ملک پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں ایک حیرت انگیز واردات ہوئی۔ ہوا یوں کہ استعمار کے ایک جسٹی فائر کے ہاتھوں استعمار کے نمایاں ترین حریف ایڈورڈ سعید کو اغوا کر لیا گیا۔ بات یہیں تک نہیں رکی بلکہ اغوا کار نے ایڈورڈ سعید کے نام سے اپنی مرضی کا بیان دلوا کر اس بیان کی ایک من مانی تفسیر بھی لف کر کے مشتہر کر دی۔ ساتھ ہی انتونیو گرامشی اور فرانز فینن کے اغوا کی بھی کوشش کی گئی۔
دن دہاڑے ایسی واردات ہو جائے تو احتجاج تو بنتا ہے۔ استعمار کے عاشقان ایڈورڈ سعید جیسے استعمار دشمن کو اپنے پالے میں لے جائیں، اسے اپنا آڑی قرار دینے لگیں تو احتجاج تو بنتا ہے۔
اغوا کے بعد ایڈورڈ سعید کا یہ بیان نقل کیا گیا کہ ’’مظلوم قوموں کے دانش وروں کو اپنی قیادت پر بھی اتنی ہی تنقید کرنی چاہیے جتنی بیرونی قوت پر‘‘۔
ایڈورڈ سعید کے نئے مداح نے مخالفین کو شرم دلانے کے لیے کچھ مثالیں بھی دی ہیں۔ جن میں ایرانی ریاست کے مظالم کے ساتھ ساتھ، جو اس کا فیورٹ موضوع ہے، بلوچستان، سندھ اور آزاد کشمیر پر بھی بات کی ہے اور کہا ہے کہ ’’خود باہر بیٹھ کر ہمیں استعمار سکھانے والے اس پر کبھی قلم نہیں اٹھاتے کیونکہ واپس بھی آنا ہے۔‘‘
اس سے آپ کو لگے گا تو یہ کہ پاکستان میں ایڈورڈ سعید کے اس نئے متوالے نے ہی مظلوم قوموں کی حمایت کا بار اٹھایا ہوا ہے۔ جب کہ حقیقت اس کے بالکل الٹ ہے۔
جو لوگ پاکستان میں لنڈے کے لبرل کہلاتے ہیں، انھوں نے پاکستان کی کم زور اکائیوں کی بات ہی کب کی ہے؟
وہ تو سارا دن امریکا اور مغرب کی مالا جپنے میں مصروف رہتے ہیں۔
ان کا امام الملحدین واللبرلین تو ہر محرم کے مہینے میں ایک اقلیتی فرقے کے خلاف جہاد کر رہا ہوتا ہے۔
جس نے پچھلے دنوں فلستینیوں کے قتلام پر یہ سوال اٹھایا کہ “یہ کیسی نسل کشی ہے جس میں نسل کشی کی شکار قوم کی نسلی آبادی مسلسل بڑھتی جا رہی ہے؟”
ان کا نائبِ امام وسیم الطاف تو خواتین کے خلاف مسوجنسٹ فقرے کس رہا ہوتا ہے۔
ایڈورڈ سعید کا جو بیان آپ نے نقل کیا اس پر بھی آپ خود عامل نہیں۔ پھر آپ کا روئے سخن کس کی طرف تھا؟
بلوچستان میں مظالم کی بات تو عمار علی جان کرتا ہے جو لیفٹ کی پارٹی کا عہدے دار ہے۔ عامر حسینی کرتا ہے جو لیفٹ سے منسلک ہے۔ دیسی پاور اسٹرکچر کی بات تو اختر علی سید کرتے ہیں۔ اور بہت سے لوگ کرتے ہیں، بہت سے شاعر کرتے ہیں جو لیفٹ کے نہیں لیکن دنیا کے ہر مظلوم کے ساتھ ہیں۔ جنھوں نے بلوچستان کے شہیدوں پر نظمیں بھی لکھی ہوئی ہیں۔
ایڈورڈ سعید کا تو سب سے زیادہ کام ہی فلسطین کی مظلومیت پر ہے، وہ فلسطینی جن سے آپ کو خدا واسطے کا بیر ہے۔ آپ ایڈورڈ سعید کا نام لینے جوگے ہیں؟
گرامشی کا اہم ترین کام تو سبالٹرن یعنی معاشرے کے حاشیے پر موجود طبقات کی حمایت پر ہے۔ کیا آپ کبھی ملک میں اس طبقے کے ساتھ کھڑے ہوئے؟
فرانز فینن تو فرانسیسی استعمار کے خلاف سب سے نمایاں آواز تھا۔ آپ تو اس کے سامنے آئے ہوتے تو فرانز فینن سے یہ سوال کر رہے ہوتے کہ فرانس نے تو اپنے عوام کو یہ یہ سہولیات دی ہوئی ہیں۔ الجزائر کے رہ نماوں نے اپنے عوام کو کیا دیا ہے؟
مسئلہ فلسطین ایڈورڈ سعید کے نزدیک دنیا کا سب سے بڑا مسئلہ تھا اس پر اس نے امریکی اور صیہونی استعمار کے خلاف اتنی بات کی ہے کہ ہم سب مل کر بھی نہیں کر سکتے۔ وہ تو اوسلو معاہدے کا بھی مخالف تھا۔ آپ اسے اپنے پالے میں لے گئے اور اپنا آڑی بنا لیا؟
آپ جو لنڈے کے لبرل کی اصطلاح پر گھبرا جاتے ہیں، آپ کو ایک بات اور بتاتا چلوں۔ ایڈورڈ سعید تو “صیہونی لبرل” کی اصطلاح بھی استعمال کرتا تھا۔ کیا اس کا روئے سخن آپ ہی کی طرف تو نہیں تھا؟ کہیں اس کے اغوا کا سبب یہی تو نہیں؟
بشکریہ فیسبک وال


