانکہ حقیقت میں وہ اکثریت کی نمائندگی نہیں کرتا۔ اس خاموش اکثریت کو اب اپنی ذمہ داری کا احساس کرنا ہوگا اور واضح طور پر اس انتہاپسند فکر کی تردید کرنی ہوگی۔
اس وجہ سے یہ بات نہایت وضاحت کے ساتھ کہی جانی چاہیے کہ علما کے قتل کا یہ سلسلہ دراصل دین کے نام پر دین ہی کی نفی ہے۔ یہ وہی راستہ ہے جس پر چل کر خوارج تاریخ میں ایک عبرت بن گئے، اور آج بھی اگر ہم نے اسی ذہنیت کو چیلنج نہ کیا تو انجام مختلف نہیں ہوگا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم دین کو اس کی اصل روح کے ساتھ سمجھیں، جس میں حکمت، رحمت، اور وسعت بنیادی اقدار ہیں؛ اختلاف کو برداشت کریں، اور علم و مکالمے کو فروغ دیں۔ اگر ہم نے یہ راستہ اختیار کر لیا تو نہ صرف یہ کہ تشدد کا یہ سلسلہ رک سکتا ہے، بلکہ ہمارا معاشرہ دوبارہ ایک ایسے فکری توازن کی طرف لوٹ سکتا ہے جہاں اختلاف کے باوجود احترام باقی رہے، اور جہاں دین انسانوں کو جوڑنے کا ذریعہ بنے، نہ کہ انہیں ایک دوسرے کے خلاف کھڑا کرنے کا۔
محمد امین اسد


