خیبر پختونخوا پھر دہشتگردی کی نئی لہر کی زد میں ہے، بالخصوص بنوں، لکیمروت، ڈیرہ اسماعیل خان اور ٹانک سمیت جنوبی اضلاع میں پولیس گوریلہ حملوں، خودکش کارروائیوں اور دہشتگردی کے عالمی نیٹ ورکس سے نبرد آزما ہے۔ بنوں کی فتح خیل پولیس چوکی پر ہونے والے خودکش حملے میں 15پولیس اہلکاروں کی شہادت نے نہ صرف پورے صوبے کو سوگوار کیا بلکہ پولیس فورس کے اندر شدید غم و غصہ، بے چینی اور ردّعمل کی ایسی پراگندہ کیفیت پیدا کر دی جو اِس سویلین فورس کی بقاء کے لئے خطرہ بن گئی ۔ دہشت گرد عناصر کی یہی وہ خطرناک حکمتِ عملی ہے جس کے ذریعے وہ براہِ راست حملوں کے ساتھ پولیس فورس کو اندرونی طور پر کمزور کرنے کے لئے نفسیاتی حربوں اور پراپیگنڈا وارفیئر کا سہارا لیتے ہوئے اہلکاروں میں بددلی، مایوسی اور کمانڈکے خلاف بے اعتمادی پیدا کرتے ہیں ۔ایسے عناصر بلواسطہ طور پر پولیس فورس کے نچلے اور درمیانی درجے کے اہلکاروں کو یہ باور کرانے کی کوشش کرتے ہیں کہ اعلی افسران ان کے مسائل سے لاتعلق ہیں ۔ اسی پیش دستی کے باعث پولیس کا اندرنی نظم ونسق بُری طرح متاثر ہونے کے علاوہ کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم کمزور پڑنے سے لکیمروت اور بنوں جیسے حساس علاقوں میں ماتحت عملے کے اندر احکامات سے انحراف کا رجحان جنم لینے لگا ۔ سیکیورٹی ماہرینِ کے مطابق جب کسی فورس کے اندر داخلی انتشار، بداعتمادی اور قیادت سے بدگمانی پیدا ہو جائے تو اس کی پیشہ ورانہ صلاحیت اور ردِعمل کی صلاحیت کُند ہونے لگتی ہے ، دہشتگرد اِسی کیفیت سے فائدہ اٹھا کر پولیس کو زیادہ سے زیادہ نقصان پہنچانے میں کامیاب ہوتے ہیں، منتشر اور ذہنی دباومیں مبتلا فورس دہشتگردوںکا آسان ہدف بنتی ہے ، یوں دشمن بغیر کسی بڑے محاذ کے ادارے کی اندرونی کمزوریوں کو استعمال کرتے ہوئے اُس کی مجموعی قوت کو توڑنے کا ہدف حاصل کرتے ہیں ،بظاہر یہی ذہنی خلجان فورس کے اندر گہرائی تک اتر جانے والے نظم و ضبط کے بحران کی عکاسی کر رہا ہے ۔
علی ہذالقیاس ، اِس ساختی بحران کی کئی جہتیں ہوں گی لیکن بنیادی وجہ پولیس فورس کو روایتی اور آئینی ذمہ داریوں سے ہٹا کر ایسے معاملات میں الجھانا ہے جو دراصل عسکری اور دفاعی اداروں کے دائر کار سے متعلق ہیں ۔ پولیس کا بنیادی فریضہ جرائم کی بیخ کنی اور معاشروں میں قانون کی عمل داری کے ذریعے عوامی جان و مال کا تحفظ ہے مگر گزشتہ برسوں میں اسے بتدریج ایسے محاذوں پر کھڑا کیا گیا جہاں نہ صرف جنگی نوعیت کے ہمہ جہت خطرات موجود ہیں بلکہ ایسے پیچیدہ سیاسی، جغرافیائی اور بین الاقوامی عوامل بھی کارفرما ہیں جو پولیس اہلکاروں کی پیشہ وارانہ استعدادکی حدود سے ماورا ہیں یعنی جب تک پولیس کی اعلی کمانڈ کو اپنی فورس کے بنیادی اہداف و مقاصد بارے شرح صدر(clarity) نہیں ملتی ، اس وقت تک وہ درست راہ عمل کا تعین نہیں کر پائے