پاکستان میں سائنس کی نصابی کتب میں سائنسی تصوّرات کے ساتھ جو کھلواڑ کیا جاتا ہے وہ اپنی جگہ ایک سنجیدہ مسئلہ ہے لیکن انہی کُتب میں سائنسی تحقیق کے طریقہ کار کو جس طریقے سے پیش کیا جاتا ہے ، وہ بھی کسی المیہ سے کم نہیں ۔ مثلاً ہمیں یہ پڑھایا جاتا ہے کہ تھیوری جب تجربات کے نتیجے میں درست ثابت ہوتی ہے تو وہ قانون بن جاتی ہے ۔ یا ہمیں یہ بتایا جاتا ہے کہ نیوٹن درخت کے نیچے بیٹھا تھا کہ اسی دوران درخت سے ایک سیب زمین پر آگرا جسے دیکھ کر نیوٹن نے اپنے مشہور قوانینِ حرکت دریافت کیے۔ گویا سائنس کی دنیا کے سب سے اہم اور مؤثر قوانین کو دریافت کرنا ایک لمحاتی کھیل تھا!
سائنس اور سائنسی تحقیق اِس طریقے سے کام نہیں کرتی۔
نیوٹن جب درخت کے نیچے بیٹھا تھا ، اُس وقت بھی وہ یقیناً سائنس کے کسی موضوع پر غور و فکر ہی کر رہا ہوگا اور گمان غالب ہے کہ یہ موضوع حرکت اور کششِ ثقل ہی تھا۔
نیوٹن حرکت کے موضوع پر بات کرنے والا پہلا سائنسدان نہیں تھا ۔ بلکہ اس موضوع پر پچھلے کم از کم دو ہزار سال سے سوچ بچار جاری تھی۔ آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ حرکت اور تبدیلی ایک زمانے میں فلسفے کے موضوعات تھے اور اس موضوع پر ساڑھے تین سو سال قبل مسیح میں مشہور یونانی فلسفی ارسطو اپنے افکار مرتب کر چکا تھا۔ گو کہ بعد میں ہمیں معلوم ہوا کہ اس موضوع پر ارسطو کے افکار درست نہیں تھے اور ارسطو کے علمی قدوقامت نے دو ہزار سال تک اس موضوع پر سائنسی افکار کو سامنے نہیں آنےدیا، لیکن اس سے یہ ضرور ثابت ہوتا ہے کہ یہ موضوع نیوٹن کے وقت بھی کم از کم دو ہزار سال پہلے سے زیرِ بحث رہا تھا۔
تو پھر سائنسی تحقیق کس طرح سے کام کرتی ہے ؟
کوئی بھی سائنسدان اپنی تحقیق خلا میں بیٹھ کر نہیں کرتا بلکہ وہ اپنی فیلڈ یا اپنی دلچسپی کے موضوع پر پہلے سے ہونے والی تمام تحقیقات کو پڑھتا ہے اور پھر اس میں اپنے لیے تحقیق کا ایک موضوع یا کوئی مخصوص سوال چنتا ہے اور اس پر مزید تحقیق کرتا ہے ۔ مثلاً آئن سٹائن نے فوٹو الیکٹرک ایفیکٹ کی وضاحت ، جس پر اسے نوبیل انعام بھی ملا تھا، روشنی کے بارے میں نیوٹن کے نظریہ (روشنی ذرّات کا مجموعہ ہے) کو پیشِ نظر رکھ کر ہی کی ۔ اِس مظہر کی وضاحت روشنی کے ویو یا لہر والے نظریے کی بنیاد پر ممکن نہ تھی۔
اس سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ سائنس میں راتوں رات دنیا کو یکدم حیران و پریشان کرنے والی کوئی ریسرچ نہیں ہوتی ۔ بلکہ سائنسدان پہلے سے معلوم موضوعات اور زیرِ بحث مظاہر پر ریسرچ کر کے ہمارے علم میں تھوڑا تھوڑا (bit by bit) اضافہ کرتے رہتے ہیں اور ایک دن یہی تھوڑا تھوڑا علم جمع ہو کر ایک وسیع دریا بن جاتا ہے ۔ مگر ہمارے ہاں سائنسی تحقیق کو عموماََ اس طرح لیا جاتا ہے کہ ایک رات آپ ریسرچ کر کے کوئی ایسی نئی چیز دریافت کریں جو صبح ہوتے ہی ساری دنیا کو ورطہ حیرت میں ڈال دے ۔ اسی ذہنیت کے ساتھ جب ہم سائنس کو پڑھتے ہیں تو ہمارے ہاں سلطان بشیر الدین محمود جیسے “ایٹمی سائنسدان” جنہوں نے جنّات سے بجلی پیدا کرنے کا منصوبہ دیا تھا، اور پانی سے کار چلانے کا دعویٰ کرنے والے آغا وقار جیسے انجنیئرز سامنے آتے ہیں جو وقتاً فوقتاً باقی دُنیا کو حیران و پریشان کرتے رہتے ہیں اور اپنے ملک و قوم کے لیے جگ ہنسائی کا باعث بنتے ہیں۔
