Cody’s Books/تبصرہ :عاصم کلیار

وقت کے بے رحم دریا میں بعض ایسی خوش بخت شخصیات بھی گزری ہیں جن کی وابستگی زماں کے علاوہ مکاں کو بھی معتبر کر دیتی ہے۔ یورپ و امریکہ میں قدم قدم پر ایسے گھروں کو نگار خانہ بنا دیا گیا ہے جن میں کبھی باکمال لوگ شب و روز بسر کرتے تھے۔

زندگی کی راہ گزر پر وقت دھول چاٹتا ہوا بھاگا جا رہا ہے۔ تاریخ کے مقبرے اب گئے دنوں کی بازگشت ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ جو دیکھ رہے ہو اسے بیان کرو، کیونکہ کچھ عرصے بعد مورخ کو دور سے کوڑیاں نہیں لانا پڑیں گی۔ صدیاں گزر چکی ہیں مگر یہ طے نہ ہوا کہ چوبرجی میں کون سی شہزادی رہتی تھی۔

ہمارے ہاں مصلحت کے تحت تاریخ کی اوٹ میں جھوٹ بیان کرنے کے علاوہ اپنی مرضی کے نتائج بھی مرتب کیے جاتے ہیں، جبکہ اہلِ یورپ کے ہاں صدیوں پرانے روزنامچوں کے دفتر کے دفتر موجود ہیں۔ آرکائیوز کو ترتیب سے مرتب کر کے انہوں نے پوری دنیا پر احسان کیا ہے۔

ہمیں شخصیات و مزارات سے عقیدت ہے، مکاں کی تاریخ کون مرتب کرے؟

پیرس کی مشہور دکان Shakespeare Book and Company کے بارے میں درجنوں کتب لکھی گئیں۔ میری ذاتی لائبریری میں کم و بیش اس دکان سے متعلق چھ کتب موجود ہیں۔

کتاب بینی کے شوقین مختلف سماجی پس منظر سے تعلق رکھنے والے پئٹ اور فرائیڈ نے رشتۂ ازدواج میں منسلک ہونے کے بعد برکلے میں یونیورسٹی کے بالمقابل Cody’s Books کے نام سے دکان کھولی، جو پیپر بیک کتابیں فروخت کرنے میں دنیا بھر میں مشہور ہوئی۔

یہ کتاب اسی دکان (Cody’s Books) کی شاندار تاریخ کی کہانی بیان کرتی ہے۔

اس کتاب میں پبلشر، ہول سیلر اور ایجنٹوں کی داستان ذاتی مفاد کی عکاس ہے، جبکہ دکان کے مالکان ادب کے فروغ کے علاوہ سلیقے اور ترتیب سے بھی آگاہ تھے۔ دکان کی اندرونی آرائش، کتابوں کے لیے بک شیلف، اور کتابیں پیک کرنے کے لیے کاغذ کی چھپائی تک، ان کی لگن اور شوق کو بیان کیا گیا ہے۔

کبھی سی۔ پی۔ سنو اور کبھی فرانسس سے مادام Anaïs Nin کتابوں پر دستخط کرنے دکان پر آتیں، اور کبھی ہالی ووڈ کی فلم کے کچھ مناظر دکان میں عکس بند ہوتے۔

جوان دل ملنے اور بچھڑنے کے لیے بھی اس دکان کو منظر کا حصہ بناتے۔ سیاست، سماج اور ادب کے دلدادہ روز یہاں رونق افروز ہوتے اور ڈھیروں کتابیں خریدتے۔ دکان تاریخ کے اوراق میں معتبر ٹھہری۔ پئٹ اور فرائیڈ نے جوانی کے تیس سال دینے کے بعد اسے بند کرنے کا فیصلہ کیا تو کتابوں کے عشاق سوگوار ہوئے اور اخبارات میں کالم شائع ہوئے۔

ہم اہلِ زر معاشرے میں رہنے والے سوشل کلچر ویلیوز سے نا آشنا ہیں۔

ہندوستان میں Bahrisons نامی دکان کے پیج فالو کرنے والوں کو پتا ہوگا کہ منظر میں رہنے کے لیے کئی انداز اور اخلاق درکار ہوتے ہیں۔ صبح و شام بہری برادران میلہ سجاتے ہیں، دنیا بھر کے ادیب مدعو کرتے ہیں۔

ہمارے ہاں کسی کو کیا پرواہ کہ کتابوں کی جس دکان پر زاہد ڈار اور اکرام اللہ برسوں بیٹھتے رہے، وہاں ان دو اہلِ قلم کی تصویر ہی لگا دی جائے۔

تاریخ، سماج میں ڈھلنے کے لیے عزت کی طلبگار ہے۔ پھر زماں میں نامور ہونے کے علاوہ مکاں کی دیواروں سے بھی گواہی مانگی جاتی ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں