لاہور کے مشہور ہسپتال کے اسسٹنٹ پروفیسر صاحب سے بات ہو رہی تھی ۔ کہنے لگے کہ یار وارڈ کا عید روسٹر بن رہا تھا کہ ایک جونئیر پی جی آر نے درخواست کی کہ اس کی نئی نئی شادی ہوئی ہے تو اسے شادی کے بعد پہلی عید اپنی فیملی کے ساتھ منانے کی اجازت دی جائے، ہمیشہ کی طرح ڈاکٹر صاحب کو انکار کیا گیا اور پروفیسر سے عزت افزائی بھی ہوئی۔
پوری دنیا میں تہوارں،پبلک ہولیڈیز اور اسپیشل سنڈے کی ڈیوٹی کرنے پر ڈاکٹرز سمیت تمام ہسپتال کے عملے کو اسپیشل الاؤنس ملتا ہے لیکن وطن عزیز میں گنگا الٹی بہتی ہے ۔ یہاں ڈاکٹرز کو کسی قسم کی کوئی پبلک ہولیڈے سمیت کسی بھی تہوار میں کسی قسم کی کو چھٹی نہیں ملتی ۔
دنیا بھر کے مقابلے میں پاکستان میں ڈاکٹرز کی تنخواہیں سب سے کم ہیں۔ Hectic ڈیوٹی روسڑز، Toxic ورکنگ environment ، وارڈز میں بے تحاشا رش میں ڈاکٹرز اپنی ڈیوٹیاں سر انجام دے رہے ہیں ۔ افسوناک ترین بات یہ ہے کہ پاکستان میں عیدین اور دیگر پبلک ہولیڈیز پر ڈیوٹی کرنے والے ڈاکٹر کو کسی قسم کا کوئی الاؤنس نہیں ملتا ۔
سوال یہ ہے کہ کیا پاکستانی قوم ایسا کیوں سوچتی ہے کہ ڈاکٹرز کی کوئی فیملی نہیں؟ کوئی ضروریات نہیں؟ کوئی پرسنل لائف نہیں؟؟ کیوں چھٹی والے دن بھی ان کو ریلیف دینے کے نام پر اس قوم کو سکتہ طاری ہو جاتا ہے؟؟
پاکستان میں بزنس مین طبقہ ہفتہ وار تعطیل جمعہ یا اتوار کو کرتا ہے،آپ ان سے دکان کھلوا کر دیکھین، لیکن ہسپتالوں میں ڈاکٹرز سے یہ لوگ اتوار والے دن بھی لڑ رہے تھے ۔ آپ ایک عام پلمبر سے چھٹی والے دن اپنے گھر کی ایک خراب ٹوٹی صحیح کر کے دکھا دیں،وہ بندا آپ کی ناک سے لکیریں نکلوا دے گا لیکن عوام اسے کچھ نہیں کہہ سکتی ۔
پاکستان کی نالائق ترین،احساس کمتری میں مبتال ،بے اے پاس بیوروکریسی کا سارا زور ڈاکٹرز پر چلتا ہے۔ جسکا بھی دل کرتا ہے،کیمرا مین کیساتھ پولیس کے جھتے کیساتھ انسپکشن کے نام پر ہسپتال پر دھاوا بول دیتا ہے اور اسی چھچھوری حرکتیں کرتا ہے کہ عقل دھنگ رہ جاتی ہے۔ یہ سب ایسا کیوں کرتے ہیں؟؟ کیونکہ انہیں پتا ہے کہ ڈاکٹرز ایزی ٹارگٹ ہیں۔ ایسے ہی ایک شوخا اے سی سول کورٹ پہنچا تھا،آگے وکیلوں نے خوب ٹھکائی کی تھی ،اب وہاں کوئی نہیں جاتا۔
پاکستان کے ہسپتال میں کام کرتا ہر ڈاکٹر زہنی دباؤ کا شکار ہو چکا ہے، تنخواہ اسکی سب سے کم،وہ خرچے کیسے پورا کرے؟ کچھ ہسپتالوں میں ہاسٹل تک کی سہولت میسر نہیں تو آدھی تنخواہ رینٹ میں چلی جاتی، مریضوں کا بے پناہ رش، ہسپتال میں نا کوئی سیکورٹی ،نا عزت اور نا ہی جان مال عزت محفوظ ۔ اب حالات یہ ہے کہ ایک عطائی / پہلوان ایک ایف سی پی ایس/ ایم ایس/ ایم ڈی کنسلٹنٹ سے زیادہ پیسے کما رہا ہے جو کہ ظلم کی انتہا ہے۔
اس احسان فراموش قوم کا جب بس چلے ڈاکٹروں پر چڑھ دوڑے ۔ لواحقین آئے دن ڈاکٹرز کیساتھ بدتمیزی کرتے ہیں اور اب تو بات بات پر ہاتھا پائی تک پہنچ جاتے ہیں ۔ اس قوم کے جبر سے تو اب ہماری فیمیل ڈاکٹرز کولیگز تک محفوظ نہیں ۔ بے شرم لوگ ہماری فیمیل کولیگز کو اتنی غلیظ گالیاں بکتے ہیں کہ سر شرم سے جھک جاتے ہیں۔ کتنی سرکاریں آئیں،ایک بھی سرکار ڈاکٹرز کی سیفٹی کے ایک سیکورٹی بل تک نا لا سکی۔
اس سب کے باوجود، ٹریننگ کے مسئلے الگ، سپروائزر کے طعنے الگ۔ اگر کوئی مسئلہ پروفیسر صاحبان تک چلا جاتا تو آگے سے وہی رٹا رٹایا جواب ” ہم نے بھی اپنی ٹرینگ ایسے کی تھی، تم لوگوں کو کونسا سرخاب کا پر لگا ہے ” اور چل سو چل۔
ظلم کی انتہا دیکھیں،پورا پاکستان ہر عید اپنے خاندان کسیاتھ مناتا ہے سوائے ڈاکٹرز کے،لیکن پھر بھی یہ قوم ڈاکٹرز کو قصائی کہتی ہے۔ اس سب میں قصور ہمارا اپنا بھی ہے۔ مثال کے طور پر، سرکار جب بھی جونئیر ڈاکٹرز کے خلاف کوئی ایکشن لیتی ہے تو سینیر ڈاکٹرز نے کھبی اپنے جونئیرز کی سائیڈ نہیں لی بلکہ سرکار کی حوصلہ افزائی کی کہ انکو مزید رگڑا لگایا جائے ۔
ہر سرکار کا ایزی ٹارگٹ ہسپتال اور ڈاکٹرز ہوتے ہیں ۔ اب تو ان کی کیمروں سے نگرانی کی جا رہی ہے، موبائلز پر پابندی عائد کر دی گئی ہے،سوال یہ ہے کہ سارے قاعدے،قانون ڈاکٹرز پر ہی کوئی لاگو ہوتے ہیں ، کیا باقی سارے محکمے ٹھیک ہو گئے ہیں یا دودھ کے دھلے ہوئے ہیں؟؟؟اس کا کسی کے پاس کوئی جواب نہیں ۔
ہماری عوام یہ بھی سمجھنے سے قاصر ہے کہ ہسپتال میں سہولیات فراہم کرنا سرکار کا کام ہے اور ڈاکٹر کا کام صرف علاج کرنا ہے ، عوام ناکافی سہولیات کا ملبہ بھی ہم ڈاکٹرز پر ڈالتی ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ سرکار،عوام اور ڈاکٹرز کے درمیان جو دوریاں پیدا ہو چکی ہیں انہیں کم کرنے کی عملی کوششیں کی جائیں۔
حکومت پاکستان اور تمام صوبائی حکومتوں بلخصوص حکومت پنجاب کو چاہیے کہ ڈاکٹرز کی تنخواہوں میں کم سے کم سو فیصد اضافہ کیا جائے ۔ پبلک ہولیڈیز پر ڈیوٹی کرنے والوں ڈاکٹرز کو اسپیشل الاؤنس دیا جائے ۔ ڈاکٹرز کے تحفظ کے لئے آرڈینس لایا جائے ۔ جن ہسپتالوں میں ہاسٹل نہیں،وہاں نئے ہاسٹل تعمیر کیے جائیں ۔ ڈاکٹرز کی بھرتیاں زیادہ کی جائیں۔ پی پی ایس سی کے زریعے نئے میڈیکل / وویمن مکڈیکل افیسرز بھرتی کیے جائیں۔ ٹریننگ کی سیٹیں زیادہ کی جائیں اور ڈاکٹرز کو وہ عزت و مقام دیا جائے جنکے وہ حق دار ہیں۔
تحریر : ڈاکٹر محمد شافع صابر
(مضمون نگار،سر گنگارام ہسپتال لاہور میں آرتھوپیڈک سرجری کی پوسٹ گریجویٹ ٹرینگ کر رہے ہیں اور ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے میڈیا و انفارمیشن سکریٹری بھی ہیں).


