طاقت کا پرانا تصور انسان کی اپنی صلاحیت، جسمانی طاقت یا قبائلی اثر و رسوخ سے جڑا ہوا تھا۔ شروع میں طاقت کا مطلب جسمانی برتری تھا، جو وقت کے ساتھ قبائلی طاقت (یعنی اثرانداز ہونے کی طاقت) میں بدل گیا۔ تب ایک شخص اپنے ساتھ جڑے ہوئے لوگوں اور ہتھیاروں کے ذریعے اپنا اثر قائم رکھتا تھا جو اس کی ذاتی ملکیت ہوتے۔ آج کے دور میں بھی طاقت کی یہی پرانی شکل، دولت (روپیہ پیسا) اور ذاتی تعلقات کی صورت میں موجود ہے لیکن جدید دور نے دستاویزی طاقت کا ایک بالکل الگ تصور پیدا کیا ہے۔(برصغیر میں یہ گورا لے کر آیا) یہ وہ طاقت ہے جو صرف ایک کاغذ کے ٹکڑے سے ملتی ہے۔ حاکم ایک کاغذ کے ٹکڑے پر کچھ اختیار عہدے کی شکل میں لکھ دیتا ہے کہ فلاں آدمی کو دءے جاتے ہیں۔ ماضی کے سپہ سالار یا نوابوں کے پاس بھی عہدے ہوتے تھے، مگر ان کی طاقت صرف ایک کاغذ تک محدود نہیں تھی۔ ان کے پاس اپنا ذاتی اثر و رسوخ بھی ہوتا تھا۔ اسی لیے، عہدہ چھن جانے یا مرکز سے تعلق ٹوٹنے کے بعد بھی ان کی اہمیت برقرار رہتی تھی۔ وہ عہدے کے بغیر بھی ایک پہچان رکھتے تھے۔ یا اثر انداز ہونے کی صلاحیت رکھتے تھے۔
اس کے برعکس آج کے دور کی دستاویزی طاقت کافی عجیب اور مضحکہ خیز ہے۔ یہ طاقت صرف ایک کاغذ کے ساتھ شروع ہوتی ہے اور اسی کے ساتھ ختم ہو جاتی ہے۔ ہمارے اردگرد ایسے بہت سے لوگ ہیں جو اس کاغذ کے سہارے طاقت کا مظاہرہ کرتے ہیں، لیکن جیسے ہی وہ وقت ختم ہوتا ہے، ان کا دبدبہ اثر رسوخ سب کچھ ختم ہو جاتا ہے۔ حالات یہاں تک پہنچ جاتے ہیں کہ انھیں کوئی پوچھتا بھی نہیں، بلکہ جن لوگوں پر وہ کل تک حکم چلاتے تھے، وہی انھیں نقصان پہنچانے لگتے ہیں۔
دستاویزی طاقت رکھنے والے اکثر اس دھوکے میں رہتے ہیں کہ یہ عزت اور اختیار ان کی اپنی ذات کا حصہ ہے، جسے انھوں نے خود کما یا ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ جیسے ہی وہ دستاویزی اختیا ر ختم ہوتا ہے، ان کی پوری طاقت دھڑام سے نیچے گر جاتی ہے اور وہ اپنے اندر طاقت کا معمولی سا احساس بھی باقی نہیں رکھ پاتے۔


