افسانوی مجموعہ “تیسری دیوار” کا پُرمغز تجزیہ/ڈاکٹر شاہد ایم شاہد

کتاب کی تاریخ اتنی ہی پرانی ہے جتنا انسان خود۔اُس نے روز اوٙل سے لے کر تاحال کتاب لکھنے کی روایت برقرار رکھی ہے۔نسل در نسل یہ سلسلہ تواتر و تسلسل کے ساتھ جاری و ساری ہے۔تجسٙس انسانی فطرت کا خاصا ہے جو تخلیق ، تحقیق اور تنقید جیسے موضوعات کو جنم دیتا ہے۔کتاب انواع و اقسام پر مشتمل ہوتی ہیں۔ان کی نوعیت مذہبی ، روحانی ، نصابی ، طبی اور تخلیقی ہوتی ہیں۔ہر کوئی اپنی اپنی پسند کے مطابق کتاب پڑھنے کا انتخاب کرتا ہے۔ جیسی کسی کی دل چسپی ہوگی۔وہ ویسا ہی انتخاب کرے گا۔پسند اور ناپسند کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے مُطالعہ کی عادت پیوست کرے گا۔کتابیں قلب و رُوح کو ہمیشہ سرشار رکھتی ہیں۔ سوچ کی غذا مہیا کرتی ہیں۔غور و فکر پر مجبور کرتی ہیں۔اردو زبان و ادب کی ترویج کے لیے برصغیر کے ادباء و شعراء نے اپنے اپنے حصے کی شمع جلائی ہے۔بلا شبہ علم و ادب کی اس روشنی سے دوسروں نے استفادہ کیا ہے۔نصابی کتابوں سے لے کر تخلیقی کتابوں تک کے سفر میں محنت کا خون پسینہ شامل ہوتا ہے جو احساسات و جذبات کے الفاظ پر مشتمل ہوتا ہے۔ادب زندگی کا عکاس ہے۔جذبات کی روح ہے۔علم کی فراوانی ہے۔کردار کا روشن ستارہ ہے۔ذہانت کا استعارہ ہے۔جب رُوح و قلب میں نفوذ ہوتا ہے تو انگ انگ میں حرکت شروع ہو جاتی ہے۔
کتاب انسان کی بہترین دوست ہونے کے ساتھ ساتھ سوچ و فکر کی عمدہ غذا بھی ہے جس کے اوراق سے تصورات کا جنم ، زندگی کے رنگ اور مستقبل کی آواز شامل ہوتی ہے۔علم و ادب کی بُھوک اور پیاس رکھنے والا ہر انسان مطالعہ کے لیے وقت نکال لیتا ہے۔افسانوی مجموعہ “تیسری دیوار” اظہر سجاد صاحب کا تخلیقی تحفہ ہے جس کا پُرمغز تجزیہ
قائرین کے لیے پیش خدمت ہے۔ افسانوی ادب قدیم زمانے کی ناقابل فراموش صنف ہے۔صدیوں پرانی ہے۔اس امر کے باوجود بھی اپنے اندر جدت کا پھل رکھتی ہے۔تخلیق کاروں نے اسے بامِ عروج تک پہنچایا ہے۔بر صغیر کے افسانہ نگاروں میں مُنشی پریم چند ، سعادت حسن منٹو ، غلام عباس اور دیگر تخلیق کاروں نے ادب کو جو وقار بخشا ہے۔وہ ہر نسل کے لیے تہذیب و تمدن کا گہوارہ ہے۔پنجاب کی دھرتی کا عظیم سپوت اظہر سجاد کا نام بھی افسانوی ادب میں زبان زد ہے۔ وہ مسلسل کئی دہائیوں سے حلقہ ارباب ذوق پنڈی گھیپ اٹک کے ساتھ وابستہ ہے۔جنرل سیکرٹری کے عہدے پر فائض ہے۔ فروغ ادب کا طالب علم ہے۔کالم افسانہ اور مضمون لکھنے کی بھرپور استعداد رکھتا ہے۔اس امر کے باوجود بھی ان کی سچی اور کھری پہچان افسانوی ادب میں پوشیدہ ہے۔
افسانوی مجموعہ” تیسری دیوار” اظہر سجاد کا تخلیقی فن پارہ ہے۔اُنھوں نے اپنا فن پارہ بڑی مُحبت و عقیدت کے ساتھ پیش کیا۔شب و روز پڑھا۔تخیلات جذبات کو جانچا۔
عنوانات عرفانی سرگوشی کرنے پر مجبور کرتے ہیں۔کتاب پڑھتے ہوئے گُماں گزرتا ہے کہ فاضل دوست نے افسانوی ادب کو جس خُوب صورتی کے ساتھ صفحات پر پھیلایا ہے۔وہ مصنٙف کی فخریہ اور ناقابل فراموش کاوش ہے۔لکھنے میں دیر کی غفلت سہی لیکن خلوص کی مٹھاس کم نہیں ہوئی۔جونہی قاری کی عنوانات پر نظریں تھمتی ہیں۔دل مطالعہ کے لیے بے قرار ہو جاتا ہے۔ہر افسانے کا عنوان انفرادیت اور ہمہ گیریت کے لبادے میں لپٹا ہے۔سوچ کے محور نے نہ جانے کہاں کہاں سے افسانوی رنگوں و کرداروں کو اکٹھا کر کے قوس قزح بنا دیا۔میں مُطالعہ کے دوران ایک ایک صفحہ پلٹتا ہوں۔ادبی چاشنی سے لطف اندوز ہوتا ہوں۔علم، شعور، کہانی اور تجسٙس کہ ماحول میں اُڑن بھر لیتا ہوں۔ افسانوں کی منظر کشی بڑی دلفریب ہے۔تخیلات کی پرواز جذبات کا پورا پورا بھرم رکھتی ہے۔انسان پر ایک ایسی کیفیت طاری ہو جاتی ہے جو اُنھیں مصنوعی دُنیا سے حقیقی دُنیا میں لے جاتی ہے۔جیسے سُورج طلوع و غروب ہوتا ہے۔اسی طرح افسانوں کا شروع و آخر محبت و اداسی کے مناظر دکھانے میں پیش پیش ہے۔
فاضل دوست کو پڑھتے ہوئے گماں گُزرتا ہے کہ اُنھوں نے حقیقتوں کے رُوپ و رُوح کو افسانوی کرداروں کے ذریعےسمندر کو بند کوزے میں بند کر دیا ہے۔مصنوئی باتوں کو کُھرچنا کوئی بڑی بات نہیں بلکہ ایک ایسی کہانی تشکیل دینا جو سوچ و فکر کا چراغ جلا دے۔وہ ادب کی پرکار گھمانے کا فن جانتے ہیں۔ان کی تجربے اور مشاہدے نے جدت میں کمال درجہ ، سوچ میں فلسفیانہ رنگ اور سوچ افق پر پرواز کرتی ہے۔میں فضل دوست کو دل کی اتھاہ گہرائیوں سے” تیسری دیوار” کی اشاعت پر دلی مُبارک باد پیش کرتا ہوں۔امید ہے وہ اِسی طرح محنت اور لگن کے ساتھ علمِ و ادب کے فروغ کے لیے شب و روز کام کرتے رہیں گے۔ ان کا دل و دماغ تخلیقی قوت کے لیے مزید دھڑکے گا۔

اپنا تبصرہ لکھیں