عیدالاضحیٰ سے چند دن پہلے شہروں کی فضا عجیب ہو جاتی ہے۔ گلیوں میں بندھے جانور، سوشل میڈیا پر لگتی بولیاں، بچوں کی آنکھوں میں خوشی اور بڑوں کے چہروں پر ایک انجانی سی مسابقت۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے پورا معاشرہ اچانک عبادت سے زیادہ نمائش کے ایک میلے میں داخل ہو گیا ہو۔ کسی کے پاس لاکھوں روپے کا بیل ہے، کسی کے پاس ہزاروں روپے کا دنبہ اور کسی کے پاس اتنی بھی سکت نہیں کہ بچوں کے سوالوں سے نظریں چرا سکے۔لیکن اس سارے شور میں ایک آواز ہمیشہ دب جاتی ہے۔ وہ آواز اُس سفید پوش آدمی کی ہے جو ہر سال کی طرح اس سال بھی محلے کی گلی سے خاموشی سے گزرتا ہے تاکہ کسی کی نظر اُس کے خالی ہاتھوں پر نہ پڑ جائے۔
ہم عید مناتے ہیں۔۔۔ مگر کیا ہم واقعی قربانی کرتے ہیں؟
قربانی صرف جانور کی نہیں، انا کی بھی ہونی چاہیے۔ مگر ہمارے معاشرے نے قربانی کو جانور کے وزن، قیمت اور نسل تک محدود کر دیا ہے۔ اب عبادت کم اور مقابلہ زیادہ دکھائی دیتا ہے۔ لوگ جانور نہیں خریدتے، اپنی حیثیت کا پرچار زیادہ کرتے ہیں۔ سوشل میڈیا نے اس دکھاوے کو مزید مقدس بنا دیا ہے۔ پہلے ریاکاری محلے تک محدود تھی اب پوری دنیا کے لیے “اسٹیٹس” بن چکی ہے۔
یہ کیسا عجیب دور ہے کہ ایک شخص قربانی کے گوشت کے ساتھ اپنی تصویر بھی تقسیم کرتا ہے، مگر عزت تقسیم نہیں کرتا۔ گوشت کے تھیلے بانٹتے وقت کیمرہ پہلے آن ہوتا ہے، انسانیت بعد میں۔ خیرات دینے والا ہاتھ اب دعا سے زیادہ “ریچ” چاہتا ہے۔
کیا عبادت بھی اب تشہیر کی محتاج ہو گئی ہے؟
عیدالاضحیٰ کا فلسفہ صرف خون بہانا نہیں بلکہ اپنے اندر کے فرعون کو ذبح کرنا تھا۔ حضرت ابراہیمؑ نے صرف بیٹے کی قربانی نہیں دی تھی، انہوں نے اپنی خواہش، اپنی محبت، اپنی انا، اپنا سب کچھ خدا کے حکم پر رکھ دیا تھا۔ مگر ہم نے اس عظیم فلسفے کو ایک موسمی رسم میں تبدیل کر دیا ہے۔
ہم قربانی کرتے ہیں، مگر حسد نہیں چھوڑتے۔
ہم جانور ذبح کرتے ہیں، مگر غرور زندہ رکھتے ہیں۔
ہم گوشت بانٹتے ہیں، مگر رشتے توڑتے رہتے ہیں۔
شاید اسی لیے ہمارے معاشرے میں قربانی کے بعد بھی نفرتیں باقی رہتی ہیں۔
اس عید پر سب سے بڑا سوال گوشت کا نہیں، عزتِ نفس کا ہے۔ مہنگائی نے غریب آدمی سے صرف روٹی نہیں چھینی، اُس کا اعتماد بھی چھین لیا ہے۔ آج ایک مزدور اپنے بچوں کو نئے کپڑے دلانے سے پہلے ہزار بار سوچتا ہے۔ ایک ریٹائرڈ ملازم بجلی کا بل بھرنے اور قربانی کرنے کے درمیان پھنسا ہوا ہے۔اور ہم کہتے ہیں: “عید سب کے لیے خوشی کا دن ہے۔”
خوشی؟
کس کے لیے؟
وہ لوگ جو ہر عید پر صرف تماشائی رہ جاتے ہیں، اُن کے لیے عید ایک اجتماعی احساسِ محرومی بن چکی ہے۔ وہ بازاروں میں جاتے ہیں، مگر خریدتے نہیں۔ وہ قربانی کے جانور دیکھتے ہیں، مگر قیمت نہیں پوچھتے۔ وہ دوسروں کے گھروں سے اٹھتی خوشبو محسوس کرتے ہیں، مگر اپنے چولہے کی خاموشی سے نظریں چرا لیتے ہیں۔
معاشرے کے سب سے بڑے دکھ اکثر وہ ہوتے ہیں جو بولتے نہیں۔ سفید پوشی بھی ایسا ہی ایک دکھ ہے۔ ہمارے ہاں بھوک صرف روٹی کی نہیں۔۔۔ عزت کی بھی ہوتی ہے۔ بہت سے لوگ فاقہ برداشت کر لیتے ہیں مگر سوال نہیں کرتے۔ وہ ہاتھ پھیلانے سے پہلے ٹوٹ جاتے ہیں۔
لیکن افسوس یہ ہے کہ ہمارا معاشرہ صرف اُس غریب کو دیکھتا ہے جو چیخ رہا ہو۔ جو خاموش ہے۔۔۔ وہ ہماری توجہ کے قابل ہی نہیں سمجھا جاتا۔
حق دار ہمیشہ قطار کے آخر میں کیوں کھڑا ہوتا ہے؟
یہ سوال صرف عید کا نہیں۔۔۔ پورے سماج کا نوحہ ہے۔
زکوٰۃ اور صدقات کا نظام اگر واقعی انصاف کے ساتھ نافذ ہو جائے تو شاید کوئی بھوکا نہ سوئے۔ مگر یہاں بھی اصل مستحق اکثر پیچھے رہ جاتا ہے۔ امداد اُن لوگوں تک جلد پہنچتی ہے جو تعلقات رکھتے ہیں، آواز بلند کرنا جانتے ہیں یا سوشل میڈیا پر اپنی غربت بیچ سکتے ہیں۔ جبکہ اصل سفید پوش لوگ اپنی ضرورتوں کو خاموشی کے قبرستان میں دفن کر دیتے ہیں۔
ہم ایک ایسا معاشرہ بن چکے ہیں جہاں خیرات بہت ہے، انصاف نہیں۔
اور یاد رکھیے خیرات وقتی سکون دیتی ہے، انصاف مستقل عزت دیتا ہے۔
عیدالاضحیٰ کے دن گوشت کی تقسیم سے زیادہ اہم رشتوں کی تقسیم ہے۔ مگر شہروں میں ہمسائیگی مر رہی ہے۔ پہلے محلوں میں ایک دوسرے کے گھروں کے دروازے کھلے ہوتے تھے۔ اب ہر دروازے پر کیمرہ لگا ہے۔۔۔اعتماد نہیں۔ پہلے لوگ عید پر ایک دوسرے کے گھروں میں بے تکلف چلے جاتے تھے، اب پہلے “میسج” کیا جاتا ہے۔
ہم ترقی کرتے کرتے تنہائی کے اُس مقام پر پہنچ گئے ہیں جہاں انسان کے پاس سب کچھ ہے، سوائے انسان کے۔
یہ بھی عجیب تضاد ہے کہ عید پر جانوروں کے لیے عارضی چھپر بن جاتے ہیں، مگر بہت سے انسان مستقل بے چھت رہتے ہیں۔ ہم لاکھوں روپے ایک دن کی نمائش پر خرچ کر دیتے ہیں، مگر کسی غریب بچے کی تعلیم کا خرچ اٹھانے میں ہچکچاتے ہیں۔
کیونکہ جانور کی قربانی نظر آتی ہے، انسان کے لیے ایثار نہیں۔
اور پھر سوشل میڈیا کی وہ دینداری۔۔۔
جہاں عبادت سے زیادہ “کانٹینٹ” اہم ہو چکا ہے۔ قربانی اب ایک مذہبی عمل کم اور ڈیجیٹل ایونٹ زیادہ لگتی ہے۔ لوگ جانور کے ساتھ ویڈیوز بناتے ہیں، گوشت کے ساتھ تصویریں ڈالتے ہیں اور غریب کے گھر راشن دیتے ہوئے کیمرے کا اینگل درست کرتے ہیں۔
یہ نیکی ہے یا کردار کی مارکیٹنگ؟
شاید ہم ایک ایسے دور میں داخل ہو چکے ہیں جہاں انسان اچھا ہونے سے زیادہ اچھا نظر آنا چاہتا ہے۔
مگر اس سارے شور میں کچھ لوگ اب بھی خاموش خدمت کر رہے ہوتے ہیں۔ وہ مزدور جو دوسروں کی عید بناتے ہیں۔ قصائی، رکشہ ڈرائیور، ستھرا پنجاب کےصفائی کرنے والےعملہ، ویٹر، ڈیلیوری بوائے ۔۔۔یہ وہ لوگ ہیں جو عید کے دن بھی کام پر جاتے ہیں تاکہ دوسروں کے گھروں میں خوشی قائم رہے۔
کبھی غور کیجیے، عید کے دن سب سے کم عید انہی لوگوں کی ہوتی ہے۔
اسلامی معاشرے کا سب سے بڑا امتحان یہی ہے کہ اُس کے آس پاس کوئی بھوکا نہ رہے۔ مگر ہمارے شہروں میں بھوک صرف موجود نہیں، معمول بن چکی ہےاور ہم کہتے ہیں: “الحمدللہ، سب اچھا ہے۔”
سچ تو یہ ہے کہ ہمارا دین آسان ہے، ہمارا معاشرہ نہیں۔
دین کہتا ہے آسانی پیدا کرو، معاشرہ کہتا ہے حیثیت دکھاؤ۔
دین کہتا ہے پردہ رکھو، معاشرہ کہتا ہے تشہیر کرو۔
دین کہتا ہے حق دار تلاش کرو، معاشرہ کہتا ہے اپنے جیسے لوگوں میں تقسیم کرو۔
قربانی کا اصل فلسفہ ایثار، مساوات اور انسان دوستی تھا۔ مگر ہم نے اسے طبقاتی طاقت کے مظاہرے میں بدل دیا۔ اب عید پر جانور کم اور انسان زیادہ ذبح ہوتے ہیں۔۔۔ کسی کی عزتِ نفس، کسی کی خواہش، کسی کی مجبوری، کسی کی خاموشی۔
یہ کیسا سماج ہے جہاں غریب کے حصے کی خوشیاں ہمیشہ کوئی اور کھا جاتا ہے؟
اور شاید سب سے خطرناک بات یہ ہے کہ ہم آہستہ آہستہ حساسیت کھو رہے ہیں۔ اب ہمیں بھوکے بچے چونکاتے نہیں، مزدور کے پھٹے ہاتھ پریشان نہیں کرتے، کسی بوڑھی ماں کی اداس آنکھیں بے چین نہیں کرتیں۔ ہم حادثوں، غربت، ناانصافی اور محرومی کے اتنے عادی ہو چکے ہیں کہ دل پتھر اور ضمیر رسمی ہو گیا ہے۔
حالانکہ انسان کی اصل موت اُس وقت نہیں ہوتی جب اُس کی سانس رکتی ہے، بلکہ اُس وقت ہوتی ہے جب اُس کے اندر کسی دوسرے کے درد کا احساس مر جاتا ہے۔
عیدالاضحیٰ کے بعد جب گلیوں سے خون دھل جاتا ہے، جانوروں کی مَنڈیاں ختم ہو جاتی ہیں، سوشل میڈیا کے اسٹیٹس بدل جاتے ہیں اور فریج گوشت سے بھر جاتے ہیں۔۔۔ تب ایک سوال پھر بھی باقی رہ جاتا ہےکہ
کیا ہم نے واقعی کچھ قربان کیا؟
اگر ہماری انا زندہ ہے،
اگر ہمارے رویے ظالمانہ ہیں،
اگر ہمارے پڑوس میں کوئی بھوکا سو رہا ہے،
اگر ہمارے رشتے ٹوٹے ہوئے ہیں،
اگر ہماری عبادت میں انسانیت شامل نہیں۔۔۔
تو پھر شاید قربانی کے بعد صرف جانور کم ہوئے ہیں، معاشرہ نہیں بدلا۔
اور یاد رکھیے،
وہ معاشرہ سب سے زیادہ خطرناک ہوتا ہے جہاں لوگ عبادت تو کرتے ہوں، مگر انسان کو بھول چکے ہوں۔


