قربانی کا اصل پیغام /علی عباس کاظمی

عیدالاضحیٰ کی صبح ہمیشہ ایک عجیب سا احساس ساتھ لے کر آتی ہے۔ بظاہر یہ دن روشنی، خوشی اور اجتماعیت کا دن ہوتا ہے، مگر اس روشنی کے نیچے ایک گہرا سوال دب جاتا ہے کہ کیا ہم واقعی اس عبادت کی روح کو سمجھ پائے ہیں یا ہم نے اسے محض ایک خوبصورت تہوار میں بدل دیا ہے؟ قربانی کا منظر ہر سال دہراتا ضرور ہے، مگر اس کے اندر چھپی معنویت وقت کے ساتھ دھندلی پڑتی جا رہی ہے۔ گوشت، خوشی، ملاقاتیں اور تصویریں تو سب موجود ہیں، مگر وہ اندرونی جھکاؤ، وہ نفس کی شکستگی اور وہ روحانی لرزہ کہیں کمزور سا محسوس ہونے لگا ہے۔قربانی دراصل ایک علامت ہے اس عہد کی جو انسان اپنے رب کے ساتھ کرتا ہے کہ وہ اپنی سب سے عزیز چیز بھی اس کی رضا کے آگے قربان کرنے کو تیار ہے۔ مگر آج کا انسان اس علامت کو اکثر صرف جانور کے ذبح تک محدود کر بیٹھا ہے۔کیا ہم نے کبھی اپنے اندر جھانک کر دیکھا کہ ہم نے اپنی انا، اپنی ضد، اپنی خود پسندی اور اپنی خواہشات میں سے کیا واقعی کچھ قربان کیا ہے؟ یا پھر ہم نے صرف ظاہری عمل کو کافی سمجھ لیا ہے اور باطن کو نظر انداز کر دیا ہے؟

آج کے معاشرے میں قربانی کا جذبہ اپنی اصل سمت سے ہٹتا محسوس ہوتا ہے۔ انسان اب بھی قربانی دیتا ہے، مگر اکثر یہ قربانی ذاتی مفادات، دنیاوی کامیابیوں اور سماجی دباؤ کے لیے ہوتی ہے۔ عجیب تضاد ہے کہ ایک طرف ہم بڑے فخر سے مہنگے جانور خریدتے ہیں اور دوسری طرف اپنے رویوں میں برداشت اور ایثار کی معمولی سی قربانی دینے سے بھی کتراتے ہیں۔ شاید یہی وہ مقام ہے جہاں عبادت اور دکھاوا ایک دوسرے میں مدغم ہونے لگتے ہیں۔عید کے دن بھائی چارے کا ایک خوبصورت منظر دیکھنے کو ملتا ہے۔ لوگ ایک دوسرے سے گلے ملتے ہیں، مسکراہٹیں بانٹی جاتی ہیں اور دلوں میں وقتی گرمجوشی پیدا ہوتی ہے۔ کیا یہ جذبہ صرف ایک دن کے لیے ہوتا ہے یا اس کی کوئی مستقل صورت بھی ہمارے معاشرتی رشتوں میں باقی رہتی ہے؟ اکثر یوں محسوس ہوتا ہے کہ ہم جذبات کو موقع کے مطابق استعمال کرتے ہیں، مگر انہیں زندگی کا مستقل حصہ نہیں بنا پاتے۔

قربانی کے گوشت کی تقسیم بھی ایک اہم اخلاقی اور سماجی پہلو رکھتی ہے۔ اس عبادت کا ایک مقصد یہ بھی ہے کہ معاشرے کے کمزور طبقات تک خوشی پہنچے۔ مگر عملی طور پر کئی جگہ یہ تقسیم رسمی سی ہو کر رہ گئی ہے۔ رشتہ دار، دوست اور قریبی حلقے پہلے آتے ہیں اور اصل مستحق کہیں پیچھے رہ جاتا ہے۔ یہ وہ لمحہ ہے جہاں قربانی ہمیں یاد دلاتی ہے کہ اصل عبادت صرف ذبح میں نہیں بلکہ انصاف اور احساس کی تقسیم میں ہے۔عید کے بعد کا منظر ایک اور حقیقت کو سامنے لاتا ہے۔ گلیاں، سڑکیں اور محلے اکثر اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ ہم نے عبادت کے بعد اپنی اجتماعی ذمہ داریوں کو کتنا سمجھا ہے۔ صفائی کا مسئلہ محض انتظامیہ کا نہیں بلکہ ہمارے رویوں کا آئینہ ہے۔ اگر ہم عبادت کے بعد زمین کو آلودہ چھوڑ جائیں تو شاید ہمیں اپنے اندر کی صفائی پر بھی نظر ثانی کرنی چاہیے۔ کیونکہ ظاہری صفائی اور باطنی نظم ایک دوسرے سے الگ نہیں ہوتے۔

