خود کردہ را علاج نیست/محمد کوکب جمیل ہاشمی

ساری میڈیکل ریسرچز، طبیات، یونانی طرزعلاج، ہومیو پیتھک اور انگریزی ادویات، آئیور ویدک طریقہء دافع امراض اور انسان کے جسمانی عوارض کو آرام پہنچانے کے موثر طریقہ کار اکوپانکچر نے انسانی صحت کی بحالی میں قابل قدر خدمات سر انجام دی ہیں۔ ان میں دیسی اطباء، ڈاکٹرز، محققین اور ادویات سازی کی صنعتوں کا کردار بھی قابل تعریف چلا آرہا ہے۔ ڈاکٹرز اور طبی ماہرین سب کے سب انسانی جسم پہ حملہ آور بیماریوں کے تدارک کے لئے دن رات مصروف عمل رہتے ہیں اور متوقع وبائی امراض سے بچاؤ کی ویکسینز بھی ایجاد کر رہے ہیں۔ مگر طبی تحقیق کی ترقی اور کامیابیوں کے باوجود اب بھی خرابی صحت کی بہت سی وجوہات اور اچانک پھیلنے والے موسمی و ماحولیاتی عوارض کے علاج معالجے کی مساعی اب بھی تشنہ تکمیل ہیں۔
صحت کی ناکافی سہولیات کی وجہ سے انواع و اقسام کی بیماریوں سے مجبور و پریشان حال لوگوں کا انبوہ کثیر اب بھی ہسپتالوں اور دواخانوں میں اپنے لئے یا اپنے پیاروں کے علاج کی خاطر سرگرداں نظر آتا ہے۔ نجی شفا خانوں میں بھی اہل ثروت افراد کا جم غفیر معالجین سے ملاقات کے لئے سر توڑ کوششیں کرتا دکھائی دیتا ہے۔ اس کے باوجود بہت سے لوگ اس خوف کی وجہ سے ہسپتالوں میں جانے سے محض اس لئے گریز کرتے ہیں کہ کہیں وہ بے احتیاط مریضوں کے ہجوم میں مدغم ہو کر دیگرامراض کے جراثیم کی پکڑ کے شکار نہ ہو جائیں۔ چنانچہ وہ گھروں میں رہ کر طبی ٹوٹکوں پر ہی انحصار کرتے ہیں۔ وہ گھروں کو صاف رکھنے کے لئیے جھاڑپونچھ میں حصہ لیں یا نہیں، اپنے بچوں کی بیماریوں کے تدارک کے لئے جھاڑ پھونک کرانے کے واسطے مولوی صاحب کی خدمات ضرور حاصل کرتے ہیں۔
بیماریاں ہماری جان پہ ایسا ستم ڈھاتی ہیں کہ بے چارے مریضوں کے ہوش اڑ جاتے ہیں۔ یہ ہر وقت ایسے حملہ آور ہونے کو تیار رہتی ہیں گویا انسانوں اور امراض کے بیچ گھمسان کا رن پڑ رہا ہو۔ کبھی انسان ان پر قابو پا کر سرخرو ہوتا ہے اور کبھی عارضے انسان کے ساتھ عداوت میں تمام حدیں یوں پار کر جاتے ہیں ، جیسے انہیں انسانی جسم سے خدا واسطے کا بیر ہو۔ اکثر دردوں کے مارے مریض ڈاکٹرز کے طرف سے انجیکشن لگانے سے خائف ہو کر ان سے دور بھاگتے ہیں اور جب ڈرپ لگانے کے لئے کسی مریض کے بازو پر نبضوں کو ٹٹولا جاتا ہے تو مریض یوں محسوس کرتا ہے جیسے اس کی دکھتی رگ پر پاؤں رکھ دیا گیا ہو۔ اسے کلینک کی طرف سے زیادہ چارجز وصول کرنے کی فکر لاحق ہو جاتی ہے۔ لہذا مریض کو لگتا ہے کہ مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی۔

