دسّے صورت راہ بے صورت داحضرت پیر مہر علی شاہ پر شاہؒ کی یہ مہر ہوئی کہ انہیں مشاہدہ حاصل ہو گیا اور یوں اُن کی یہ نعت شعر مبنی بر مشاہدہ ٹھہری۔ مبنی بر مشاہدہ کلام میں کمال یہ ہوتا ہے کہ تاریخ میں ہمیشہ کے لیے ٹھہر جاتا ہے۔
اس نعت کا یہ مصرع ”دسے صورت راہ بے صورت دا“ ایک بہت بڑی فکری حقیقت کی طرف راہنمائی کرتا ہے۔ اگر ہم ایک لمحے کے لیے صورت سے اعراض کریں تو بے صورت پر اعتراض کرنے کی بہت سی راہیں کھل جاتی ہیں۔ نظریہ بے صورت ہوتا ہے، خواہ نظریہِ توحید ہی کیوں نہ ہو۔ تصورِ توحید کو اگر صورتِ رسالت سے جدا کردیں تو خدا نہیں ملتا۔ نظریہ ایک مجرد حقیقت ہے اور شخصیت ایک مجسم اور مکمل حقیقت۔ شخصیت اپنے پیش کردہ نظریے کی عملی محافظ بھی ہوتی ہے اور شارح بھی۔ شارع کو اگر شارح ماننے سے اعراض کریں تو یہاں ہر شخص اپنی افتادِ طبع کے مطابق دین اور قرآن کی تشریح کرتا رہے گا …. اور ان تشریحات میں اتنا فرق پیدا ہو جائے گا کہ قسم قسم کے فرقے پیدا ہو جائیں گے۔ فرقہ فرق سے ہوتا ہے۔
”فاتبعونی“ …. اطاعت سے بھی فائق تر صیغہ ہے۔ اطاعت حکم کی ہوتی ہے، اتباع کردار کا ہوتا ہے۔ کردار اَز خود نہیں سنورتا …. اسے سنوارنا ہوتا ہے اور یہ سنورنے کے لیے کسی مشاطگی کے عمل کا محتاج ہوتا ہے۔ اتباعِ کردار ہی کردار کو سنوار سکتا ہے۔ کتاب تزکیہ نہیں کرتی …. تزکیہ صاحبِ کتاب کرتا ہے۔ کوئی طاہر و اطہر ہستی ہی ہمارے افکار و کردار کو مطہر کر سکتی ہے۔ اسی سے سیرت خوانی اور سیرت نگاری کی اہمیت کا بخوبی اندازہ ہو جاتا ہے۔ سیرت کے موضوع پر لکھنا تو ایک کارِ سعادت ہے ہی سہی، سیرت کے متعلق فقط سوچنا بھی ہماری سوچوں کو سوئے مدینہ و نجف لے جاتا ہے۔
اس سے اندازہ ہو جاتا ہے کہ وہ اُمّتی جو سیرت، نعت اور حدیث پر کام کرتے ہیں، وہ بارگاہِ اقدس میں کس درجہ پذیرائی پاتے ہیں۔ یہاں سیرت و حدیث کے ساتھ صنفِ نعت کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ گو نعت کی کلاسیکل تعریف میں شمائل ِ نبوی کا تذکرہ ہی شامل ہے لیکن فی زمانہ جو نعت لکھی جا رہی ہے ، اس میں سیرت بھی بیان ہو رہی ہے۔
سیرت اور محبت لازم و ملزوم ہیں۔ مدینہ میں مجھے ”جستجوئے مدینہ“ کے مصنف علامہ عبد الحمید قادری سے مصاحبت کا موقع ملا۔ میں نے ان سے پوچھا کہ سیرت کی کون سی کتاب پڑھنی چاہیے۔ کہنے لگے: جس کتابِ سیرت کے پڑھنے سے محبتِ رسول میں اضافہ ہو، اسے پڑھا کریں اور جس سے محبت کی کیفیت میں کمی کا احساس ہو، اس سے دُور رہیں۔ تب مجھ پر یہ راز کھلا کہ غیر مسلم کی لکھی ہوئی کتبِ سَیَر محبت کی کیفیت میں خلل انداز کیوں ہوتی ہیں۔
سیرت نگاری محض واقعات کی تالیف و تدوین نہیں۔ سیرت نگار کے لیے سیرت نگاری ایک تخلیقی نوعیت کا کام ہے، کیونکہ یہاں واقعات کی زمانی و مکانی ترتیب دہرانے سے کہیں زیادہ اہم چیز اور وابستگی اور کیفیت ہے۔ سیرت نگاری میں واقعات کے پسِ پشت منشائے الٰہی سے آگہی انتہائی اہم ہے۔ ایک غیر مسلم کسی واقعے کو محض زمینی سبب کا نتیجہ سمجھے گا اور اس پر ایک ذہنی قیاس آرائی کرے گا، جبکہ ایک کلمہ گو …. روحِ محمدی سے متمسک ذی روح …. سیرت میں بیان کردہ کسی واقعے کے پسِ پشت مشیتِ الٰہی اور وحیِ الٰہی کو ایک بنیادی وجہ تصور کرے گا۔ یوں وہ ایک تخیلاتی منظر پیش کرنے کی سعیِ لاحاصل سے بچ جائے گا۔ مثلاً ایک غیر مسلم مصنف ہجرتِ مدینہ کو محض کفار کی چیرہ دستی کا نتیجہ قرار دے گا، جب کہ نورِ ایمان سے متصف مصنف اِس ہجرت کو حکمِ خداوندی کی بجا آوری تصور کرے گا۔ کفار کے ظلم و ستم تیرہ برس سے جاری تھے۔ کیا وجہ ہے کہ ایک مخصوص موقع پر اور ایک مخصوص ساعت میں مسلمانوں کو مدینے کی جانب ہجرت کا حکم دے دیا جاتا ہے۔ ما ینطقُ عن الھویٰ ان ھُوَ الّا وحی یّوحیٰ …. جان لینا چاہیے کہ وہ ہستی جو صرف اور صرف اُلوہی حکم کی پابند ہے، اس کے گرد حالات و واقعات کی بُنت کی ذہنی تعبیر سیرت کے باب میں ایک ناجائز تصرف ہے۔ لکھنے والا اپنی زمینی تعبیر مسلط کرنے کی کوشش میں قاری کے ملکوتی تخیل کے پَر نوچ لیتا ہے۔
سیرت ایک عجب چیز ہے …. سیرت پڑھتے ہوئے تخیل بے اختیار اُس دَور میں عَود جاتا ہے، جس دَور میں ایک بے سایہ ہستی یوں محوِ خرام ہوتی ہے جیسے بلندی سے اتر رہی ہو۔ سیرت خوانی کارِ سعادت ہے اور سیرت نگاری کارِ ریاضت۔ ہم نے سنا ہے کہ مجاہدہ و ریاضت کا انعام مشاہدہ و زیارت کی صورت میں ملتا ہے۔ سیرت نثر میں بھی لکھی جائے تو بھی ایک کارِ عظیم ہے، کجا یہ کہ نظم کی صورت میں منضبط کرنے کی سعادت میسر آ جائے۔ ایک شاعر کو یہ سہولت میسر ہوتی ہے کہ شعر قابلِ گرفت نہیں رہتا۔ وہ منظر نگاری میں اپنے تخیل سے کام لے سکتا ہے لیکن نثرنگار اپنے ہر ایک جملے کے لیے جواب دہ ہے۔ اس لیے نثرنگار پر یہ ذمہ داری دہری عائد ہوتی ہے کہ وہ ذاتی تخیل کو کسی صورت سیرت نگاری میں شامل نہ کرے ، کیونکہ اس کے تخیل کو کوئی اور مصنف ایک واقعاتی سند کے طور پر استعمال کر لے گا۔
میزانِ قلم کاری میں سیرت نگاری سب پر بھاری ہے۔ یہ ذریعہ نجات بھی ہے اور تاحشر چلنے والا ایک صدقہِ جاریہ بھی۔ سیرت نگار دراصل دین کا تحفظ کرتا ہے۔ وہ اصلِ دین کی تبلیغ کر رہا ہے۔ قرآنِ کریم کے علاوہ آج بھی غیر مسلموں کو اسلام کی طرف متوجہ کرنے والی تحریری صورت، سیرتِ رسولِ کریم ہے۔ آج بھی وہ خود ہی اسلام کی طرف دعوت دے رہے ہیں۔ اُمّتی اِس کارِ تبلیغ میں محض معاون کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ مقتدی کو مقتدیٰ کی جگہ نہیں لینی چاہیے۔ مکبّر خود کو امام تصور نہ کرے۔ اِسلام قبول کرنے والوں کے انٹرویو جب پڑھتے اور سنتے ہیں تو وہ اپنے وارداتِ قلبی میں زیارتِ رسولِ کریم کا ذکر کرتے ہیں۔
سیرت نگاری دراصل زرنگاری ہے۔ وہ جو تذکرہِ محبوب خدا کرتا ہے، وہ خدا کو کتنا محبوب ہو گا۔ کلیہ یہ ہے کہ ذکرِ جمال انسان کو باجمال کرتا ہے۔ ہمارے ممدوح تو پہلے ہی سے یوسف ہیں۔ ذکرِ حسنِ احمد منظوم کرتے ہوئے یہ یوسف جمال شخص کس قدر حسیں ہو گیا ہو گا۔ حفیظ جالندھری کے ”شاہنامہ اسلام“ کے بعد ڈاکٹر یوسف شاہد کی یہ ”گیسوئے پُرنم“ بہت مترنم ہے۔ ڈاکٹر صاحب جس ورافتگی اور سرشاری میں ”گیسوئے پُرنم“ سناتے ہیں، سننے والوں کی آنکھیں اکثر پُرنم ہو جاتی ہے۔ ایسا رفیع المرتبہ کام ہر کسی کا نصیبہ نہیں ہوتا ہے۔ ”گیسوئے پُرنم“ پڑھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ سیرت نگاری اور نعت نگاری میں کچھ زیادہ فرق نہیں۔


