ہدہد/ تحریر:علی عبداللہ

اس نے مجھ سے پوچھا:
“اگر تمہیں معجزۂ مسیح عطا کر دیا جائے، اور تم ایک مردہ شے کو دوبارہ زندگی بخش سکو، تو سب سے پہلے کسے زندہ کرو گے؟”

سوال عجیب نہیں تھا، مگر میرے لیے غیر معمولی ضرور تھا۔ معجزے انبیاء کے حصے میں آتے ہیں، عام انسانوں کے نہیں۔ میں نے مسکرا کر کہا:
ایسا ممکن ہی نہیں، اس لیے سوال بھی بے معنی ہے۔

وہ خاموشی سے بولا:
چلو یوں سمجھ لو کہ تمہیں صرف ایک دن کے لیے اتنا اختیار مل جائے کہ تم کسی ایک مردے کو واپس لا سکو۔ تب؟

بظاہر سوال آسان تھا، مگر بعض سوال انسان کو اپنی پوری زندگی کے ویران کمروں میں لے جاتے ہیں۔ میں نے یادداشت کے دریچے کھولے تو بے شمار چہرے میرے سامنے آ کھڑے ہوئے۔ کچھ وہ تھے جن سے محبت وابستہ تھی، کچھ وہ جن سے زندگی کا کوئی رنگ جڑا تھا۔ ایک لمحے کو دل چاہا کہ سب کو ایک ہی اشارے سے لوٹا لاؤں، کیونکہ ہر چہرہ میری ذات کا کوئی نہ کوئی ٹکڑا اپنے ساتھ لیے ہوئے تھا۔

مگر ان سب کے درمیان ایک وجود ایسا بھی تھا جسے یاد کرتے ہی میرے اندر ایک عجیب بے چینی جاگ اٹھتی ہے۔ ایک ایسا احساس، جو برسوں سے میرے ذہن کے آسمان پر زخمی پرندے کی طرح پھڑپھڑاتا رہتا ہے۔

وہ ایک ہدہد تھا۔

ہاں، وہی ہدہد… جس کے آباؤ اجداد میں سے ایک نے کبھی حضرت سلیمانؑ کے دربار میں سفیر ہونے کا شرف پایا تھا۔ شاید دانش ہی تھی جس نے اسے پرندوں میں ممتاز کیا۔ پھر صدیوں بعد، جب عطار نے منطق الطیر میں پرندوں کے ذریعے حکمت اور خود شناسی کا سفر بیان کیا، تو ان کے قافلے کا امیر بھی یہی ہدہد ٹھہرا۔

اور میں…
میں نے اسی ہدہد کو اپنی سفاکی کا نشانہ بنا دیا تھا۔ یہ شاید میری عمر کا جاہل ترین لمحہ تھا۔

میں شوقیہ شکار پر نکلا تھا۔ دیر تک ویرانیوں میں پھرتا رہا مگر کوئی شکار نہ ملا۔ واپسی پر، ایک جھاڑی کے قریب، وہ ہدہد بیٹھا تھا۔ بے خبر… مطمئن… جیسے کسی محفل میں علم و حکمت کے موتی بکھیر رہا ہو۔ وہ کبھی گردن اٹھاتا، کبھی اپنے پروں کو سمیٹتا، اور کبھی اپنی مخصوص آواز میں کچھ کہتا؛ شاید اپنے ساتھی پرندوں سے، شاید کائنات سے۔ مگر میں اس وقت محض ایک مغرور شکاری تھا۔

میں دبے قدموں اس کے قریب پہنچا، اور اپنی چھروں والی بندوق اس پر تان دی۔ فاصلہ اتنا کم تھا کہ چھرہ بجلی کی طرح اس پر جا گرا۔ ایک لمحے کو اس نے اڑنے کی پوری کوشش کی۔

آج بھی وہ منظر میرے حافظے میں زندہ ہے…
اس کے پروں کی بے ترتیب پھڑپھڑاہٹ،
زمین پر گرتا ہوا اس کا ننھا وجود،
اور زندگی کو تھام لینے کی اس کی آخری جدوجہد۔ مگر ظالم شکاری اس سے اس کی پرواز چھین چکا تھا۔

جب میں نے اسے ہاتھ میں اٹھایا تو وہ خاموش پڑا تھا۔ اس کی آنکھیں نیم وا تھیں، اور اس کے سر کی سنہری کلغی مٹی سے اٹی ہوئی کسی شکست خوردہ بادشاہ کے تاج کی مانند دکھائی دے رہی تھی۔ اسی لمحے میرے اندر کچھ ٹوٹ گیا تھا۔ میں اس سے اس کی دانش نہ چھین سکا، نہ اس کی رمز سمجھ سکا، البتہ اپنی انا کی شکست چھپانے کے لیے ظلم ضرور کر بیٹھا۔

بعض لمحے انسان کو اس کی اصل اوقات بھلا دیتے ہیں۔ وہ اشرف المخلوقات ہونے کے غرور میں اتنا اندھا ہو جاتا ہے کہ اپنے سے کمزور مخلوق پر ظلم کو اختیار سمجھ بیٹھتا ہے۔ پھر ایک دن وہی لمحہ پوری عمر کا بوجھ بن جاتا ہے۔

میرے ساتھ بھی یہی ہوا۔ اب جب کبھی کوئی ہدہد میری نظروں کے سامنے آتا ہے تو میرے اندر عجیب سی ندامت جاگ اٹھتی ہے۔ میں دل ہی دل میں اس سے معافی مانگتا ہوں۔ اسے بتاتا ہوں کہ اس واقعے کے بعد میں نے کبھی کسی جاندار کا شکار نہیں کیا- سوال کرنے والا اب بھی خاموشی سے میری طرف دیکھ رہا تھا۔

میں نے آہستہ سے کہا:

“معجزے صرف انبیاء کو عطا ہوتے ہیں۔ نہ مجھے کبھی معجزۂ مسیح مل سکتا ہے، نہ میں اس ہدہد کو واپس لا سکتا ہوں۔ ہاں… اتنا ضرور ہے کہ اب ہر ہدہد کے سامنے خود کو مجرم محسوس کرتا ہوں، اور شاید ساری زندگی کرتا رہوں گا۔

اپنا تبصرہ لکھیں