گے ، سچ تو ہے کہ پولیس آرڈر 2001 کے تحت سرحدی تنازعات، شورش زدہ علاقوں کی صورتِ حال اور عسکری تنظیموں کے خلاف کارروائیوں میں پولیس کو بطورِ فرنٹ لائن فورس استعمال کرنا سابق آئی جی افضل شگری کی ایسی ناقص ڈیل تھی جس نے سول بیوروکریسی کی نفسیاتی برتری سے نجات اور ناقابل فہم اختیارات کی قیمت پر پولیس کو فنا و بقا کے خط امتیاز پہ لاکھڑا کیا ، خیبر پختون خوا کا پولیس ایکٹ 2017 اسی رومانوی ڈیل کا خونی موڑ ثابت ہوا ۔
امر واقعہ یہ ہے کہ سول ادارہ کی حیثیت سے پولیس کی تربیت اور مزاج شہری نظم و نسق کے مطابق تشکیل پاتے ہیں جبکہ دہشت گردی اور غیر روایتی جنگوں کا مقابلہ عسکری حکمتِ عملی، جدید اسلحہ، انٹیلی جنس ہم آہنگی اور طویل المدتی دفاعی تیاریوں کی متقاضی ہے۔ اسی عدم مطابقت کے باعث لامحدود اختیارات، معاشی خود مختیاری اور جوابدہی سے استثناء کے باوجود پولیس فورس شدید نفسیاتی دباو، ذہنی تھکن اور انتظامی انتشار کی تاریکیوں میں ڈوبتی گئی ۔ اس کا ایک قدم سماجی جرائم، سیاسی بدامنی اور شخصی تنازعات سے نمٹنے کی طرف بڑھتا ہے تو دوسرا ایسی جنگ میں پھنسا ہوا ہے جس کی نوعیت ایسی عسکری جدلیات پہ محمول ہے، جو سرعت کے ساتھ فورس کے جوانوںکو نگلنے کے علاوہ ان کی سماجی زندگی اور خاندانی وجود کو بھی ہمہ وقت خطرات سے دوچار رکھتی ہے ،جس کے نتیجہ میں نہ صرف پولیس کی پیشہ ورانہ کارکردگی متاثر ہوئی بلکہ ادارے کے اندر فیصلہ سازی و نظم و ضبط کا بحران اور عوامی اعتماد جیسے بنیادی سہارے کمزور پڑنے لگے ۔ یہی وجہ ہے کہ آج پولیس کا بحران محض انتظامی ناکامی نہیں بلکہ ریاستی ترجیحات، داخلی سلامتی کی پالیسیوں اور سول و عسکری ذمہ داریوں کے غیر واضح تعین کا عکاس دکھائی دیتا ہے۔ ایسے حالات میں سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ کیا دہشتگردی کے خلاف جنگ صرف جذبات، غصے اور انتقامی جذبے سے جیتی جا سکتی ہے؟ یا پھر اس کے لیے نظم و ضبط، حکمت عملی، ادارہ جاتی ہم آہنگی اور پیشہ ورانہ بصیرت درکار ہو گی ؟ حقیقت یہی ہے کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ صرف وہی فورس جیت سکتی ہے جسے اپنی کمانڈ پر مکمل بھروسہ، فرض سے غیرمشروط وفاداری، اعصاب پہ قابو اور اہداف و مقاصد کا مکمل ادراک ہو۔
بنوں واقعہ کے بعد بعض مقامات پر پولیس اہلکاروں کے جذباتی ردعمل نے یہ واضح کیا کہ دشمن صرف آتش و آہن سے حملہ آور نہیں بلکہ وہ نفسیاتی حملے بھی کرتا ہے۔ دہشتگردوں کی حکمت عملی اکثر یہی ہوتی ہے کہ فورس کو مشتعل کرکے اسے اپنے دفاعی حصار، ادارہ جاتی نظم اور پیشہ ورانہ حکمت عملی کے محفوظ دائروںسے باہر نکالاجائے۔ جب فورس غصے اور انتقام کے جذبے میں اندھی ہو کر بغیر منصوبہ بندی کے میدان میں نکلتی ہے تو وہ غیر محسوس انداز میں دشمن کے طے کردہ جال میں داخل ہو جاتی ہے ، اچھا جرنیل وہی ہوتا ہے جو لڑنے کیلئے اپنی مرضی کے وقت اور اپنی مرضی کے میدان کا تعین خود کرتا ہے۔
ہر چند کہ بنوں اور لکی مروت پولیس کے جوانوں کی قربانیاں ناقابل فراموش ہیں لیکن سپاہیوں کو سوچنا چاہئے کہ جدید دہشتگردی کے عالمی نیٹ ورک سے روایتی قبائلی انداز میں نہیں لڑا جا سکتا ، یہ جنگ جذبات سے زیادہ ذہانت، مربوط حکمت عملی، انٹیلیجنس شیئرنگ، غیر منقطع لاجسٹک اور ادارہ جاتی نظم و ضبط کی متقاضی ہے ۔ اگر پولیس فورس اپنی کمانڈ کی حکم عدولی کرتے ہوئے جذبات کی لہر پر سوار ہو گئی تو نتائج نہ صرف خود فورس کے لئے خطرناک ہوں گے بلکہ پورے معاشرے کے لئے بھی تباہ کن ثابت ہو سکتے ہیں۔
ایسے نازک حالات میں جوانوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ ذاتی بقا اور فورس کے تحفظ کو اولین ترجیح سمجھتے ہوئے، اپنی کمانڈ پر کامل اعتماد ، ادارہ جاتی نظم و ضبط کی غیر مشروط اطاعت اور ہر قدم منصوبہ بندی و پیشہ ورانہ مہارت کے مطابق اٹھائیں ۔ دہشتگردی کے خلاف کارروائیوں میں سب سے اہم چیز صرف حملہ کرنا نہیں بلکہ اپنی افرادی قوت کو بچانے، مورال بڑھانے اور اپنی مجموعی استعدادکو پیش نظر رکھنا لازمی ہوتا ہے۔ دوسری جانب خیبر پختونخوا کے آئی جی پی اور دیگر سینئر افسران کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ پولیس فورس کے اندر پھیلنے والی بے چینی، مایوسی اور جذباتی ردعمل سے مرعوب ہونے کے بجائے موثر قیادت کا مظاہرہ کریں تو گورننس کے بحران اور سیکیورٹی چیلنجز پر قابو پایا جا سکتا ہے ۔ مضبوط کمانڈر وہی ہوتا ہے جو بحران کے وقت فورس کے اعصاب بحال رکھے، اعتماد کو ٹوٹنے نہ دے اور اپنی ٹیم کو نظم و ضبط میں مربوط رکھے۔
مبصرین کے مطابق فی الوقت سب سے بڑی ضرورت پولیس اور سیکورٹی اداروں کے درمیان موثر کوارڈینیشن ، انٹیلیجنس شیئرنگ، مشترکہ حکمت عملی، ادارہ جاتی رابطے اور زمینی حقائق کے مطابق مربوط کارروائیاں ہی دہشتگردی کے خلاف جنگ کو کامیاب بنا سکتی ہیں ۔ پولیس کو یہ سمجھنا ہوگا کہ خیبر پختونخوا روایتی امن و امان کا علاقہ نہیں بلکہ پیچیدہ وار زون کی شکل اختیار کر چکا ہے، جہاں صرف بہادری کافی نہیں بلکہ پیشہ ورانہ مہارت، نفسیاتی استقامت اور جدید جنگی فہم و فراست بھی ناگزیر ہے۔ ماہر پولیس افسر کے لئے یہ کوئی ناممکن کام نہیں کہ وہ سیکورٹی فورسز کے ساتھ ہم آہنگی پیدا کرتے ہوئے اپنی فورس کی بقا،اور عوام کا اعتماد حاصل کرکے معاشرے کو انتشار سے بچانے میں کامیاب پائے ۔ اصل کامیابی صرف دہشتگرد کو مارنے میں نہیں بلکہ اپنی افرادی قوت کو بچا کر فورس کو منظم اور فعال رکھنے میں ہے۔ یہ جنگ بندوق سے پہلے اعصاب، نظم و ضبط ، پیشہ وارانہ بصیرت اور حکمت عملی کی جنگ ہے۔ اگر پولیس اپنی صفوں میں اتحاد، نظم و ضبط اور ادارہ جاتی اعتماد کو برقرار رکھنے میں کامیاب ہو گئی تو دہشتگردی پہ قابو پا سکتی ہے۔