آج کا انسان ایک عجیب کشمکش میں جی رہا ہے۔ ایک طرف مذہبی روایت ہے اور دوسری طرف معاشی دباؤ۔ مہنگائی نے قربانی کو کئی لوگوں کے لیے ایک مشکل امتحان بنا دیا ہے۔ بہت سے لوگ دل سے چاہتے ہیں مگر حالات کی تنگی انہیں محدود کر دیتی ہے۔ کیا قربانی صرف مالی حیثیت کا نام ہے یا نیت کی وسعت بھی اس میں شامل ہے؟ شاید اصل بات یہی ہے کہ اللہ کے ہاں اخلاص کی قدر زیادہ ہے، نہ کہ ظاہری شان و شوکت کی۔انسانی نفس ہمیشہ مرکز میں رہنا چاہتا ہے۔ قربانی کا اصل پیغام اسی مرکزیت کو توڑنا ہے۔ مگر ہم اکثر جانور کی قربانی کر کے سمجھ لیتے ہیں کہ ہم نے اپنی ذمہ داری پوری کر دی، حالانکہ اصل امتحان تو اس وقت شروع ہوتا ہے جب ہمیں اپنی انا، اپنی سخت دلی اور اپنی خود غرضی کو قربان کرنا ہوتا ہے۔ تقویٰ صرف عبادت کا نام نہیں بلکہ رویوں کی پاکیزگی کا نام ہے اور یہی وہ پہلو ہے جو اکثر نظر انداز ہو جاتا ہے۔

وقت کے ساتھ ساتھ معاشرتی اقدار بھی بدل رہی ہیں۔ روایتیں موجود ہیں مگر ان کی روح کمزور ہوتی جا رہی ہے۔ ہم تہوار مناتے ضرور ہیں مگر ان کے پیچھے چھپے سبق کو بھولتے جا رہے ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ جشن تو باقی ہیں مگر اثرات کمزور ہو گئے ہیں۔ تاریخ جیسے ہمیں بار بار یہ یاد دلاتی ہے کہ رسم اور روح میں فرق سمجھنا ہی اصل دانائی ہے۔اگر ان تمام پہلوؤں کو ایک ساتھ دیکھا جائے تو یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ عیدالاضحیٰ صرف ایک مذہبی تہوار نہیں بلکہ ایک گہرا فکری اور روحانی امتحان ہے۔ یہ ہمیں ہر سال یہ سوال کرنے پر مجبور کرتی ہے کہ ہم نے کیا چھوڑا اور کیا حاصل کیا۔ کیا ہم واقعی بہتر انسان بنے یا صرف ایک رسمی عمل دہرا کر مطمئن ہو گئے؟ اصل عید وہ نہیں جو صرف گوشت بانٹنے یا تصویریں بنانے میں گزر جائے، بلکہ اصل عید وہ ہے جو انسان کے اندر ایک تبدیلی پیدا کرے، جو دلوں کو جوڑ دے، جو انسان کو انسان کے قریب کر دے اور جو ہمیں یہ احساس دے کہ قربانی صرف جانور کی نہیں بلکہ۔۔۔ اپنی ذات کی بھی ہوتی ہے اور اگر یہ تبدیلی پیدا نہ ہو تو پھر شاید ہمیں خود سے یہ سوال ضرور کرنا چاہیے کہ ہم نے عید منائی… یا صرف ایک رسم پوری کی؟

اپنا تبصرہ لکھیں