کسی کو شوگر کا عارضہ ہو تو سر سے لیکر پیر تک امراض کی لمبی قطاریں چیونٹیوں اور مکوڑوں کی طرح جسم سے چپک کر رہ جاتی ہیں۔ ذرا سی سرد ہوا چل پڑے تو٫ کالجز ہوں یا جامعات، ہر کلاس میں موجود ہم جماعتوں کی کھانسی اور چھینکیں فورآ حملہ آور ہوجاتی ہیں۔ اس طرح ہمارے نازک اندام اجسام فلو اور نزلے کی گرفت میں آجاتے ہیں۔ ایسے میں کلیات اور جامعات کے ہم جماعت ہی نہیں دفتری ماحول میں کام کرنے والے اہلکارساتھی، سب پر نزلے زکام کا شدید حملہ ایران پر اسرائیلی حملے کی طرح تباہ کن ہونے لگتا ہے۔ ایسے میں عورتوں اور مردوں میں سرکا درد لازم ٹھہرتا ہے۔ جب سر میں شدید درد رہتا ہے تو متاثرین کا چہرہ زرد ہوتا ہے، یقیناً پریشان ہر فرد ہوتا ہے۔ جوں جوں سردی بڑھتی ہے، ان کا لہجہ اور رویہ بھی سرد ہوتا ہے۔ حکماء کہتے ہیں کہ نزلہ بہنے دو، دوا دارو کو رہنے دو۔ اسے از خود ہی ٹھیک ہونے دو۔ انگریزی علاج سے نفرت کرنے والے ہدائت دیتے ہیں کہ پیناڈول تو ہرگز نہ لو۔ یہ انگریزی دوائیں ہمیں ٹھیک کم کرتی ہیں اور دوسری بیماریوں کو زیادہ جنم دیتی ہیں۔
سر کا درد فی زمانہ مرض کے زمرے میں آتا ہی نہیں۔ نہ اس کی وجہ سے دفتر سے رخصت لینے کے لئے ڈاکٹری سرٹیفکیٹ قابل قبول ہوتا ہے۔ لیکن سر کا یہ درد ہر کام کی ادائی کے لئے درد سر بن جاتا ہے۔ آرام ملتا ہے نہ نیند آتی ہے۔ ایسے میں وہ شوہر حضرات جو بات بات پر اپنی سخت مزاجی کی وجہ سے بیگمات کو جائز نا جائز دباتے رہتے ہیں، بڑی منت سماجت کر کے اپنی ازواج سے اپنا سر دبواتے ہیں۔ ایسے میں گلے کی خراش شروع ہو جاۓ تو کوئی جوشاندہ پینے کا مشورہ دیتا ہے اور کوئی ادرک والی چائے کا۔ گلے کی خراش اس طرح صاحب فراش بنا دیتی ہے کہ متاثرہ فرد اپنی تراش خراش سے ہی غافل ہو جاتا ہے۔ پھر نزلے کا وہ دھواں دھار آغاز ہوتا ہے کہ ہر کس و نا کس پر اس طرح گرنا شروع کر دیتا ہے کہ مریض گرتا پڑتا ڈاکٹر کی طرف دوڑتا چلا جاتا ہے ۔ لوگ اسے دیکھ کر اس سے دور بھاگتے ہیں۔ ایسے مریضوں کی آنکھ ناک سے پانی کی آبشاریں بہنا شروع ہو جاتی ہیں، وہ اپنے، پراۓ سب کی نظروں سے بھی گر جاتا ہے۔ نزلہ کناں کتنے بھی تن و مند کیوں نہ ہوں ان کا سارا بدن چشم زدن میں ٹوٹنے لگتا ہے۔ بخار بھی سونے کے اترتے چڑھتے بھاؤ کی طرح کبھی کم ہوتا ہے، کبھی بڑھتا ہے۔ سینہ دھونکنی کی طرح سانس نگلتا اور نکالتا ہے۔ یوں لگتا ہے سارا وجود عوارض کے نرغےمیں آگیا ہو۔ اس پہ مستزاد بلڈ پریشر کا مرض بھی لاحق ہوجاتا ہے اور شوگر مائل بہ اضافه ہو جاتی ہے، پیٹ میں درد سوا ہوتا ہے، کمر دکھتے رہنے پر کمر بستہ ہو جاتی ہے، ٹانگوں میں اینٹھن، گردے میں چبھن، آنکھ میں دکھن، جگر بھی فیٹی ہو جاتا ہے۔ داڑھ میں جو درد کی شکائت ہونے لگتی ہے، اس کی وجہ سے جتنی بھی مٹھائی کھالیں داڑھ میٹھی نہیں ہوتی۔ لگتا ہے امراض کے ڈرونز نے نقاہت شدہ مریض کے وجود کو کھنڈر میں تبدیل کر دیا ہے۔ اب خیرمنائیں کہ کس مرض کا علاج پہلے کریں اور کس کا بعد میں۔

ہمارے عوارض کا ہمارے خلاف یہ اتحاد اس وقت بنتا ہے جب ہم خود امراض سے بے اعتنائی برتتے ہیں اور اپنی صحت کو قائم رکھنے اور بیمار پڑنے سے بچاؤ کے لئے خود پہرا نہیں دیتے۔ جب ہم کھانے پینے میں احتیاط نہیں کرتے۔ جب مٹھائی کا ڈبہ کھلتے ہی میٹھی رسیلی مٹھائیاں بلا توقف کھاتے چلے جاتے ہیں، جب کھٹی چیزوں سے پرہیز کرنے کی بجاۓ املی اور آلو بخارے کے گلاس کے گلاس پی کراپنے دانت خود ہی کھٹے کر لیتے ہیں۔ جب ڈیپ فرائی پوریوں، کچوریوں، سموسوں اور پکوڑوں کو ایسے ہڑپ کرتے ہیں جیسے کبھی نصیب نہ ہوۓ ہوں۔ اوپر سے کولڈ ڈرنکس کو غٹا غٹ پی کر رہی سہی کسر پوری کرلیتے ہیں۔ ایسا ہر گز نہ کریں۔۔ پرہیز کیجئے اور اپنے آپ کو بیمار ہونے سے بچائیے۔ مبادا آپ لاتعداد امراض کے شکار ہو جائیں۔ اور آپ خود ہی اس محاورے کی مثال بن جائیں کہ ‘خود کردہ را علاج نیست۔

اپنا تبصرہ لکھیں