غلام ذہن/علی عباس کاظمی

برصغیر کی تاریخ صرف سلطنتوں، جنگوں اور تاجوں کی تاریخ نہیں بلکہ ذہنوں کی غلامی کی تاریخ بھی ہے۔ یہاں صدیوں تک بادشاہ صرف زمینوں کے مالک نہیں رہے بلکہ شعور کے بھی مالک بنے رہے۔ انہوں نے محلوں سے زیادہ انسان کے ذہن پر حکومت کی اور ذہن پر حکومت ہمیشہ تلوار سے نہیں ہوتی،جب بادشاہِ وقت نے خود کو “ظلِ الٰہی” کہا تو دراصل اس نے اپنے اقتدار کو آسمانی تقدس عطا کیا۔ اس نے یہ باور کروایا کہ اگر رعایا بھوکی ہے تو یہ اس کے نصیب کا لکھا ہے، اگر کسان کا بچہ ننگے پاؤں ہے تو یہ آسمانی آزمائش ہے، اگر مزدور کی بیٹی جہیز نہ ہونے پر بیٹھی رہ گئی ہے تو یہ تقدیر کا فیصلہ ہے یعنی جبر انسان سہتا رہا اور فیصلہ خدا کی مرضی کہہ کر ٹال دیا گیا۔یہ انسانی تاریخ کا سب سے خطرناک دھوکہ تھا، کیونکہ جب انسان اپنے دکھ کو ظلم کے بجائے تقدیر سمجھنے لگے تو وہ مزاحمت کرنا چھوڑ دیتا ہے اور جس دن مظلوم مزاحمت چھوڑ دے، اسی دن ظالم کا اقتدار امر ہو جاتا ہے۔ بادشاہوں نے صرف لشکر نہیں پالے بلکہ ذہنی غلامی کے ادارے بھی قائم کیے۔ درباری ملا، سرکاری فقیہ، خانقاہی نظام اور پیری مریدی کے سلسلے ۔۔۔یہ سب محض مذہبی ڈھانچے نہیں تھے بلکہ اقتدار کے نفسیاتی ستون تھے۔ انسان کو یہ سکھایا گیا کہ غربت پر شکر کرو، بھوک پر صبر کرو، سوال مت کرو، احتجاج مت کرو، کیونکہ دنیا چند روزہ ہے۔ گویا زندگی ایک ایسی قید بن گئی جس میں قیدی کو اپنی زنجیر سے محبت کرنا سکھا دی گئی۔

عجیب تضاد ہے کہ مذہب انسان کو عزت دیتا ہے مگر مذہب کے نام پر قائم بعض نظام انسان سے اس کی عزت چھین لیتے ہیں۔ قرآن انسان کو غوروفکر کی دعوت دیتا ہے مگر صدیوں تک یہی کہا جاتا رہا کہ سوال ایمان کو خراب کر دیتا ہے۔ حالانکہ سوال تو شعور کی پہلی سیڑھی ہے۔ جو معاشرہ سوال سے ڈر جائے وہاں سچ ہمیشہ قید رہتا ہے۔ یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ خانقاہوں اور درباروں نے صرف عقیدت نہیں پیدا کی بلکہ انسان کے اندر ایک نفسیاتی فرار بھی پیدا کیا۔ جب معاشرہ انصاف دینے میں ناکام ہو جائے تو لوگ کرامات تلاش کرنے لگتے ہیں۔ جب ریاست روٹی نہ دے سکے تو لوگ تعویذوں سے رزق ڈھونڈتے ہیں۔ جب قانون کمزور ہو جائے تو انسان مزاروں کے سائے میں پناہ لیتا ہے۔ گویا کمزور نظام ہمیشہ توہمات کو جنم دیتا ہے۔میرامقصد یہ نہیں کہ پوری مذہبی و روحانی روایت کو خطا سے تعبیر کیا جائے۔ اس دھرتی نے ایسے درویش بھی پیدا کیے جنہوں نے بادشاہوں کے سامنےکلمہء حق کہا، جنہوں نے انسان کو انسان سے محبت سکھائی، جنہوں نے مذہب کو اقتدار کے بجائے اخلاق کا نام دیا۔ مگر مسئلہ وہاں پیدا ہوا جہاں روحانیت تجارت بن گئی، جہاں عقیدت کاروبار بن گئی، جہاں مریدی نے انسان سے اس کی عقل چھین لی۔آج بھی اگر غور کیا جائے تو برصغیر کا عام انسان دو انتہاؤں کے درمیان پسا ہوا نظر آتا ہے۔ ایک طرف جدید دنیا کا شور ہے اور دوسری طرف صدیوں پرانے خوف۔ وہ موبائل فون پر دنیا دیکھتا ہے مگر سوچ اب بھی وراثت میں ملی ہوئی ہے۔ اس کے پاس معلومات بہت ہیں مگر شعور کم ہے۔ ہمارے معاشرے کا سب سے بڑا المیہ یہی ہے کہ ہم نے عقیدت کو عقل پر ترجیح دے دی۔ ہم شخصیات کے اسیر ہو گئے۔ ہم نے مذہب کو بھی وراثت بنا لیا۔ باپ جس مسلک میں تھا، بیٹا بھی اسی میں ہے، دادا جس عقیدے پر تھا، پوتا بھی اسی پر ہے۔ گویا ایمان تحقیق سے نہیں بلکہ خاندان سے منتقل ہو رہا ہے۔

حالانکہ قرآن بار بار انسان کو جھنجھوڑتا ہے: “کیا تم عقل نہیں رکھتے؟” مگر ہم نے عقل کو گستاخی سمجھ لیا۔ ہم نے سوال کرنے والوں کو باغی کہا، سوچنے والوں کو گمراہ کہا اور یوں معاشرہ ذہنی جمود کا شکار ہو گیا۔ انسانی نفسیات بھی عجیب ہے۔ اسے سچ سے زیادہ سکون پسند ہے۔ اگر ایک جھوٹ اسے وقتی اطمینان دے دے تو وہ اکثر سچ کی تلخی قبول نہیں کرتا۔ اسی لیے صدیوں تک عوام کو یہ سمجھانا آسان رہا کہ تمہاری غربت تمہارا مقدر ہے، کیونکہ مقدر کو قبول کرنا آسان ہے اور نظام سے لڑنا مشکل۔لیکن تاریخ کا اصول ہے کہ شعور ہمیشہ بند دروازوں پر دستک دیتا رہتا ہے۔ ہر دور میں کچھ لوگ اٹھتے ہیں جو سوال کرتے ہیں، جو روایت کے اندھیروں میں چراغ جلاتے ہیں۔ برصغیر میں بھی ایسے مصلح پیدا ہوئے جنہوں نے انسان کو دوبارہ قرآن کی طرف بلایا، جنہوں نے بتایا کہ خدا انسان کو غلام نہیں بلکہ باشعور دیکھنا چاہتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مذہب کا مقصد انسان کو بے حس بنانا نہیں بلکہ ظلم کے خلاف کھڑا کرنا ہے۔مگر مسئلہ یہ ہے کہ صدیوں کی غلامی صرف جسم پر اثر نہیں ڈالتی بلکہ ذہن پر بھی ڈالتی ہے۔ ایک غلام ذہن آزادی سے ڈرتا ہے۔ یہی سبب ہے کہ آج بھی بہت سے ذہن وراثتی عقائد کے حصار سے باہر آنے سے انکاری ہیں، کیونکہ انسان اکثر سچ اس لیے نہیں پکڑے رکھتا کہ وہ درست ہے بلکہ اس لیے کہ وہ اس کی پہچان بن چکا ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں شخصیت پرستی ختم نہیں ہوتی۔ کبھی پیر کے نام پر، کبھی سیاست دان کے نام پر، کبھی مذہبی رہنما کے نام پر۔ ہم ہر دور میں کسی نہ کسی “نجات دہندہ” کے منتظر رہتے ہیں، کیونکہ خود سوچنے کی ذمہ داری اٹھانا ہمیں مشکل لگتا ہے۔

وقت بدل گیا ہے مگر سوال آج بھی وہی ہےکہ کیا انسان اپنی تقدیر خود بدلنے کی کوشش کرے گا یا ہمیشہ اسے آسمان پر لکھا ہوا مان کر خاموش رہے گا؟ کیا بھوک واقعی صرف آزمائش ہے یا ایک ظالمانہ معاشی نظام کا نتیجہ؟ کیا ہر مظلوم کو صرف صبر کی تلقین کافی ہے یا انصاف بھی ضروری ہے؟ ہم نے عجیب معاشرہ بنا لیا ہے جہاں امیر کا صبر فلسفہ کہلاتا ہے اور غریب کا احتجاج گستاخی۔ جہاں محلوں میں رہنے والے فقر کی عظمت بیان کرتے ہیں اور بھوکا آدمی روٹی مانگے تو اسے دنیا پرست کہا جاتا ہے۔ یہ وہ تضاد ہے جس نے ہمارے اجتماعی شعور کو بیمار کر دیا ہے۔آج ضرورت اس بات کی ہے کہ مذہب کو اقتدار کے ہتھیار کے بجائے شعور کا ذریعہ بنایا جائے۔ انسان کو تقدیر کے نام پر بے حس نہ کیا جائے بلکہ عمل، تحقیق اور انصاف کا راستہ دکھایا جائے۔ کیونکہ خدا نے انسان کو عقل دی ہے اور عقل کا سب سے بڑا احترام یہی ہے کہ وہ سوال کرے، سمجھے اور حق تلاش کرے۔ ورنہ تاریخ خود کو دہراتی رہے گی۔ بادشاہ بدل جائیں گے، لباس بدل جائیں گے، خطبے بدل جائیں گے، مگر غلامی کی زنجیر وہی رہےگی۔۔۔ صرف اس کا رنگ بدل جائے گا اور شاید سب سے خوفناک لمحہ وہ ہوتا ہے جب ایک قوم ظلم سے نہیں بلکہ ظلم کو معمول سمجھنے سے مر جاتی ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں