دل سچا اور چہرہ جھوٹا/علی عباس کاظمی

زندگی کے بازار میں سب سے سستا سکہ اگر کوئی ہے تو وہ “مسکراہٹ” ہے۔۔۔اور سب سے مہنگا سرمایہ “اخلاص”۔ مسئلہ یہ نہیں کہ لوگ مسکراتے کیوں ہیں، مسئلہ یہ ہے کہ ہم ہر مسکراہٹ کو سچائی کا سرٹیفیکیٹ کیوں سمجھ لیتے ہیں۔ ہر ہنستا چہرہ آپ کا خیرخواہ نہیں ہوتا۔۔۔بہت سی مسکراہٹیں محض ایک پردہ ہیں جن کے پیچھے مفاد، فریب اور وقتی فائدہ چھپا ہوتا ہے۔ ہم ایک ایسے عہد میں جی رہے ہیں جہاں ظاہر کی چمک باطن کی تاریکی کو چھپا لیتی ہے اور سادہ دل لوگ اسی چمک کو حقیقت سمجھ کر دھوکا کھا جاتے ہیں۔تعلیمی ادارے۔۔۔کالج اور یونیورسٹیاں۔۔۔اور پیشہ ورانہ ماحول۔۔۔دفاتر۔۔۔انسانی تعلقات کی تجربہ گاہیں ہیں۔ یہاں دوستی، تعاون اور پیشہ ورانہ شائستگی ضروری بھی ہے مگر یہی جگہیں فریب کے نئے طریقوں کی آماجگاہ بھی بن جاتی ہیں۔ کوئی آپ سے بے جا تعریفیں کرے، ہر وقت آپ کے اردگرد منڈلائے، آپ کی ہر بات پر “واہ واہ” کرے۔۔۔تو بظاہر یہ خوشگوار لگتا ہے، مگر اکثر یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جہاں عقل کو دل پر ترجیح دینا لازم ہو جاتا ہے۔ تعریف اپنی جگہ اچھی چیز ہے مگر جب تعریف معیار سے ہٹ کر مبالغہ بن جائے تو وہ تعریف نہیں رہتی، ایک ہتھیار بن جاتی ہے۔۔۔اور اسی ہتھیار کو عام زبان میں “ہنی ٹریپ” کہا جاتا ہے۔

انسان فطری طور پر تعریف سننا پسند کرتا ہے۔ اسے اپنی خوبصورتی، اپنی صلاحیت، اپنے انداز پر داد چاہیے ہوتی ہے۔ یہی انسانی کمزوری بعض چالاک ذہنوں کے لیے آسان راستہ بن جاتی ہے، وہ جانتے ہیں کہ کون سا جملہ آپ کو متاثر کرے گا، کون سی بات آپ کے اعتماد کو سہل طریقے سے اپنی طرف موڑ دے گی۔ چنانچہ وہ مسکراتے ہیں، نرم لہجہ اختیار کرتے ہیں اور آہستہ آہستہ آپ کے گرد ایک نفسیاتی حصار بنا دیتے ہیں۔ اس حصار کے اندر داخل ہونے کے بعد انسان خود کو محفوظ سمجھتا ہے، حالانکہ وہ سب سے زیادہ غیر محفوظ ہو چکا ہوتا ہے۔اسلامی تعلیمات اس معاملے میں نہایت واضح رہنمائی فراہم کرتی ہیں۔ اسلام خوش اخلاقی، مسکراہٹ اور حسنِ سلوک کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔۔۔یہاں تک کہ ایک حدیث میں مسکراہٹ کو صدقہ قرار دیا گیا ہے۔ مگر ساتھ ہی اسلام نفاق، چاپلوسی اور دھوکے کی سختی سے مذمت کرتا ہے۔ قرآنِ مجید منافقین کی علامت بیان کرتے ہوئے ان کے دوغلے پن کو واضح کرتا ہے کہ وہ سامنے کچھ اور ہوتے ہیں اور پیچھے کچھ اور۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ مومن ایک سوراخ سے دو بار نہیں ڈسا جاتا۔۔۔یعنی مومن کو چاہیے کہ وہ تجربے سے سیکھے، آنکھیں کھلی رکھے اور ہر چمکتی چیز کو سونا نہ سمجھے۔ ہمیں اپنی تربیت اس انداز میں کرنی ہوگی کہ ہم تعریف اور چاپلوسی میں فرق کر سکیں۔ سچی تعریف وہ ہوتی ہے جو حدود کے اندر ہو، جو آپ کو بہتر بننے کی طرف مائل کرے اور جس میں سچائی کا عنصر غالب ہو۔ جبکہ جھوٹی تعریف وہ ہوتی ہے جو آپ کو حقیقت سے دور لے جائے، آپ کے اندر مصنوعی غرور پیدا کرے اور آپ کو دوسروں کے لیے آسان شکار بنا دے۔ جو شخص آپ کی ہر بات پر “آپ جیسا کوئی نہیں” کہتا ہے، وہ دراصل آپ کی حقیقت کو نہیں آپ کی کمزوری کو مخاطب کر رہا ہوتا ہے۔

یہ محض انفرادی مسئلہ نہیں، بلکہ ایک سماجی بیماری ہے۔ ہم ایک ایسے کلچر کو فروغ دے رہے ہیں جہاں سچ بولنے والا بدتمیز سمجھا جاتا ہے اور خوشامد کرنے والا مہذب۔ جہاں خامیوں کی نشاندہی کرنے والا دشمن اور بے جا تعریف کرنے والا دوست قرار پاتا ہے۔ یہ رویہ نہ صرف فرد کو نقصان پہنچاتا ہے بلکہ معاشرے کی مجموعی اخلاقی بنیادوں کو بھی کمزور کرتا ہے۔ ہمیں اس کلچر کے خلاف کھڑا ہونا ہوگا۔ ہمیں یہ جرات پیدا کرنی ہوگی کہ ہم سچ کو سچ کہیں، چاہے وہ کڑوا ہی کیوں نہ ہو اور جھوٹ کو جھوٹ سمجھیں، چاہے وہ میٹھے لفظوں میں لپٹا ہوا ہو۔ اکثر تعریفیں محض ایک جال ہوتی ہیںلیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہر تعریف غلط ہے، بلکہ مطلب یہ ہے کہ ہر تعریف کو پرکھنا ضروری ہے۔ اپنی قدر خود پہچاننا سیکھیں۔ جب انسان خود کو جان لیتا ہے تو اسے دوسروں کی غیر ضروری تعریف کی ضرورت نہیں رہتی اور یہی خود آگاہی اسے فریب سے بچاتی ہے۔

یہ بھی حقیقت ہے کہ سچے لوگ کم ہوتے ہیں، مگر نایاب نہیں ہوتے۔ وہ لوگ جو آپ کو آپ کی غلطی بتاتے ہیں، آپ کو تنقید کا آئینہ دکھاتے ہیں، وہی دراصل آپ کے خیرخواہ ہوتے ہیں۔ وہ آپ کو خوش کرنے کے لیے جھوٹ نہیں بولتے بلکہ آپ کو بہتر بنانے کے لیے سچ کہتے ہیں۔ ایسے لوگوں کو پہچاننا اور ان کی قدر کرنا بھی ایک فن ہے۔۔۔اور یہی فن ہمیں سیکھنا ہوگا۔ ہمیں اپنی زندگی میں شعور، احتیاط اور خود آگاہی کو جگہ دینی ہوگی۔ ہر مسکراہٹ کو قبول کرنے کے بجائے اسے سمجھنا ہوگا، ہر تعریف کو سننے کے بجائے اسے پرکھنا ہوگا۔ اسلامی اخلاقیات ہمیں توازن سکھاتی ہیںکہ نہ ہر ایک پر بدگمانی کرو، نہ ہر ایک پر اندھا اعتماد۔ یہی درمیانی راستہ ہمیں فریب سے بچا سکتا ہے۔ اگر ہم نے یہ توازن سیکھ لیا تو نہ صرف ہم خود محفوظ رہیں گے بلکہ ایک زیادہ سچا اور مضبوط معاشرہ بھی تشکیل دے سکیں گے۔۔۔جہاں مسکراہٹیں نقاب نہیں، حقیقت کا اظہار ہوں۔

اپنا تبصرہ لکھیں