اپنی تیکنیک، موضوع اور حساسیت کے لحاظ سے رتی جیسا ناول لکھنا ایک بے حد مشکل کام تھا۔ لیکن زیف سید صاحب کی محنت، ذہانت اور ذکاوت نے اس پتھر کو پانی کردیا۔ آپ نے ایک حقیقی تاریخی اور نہایت حساس موضوع پر تحقیق اور حقائق کی درستی کے تقاضے کو نظر انداز نہیں کیا اور نہ ہی فکشن کی ضرورت، حلاوت، موہنے پن اور سندرتا کو ہاتھ سے جانے دیا۔ یہ ادب کی لرزیدہ اور مسلسل متحرک سرزمین کے دو پولوں پر تنی ہوئی رسی پر چلنے کے مترادف ہے۔ توازن قائم رکھتے ہوئے اس پر اس طرح چلنا کہ ہر دوسرا قدم دیکھنے والے کے دل پر پڑتا محسوس ہو بہترین بازی گری ہے۔ سچ پوچھیں تو میں جتنا پڑھتا گیا اتنا ہی یہ متن مجھے جکڑتا چلا گیا، اپنے ساتھ بہاتا لے گیا، تصویریں بنتی بگڑتی رہیں، منظر ابھرتے ڈوبتے رہے، زمانہ ساتھ چلنے لگا۔
اگرچے یہ ہندوستان کی اعلی اشرافیہ کے دو افراد کی کہانی تھی لیکن محبت کی کہانی تھی اور زمانے کی ناہمواریوں، بےمہریوں، مجبوریوں، سماج کی اڑچنوں، تلخیوں اور سفاکیوں کے باوجود اس محبت سے بیان کی گئی تھی کہ قاری کا دل پسیج جائے، اس کے کرداروں پر بے ساختہ پیار آنے لگے۔ عجیب بات ہے آخری باب کے چند دہشت گردوں کے علاوہ کوئی ایسا کردار نہیں، جس کے بارے میں پڑھتے ہوئے ہمدلی، ہمدردی یا محبت نہ محسوس ہو، چاہے انہوں نے اس داستان محبت کو المیہ بنانے میں کوئی کردار ہی کیوں نہ ادا کیا ہو۔ درحقیقت محبت بھی حماقت کی ہی ایک قسم ہے، ایسی حماقت اور دل بستگی، جو اگر نہ ہو تو یہ دنیا ایک ٹکے کی نہ رہے۔
یہ دل گداز کہانی بہت سے راویوں کی زبانی بیان کی گئی ہے جن میں لوگ بھی ہیں، شہر بھی، عمارتیں بھی اور پالتو جانور بھی۔ لیکن ہر راوی کی زبان اپنی ہے، بیان اپنا ہے، جذبات اپنے ہیں، سمجھ بوجھ اپنی ہے۔ جس طرح کہانی کے ایک منظر کو انہوں نے دیکھا، اپنی ہی زبان میں اس کو بیان کردیا۔ اگر کوئی کہے کہ شہروں، عمارتوں اور جانوروں کی زبان نہیں ہوتی، تو تصحیح کرلے، ان سب کی زبان ہوتی ہے جسے اور کوئی نہ بھی سمجھتا ہو تو زیف سید اور اس کا قاری سمجھتا ہے۔ یہ بذات خود اردو ناول نگاری میں ایک کارنامہ ہے۔
اس ناول سے ہمیں یہ بھی سمجھ میں آیا کہ رتی کو اور اس کی محبت کو حاصل کرنا جناح صاحب کی انا کا مسئلہ نہیں تھا، نہ اس کے لیے انہوں نے کسی اصول، ضابطے یا قانون کو پس پشت ڈالا، لیکن رتی کی محبت ہی اتنی زور دار تھی جس کے ریلے میں نہ بہنا جناح جیسی مضبوط، اصول پسند اور بظاہر خشک شخصیت کے لیے بھی ممکن نہ رہا تھا۔ لیکن بعد ازاں یہ بھی جانا کہ شخصیتوں کا تضاد، عمروں کا فرق، ذمہ داریوں کا بوجھ، کروڑوں لوگوں کی قیادت کا تقاضہ، اکثر ہمارے نازک جذبات، چاہے وہ کتنے ہی خالص کیوں نہ ہوں، کی پروا کیے بغیر آگے بڑھ جاتا ہے، ان کے بوجھ تلے کچل کر گڑھے میں گر جانے والا کوئی تازہ گلاب تھا یا نایاب ترین ہیرا، وقت کی گردش اس کے لیے نہیں رکتی۔ رتی نے اپنے آخری خط میں جناح کو لکھا کہ “اگر میں تم سے تھوڑی سی بھی کم محبت کرتی تو شاید تمہارے ساتھ رہ پاتی”۔ اور یہ کہ “میرے محبوب، کوشش کرنا کہ مجھے اس پھول کی طرح یاد رکھو جسے تم نے چنا تھا، نہ کہ اس پھول کی طرح جسے تم نے پاؤں تلے کچل دیا”۔
رتی حسن، محبت اور امارت کی دیوی تھی، جناح ایک کامیاب قانون دان اور بڑے سیاست دان تھے، سر ڈنشا پٹیٹ بہت بڑے سرمایہ دار اور تاجر تھے، لیکن یہ سب انسان تھے، اپنی تمام خواہشوں اور حسرتوں کے ساتھ سراپا انسان، بشری کمزوریوں سے متصف انسان، جیسے کہ ہوتے ہیں۔


