ایک کتاب جو حجم میں کم مگر معنوی لحاظ سے بہت ضخیم ہے
علامہ اقبال پر ڈاکٹر شاہ محمد مری نے اپنے لکھے گئے مضامین کے مجموعے کو کتابی شکل میں شایع کیا ہے ۔ یہ مضامین ان کی اقبال کی شاعری ، اس کے نثری کلام اور اقبال پر قلم اٹھانے والے دائیں ، بائیں ، سیکولر ، بنیاد پرست ، لبرل دانشوروں کی تحریروں کی پڑھت اور اس سے پیدا ہونے والی تنقیدی سوچ کے آئینہ دار ہیں ۔
اقبال کے فن ، اس کے نظریات و خیالات پر ترقی پسند نکتہ نظر پر جو ناقدانہ نظر ہمیں ڈاکٹر شاہ محمد مری کے ہاں دیکھنے کو ملتی ہے اس کی مثال اقبال پر ترقی پسندوں کی لکھی تحریروں میں تلاش کرنا نہیں کی جا سکتی ۔ انہوں نے ترقی پسند تحریک سے وابستہ ادیبوں کی اقبال کے باب میں کمزور تحریر اور نظریے سے انحراف کی بالکل درست نشاندہی کی ہے ۔ وہ اقبال کے بڑا شاعر ہونے سے یکسر انکاری نہیں ہیں جو عام طور پر اقبال مخالف ادیبوں اور دانشوروں کے ہاں عمومی رویہ ہے ۔
انھوں نے اقبال کے وہ اشعار جنھیں ترقی پسند اقبال کو ایک سوشلسٹ یہاں تک کہ کارل مارکس سمیت مارکسی استادوں کا معتقد اور ان کا ہم خیال ہونے کی سند میں پیش کرتے ہیں ان میں چھپی مارکسیت کی تردید اور مارکسزم کی طرف ان کے غیر سائنسی رویے اور اپروچ کی بھی بخوبی نشاندہی کی ہے ۔
اس کے ساتھ ساتھ وہ اقبال کے نوآبادیاتی نظام ، جاگیرداری کے خلاف اشعار کی نہ صرف دل کھول کر تعریف کرتے ہیں بلکہ وہ کہتے ہیں کہ یہ اشعار عام مزدوروں اور کسانوں میں ترقی پسند سوچ اور فکر کو پروان چڑھانے کے کام آ سکتے ہیں ۔
ان کا خیال ہے کہ اقبال کو سب سے زیادہ نقصان اور ان کی شاعری کے فنی تجزیے اور تنقید کو سامنے نہ آنے دینے کے ذمہ دار یونیورسٹیوں میں ان کے نام پر قائم چئیرز اور اقبالیات کے نام پر قائم کیے جانے والے اداروں اور اکادمیوں پر قابض لوگوں نے پہنچایا ہے ۔
میں یہاں ان کے مضامین کے مجموعے کی کتاب پر لکھے پیش لفظ کے اقتباس پیش کر رہا ہوں جو پڑھنے سے تعلق رکھتے ہیں:
’تو شب آفریدی چراغ آفریدم‘‘ جیسے بڑے اقبال کے ساتھ بہت بڑی ٹریجڈی یہ ہوئی کہ ہمارے ہاں اس پر کسی نے ادبی تنقید نہ کی۔ حرکت، ہنگامہ، عشق، کمٹمنٹ اور ’’جاگتے رہو‘‘ کا پیغام دینے والے شاعر کے دائیں کندھے والے لاغر اور ناتواں فرشتے کو آنکھ ناک، ہاتھ اور زبان سے یکسر محروم کر دیا گیا۔ ایک بنیاد پرست متشدد ریاست کا سرکاری شاعر ہونے کے حوالے سے جان کی امان کی واحد شرط، اقبال کی تعریف میں لکھنا رہا ہے۔ لہٰذا اس کے فن پر بات ہی نہ ہوسکی اور اس کے فکر کی تنوع پر بات کرنا تو سیدھا سیدھا جہنم واصل ہونا تھا۔ حالانکہ دونوں میدانوں میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ شاعری پہ بات کرنی ہو تو ہم فن پر بھی بات کر رہے ہوتے ہیں (اور اس اقبال کا فن تو بحرِ بے کراں ہے) اور فکر پہ جب بھی بات ہو تو بنیاد پرست فلسفہ اور نظریہ کی مطابقت و حمایت پہ بات کرنا ہوتا ہے۔ بس، سب (سرکاری اور غیر سرکاری، سرکاری) لوگ اسے شاعرِ مشرق بنانے پر تلے رہے۔ (اسے تو مجدّد اور ولی تک بنا دیا گیا)۔
اچھا بھلا شریف آدمی تھا، تھالی چاٹ دانش وروں نے اُس کو شاعرِ مشرق، حکیم الامت، شاعرِ امت، مفکرِ اسلام، تصورِ پاکستان کا خالق، مفکرِ پاکستان، رہبرِ ملت، ترجمانِ حقیقت اور حضرت علامہ بنا ڈالا۔ القابات کے اس ڈھیر میں اصل نام ڈھونڈنا کتنا مشکل ہوتا ہے!!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مخالف ہے اور بڑی فن کاری سے اپنے ان موضوعات پر شاعری کرتے کرتے اچانک قاری کے سر پر ایک زنانہ وار کرسیہ (رسید) کرتا ہے:
کافر کی یہ پہچان کہ آفاق میں گم ہے
مومن کی یہ پہچان کہ گم اس میں ہیں آفاق
