قصہ ایک انٹرویو کا/اقتدار جاوید

مرزا یاس یگانہ چنگیزی شیر بندے تھے انہوں نے ایک ترانہ شقشقیہ تحریر کیا تھا۔اس میں انہوں نے کمال کے اشعار لکھے ہیں مثلاً
منم کہ لکھنؤ را جانِ تازۂ دادم
منم خدائے سخن یاس و ناخدائے خودم
ہم سب یگانہ کے مزاج کو اچھی طرح جانتے ہیں۔ان کے چنگیزی خون نے ان کو نچلا بیٹھنے ہی نہیں دیا۔
یہ شاعری کی کتاب ان کے مزاج کے عین مطابق ہے۔ایک گھن گھرج ایک طنظنہ اور جیسے بادشاہ سلامت کی سواری آ رہی ہے۔ہٹو ںچو۔جوش جو ناک پر مکھی نہیں بیٹھنے دیتے تھے ان کے چاہنے والوں میں سے تھے۔ترانہ شقشقیہ یاد کر لینا چاہیے کہ یہ حضرت علی کی سنت میں جاری کیا گیا تھا۔پچھلے تین سالوں سے یہ ترانہ ہمارے دل میں موجیں مار رہا ہے زبان پر نہیں آ رہا تھا۔زہے نصیب ایک موک انٹرویو اور ایک رزلٹ کارڈ نے یہ مشکل آسان کر دی۔پہلے تو بڑے بڑوں نے اس خبر اور رزلٹ کو ہی موک یا فیک قرار دے دیا۔ہائی فائی افسران اور لوگ اس کی حقیقت کو جھٹلا رہے تھے۔ترانہ شقشقیہ کیسے یاد نہ آتا۔ یہ ترانہ نہج البلاغہ کی زیب و زینت ہے اور بہت مشہور ہے۔حضرت علی نے فرمایا تھا
تِلْکَ شِقْشِقَةٌ ہَدَرَتْ ثُمَّ قَرَّتْ۔
انٹرویو کیا ہے اسی انٹرویو نے ساری حقیقت واضح کر دی۔اس امتحان کو ملک کا سب سے بڑا اور مشکل امتحان سمجھا جاتا ہے۔سنا ہے کہ ایک ایک نمبر پر دس دس امیدوار برابر کھڑے ہوتے ہیں۔ایک نمبر کے اضافے سے ایک امیدوار دس پوزیشنوں کی برتری حاصل کر لیتا ہے۔ایک نمبر کم ہونے سے امیدوار دس پوزیشنز نیچے چلا جاتا ہے۔سی ایس ایس کا امتحان مشکل ہے اور اس کا انٹرویو سارے کا سارے سانپ اور سیڑھی کا کھیل ہے۔وزیر آغا کی ایک نظم بھی سانپ اور سیڑھی ہے مگر وہ ادیبوں کے لیے ہے۔یہ انٹرویو کنڈکٹ کرنے والا ادارہ آزاد اور خود مختار ہے اور اس کے کسی فیصلے کو تبدیل کرنے کے لیے کسی عدالت کا دوازہ نہیں کھٹکھٹایا جا سکتا۔اس کی اجازت بھی نہیں ہونی چاہیے۔مذکورہ انٹرویو نے فضا کو خاصا دھندلا کر دیا ہے۔چونکہ اصل انٹرویو تک ہماری رسائی نہیں ہے صرف ایک امیدوار کے کچھ مضامین میں مارکس کی خبر ہے۔ان مذکورہ نمبروں کے بارے میں خاصی تشویش پائی جاتی ہے۔اس تشویش کی وجوہات بہت جینوئن ہیں۔
ہمارے معاشرے میں اس مقابلے کے امتحان کی حیثت اب پل صراط کی ہے جو بھی اس پل صراط سے گزر جاتا ہے اس کو جنت تو ضرور ملتی ہے اس کی کایا بھی پلٹ جاتی ہے۔پہلے والا جیسے آدمی غائب ہو جاتا ہے یعنی یہ امتحان امتحان پاس کرنے والے کا سٹیٹس تبدیل کر دیتا ہے۔اس کی پسلی سے ایک نیا نکور آدمی اچانک برآمد ہو جاتا ہے۔اس سلسلے میں زیادہ مثالیں دینے کی ضرورت نہیں۔ایک نیک نام بیوروکریٹ کا ذکر کافی ہے۔وہ گلگت کے رہنے والے تھے۔کوٹہ سسٹم پر وہ اسسٹنٹ کمشنر بھرتی کیے گئے اور لائل پور کی ایک تحصیل کے اسسٹنٹ کمشنر لگا دئے گئے۔ان کے والد ان کو ملنے آئے تو بیٹے کا گھر اور گھر میں ایک کار یا جیپ دیکھ کر آبدیدہ ہو گئے۔کہنے لگے میں ایسی سات زندگیاں اور گزار لیتا تب بھی میں یہ گھر اور یہ گاڑی نہیں خرید سکتا تھا۔اب صرف اس پر کیا موقوف ہر کامیاب اور اہل امیدوار کے حالات خدائے پاک ایسے ہی بدلتا ہے مگر اسے مقابلے کے امتحان اور اس انٹرویو کے مرحلے سے گزرنا ہوتا ہے جس سے ایک امیدوار گزرا ہے اور جس کی مارکس شیٹ وائرل ہے۔ہمارے معاشرے کا عجب سانحہ ہے کہ اگر اپنے بچوں کو تعلیم کے لیے کسی سکول میں داخل کروانا ہے تو کسی سرکاری سکول کا آپشن ہو ہی نہیں سکتا۔وہاں سارے بچے وہ ہیں جو ماہانہ ہزاروں کی فیسیں بھرنے کی استطاعت نہیں رکھتے۔اگر علاج معالجے کا مسئلہ ہے تو کسی سرکاری ہسپتال میں جا کر علاج کروانے کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔یہ لوگ علاج اور تعلیم کے لیے کسی سرکاری اداروں کا رخ نہیں کریں گے مگر نوکری سرکار کی کریں گے۔ان سب کی اول ترجیح سرکاری نوکری ہے اور اگر کسی طرح مقابلے کے امتحان میں یا انٹرویو میں چھکا لگ جائے تو بلی کے بھاگوں چھینکا ٹوٹنے والی بات ہے۔ ہمارے ایک دوست کا کہنا ہے کہ جب تک پاکستان ہے تب تک اس ٹھاٹ کی اور کوئی نوکری نہیں۔ستم ظریف کہتا ہے کہ جب تک نوکری ہے پاکستان ہے۔جس شقشقیہ کا اوپر ذکر ہوا تھا وہ حضرت علی کا ایک خطبہ ہے۔وہ عظیم ہستی تھیں انہوں نے فرمایا تھا کہ یہ ایک شقشقیہ تھا جو ابھرا اور ٹھنڈا ہو گیا۔ان کے چاہنے والے اب بھی اسے سر میں پڑھتے اور گاتے ہیں مگر ان کا غصہ ٹھنڈا نہیں ہو پا رہا۔یاس یگانہ نے مزید کہا تھا
ہزار فتنہ بپا گشت و من خبر نہ شدم
ہزار کوہ شد از جا و من بہ جائے خودم
کہ ہزار فتنے برپا ہوئے اور مجھے خبر نہ ہوئی، ہزار پہاڑ ہل گئے مگر میں اپنی جگہ پر قائم ہوں۔اب ہم اور کیا عرض کریں۔یہ انٹرویو ایک الف ہے۔اس ایک الف کی کارگزرای دیکھیں یہ کیا ہے اور کیا کیا کام کرتا ہے۔الف “ا” کا استعمال دیکھیں۔ الف ممدودہ “آ” یہ لمبی “آ” کی آواز دیتا ہے۔ لفظ کے شروع میں آتا ہے جیسے آب، آسمان اور آرام ہے۔ایک اور الف مقصورہ ہے۔یہ لفظ کے آخر میں “ا” جو “ہ” کی آواز دیتا ہے جیسے موسیٰ اور عیسیٰ۔الف حرف ربط بھی ہے۔یہ “ا” دو لفظوں کو ملانے کے لیے آتا ہے جیسے سراپا = سر + ا + پا۔آپ سمجھ ہی گئے ہوں گے کہ الف کہاں کہاں کام آتا ہے۔
الف نہ ہوا مقابلے کے امتحان نہ ہوا فارم سینتالیس ہو گیا۔
جس انٹرویو کے ذکر سے کالم شروع کیا تھا مقابلے کے امتحان میں وہ الف کا کام کر رہا ہے۔حیرت ہے دو سال قبل بلوچستان سے تعلق رکھنے والی لڑکی طوبیٰ موسیٰ نے اس طرح کے انٹرویو میں دو سو ستر نمبر حاصل کیے تھے۔ہماری اطلاع کے مطابق انٹرویو میں سب سے زیادہ نمبر لینے کا ریکارڈ اسی کے پاس ہے۔اس کے بارے میں کبھی کسی نے کوئی شکایت نہیں کی تھی۔ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ اس وقت اتنے زیادہ نمبروں پر زیادہ شور اٹھتا۔شور تو اب اٹھا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں