خیبر پختونخوا کے آئی جی پی ذولفقار حمید اگر پولیس فورس کے جذباتی ردعمل ، بے چینی اور مایوسی کی فضا سے مرعوب ہونے کے بجائے اپنی کمانڈ کو منظم اور فورس کے نظم و ضبط کو برقرار رکھنے کے لیے اجتماعی دانش اور مؤثر قیادت کا مظاہرہ کریں تو وہ گورننس کے بحران اور درپیش پیچیدہ مسائل پر قابو پا سکتے ہیں۔ !!!
بنوں میں فتح خیل پولیس چوکی پر دہشتگردوں کے خودکش حملے میں 15 پولیس اہلکاروں کی شہادت کے بعد بنوں پولیس کے جوانوں میں پیدا ہونے والا باغیانہ ردعمل، بجائے خود پولیس کے جوانوں کی زندگیوں اور پولیس فورس کے داخلی نظم و ضبط کے لیے نہایت تباہ کن ثابت ہو سکتا ہے اور شاید دشمن چاہتا بھی یہی تھا کہ فورس شدت جذبات سے مغلوب ہو کر آندھی ہو کر اپنے دفاعی حصار سے باہر نکل آئے ۔
اعلی ہذالقیاس ! بنوں اور لکی مروت پولیس فورس کی جانب سے انتہائی تربیت یافتہ دہشتگردوں کے عالمی نیٹ ورک سے روایتی انداز میں بدلہ لینے کے زعم میں نفرت اور انتقام کے جذبات سے مغلوب ہو کر اپنی کمانڈ کی حکم عدولی کرتے ہوئے، بغیر کسی منظم منصوبہ بندی کے قبائلی لشکروں کی طرز پر جذبات کی لہر پر سوار ہو کر میدان میں نکل کھڑا ہونا ، پورے معاشرے کے علاؤہ خود پولیس اہلکاروں اور ان کے خاندانوں کی زندگیوں کے لیے شدید خطرات پیدا کر سکتا ہے۔
اس نازک اور مشکل صورتحال میں پولیس جوانوں کے لیے ضروری یہی تھا کہ وہ جوش کی بجائے ہوش سے کام لیتے ہوئے اپنی بقاء اور فورس کے تحفظ کو اولین ترجیح سمجھتے ہوئے اپنی کمانڈ کی مکمل اطاعت اور ادارہ جاتی ڈسپلن کو کسی صورت متاثر نہ ہونے دیتے ۔ ہر حال میں اپنی کمانڈ پر بھروسہ قائم رکھتے، اجتماعی دانش، پیشہ ورانہ حکمت عملی اور مکمل ذمہ داری کے ساتھ پہلے اپنی فورس کی سلامتی کو یقینی بنانے کی فول پروف منصوبہ بندی کرتے اور اس کے بعد دہشتگردوں کے خلاف کسی بھی ممکنہ کارروائی میں اس حد سے تجاوز نہ کرتے جہاں اہلکاروں کی اپنی سلامتی اور معاشرے کی بقاء ہی خطرے میں پڑ جایے ۔
مجھے یقین ہے کہ بنوں اور لکی مروت سمیت پورے صوبہ میں پولیس کی کمانڈر اپنی فورس اور جوانوں کی سچی خیر خواہ اور حقیقی ہمدرد ہے لیکن دشمن نے اپنی حکمت عملی کے ذریعے پولیس کی کمانڈر اور جوانوں کے درمیان دراڑ ڈال دی ہے تاہم ان حالات میں اصل زمہ داری پولیس کمانڈ کی ہے کہ وہ بدگمانیوں کے آشوب ، باہمی اعتماد کے فقدان اور جذباتی دباؤ کا شکار ہونے کے بجائے خیبر پختون خوا کے مخصوص حالات کو سمجھنے اور اپنی مہارتوں کو بہتر بنانے پر توجہ دے تاکہ علاقے میں موجود سیکورٹی فورسز کے ساتھ مؤثر اور مضبوط کوارڈینیشن کو یقینی بنایا جا سکے ۔ بالخصوص انٹیلیجنس شیئرنگ اور ادارہ جاتی رابطوں کو مزید مؤثر بنانے کے لیے اپنی بہترین پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو بروئے کار لایا جائے تاکہ پولیس کی دہشتگردی کے خلاف کارروائیوں کو زیادہ منظم، محفوظ اور نتیجہ خیز ثابت بنایا جا سکے ۔ایک ماہر پولیس آفیسر کے لیے یہ کوئی مشکل کام نہیں کہ وہ سیکورٹی فورسز کی ہیت مقتدرہ ، کام کرنے کے طریقوں اور فوجی طاقت کی نفسیات کا درست ادراک کرتے ہوئے وار زون کے تال میل کے اندر اپنی قوت کو ہم آہنگ رکھتے ہوئے اپنی فورس کی بقاء کو یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ معاشرے کو شورش اور انتشار سے بچانے میں بھی کامیابی حاصل کر سکتی ہے۔


