صبیح رحمانی کی نعتیہ شاعری (فکری و تنقیدی تناظر ) پر چند باتیں/ناصر عباس نیّر

زیر نظر کتاب “صبیح رحمانی کی نعتیہ شاعری (فکری و تنقیدی تناظر ) کے آغاز میں یہ چند سطورلکھنا میرے لیے اعزاز کی بات ہے۔نعت ہماری مذہبی و عقیدتی حسیت ،شناخت اور گہرے درونی جذبات ہی کااظہار نہیں ، بلکہ عربی ، فارسی اور اردو کی ممتاز صنف ادب بھی ہے اس لئے اسے پڑھنا اور سمجھنے کی کوشش کرنا اپنی اجتماعیت اور گہری داخلیت سے تعارف کا ذریعہ ہے- ڈاکٹر شمع افروز کی مرتبہ، اس کتاب میں نہ صرف صبیح رحمانی کی نعت گوئی و نعت خوانی کے حوالے سے 77اہل قلم کے وقیع مقالات اور تاثرات شامل ہیں بلکہ نعت کی تنقید کے ضمن میں بھی ایسی تحریریں موجود ہیں ،جو نعت کی تنقید کو ایک نئی سمت دیتی محسوس ہوتی ہیں۔چند باتیں ازرہ امتثال امر پیش کی جارہی ہیں۔سب سے پہلے تو صبیح رحمانی صاحب کی خوش بختی کا ذکر کرنا چاہیے کہ ان کی نعت گوئی کی تحسین اردو کے بڑے نقادوں اور نئے نقادوں نے، بہ یک وقت کی ہے۔ اردو کا شاید ہی کوئی اہم لکھنے والا ہوگا ،جس نے رحمانی صاحب کی نعت گوئی ،نعت خوانی اور نعت رنگ کے لیے ان کی خدمات کا اعتراف نہ کیا ہو اورانھیں سراہا نہ ہو ۔ نعت کے فروغ کے لیے اپنی پوری زندگی اور سب وسائل وقف کردینا ،سعادت کی بات تو ہے، حوصلے اور ظرف کا معاملہ بھی ہے۔ نیز زندگی کی ترجیحات کا بھی۔ کسی بڑے مقصد کے لیے اپنی دسترس میں سب کچھ وقف کرنے میں سب سے بڑا چیلنج خود آدمی کے اپنے جذبات ہوتے ہیں۔ عظیم مقصد کے لیے ایک لمحے میں محسوس کیے گئے شدید جذبات کے سرد ہوجانے کا خطرہ ہوتاہے۔ صبیح رحمانی گزشتہ تیس برسوں سے نعت کے فروغ کے لیے ہمہ قسم کوششیں ، کسی رکاوٹ اور تعطل کے بغیر جاری رکھے ہوئے ہیں تو اس کا سبب ،اپنے مقصد کی عظمت و افادیت سے متعلق ان کاپختہ یقین اور اپنے کام سے تخلیقی نوعیت کی وابستگی ہے۔چوں کہ تخلیقی وابستگی میں ملکیت کے نہیں،شراکت کے جذبات ہوتے ہیں، اس لیے صبیح رحمانی مختلف نقطہ ہاے نظر کے لوگوں کو بھی اپنے ساتھ چلنے پر آمادہ کرلیتے ہیں۔علاوہ ازیں، نعت سے متعلق ان کی جملہ سرگرمیوں میں ذوق اور فہم یا جمالیات اور علم کا امتزاج دیکھا جاسکتا ہے۔ نعت میں نئی جمالیات خلق کرنا اور نعت کی نئے زاویوں اور تازہ تناظرات میں تفہیم وتعبیر، ان کے بنیادی مقاصد میں شامل ہے۔ ہمارے زمانے میں اردو نعت کو تخلیقی اور تنقیدی سطحوں پر مسلسل فعالیت سے ہمکنار رکھنے میں سب سے اہم کردار رحمانی صاحب کا ہے۔
جیسا کہ پہلے اشارہ کیا گیا،اس مجموعے کے مصنفین میں اردو کےبڑےنام بھی شامل ہیں اور کچھ نئے لکھنے والے بھی۔اردو کے باقاعدہ نقاد بھی اور تاثراتی تحریریں لکھنے والے بھی۔ نیز آپ کو ان ادبی نقاد وں کی تحریریں بھی ملیں گی جن کا بنیادی کام نعت پر نہیں ،کلاسیکی یا جدیداردو شاعری پر ہے اور ان محققوں کی تحریریں بھی اس مجموعے میں موجود ہیں جن میں سے کچھ کا موضوع نعت کی تحقیق رہا ہے اور کچھ کی دل چسپی کلاسیکی متون سے رہی ہے۔ ہم کہہ سکتے ہیں کہ مختلف نقطہ ہاے نظر اور مزاج کے لکھنے والوں نے صبیح رحمانی کی نعت پر لکھا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ نقطہ ء نظر کا یہ تنوع ، نعت کی تنقید میں منعکس ہوا ہے کہ نہیں؟ اس کا جواب ہاں میں دینا مشکل ہے۔ ہم کسی صنف کے تنوعات کے لیے شعریا ت اور فکری تنوعات کی پس منظری دنیا کو سمجھنے کے لیے پیراڈائم کی اصطلاحیں استعمال کرتے ہیں۔ان مضامین کو پڑھنے کے بعد ہمیں یہ کہنے میں باک نہیں کہ نعت کی شعریات کا خاصا محدود تصورہمارے لکھنےو الوں کے پیش نظر ہے ۔” نعت بنیادی طور پر ایک مذہبی و عقیدتی اظہار ہے ،لیکن ایک صنف شاعری بھی ہے”۔ نعت کی شعریات بس یہاں سے شروع ہوتی اور یہیں ختم ہوجاتی ہے۔اسی طرح جس تنقیدی پیر اڈائم کے تحت نعت کی شعریات پر ہمارے نقاد لکھتے ہیں، وہ بھی چند باتوں کی تکرار کے سوا نہیں۔
یہ درست ہے کہ ان مضامین کا مطالعہ کرتے ہوئے ، صبیح رحمانی کی نعت کے چند فنی وموضوعاتی امتیازات سے آگاہی ملتی ہی ہے، یہ اندازہ بھی ہوتا ہے کہ نعت کے نقادکہاں نعتیہ متن کا مطالعہ ثواب و برکت سمجھ کر کررہے ہیں اور کہاں نعت کی شعریات کی گرہ کشائی کی عالمانہ سعی کررہے ہیں۔ کہاں نعت کو ایک مذہبی متن کے قریب قریب تصور کرتے ہوئے ،اس کی تعبیر و تجزیے کی بھاری ذمہ داریوں سے پہلو تہی کا جواز تلاش کیا جارہا ہے اور کہاں نعتیہ متن کی جمالیات اور معنی کی زیریں سطحوں تک رسائی کی کوشش کی جارہی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ابھی تک نعت کی تنقید اپنے بالکل ابتدائی مرحلے میں ہے۔اس کی ایک وجہ تنقید کے اس ابتدائی تصور سے وابستگی بھی ہے کہ تنقید بس کھرے کھوٹے میں فرق، لفظ کے صحیح و غلط یا حسین وقبیح انداز میں استعمال کے فیصلے اورروایت کی پابندی یا جدت کے ذکر تک محدودہے۔ چناں چہ آپ دیکھیے کہ نعت پر لکھے گئے بیشتر مضامین میں دو چار باتوں کی تکرار ملتی ہے۔ لفظ کا استعمال بر محل ہے، غنائیت ہے جو شاعری کی جان ہے،عمدہ قوافی اور جدت آفریں ردیفیں ہیں، تشبیہ عمدہ ،استعارہ تازہ ہے۔ شاعر نے عقیدت وعشق کے اظہار میں روایت کی صحت کا اہتمام کیا ہے؛ عشق نبی ﷺ کے اظہار میں حد احتیاط کا لحاظ رکھا ہے۔ یہ سب بجاہے اور ہمیں ان کے صائب ہونے سے کوئی اختلاف نہیں ،لیکن ہماری عرض یہ ہے کہ کیا ایک صنف ِ شعر کے طور پر نعت میں بس یہی کچھ ہے اور نعتیہ تنقید کا سارا اثاثہ یہیں تک محدود رہنا چاہیے ؟ اب اس پر تو کوئی جھگڑا نہیں کہ نعت اردو شاعری کی باقاعدہ صنف ہے۔ کیا شاعری کے مطالعے کے لیے اسی نوع کے دو چار سٹیریوٹائپ،اس سے انصاف کرتے ہیں؟ ہم اس سے انکار نہیں کرسکتے کہ نعتیہ شاعری میں استعمال ہونے والی “شاعرانہ زبان” کسی بھی دوسری صنف ادب کی زبان کی مانند،معنی کی دنیا کو بند نہیں کرتی ، معنی کی جہات کو کشادہ کرنے کا اہتمام کرتی ہے۔ گویا شاعرانہ زبان،اور وظائف کے علاوہ یہ وظیفہ بھی انجام دیتی ہے کہ وہ لفظ کی معنوی دنیا میں توسیع کرتی ہے ؛ روزمرہ زبان میں لفظ مردہ ہونے لگتے ہیں یعنی کلیشے بن کر ہمارے ابلاغ کو میکانکی بنانے لگتے ہیں۔ شاعری ، ہر طرح کی میکانکیت اور مردنی کے خلاف احتجاج ہی نہیں،حیاتِ نو کی سب سے بڑی نوید بھی ہے۔ لہٰذا شعری زبان ، اصولی طور پر معنی سے لبریز ہوتی ہے۔شاعرانہ زبان کے معنی سے لبریز ہونے کا مطلب یہ بھی ہے کہ وہ جتنا کہتی ہے ، اس سے زیادہ خاموش رہتی ہے ۔ شعری زبان کی خاموشی میں تعبیر کیے جانے کا نہ صرف تقاضا ہوتا ہےبلکہ تعبیر کے بیش از بیش امکانات بھی ہوتے ہیں۔ کوئی ادبی متن ، اس دنیا سے بیگانہ نہیں ہوتا جس میں وہ لکھا جاتا ہے یا جس میں پڑھا جاتاہے۔ لہٰذا نعتیہ متن بھی کوئی الگ تھلگ کیا گیا (Isolated) متن نہیں ہے۔وہ اس دنیا سے ، جس میں لکھا اور پڑھا جارہا ہے، اس سے وابستہ ہے۔نعت کے نقاد کا کام اس وابستگی کو خالص تنقید ی انداز میں سمجھنا ہےاور اس کی زبان کا مطالعہ کرتے ہوئے ، ان سب معنوی جہات کو سامنے لانا ہے ، جوبالقوہ موجود ہیں۔ واضح رہے کہ یہ معنوی جہات ہی ، نعت کو اس دنیا میں جس میں وہ لکھی اور پڑھی جارہی ہے، اس میں ،اس کے مقام پر “بٹھاتی “(locate) ہیں۔
یہاں ہم ایک بنیادی بات دہرانا چاہتے ہیں۔ یہ کہ ہر متن ،خواہ وہ مقد س ہو یا دنیوی ، اپنی اصلی حالت پر قائم رہتا ہے ،لیکن ہر متن کی تفہیم و تعبیر مسلسل بدلتی رہتی ہے۔ مقدس متن کی تفسیر و تعبیر بھی اپنی اصل میں انسانی فہم کی سرگرمی ہے ۔ انسانی فہم کی بنیادی خصوصیت یہ ہے کہ وہ جامد نہیں ہوتا؛وہ فہم کی دوسری صورتوں سے اثر پذیر اور اثرا نداز ہوتا ہے۔ جس طرح فطری ماحول میں ایک تتلی کی آمد بھی ماحول میں تبدیلی کا باعث ہوتی ہے اور ماحول خود کو اس سے ہم آہنگ اور تتلی اس ماحول سے خود کو ہم اہنگ کرتی ہے ، اسی طرح کوئی بھی نیا فہم ، انسان کو موضوع بنانےو الے تمام علوم ،فنون اور سرگرمیوں پر اثرانداز ہوتا اور ان سے اثرپذیر ہوتا ہے۔ مثلاً فلسفے، نفسیات ، لسانیات، سماجیات ،بشریات میں انفس و آفاق سے متعلق جو نیا فہم پیدا ہوتا ہے، وہ ہمارے فہم پر اثرانداز ہوتا ہے اور ان سے اثر قبول کرتا ہے۔ اس لیے ایک ہی متن ، اپنی اصلی حالت پر سدا قائم رہنے والے متن، کی تعبیروں میں اختلاف ہونے کی باقاعدہ وجوہ موجود ہیں۔ ایک طبقہ کسی بھی متن سے متعلق اپنے فہم کو ایک ہی حالت میں قائم رکھنے پر اصرار کرتا ہے ۔ اس کے پاس دو راستے ہوتے ہیں۔ یا تو نئے فہم سے یکسر بیگانگی اختیار کر لے یا پھر مطالعے کے بعد اسے ردّ کردے؛ جیسے کوئی فطری ماحول میں تتلی کو بھگا دے یااس کا خاتمہ کردے یا اسے جگہ دے دے ۔کم از کم انسانی متون کے بارے میں ہم کہہ سکتے ہیں کہ نیا فہم ان کے معانی کی نئی تعبیرات میں مدد کرتا ہے اور یہ تعبیرات ان سوالوں کے جواب کی کوشش بھی ہوتی ہیں جو سماج بعض تاریخی تبدیلیوں کے سبب ،پرانے متون کے بارے میں قائم کرتا ہے۔ اگر کوئی متن اس زمانے سے ،جس میں وہ پڑھا جارہا ہے، ہم کلام نہیں ہوتا تو فراموشی کی دھند میں گم ہونا شروع ہوجاتا ہے۔ اس لیے ہم یہ رائے قائم کرسکتے ہیں کہ متون کو نئے فہم کی روشنی میں پڑھے جانے کا سلسلہ جاری رہنا چاہیے۔ اسی نوع کی کوشش ا س کتاب کے کچھ مضامین میں ملتی ہے۔ آپ ان مضامین کو پڑھیے، آپ کو اندازہ ہوگا کہ یہ مضامین نعتیہ متن کی زیریں ساخت کو کچھ اس انداز سے سامنے لائے ہیں کہ نعت سے متعلق ہمارا فہم وسیع ہوگیا ہے اور نعت ہمارے تاریخی ،سماجی اور ثقافتی شعور میں نئی جگہیں بنانے میں کامیاب ہوگئی ہے۔
نعت کی تنقید کی نئی سمت کی طرف کچھ اشارے شمس الرحمٰن فاروقی نے کیے ہیں، کاشف عرفان اور زاہد ہمایوں نے بھی نئے زاویوں سے لکھا ہے۔تاہم قدرے تفصیل سے صاحبزادہ احمد ندیم نے لکھا ہے ۔ ندیم صاحب نے نعت کو بین المتونیت کی روشنی میں سمجھا ہے۔ بین المتونیت میں خود متن کا مفہوم منقلب ہوگیا ہے۔ متن سے مراد معنی خیزی کانظام ہے۔بین المتونیت یہ دیکھتی ہے کہ نئے متن کی تعمیر میں معنی خیزی کے کون کون سے نظام شریک ہوئے ہیں۔ اس طور نعت کی تنقید محض تحسین وتشریح سے کہیں آگے جاکر یہ دیکھنے میں کامیاب ہوتی ہے کہ نعت صرف ایک شخص یا ایک گروہ تک محدود نہیں، نہ محض ان کے چند عقیدتی مطالبات(جو بلاشبہ خصوصی اہمیت رکھتے ہیں ) کی تکمیل کرتی ہے ، بلکہ اس کے باقاعدہ سماجی اور ثقافتی سروکار ہیں۔ اردونعت ابتدا میں رسمی ہواکرتی تھی لیکن انیسویں صدی کے اواخر میں اسے اردو شعرا نے باقاعدہ صنف ادب کے طور پر اختیار کیا ۔ نعت کے تاریخی ارتقا کا ایک اہم پڑائو نو آبادیاتی ثقافتی استحصال کے خلاف ردّعمل سے عبارت ہے۔ نعت نے یہ ردّ عمل ، مسلم شناخت کی اصل و سرچشمے تک رسائی کی صورت میں ظاہر کیا۔ کیسے نعت ، نو آبادیاتی تشکیلات کو ردّ کرتی ہے ، یہ مطالعہ کیا جانا باقی ہے۔اردو نعت کی ڈیرھ سو سالہ روایت ،جو صبیح رحمانی تک پہنچتی ہے، وہ ایک طرف عشق وعقیدت کے تہ در تہ جذبے کا غیر معمولی اظہار کرتی ہے اور بلاشبہ ،عشق کی ایک نئی جمالیات خلق کرتی ہے (اس پر بھی تفصیل سے لکھے جانے کی ضرورت ہے ) جو کلاسیکی زمانے کے عشقِ مجازی وعشقِ حقیقی میں سے کسی میں شامل نہیں، ان سے الگ اور مختلف ہے ؛یعنی نعت نے اردو میں کم از کم عشق کا ایک نیا متن خلق کیا ہے ؛اور دوسری طرف اردو دنیا میں مسلم شناخت کے سوال سے مسلسل متعلق رہی ہے ۔ آزادی کے بعد مسلم شناخت کامسئلہ ، ہندوستان اور پاکستان میں یکساں نہیں رہا ۔ اس کا اثر دونوں خطوں میں لکھی گئی نعت پر بھی پڑا ہے۔ کس طرح جنوبی ایشیا کے مسلمانوں نے ،اپنی شناخت کےسلسلے میں حجاز و عجم اور ہندوستانی وپاکستانی مقامی ثقافتی عناصر سے معاملہ کیا ہے، اسے نعت کی زبان ، علامتوں میں دیکھا جاسکتا ہے ۔ یہ سب عرض کرنے کا مقصد فقط یہ ہے کہ اعلیٰ اور عالمانہ تنقید کے بغیر نعت سمیت کسی بھی صنف ادب کے معنوی وجمالیاتی امکانات پردہ غیب میں رہتے ہیں۔ ابھی نعت کی معنوی و جمالیاتی کائنات میں بہت کچھ پردہ اخفا میں ہے۔ چند ایک اہم باتیں اس مجموعے میں سامنے آئی ہیں۔ توقع رکھنی چاہیے کہ صبیح رحمانی صاحب کی نعتیہ تنقید کو نعتیہ متن کے موافق لانے کی کوششیں ضرور کامیاب ہوں گی۔

اپنا تبصرہ لکھیں