پڑھنے والا “تھاں مر جاتا ہے”۔
مگر، بلوچ سماج میں آج (بہت عرصے سے) اقبال مخالف جو لہر چل پڑی ہے (اور کبھی کبھی تو میری اپنی سربراہی میں) اُسے یکسر اور کلیتاً قبول کرنا بھی جذباتیت ہوگی۔ بالکل اسی طرح جس طرح کہ ہم اپنے بلوچ اکابرین کو یکسر اور کلیتاً قبول کرنے میں ہچکچانے میں حق بجانب ہیں۔
بلا شبہ ہم اپنے مذکورہ بزرگوں سے کسی طور پر بھی بڑے، یا ان سے نہیں ہیں۔ نہ ہماری آج کی پود کو جذبات کے ہاتھوں اقبال کو مسترد کرنے کی حد تک جانا چاہیے۔ یہ صرف بدلے حالات کے دم سے ہے کہ اقبال کی جیب کٹ گئی۔ اُس کا پان اسلام ازم القاعدہ لے اڑا۔ اُس کا اسلام کا قلعہ “پاکستان” ثابت ہوا۔ اُس کا مردِ مومن ملا خادم رضوی اور ممتاز قادری بنے۔ اُس کی “سام راج” دشمنی وقت نے کھوکھلی ثابت کر دی۔ اُس کی فکری ڈولیدگی پوسٹ مارٹم نے عیاں کر دی۔ اُسے خوامخواہ مسلمات کے بطور ہم پر مسلط رکھا گیا۔ اسے ایسا مقدس پتھر بنا دیا گیا جسے نعرے باز ذہنیت بہ وقت ضرورت بوسہ دیتی ہے اور پھر وہیں چھوڑ دیتی ہے۔ اقبال کو سب سے بڑا نقصان یہ ہوا کہ اس کے بعد کی اگلی پون صدی تک پنجاب یونیورسٹی سے ہزاروں لاکھوں فارغ التحصیل اُس کے Degenerated معتقدین اپنی حماقتوں اور مہا غلطیوں سے دنیا کا سکون غارت کیے ہوئے ہیں۔ اقبال خود ہی مردِ ناداں پیدا کرتا رہا ہے اور اب پنڈی اسلام آباد اور لاہور کے مراکزِ اقتدار پر اسی کے نمائندے براجمان ہیں اور اقبال ہی کی تعلیمات پر عمل پیرا اُس کے یہ شاگرد پورے سماج کو فیٹیف (FATF) کا نشانہ بنائے ہوئے ہیں۔
…… مگر اس سب کے باوجود اقبال بہت بڑا شاعر ہے۔ اتنا بڑا اور بلند شاعر کہ اُس کی طرف دیکھتے ہوئے گردن ٹیڑھی ہو جائے، دستار گر جائے اور روح جھوم جھوم جائے۔ اس میں مقصدیت و افادیت بھی ہے اور تاریخیت بھی اور خطابت تو بے کراں ہے…… بڑی تعداد میں انسانوں کو متاثر کرنے والا بڑا شاعر۔ ایسا زور کہ کوئی صحیح بات کر دی تو اس تاثیر کے ساتھ کر دی کہ اس کا ایک مصرع کسی انقلابی شاعر کے پورے کلیات پہ بھاری نکلا۔ اس لیے اسے مکمل طور پر مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ یہ شعر اس کی ضمانت کے لیے کافی ہے:
خدا تجھے کسی طوفاں سے آشنا کر دے
کہ تیرے بحر کی موجوں میں اضطراب نہیں
عام آدمی کے دل و دماغ میں چلنے والے خیالات کو بہت خوب صورتی سے پیش کرنے والے اقبال کا سب سے مثبت کنٹری بیوشن یہ ہے کہ اس نے گلو بند لہوں کے اکھاڑے میں منھ کالا کرنے والے شاعروں کی قائم کردہ سماجی اور سیاسی خاموشی توڑ دی۔ اُس نے “سیاسی” شاعری کی، اس نے “نظریاتی” شاعری کی۔ یوں اس نے غیر سیاسی اور غیر نظریاتی ادب و شاعری کو موچی کے مارے۔ حالاں کہ یہ بات سچ ہے کہ غیر سیاسی شاعری کرنے والے شاعر بھی دراصل اسٹیٹس کو کو نہ چھیڑ کر حکم ران طبقات کے حق میں سیاست کر رہے تھے اور اقبال، سیاسی شاعری کر کے حکم ران طبقات کے حق میں بیج بو رہا تھا۔
چناں چہ اس کنفیوزڈ بڑے شاعر نے ہمیں ساری زندگی خود کو اگلنے اور نگلنے میں لگائے رکھا اور ہنوز ہم یہی کر رہے ہیں۔ اسے پھینکتا ہوں اور اسی لمحے اس کی روح سے معافی مانگتا ہوں۔ اُس کے اچھے بول اور ان بولوں کی حسین ترین پیش کش کے حق میں بولتا ہوں، لکھتا ہوں۔ اُس کی مخالفت میں تقریر کرتا ہوں تحریر لکھتا ہوں مگر آخر میں اس کے موقف کی مخالفت کرتے ہوئے اور اپنے موقف پہ قائم رہتے ہوئے بھی، اُس کے احترام میں ڈوب جاتا ہوں اور اپنی تحریر میں اُس کی شان میں گستاخی کا عندیہ تک دینے والے الفاظ کو قتل کرتا ہوں۔
اقبال کی شاعری کو مکمل طور پر مسترد کرنے کی مجھ سمیت کسی میں قوت اور دلیل موجود ہی نہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔


