جب سوال ہی متنازع بن جائے/مصور خان

پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں جہاں تعلیمی نظام پہلے ہی بے شمار مسائل کا شکار ہے، وہاں ہر سال ہونے والے بورڈ امتحانات نئی بحث کو جنم دیتے ہیں۔ ابھی حال ہی میں میٹرک کے امتحانات ختم ہوئے ہیں اور اب خیبر پختونخوا سمیت ملک کے مختلف تعلیمی بورڈز کے زیرِ انتظام انٹرمیڈیٹ کے امتحانات جاری ہیں۔ ہر سال حکومت تعلیمی نظام میں بہتری، شفاف امتحانات اور معیاری پیپرز کے دعوے تو کرتی ہے، مگر عملی صورتحال اکثر ان دعوؤں کے برعکس نظر آتی ہے۔
میں خود اس وقت انٹرمیڈیٹ کے امتحانات دے رہا ہوں اور ایک طالب علم ہونے کے ناطے مجھے اس نظام کی خامیوں کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا۔ عام طور پر طلبہ آؤٹ آف کورس سوالات کی شکایت کرتے ہیں، لیکن اس سے بھی زیادہ سنگین مسئلہ سوالیہ پرچوں میں موجود ابہام اور کنفیوژن ہے۔ بعض سوالات اس انداز میں بنائے جاتے ہیں کہ ایک محنتی طالب علم بھی امتحانی ہال میں ذہنی الجھن کا شکار ہو جاتا ہے۔
حال ہی میں پشاور بورڈ کے گیارہویں جماعت کے اردو کے پرچے میں ایک کثیرالانتخابی سوال پوچھا گیا:
“ایسی تحریر جس میں کسی موضوع پر علمی و تحقیقی انداز میں اظہارِ خیال کیا جاتا ہے، کہلاتا ہے؟”
آپشن میں میں ڈرامہ، مقالہ، خاکہ اور مضمون دئیے گئے تھے۔ یہاں واضح طور پر سوال مبہم محسوس ہوتا ہے، کیونکہ “علمی و تحقیقی انداز” کی تعریف “مقالہ “پر بھی پوری اترتی ہے جبکہ بعض اساتذہ “مضمون”کو درست جواب قرار دے رہے ہیں۔ ایسے میں وہ طالب علم کیا کرے جس نے اپنی علمی سمجھ کے مطابق “مقالہ” کو منتخب کیا؟
اسی طرح اسی پرچے میں ایک اور کثیرالانتخابی سوال نے طلبہ کو مزید کنفیوژن میں مبتلا کیا۔ سوال تھا:
“کلاس کا ہیرو” الفاظ کی کون سی قسم ہے؟
آپشنز میں روزمرہ، محاورہ، سیلنگ اور اشتقاق دئیے گئے تھے۔
اگر اس سوال کا تنقیدی جائزہ لیا جائے تو “اشتقاق” اور “روزمرہ” کی تعریفیں اس مثال پر مکمل طور پر پورا نہیں اترتیں۔ “کلاس کا ہیرو” بظاہر ایک ایسی ترکیب محسوس ہوتی ہے جو اپنے ظاہری معنوں سے ہٹ کر کسی خاص مفہوم میں استعمال ہو رہی ہے، اس لیے بعض طلبہ کے نزدیک “سیلنگ” زیادہ مناسب جواب معلوم ہوتا ہے۔ لیکن حیرت انگیز طور پر بعض مستند سوشل میڈیا پلیٹ فارمز اور اساتذہ کی جانب سے “روزمرہ” کو درست جواب قرار دیا گیا۔
یہ صرف ایک یا دو کثیرالانتخابی سوالات کا مسئلہ نہیں بلکہ دیگر پرچوں میں بھی اسی نوعیت کے ابہام اور تضادات دیکھنے میں آئے۔ تاہم کالم کا دامن چھوٹا ہونے کی وجہ سے یہاں صرف ایک پرچے کی مثال پیش کی گئی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہر سال مختلف مضامین کے پیپرز میں طلبہ اسی قسم کی ذہنی الجھن اور غیر یقینی صورتحال کا سامنا کرتے ہیں۔
ہر سال طلبہ امتحانات کے بعد مختلف سوالات کے درست جوابات جاننے کے لیے سوشل میڈیا، یوٹیوب یا کوچنگ اکیڈمیوں پر انحصار کرتے ہیں، جہاں اکثر مختلف آراء سامنے آتی ہیں۔ نتیجتاً طلبہ مزید ذہنی دباؤ اور بے یقینی کا شکار ہو جاتے ہیں۔
امتحان کا مقصد طلبہ کی علمی صلاحیت کو جانچنا ہوتا ہے، نہ کہ انہیں لفظی الجھنوں میں مبتلا کرنا۔ اگر ایک کثیرالانتخابی سوال کے جواب پر اساتذہ، سوشل میڈیا پلیٹ فارمز اور طلبہ سب مختلف رائے رکھتے ہوں تو یہ واضح اشارہ ہے کہ مسئلہ طالب علم میں نہیں بلکہ سوال بنانے کے نظام میں ہے۔
اسی لیے تمام تعلیمی بورڈز اور متعلقہ حکام سے مطالبہ ہے کہ امتحانی وقت ختم ہونے کے فوراً بعد اپنی سرکاری ویب سائٹس یا آفیشل سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر سوالات کے مستند جوابات جاری کیے جائیں۔ اس اقدام سے نہ صرف طلبہ کے ذہنوں میں موجود ابہام ختم ہوگا بلکہ انہیں ذہنی سکون بھی ملے گا کہ ان کے جوابات درست تھے یا نہیں۔ اس کے علاوہ اگر کسی سوال میں واقعی ابہام یا غلطی موجود ہو تو بروقت نشاندہی ممکن ہو سکے گی اور طلبہ کے ساتھ ناانصافی سے بچا جا سکے گا

اپنا تبصرہ لکھیں