انسان کو نہیں معلوم اس کے نصیب میں کیا لکھا ہے جیسے مجھے معلوم نہیں تھا کہ ٹرین پہ سہون شریف جاتے جاتے میں پوٹھوہار کو آ نکلوں گا اور ایک بار پھر اپنے جگری دوستوں کے ساتھ وہ سفر کروں گا جس کا ارادہ دو سال سے کیئے بیٹھا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔اٹک سفاری ٹرین کا سفر۔
سفر کے تمام منصوبے کو فائنل کرنے کے بعد جب میں اسلام آباد پہنچا تو تنویر بھائی ہم سب کی ٹکٹس کروا چکے تھے۔ تنویر ملک کا گوجرانوالہ سے پنڈی آ جانا میرے لیئے بہت شُبھ ٹھہرا کہ یہاں ہمیشہ ایک کمپنی دینے والا دوست ہمہ وقت میسر رہتا ہے۔
اگرچہ حساب اور فزکس سے میری کبھی نہیں بنی لیکن یہ مضمون پڑھانے والا تنویر ملک میرا اچھا دوست ہے۔ تنویر بھائی کا تعلق یوں تو گوجرانوالہ سے ہے لیکن وہ معاش کے سلسلے میں راولپنڈی چلے آئے۔ دراز قد اور کالے چِٹے بالوں کے ساتھ ایک سنجیدہ مزاج شخص ہیں لیکن دوستوں میں خوب مزاق کرتے ہیں۔ ان کے مشاغل میں فوٹوگرافی سرفہرست ہے اور جناب کمال کے فوٹوگرافر ہیں۔
اس سفر کا بہترین اضافہ عمران احسان صاحب تھے جنہوں نے آخری لمحات میں اپنا قیمتی وقت دے کر مانو ہم پر احسان ہی تو کیا تھا۔ گوجرانوالہ کی ہی سرزمین سے تعلق رکھنے والے عمران بھائی بھی اب تک ہمارے پرانے دوستوں میں شامل ہو چکے ہیں جو پہلے انگریزی کے استاد تھے اور اب کامیابی سے اپنا کاروبار چلا رہے ہیں۔ پڑھنا، لکھنا، پکانا اور فوٹوگرافی کرنا پسند کرتے ہیں اور ان میدانوں کے شہسوار ہیں۔ سفر، موسیقی، خوشبو اور ذائقے سے محبت کرتے ہیں سو ہمیں بھی عزیز ہیں۔
عزیز سے ہی یاد آیا کہ ہمارے تیسرے ساتھی عزیز الدین عماد تھے جن کا تعلق خانیوال شہر سے ہے۔ آپ ملتان سے ہی ہمارے ہمسفر رہے اور ہم نے مل کر اٹک، جنڈ و پنڈی کی خاک چھانی۔ عزیز بھائی ریل کے رسیا ہیں اور دھواں اڑاتے انجنوں کو پسند کرتے ہیں۔
یوں ناچیز اپنے تین عدد دوستوں کے ساتھ صبح سوا آٹھ بجے راولپنڈی اسٹیشن پر موجود تھا جہاں سفاری ٹرین کے تمام مسافروں کا استقبال ڈھول کی تھاپ پر رقص سے کیا جا رہا تھا۔
سفاری ٹرین کا افتتاح اوائل 2024 میں ہوا تھا جو پنڈی سے اٹک خورد تک چلائی گئی ہے۔
یہ صبح ساڑھے آٹھ راولپنڈی اسٹیشن سے نکلتی ہے اور لگ بھگ 08:50 پہ گولڑہ شریف جنکشن پہنچتی ہے۔ یہاں مسافروں کو عجائب گھر کا دورہ کروانے کے بعد ٹرین حسن ابدال کو روانہ ہوتی ہے جہاں چند منٹ رکنے کے بعد اٹک شہر اور پھر گیارہ بجے اٹک خورد پہنچتی ہے جہاں دوپہر کے کھانے اور مختلف تفریحی سرگرمیوں کے بعد پونے دو واپسی کے لیئے روانہ ہوتی ہے اور چار بجے پنڈی پہنچا دیتی ہے۔
میرا مشورہ ہے کہ اس ٹرین کو اٹک پار خیر آباد کنڈ یا جہانگیرہ تک چلانا چاہیئے تاکہ مسافر اٹک پل اور آگے موجود سرنگوںسے گزرنے کا تجربہ بھی کر سکیں۔۔۔۔۔
اب میں آپ کو تفصیلاً اس سفر کے بارے بتاتا ہوں۔
سفاری ٹرین میں دو سے تین ڈبے سفاری کوچز، دو ڈبے اے سی پارلر اور ایک سیلون کا ہوتا ہے۔ ہماری ٹرین میں شاید سیلون کا ڈبہ غائب تھا۔
عام سفاری کوچ کا کرایہ 4500 روپے فی کس ہے جبکہ اے سی پارلر کا 5000 اور سیلون کا 6000 فی کس ہے۔ ان میں صرف بیٹھنے کی جگہ یعنی ڈبوں کا فرق ہے بقیہ سہولیات ایک سی ہیں۔ ٹکٹ کی بکنگ بک کرو ایپلیکیشن یا سفاری ٹرین کے فیس بک پیج پر موجود نمبر پہ کچھ دن پہلے کروائی جا سکتی ہے۔ یاد رہے یہ ٹرین صرف اتوار کو ہی چلتی ہے۔
ہماری بکنگ اے سی پارلر کی تھی جہاں چار متوازی سیٹوں پہ ہم جا بیٹھے۔ ڈبہ صاف ستھرا تھا لیکن چارجنگ سپاٹ غائب تھا جو ایک ضروری چیز ہے۔ ڈبے کے ایک طرف آمنے سامنے مروجہ دونوں اقسام کے ٹوائلٹ تھے۔ پنڈی سے ٹرین چلی اور ہماری باتیں شروع ہوئی ہی تھیں کہ گولڑہ آ گیا۔
گولڑہ شریف جنکشن ؛
گولڑہ اسلام آباد کے نواح میں مارگلہ کی پہاڑيوں کے قريب واقع ايک خوبصورت گاؤں ہے ۔ اس گاؤں کی وجہ شہرت یہاں موجود پير مہر علی شاہ كا مزار ہے جس کی بدولت شہر کو گولڑہ شریف کہا جاتا ہے۔
سال 1881 میں بنا گولڑہ کا ریلوے اسٹیشن نہایت خوبصورت ہے جس کی عمارت پتھر سے بنی ہے۔ یہ ہری پور، حویلیاں، پشاور، اور بسال کے لیئے ایک جنکشن ہے۔ اس کی اہم بات یہاں واقع پاکستان ریلوے کا واحد میوزیم ہے جہاں ریلوے کی تاریخ سے متعلق بہت کچھ نمائش کے لیئے رکھا گیا ہے۔ ان میں ریل کے ماڈلز، تاریخی دستاویز، برتن، ریل میں استعمال ہونے والا سامان، انجن، تصاویر،عملے کی وردیاں، اسٹیشن کے ماڈل اور ٹرین کی مرمت سے متعلق آلات شامل ہیں۔
یہاں پہنچ کر ہمیں ریلوے کا عجائب گھر دکھایا گیا۔ اس کی ایک گیلری اسٹیشن پر ہے اور دوسری بالکل سامنے۔ جبکہ کچھ ڈبے بطور اوپن میوایم کے پٹری پہ کھڑے ہیں اور دیکھے جا سکتے ہیں۔
یہ عجائب گھر بھی اپنے آپ میں ایک
اس کے ساتھ ہی یہاں گھڑ ڈانس اور ڈھول کی تھاپ پر روایتی رقص بھی پیش کیا گیا۔
لگ بھگ پچیس منٹ سٹاپ کے بعد ٹرین یہاں سے روانہ ہوئی اور تمام مسافروں کو ناشتہ سرو کیا گیا۔
ایک ٹرے میں دو بریڈ سلائیس، آؐلیٹ، مکھن، جام، اور چائے کے لیئے گرم پانی، ٹی بیگ، خشک دودھ اور چینی۔ ناشتہ تو ٹھیک تھا لیکن چلتی ٹرین میں چائے بنانے میں اکثر مسافروں کو دشواری ہوئی۔ بہتر تھا کہ ناشتہ گولڑہ اسٹیشن پہ دیتے یا پھر ٹرین کے ڈبوں میں سیٹوں کے ساتھ یہ سامان رکھنے کے لیئے میز بنائی جاتی۔


