28 مئی کی وہ دوپہر صرف بلوچستان کے پہاڑوں میں گونجنے والا ایک دھماکہ نہیں تھی، وہ دراصل ایک ایسی قوم کی چیخ تھی جسے برسوں تک خوف، دباؤ، دھونس اور عالمی طاقتوں کی سرد آنکھوں کے سامنے اپنے وجود کا جواز پیش کرنا پڑا تھا۔ چاغی کے پہاڑ اُس دن صرف لرزے نہیں تھے، اُنہوں نے تاریخ کے سینے پر ایک ایسا نشان ثبت کیا تھا جسے وقت کی گرد بھی دھندلا نہیں کر سکی۔ عجیب بات یہ ہے کہ قومیں کبھی کبھی جنگ جیت کر بھی ہار جاتی ہیںاور کبھی ایک اعلان اُنہیں نفسیاتی غلامی سے آزاد کر دیتا ہے۔ پاکستان کے لیے یومِ تکبیر شاید ایسا ہی ایک لمحہ تھا۔
28 مئی کی تپتی ہوئی دوپہر تھی، مگر قوم کے اندر ایک عجیب سی ٹھنڈک اُتر رہی تھی۔ ریڈیو، ٹیلی ویژن، بازار، چوک، گلیاں، دیہات، شہر، ہر طرف ایک ہی جملہ گونج رہا تھا کہ “پاکستان اب ایٹمی طاقت بن گیا ہے۔” یہ صرف ایک سائنسی کامیابی نہیں تھی، یہ ایک نفسیاتی انقلاب تھا۔ ایک ایسی قوم، جو بارہا جنگوں، پابندیوں، سیاسی سازشوں اور اندرونی انتشار کا شکار رہی۔۔۔ اُس نے پہلی مرتبہ دنیا کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہا تھا کہ “ہم موجود ہیںاور ہمیں نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔”
اس تاریخی لمحے کے پیچھے اگر کسی سیاسی شخصیت کا سب سے نمایاں تصور ابھرتا ہے تو وہ ذوالفقار علی بھٹو کا ہے۔ وہی بھٹو جس نے کہا تھا کہ “ہم گھاس کھا لیں گے مگر ایٹم بم بنائیں گے۔” سیاست دانوں کے جملے اکثر وقت کی دھول میں گم ہو جاتے ہیں مگر کچھ الفاظ تاریخ کی دیوار پر کندہ ہو جاتے ہیں۔ بھٹو کا یہ جملہ محض سیاسی نعرہ نہیں تھا بلکہ قومی نفسیات کی ترجمانی تھا۔ سقوطِ ڈھاکہ کے بعد قوم کو ایک ایسے خواب کی ضرورت تھی جو اُسے دوبارہ سر اُٹھا کر جینا سکھا سکے۔ بھٹو نے وہ خواب دیا۔ شاید اسی لیے قومیں اپنے بعض رہنماؤں سے اختلاف کے باوجود اُنہیں تاریخ سے خارج نہیں کر پاتیں۔اور پھر ایک نام ڈاکٹر عبدالقدیر خان کا۔۔۔ ایک خاموش مزاج سائنس دان، جس نے لیبارٹری کی تنہائیوں میں بیٹھ کر قوم کے لیے وہ حصار تعمیر کیا جس نے دشمن کے غرور کو لرزا دیا۔ عجیب المیہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں اداکاروں، کھلاڑیوں اور سیاست دانوں کے پوسٹر تو دیواروں پر لگتے ہیں مگر قوموں کے اصل محافظ اکثر خاموشی کے اندھیروں میں گم رہتے ہیں۔ ڈاکٹر قدیر خان صرف ایک سائنس دان نہیں تھے، وہ اُس قوم کی خوداعتمادی تھے جسے ہمیشہ یہ احساس دلایا گیا کہ تم ترقی یافتہ دنیا کے برابر نہیں چل سکتے۔ انہوں نے ثابت کیا کہ وسائل سے زیادہ اہم عزم ہوتا ہے۔
لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ایٹمی طاقت بن جانا ہی قوموں کی معراج ہے؟ کیا ایٹمی دھماکے بھوک کے خلاف ڈھال بن سکتے ہیں؟ کیا میزائل بے روزگاری، جہالت، بدعنوانی اور اخلاقی زوال کو روک سکتے ہیں؟ یہاں سے یومِ تکبیر کا اصل فلسفہ شروع ہوتا ہے۔ طاقت صرف ہتھیار کا نام نہیں، طاقت شعور کا نام بھی ہے۔ اگر قومیں صرف بارود سے عظیم ہوتیں تو دنیا کی سب سے بڑی سلطنتیں کبھی زوال کا شکار نہ ہوتیں۔ہم نے چاغی کے پہاڑوں کو تو مضبوط بنا لیا مگر اپنے اداروں کی بنیادیں کمزور چھوڑ دیں۔ ہمارے پاس ایٹمی صلاحیت تو آگئی مگر تعلیم آج بھی بہت سے بچوں کے لیے خواب ہے۔ ہمارے پاس میزائل ہیں مگر اسپتالوں میں دوائیاں نہیں۔ ہمارے پاس دفاعی قوت ہے مگر اخلاقی قوت مسلسل کمزور ہو رہی ہے۔ یہ تضاد صرف پاکستان کا نہیں پوری تیسری دنیا کا المیہ ہے جہاں قومیں بقا کی جنگ میں اتنی الجھ جاتی ہیں کہ تعمیر کا سفر ادھورا رہ جاتا ہے۔
آج اگر کسی بازار سے گزریں تو وہاں ایک عجیب نفسیاتی انتشار نظر آتا ہے۔ چہرے تھکے ہوئے ہیں، گفتگو میں تلخی ہے، تعلقات میں مفاد شامل ہو چکا ہے۔ لوگ ایک دوسرے سے نہیں، ایک دوسرے کے وسائل سے محبت کرتے ہیں۔ سوشل میڈیا نے انسان کو معلومات تو دی ہیں مگر سکون چھین لیا ہے۔ ہر شخص اپنی مصنوعی کامیابیوں کا اشتہار بنا ہوا ہے۔ ایسے میں کبھی کبھی سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہم واقعی ایک مضبوط قوم ہیں، یا صرف ایک خوفزدہ معاشرہ جو اپنی کمزوریوں پر طاقت کا پردہ ڈال رہا ہے؟
یومِ تکبیر ہمیں صرف یہ یاد نہیں دلاتا کہ ہم نے دھماکے کیے تھے بلکہ یہ بھی یاد دلاتا ہے کہ قومیں عزم سے بنتی ہیں۔ افسوس یہ ہے کہ ہمارے ہاں قومی دن اکثر محض رسمی تقاریب تک محدود ہو جاتے ہیں۔ تقریریں، ملی نغمے، ٹی وی پروگرام، سوشل میڈیا پوسٹس اور پھر اگلے دن وہی کرپشن، وہی ناانصافی، وہی بے حسی۔ جیسے قومیں بھی اب جذبات کو “ایونٹ” کی طرح منانے لگی ہیں۔تاریخ کا ایک عجیب اصول ہے کہ بیرونی خطرات قوموں کو متحد کر دیتے ہیں مگر اندرونی خرابیاں اُن کے وجود کو دیمک کی طرح کھاتی رہتی ہیں۔ روم، سلطنتِ عثمانیہ، سوویت یونین، سب بیرونی حملوں سے کم اور اندرونی زوال سے زیادہ تباہ ہوئے۔ قوموں کی اصل شکست سرحدوں پر نہیں۔۔۔ کردار میں ہوتی ہے۔ جب دیانت مذاق بن جائے، تعلیم کاروبار بن جائے، انصاف طاقتور کی لونڈی بن جائے اور سچ بولنے والا پاگل سمجھا جانے لگے تو پھر ایٹمی طاقت بھی صرف ایک علامت رہ جاتی ہے۔
کیا ہم نے یومِ تکبیر کے بعد اپنے نوجوانوں کو وہ خواب دیے جن کے لیے قومیں زندہ رہتی ہیں؟ ایک نوجوان جب ڈگری ہاتھ میں لے کر بے روزگار گھومتا ہے، جب ایک باصلاحیت طالب علم سفارش کے بغیر آگے نہیں بڑھ سکتا، جب ایک دیانتدار شخص معاشرے میں ناکام سمجھا جاتا ہے تو پھر قومی وقار کا مفہوم کمزور پڑنے لگتا ہے۔ قومیں صرف سرحدوں سے نہیں۔۔۔ امید سے زندہ رہتی ہیں۔چاغی کے پہاڑ آج بھی خاموش کھڑے ہیں۔ شاید وہ ہم سے سوال کرتے ہیں کہ “تم نے طاقت تو حاصل کر لی، مگر کیا تم نے خود کو بدل لیا؟” کیونکہ اصل دھماکہ زمین کے اندر نہیں، انسان کے شعور میں ہونا چاہیے۔ وہ شعور جو قوم کو خوف سے نکال کر خود احتسابی تک لے جائے۔ بدقسمتی یہ ہے کہ ہم نے دشمن کے خلاف اتحاد تو سیکھ لیا، مگر اپنے نفس کے خلاف جنگ نہ لڑ سکے۔
