اٹھائیسویں ترمیم اور اٹھارویں ترمیم کا مستقبل؟-مصور خان

پاکستان میں ایک بار پھر آئینی تبدیلی کی بازگشت سنائی دے رہی ہے۔ “اٹھائیسویں آئینی ترمیم” کے حوالے سے مختلف خبریں، سیاسی تجزیے اور قیاس آرائیاں گردش کر رہی ہیں۔ اگرچہ ابھی تک اس ترمیم کا کوئی حتمی اور باضابطہ مسودہ سامنے نہیں آیا، تاہم جن نکات پر سب سے زیادہ گفتگو ہو رہی ہے اُن میں اٹھارویں ترمیم کے تحت صوبوں کو ملنے والے اختیارات کی مرکز کو واپسی، این ایف سی ایوارڈ کے فارمولے پر نظرِ ثانی، اور وفاقی ڈھانچے میں تبدیلیاں شامل ہیں۔
میرے خیال میں پاکستان پیپلز پارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی سب سے بڑے سیاسی امتحان میں داخل ہوتی دکھائی دیتی ہیں۔ کیونکہ یہی وہ جماعتیں تھیں جنہوں نے اٹھارویں ترمیم کے ذریعے صوبائی خودمختاری کو مضبوط بنایا، وفاق کو متوازن کیا، اور این ایف سی ایوارڈ میں صوبوں کے حصے میں اضافہ یقینی بنایا۔ آج اگر انہی نکات کو کمزور کرنے کی کوشش کی جاتی ہے تو سب سے پہلے نگاہیں انہی جماعتوں کے موقف پر اٹھیں گی۔
پیپلز پارٹی ہمیشہ خود کو وفاق کی علامت اور صوبائی حقوق کی محافظ جماعت قرار دیتی رہی ہے، جبکہ عوامی نیشنل پارٹی نے دہائیوں تک چھوٹے صوبوں کے حقوق اور اختیارات کی سیاست کی۔ اب سوال یہ ہے کہ اگر اٹھائیسویں ترمیم واقعی ایسے نکات لے کر آتی ہے جو اٹھارویں ترمیم کی روح کو متاثر کرتے ہیں تو کیا یہ جماعتیں اُس کی مخالفت کریں گی؟ یا پھر اقتدار اور سیاسی مفادات کے تحت خاموش حمایت اختیار کریں گی؟
یہ معاملہ محض ایک آئینی ترمیم کا نہیں بلکہ سیاسی ساکھ اور عوامی اعتماد کا بھی ہے۔ اگر پیپلز پارٹی اور اے این پی اس ترمیم کی مخالفت کرتی ہیں تو اُن قوتوں کی ناراضی مول لیں گی جو اس تبدیلی کو لانا چاہتی ہیں۔ اس کے سیاسی نتائج اگلے انتخابات میں بھی سامنے آ سکتے ہیں۔ لیکن اگر یہی جماعتیں صوبائی خودمختاری اور این ایف سی جیسے بنیادی نکات پر سمجھوتہ کرتی ہیں تو پھر اُن کے لیے اپنے ووٹرز کو مطمئن کرنا آسان نہیں ہوگا۔
اقتدار وقتی ہو سکتا ہے، مگر عوامی اعتماد کھو جائے تو سیاست کی بنیادیں ہل جاتی ہیں۔ ممکن ہے ترمیم کی حمایت کے بدلے اقتدار کے دروازے کھل جائیں، چاہے وہ “فارم 47” کے ذریعے ہوں یا “آر ٹی ایس” کے سائے میں، مگر تاریخ یہ ضرور پوچھے گی کہ جن جماعتوں نے صوبائی حقوق کا پرچم اٹھایا تھا، کیا وہی اُس پرچم کو جھکانے میں شریک ہو گئیں؟
عوام کو وقتی طور پر سیاسی نعروں، بیانات اور مصلحتوں کے ذریعے دھوکا دیا جا سکتا ہے، لیکن تاریخ کو دھوکا نہیں دیا جا سکتا۔ تاریخ ہمیشہ یہ یاد رکھتی ہے کہ مشکل وقت میں کون اپنے اصولوں پر کھڑا رہا اور کس نے اقتدار کی خاطر اپنے ہی بیانیے سے سمجھوتہ کر لیا۔ سیاسی فیصلے وقتی فائدہ تو دے سکتے ہیں، مگر قوموں کی اجتماعی یادداشت میں اصل مقام اُنہی کو ملتا ہے جو اصولوں کی قیمت پر اقتدار قبول نہیں کرتے۔
تاہم اب بھی یہ امید باقی ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی اپنا موقف اصولوں، جمہوری روایات اور اپنے تاریخی بیانیے کے مطابق رکھیں گی۔ کیونکہ سیاست میں وقتی مفادات سے زیادہ اہم وہ نظریات ہوتے ہیں جن پر جماعتیں اپنی شناخت قائم کرتی ہیں۔ اگر یہ جماعتیں صوبائی خودمختاری، وفاقی توازن اور عوامی حقوق کے اپنے دیرینہ مؤقف پر قائم رہتی ہیں تو یہ نہ صرف اُن کی سیاسی ساکھ کو مضبوط کرے گا بلکہ جمہوری نظام کے لیے بھی ایک مثبت پیغام ہوگا۔
پاکستان کی سیاست اس وقت ایک نازک موڑ پر کھڑی ہے۔ اٹھائیسویں ترمیم اگر واقعی سامنے آتی ہے تو یہ صرف آئینی تبدیلی نہیں ہوگی بلکہ یہ اصول اور اقتدار کے درمیان ایک فیصلہ کن معرکہ بھی ثابت ہو سکتی ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں