پاکستانی معاشرہ ایک عجیب نفسیاتی اور فکری تضاد کا شکار ہو چکا ہے۔ یہاں ہر بڑے سانحے کے بعد فضا سوگوار ہو جاتی ہے، سوشل میڈیا تعزیتی پیغامات سے بھر جاتا ہے، ٹی وی اسکرینوں پر آنسو اور بیانات نمودار ہوتے ہیں، مساجد میں دعائیں مانگی جاتی ہیں، اور چند دن تک ہر شخص غم و غصے میں مبتلا دکھائی دیتا ہے۔ لیکن المیہ یہ ہے کہ یہ سارا ردِعمل صرف حادثے کے ظاہری منظر تک محدود رہتا ہے۔ جیسے ہی وقت گزرتا ہے، جذبات کی شدت کم ہوتی ہے اور پھر پورا معاشرہ دوبارہ اسی بے حسی کے اندھیرے میں واپس چلا جاتا ہے جہاں سے وہ حادثہ پیدا ہوا تھا۔ ہم لاشوں پر روتے ہیں مگر ان سوچوں، رویّوں، نظاموں اور اجتماعی کمزوریوں پر بات نہیں کرتے جو ان حادثات کو جنم دیتے ہیں۔ یہی وہ فکری جمود ہے جس نے ہماری قومی زندگی کو ایک ایسے دائرے میں قید کر دیا ہے جہاں سانحات بدلتے رہتے ہیں مگر اسباب ہمیشہ زندہ رہتے ہیں۔
کسی بھی مہذب اور زندہ قوم کی اصل پہچان یہ نہیں ہوتی کہ وہ حادثات پر کتنا روتی ہے، بلکہ یہ ہوتی ہے کہ وہ حادثات سے کتنا سیکھتی ہے۔ ترقی یافتہ معاشروں میں جب کوئی سانحہ پیش آتا ہے تو وہاں صرف افسوس نہیں کیا جاتا بلکہ پورا نظام حرکت میں آ جاتا ہے۔ سوال اٹھائے جاتے ہیں، پالیسیوں کا جائزہ لیا جاتا ہے، اداروں کی اصلاح ہوتی ہے اور اجتماعی رویّوں پر بحث ہوتی ہے تاکہ وہ سانحہ دوبارہ جنم نہ لے۔ مگر ہمارے ہاں صورتِ حال اس کے برعکس ہے۔ یہاں سوال پوچھنے والا اکثر مشکوک سمجھا جاتا ہے، اصل اسباب پر بات کرنے والے کو متنازع بنا دیا جاتا ہے، اور جذباتی نعروں کے شور میں سنجیدہ مکالمہ دفن ہو جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے ہاں ہر حادثہ وقتی غم تو پیدا کرتا ہے مگر مستقل شعور پیدا نہیں کرتا۔ ہم نے حادثات کو قسمت، سازش، دشمن یا وقتی غفلت کے کھاتے میں ڈال کر اپنے اجتماعی ضمیر کو مطمئن کرنا سیکھ لیا ہے، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ اکثر سانحات اچانک نہیں ہوتے بلکہ وہ طویل فکری، سماجی اور انتظامی غفلت کا نتیجہ ہوتے ہیں۔
اگر ہم دیانت داری سے اپنے گردوپیش کا جائزہ لیں تو محسوس ہوگا کہ ہمارے اکثر بحرانوں کی جڑیں صرف حکومتی ناکامیوں میں نہیں بلکہ ہمارے اجتماعی رویّوں میں بھی پوشیدہ ہیں۔ جب معاشرے میں قانون کی عزت کمزور پڑ جائے، جب تعلیم شعور کے بجائے صرف ڈگری کا ذریعہ بن جائے، جب مذہب اخلاقی تربیت کے بجائے محض جذباتی شناخت بن کر رہ جائے، جب سیاست خدمت کے بجائے طاقت کا کھیل بن جائے، اور جب میڈیا آگاہی کے بجائے سنسنی کو ترجیح دینے لگے تو پھر حادثات محض حادثات نہیں رہتے بلکہ اجتماعی کردار کا عکس بن جاتے ہیں۔ سڑکوں پر ہونے والے حادثات ہوں، مذہبی شدت پسندی ہو، بچوں اور خواتین کے خلاف جرائم ہوں، کرپشن ہو، تعلیمی زوال ہو یا ادارہ جاتی کمزوریاں، یہ سب کسی ایک فرد یا ایک دن کی پیداوار نہیں بلکہ ایک طویل سماجی غفلت کا نتیجہ ہیں۔ مگر ہم ہر بار صرف نتیجے پر روتے ہیں، سبب پر خاموش رہتے ہیں، کیونکہ سبب پر بات کرنا خود احتسابی کا تقاضا کرتا ہے اور خود احتسابی ہمیشہ مشکل ہوتی ہے۔
خیبر پختونخوا جیسے معاشروں میں یہ المیہ اور زیادہ پیچیدہ ہو جاتا ہے، کیونکہ یہاں روایت، جذبات، قبائلی غیرت اور مذہبی وابستگی انسانی رویّوں پر گہرا اثر رکھتی ہیں۔ یہ عناصر اپنی اصل میں معاشرتی استحکام کا ذریعہ تھے، مگر جب ان کے ساتھ علم، برداشت اور حکمت کا توازن ختم ہو جائے تو یہی عناصر اصلاح کے بجائے ردِعمل پیدا کرنے لگتے ہیں۔ ہمارے ہاں اکثر لوگ کسی بھی سانحے کے بعد فوری جذباتی ردِعمل تو دیتے ہیں، مگر یہ سوال کم ہی اٹھاتے ہیں کہ آخر ایسا ماحول کیوں پیدا ہوا جہاں نفرت اتنی آسان، برداشت اتنی کمزور اور تشدد اتنا معمول بن گیا؟ ہم نے نوجوانوں کو معلومات تو بہت دیں مگر فکری تربیت کم دی۔ ہم نے انہیں نعروں کی زبان سکھائی مگر مکالمے کا سلیقہ نہ دے سکے۔ ہم نے مذہب کا جذبہ تو منتقل کیا مگر دین کی حکمت، اخلاق اور تحمل کو پس منظر میں دھکیل دیا۔ یہی وجہ ہے کہ آج ہمارا نوجوان جذبات میں جلد مشتعل ہوتا ہے مگر دلیل سننے کا حوصلہ کم رکھتا ہے۔ ایک ایسا معاشرہ جہاں برداشت کمزور ہو جائے، وہاں حادثات صرف سڑکوں یا میدانوں میں نہیں بلکہ ذہنوں کے اندر بھی جنم لیتے ہیں۔
اس تمام صورتِ حال کا سب سے خطرناک پہلو یہ ہے کہ ہم نے اجتماعی طور پر “عادت” پیدا کر لی ہے۔ حادثات اب ہمیں چونکاتے کم اور وقتی طور پر غمزدہ زیادہ کرتے ہیں۔ روزانہ کے سانحات نے ہمارے احساس کو کند کر دیا ہے۔ ہم کچھ لمحوں کے لیے افسردہ ہوتے ہیں، پھر اگلے دن نئی خبر، نیا تنازع اور نیا ہنگامہ ہماری توجہ کو بدل دیتا ہے۔ یہی مسلسل جذباتی انتشار کسی بھی قوم کے فکری زوال کی علامت ہوتا ہے۔ جب قومیں مستقل شعور کے بجائے وقتی ردِعمل کی عادی ہو جائیں تو ان کے اندر اصلاح کی طاقت کمزور پڑ جاتی ہے۔ ایسے معاشرے میں لوگ مسائل کا سامنا کرنے کے بجائے یا تو خاموشی اختیار کرتے ہیں یا پھر ہر خرابی کی ذمہ داری کسی اور پر ڈال دیتے ہیں۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ نظام بھی جمود کا شکار رہتا ہے اور معاشرہ بھی۔
تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ قومیں صرف بیرونی حملوں سے تباہ نہیں ہوتیں بلکہ اندرونی فکری کمزوریوں سے بھی بکھر جاتی ہیں۔ جب معاشرہ سچ بولنے والوں سے خوف کھانے لگے، جب اصلاح کی بات کو تنقید سمجھا جائے، جب تحقیق کے بجائے جذبات فیصلے کرنے لگیں اور جب اجتماعی ضمیر صرف حادثات کے وقت بیدار ہو تو پھر زوال آہستہ آہستہ ایک مستقل حقیقت بن جاتا ہے۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ کسی بھی حادثے کے بعد صرف افسوس کافی نہیں ہوتا۔ اگر ہم واقعی تبدیلی چاہتے ہیں تو ہمیں ان سوالات کا سامنا کرنا ہوگا جن سے ہم مسلسل فرار اختیار کرتے آئے ہیں۔ ہمیں اپنے تعلیمی نظام، سماجی رویّوں، مذہبی تعبیر، سیاسی ثقافت اور میڈیا کے کردار سب پر سنجیدہ مکالمہ کرنا ہوگا۔ کیونکہ حادثات پر آنسو بہانا انسانیت ہے، مگر اسباب پر خاموش رہنا اجتماعی بے حسی ہے۔ اور جو قومیں صرف رونے کی عادی ہو جائیں، تاریخ انہیں بدلنے والی قوموں میں شمار نہیں کرتی بلکہ عبرت کی مثالوں میں یاد رکھتی ہے۔