ہمارے ہاں ایک عجیب رویہ پیدا ہو چکا ہے۔ ہم ماضی کی کامیابیوں پر فخر تو بہت کرتے ہیں، مگر حال کی ذمہ داری قبول نہیں کرتے۔ ہم تاریخ کے ہیروز کے نام پر تالیاں بجاتے ہیں مگر اُن کے اصول اپنانے سے گھبراتے ہیں۔ بھٹو نے جرات دی، قدیر خان نے صلاحیت دی۔۔۔ مگر کیا ہم نے دیانت سیکھی؟ کیا ہم نے علم کو عزت دی؟ کیا ہم نے اجتماعی مفاد کو ذاتی مفاد پر ترجیح دی؟ اگر نہیں۔۔۔ تو پھر ہمیں یومِ تکبیر کو صرف جشن نہیں احتساب کے دن کے طور پر بھی دیکھنا ہوگا۔
طاقت ہمیشہ دو دھاری تلوار ہوتی ہے۔ اگر اُس کے ساتھ حکمت، انصاف اور فکری نشوونما نہ ہو تو وہ قوموں کو اندر سے جلا دیتی ہے۔ دنیا میں کئی ایسی طاقتیں گزری ہیں جن کے پاس بارود بہت تھا مگر بصیرت کم تھی اور وہ تاریخ کے ملبے میں دفن ہو گئیں۔ پاکستان کے لیے اصل چیلنج اب یہ نہیں کہ وہ اپنے دفاع کو کیسے مضبوط رکھے، بلکہ یہ ہے کہ وہ اپنے معاشرے کو کیسے مضبوط بنائے۔ایک بھوکا آدمی حب الوطنی کے نعرے زیادہ دیر نہیں سن سکتا۔ ایک محروم نوجوان قومی ترانوں سے زیادہ روزگار چاہتا ہے۔ ایک بیمار کے لیے میزائل سے زیادہ دوا اہم ہوتی ہے۔ اس حقیقت کو تسلیم کرنا کمزوری نہیں، بلکہ دانشمندی ہے۔ قومیں تبھی عظیم بنتی ہیں جب اُن کے دفاعی حصار کے ساتھ ساتھ انسانی وقار بھی محفوظ ہو۔
یومِ تکبیر کا اصل سبق شاید یہی ہے کہ خوف کے حصار سے نکل کر وقار کے سفر پر چلنا ضروری ہے مگر وقار صرف ایٹمی قوت سے نہیں آتا۔ وقار انصاف سے آتا ہے، علم سے آتا ہے، کردار سے آتا ہے اور اُس معاشرے سے آتا ہے جہاں انسان کو انسان سمجھا جائے۔28 مئی 1998ء کو پاکستان نے دنیا کو چونکا دیا تھا، مگر آج سوال یہ ہے کہ کیا ہم خود کو بھی چونکا سکتے ہیں؟ کیا ہم ایک ایسی قوم بن سکتے ہیں جو صرف ایٹمی طاقت نہیں بلکہ فکری، اخلاقی اور معاشی طاقت بھی ہو؟ کیا ہم اپنے بچوں کو صرف جنگ کی تاریخ سنائیں گے یا تعمیر کا فلسفہ بھی دیں گے؟وقت خاموشی سے گزر رہا ہے۔ چاغی کے پہاڑ اب بھی اپنی جگہ موجود ہیں، مگر قوموں کی قسمتیں صرف پہاڑوں سے نہیں بدلتیں۔۔۔ انسانوں سے بدلتی ہیں۔ اگر کردار کمزور ہو جائے تو ایٹمی قوت بھی خوف میں بدل جاتی ہے اور اگر قوم بیدار ہو جائے تو خالی ہاتھ لوگ بھی تاریخ لکھ دیتے ہیں۔شاید یومِ تکبیر کا سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ ہم نے دنیا کو اپنی طاقت دکھا دی، مگر کیا ہم نے خود کو اپنی ذمہ داری دکھائی؟