ساری دُنیا کی سائنس کمیونٹی اس بات پر متفق ہے کہ یہ کائنات کچھ لگے بندھے قوانین کے تحت چل رہی ہے جن کی خلاف ورزی عام حالات میں ممکن نہیں ۔ ان میں سے ایک بہت ہی مشہور تھرمو ڈائنامکس کا دوسرا قانون ہے۔ اِس قانون کی رو سے ایک بند سسٹم میں، جس میں باہر سے کوئی اضافی توانائی داخل نہ ہو رہی ہو ، ایسی کوئی مشین بنانا ممکن نہیں جس میں آؤٹ پٹ آئیڈیل حالات میں بھی ان پٹ کے برابر یا اس سے زیادہ ہو۔ بہ الفاظ دیگر ، جب کسی مشین کو اِن پٹ کی صورت میں توانائی مہیا کی جاتی ہے تو اس میں سے کچھ توانائی تو آپ کو مطلوبہ آوٹ پُٹ فراہم کرنے میں صرف ہو جاتی ہے اور توانائی کا ایک حصّہ رگڑ کی وجہ سے حرارت ، روشنی ، یا آواز کی شکل میں ضائع ہو جاتا ہے۔ اس طرح آپ کو ملنے والا آؤٹ پٹ ہمیشہ اِن پٹ سے کم ہی ہوگا۔ مثلاً حرارت قدرتی طور پر زیادہ گرمائش والے حصے سے کم گرمائش والے حصے کی طرف بہتی ہے ۔ اب اگر آپ اس عمل کو اُلٹا کرنا چاہیں جیسے کہ ایئر کنڈیشنر میں ہوتا ہے ، تو آپ کو اے سی کو چلانے کے لیے اسے اضافی توانائی مہیا کرنا ہوگی جس کی قیمت مہینے کے آخر میں آپ بجلی کے بل کی صورت میں ادا کرتے ہیں ۔ ایسا ممکن نہیں کہ اے سی کو دی جانے والی توانائی کا ایک حصّہ تو کمپریسر کو چلائے اور اس کا حرارت اور آواز کی شکل میں ضائع ہونے والے دوسرے حصّے کو جمع کر کے دوبارہ کمپریسر کو چلانے کے لیے ری روٹ کیا جا سکے اور اس طرح سے اے سی بغیر مزید یونٹس خرچ کیے خود بخود چلتا رہے۔
پانی سے کار چلانے کا بھی یہی اصول ہے۔ پانی سے کار چلانے کے لیے اس میں موجود ہائیڈروجن اور آکسیجن کے ایٹمز کو ایک دوسرے سے الگ کرنا پڑے گا جس سے توانائی کی ایک خاص مقدار حاصل ہوگی ۔ لیکن اِس انتہائی مضبوط بانڈ کو توڑنے کے لیے جتنی توانائی کی ضرورت ہوتی ہے وہ اس سے کہیں زیادہ ہے جو اس عمل کے نتیجے میں پیدا ہوگی ۔ اس صورتحال کو عموماََ یہ کہہ کر بیان کیا جاتا ہے کہ پانی سے کار چلانے کا تصور عملاً تھرمو ڈائنامکس کے دوسرے قانون کی خلاف ورزی ہے جو کہ ممکن نہیں۔
مگر حیرت ہے کہ ہمارے ہاں ایسے بے بنیاد دعوے کرنے والوں کو بھی نہ صرف سنجیدہ لیا جاتا ہے بلکہ ٹی وی اور میڈیا پر انہیں پیش کرکے ان کو پزیرائی بھی دلوائی جاتی ہے ۔ یہ سائنسی تحقیق کے حوالے سے دُنیا کو حیرت میں ڈالنے والی ہماری ذہنیت کا نتیجہ ہے۔ اگر یہ سطور پڑھتے وقت آپ کے ذہن میں ایک مشہور ٹی وی اینکر کا نام آ رہا ہے تو بھی درست ہے لیکن کچھ دوستوں کو یاد ہوگا کہ اس حوالے سے سنسنی پھیلانے اور عوام کو بیوقوف بنانے میں اُس وقت کے ہمارے ایک ایٹمی سائنسدان اور کچھ معتبر تحقیقی اداروں کے سربراہ بھی شامل تھے۔ ایسے لوگوں کی طرف سے پانی سے کار چلانے کے دعوے کو پذیرائی بخشنا اور ان کی ترویج کرنا ان کی اپنی سائنسی فہم پر بھی سنجیدہ سوالات کھڑے کرتا ہے۔
باقی ڈگریوں کا کیا ہے، ہمارے ہاں تو برطانیہ کی یونیورسٹیوں سے نیوکلیئر انجنیئرنگ میں ڈگریاں رکھنے والے بھی جنّات سے بجلی پیدا کرنے کے فارمولے پیش کر دیتے ہیں ۔


