الیکشن ایک جمہوری عمل ہے جس میں عوام ووٹ کے ذریعے اپنے نمائندوں کا انتخاب کرتے ہیں تاکہ اپنے علاقے کی تعمیر و ترقی، صحت، تعلیم اور دیگر بنیادی مسائل حل کیے جا سکیں۔ تاہم بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ پاکستان کتابوں میں تو ایک جمہوری ملک ضرور ہے، مگر فیصلہ سازی نہ تو جمہوری تقاضوں کے مطابق ہوتی ہے اور نہ ہی حکومت سازی کے لیے مکمل طور پر جمہوری طریقہ کار اپنایا جاتا ہے۔اس کی تازہ ترین مثال مسلم لیگ (ن) کی موجودہ حکومت ہے۔ عام تاثر یہ ہے کہ شہباز شریف کو فارم 47 کے ذریعے اقتدار پر بٹھایا گیا، جبکہ سب سے زیادہ ووٹ حاصل کرنے والی جماعت پاکستان تحریک انصاف اور اس کی قیادت کو دیوار سے لگا دیا گیا۔ صورتحال اتنی افسوسناک ہو چکی ہے کہ سابق وزیر اعظم عمران خان کو شدید تکلیف دہ حالات میں قید رکھا جا رہا ہے۔ نتیجتاً معیشت تباہ حال ہے ، مہنگائی کا کوئی پرسان حا ل نہیں اور عام آدمی کے لیے جینا مشکل ہو گیا ہے۔ دوسری طرف شہباز شریف عالمی سطح پر امریکہ سے تعریف وصول کر رہے ہیں، مگر ملک کے اندر پھیلے سیاسی انتشار اور افراتفری کو ختم کرنے کے لیے کوئی سنجیدہ ثالثی کرنے کو تیار نہیں۔اب تازہ خبروں کے مطابق گلگت بلتستان کے الیکشن کو بھی سیاسی مفادات کی بھینٹ چڑھانے کی تیاریاں کی جا رہی ہیں۔ معروف صحافی حبیب اکرم کے مطابق، اٹھائیسویں ترمیم کی حمایت کے بدلے کچھ عرصے بعد پیپلز پارٹی کو گلگت بلتستان کی حکومت سونپ دی جائے گی۔ پیپلز پارٹی 18ویں ترمیم کو عملاً ختم کرنے پر تیار ہو جائے گی اور صوبائی خودمختاری کے نعرے لگائے گی کہ دیکھا، ہم نے سندھ کو بچا لیا۔ اس کے عوض مسلم لیگ (ن) روایتی فرمانبرداری کے تحت اٹھائیسویں ترمیم کی حمایت کر دے گی۔صحافی ماجد نظامی کا بھی یہی کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کی حکومتیں معاوضے کے طور پر حاصل کرنا چاہتی ہے تاکہ اٹھائیسویں آئینی ترمیم کا معاملہ آسان ہو جائے۔ سینئر صحافی وسعت اللہ خان نے بھی اس بات کی تائید کی ہے۔یعنی پاکستان میں جمہوری اقدار پر پھر سے شب خون مارا جارہا رہا ہے۔ اگر ان خبروں کا گلگت بلتستان کی زمینی صورتحال سے موازنہ کیا جائے تو حقیقت کا کچھ حد تک اظہار ہوتا ہے۔ جس کی واضح مثال گلگت بلتستان کی سکردو حلقہ نمبر3 (GBLA-9) کی ہے جہاں پاکستان پیپلز پارٹی کے ٹکٹ ہولڈرز حاجی فدا محمد ناشاد کو الیکشن ٹریبونل نے پہلے نااہل قرار دیا، پھر چند دن بعد اہل قرار دے دیا۔ مقامی صحافتی ذرائع کے مطابق ان کی بحالی پیپلز پارٹی کی اعلیٰ قیادت کا مطالبہ تھا۔فدا محمد ناشاد گلگت بلتستان میںتمام وفاقی پارٹیوں کے ٹکٹ پر الیکشن لڑ چکے ہیں۔ 1994 میں پہلی بار پیپلزپارٹی کی ٹکٹ پر الیکشن لڑنے والے ناشاد اس بار شاید اپنے سیاسی کیریئر کے آخری مرحلے میں پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر میدان میں ہیں اور حلقے میں ان کی پوزیشن مضبوط دکھائی دیتی ہے۔مگر دوسری طرف مقامی سطح پر زمینی حقائق یہ ہیں کہ پاکستان تحریک انصاف اور اس کے اتحادیوں کے لیے الیکشن میں مصنوعی رکاوٹیں کھڑی کی جا رہی ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ گلگت بلتستان میں مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کی مخلوط حکومت قائم ہو گی، جبکہ مجلس وحدت المسلمین اپوزیشن کے طور پر اسمبلی میں اپنا مقام بنائے گی۔مسلم لیگ (ن) کی مقامی قیادت کو بھی اس حقیقت کا ادراک ہے، مگر وفاقی سطح پر گلگت بلتستان کے الیکشن کو شطرنج کا کھیل بنا دینا یقیناً جمہوریت کے ساتھ مذاق ہے۔ نتیجہ یہ ہو گا کہ گلگت بلتستان میں ایک بار پھر ایسی حکومت قائم ہو گی جو عوامی مفادات کے بجائے اسلام آباد کے احکامات پر چلے گی۔گلگت بلتستان کے عوام کا شکوہ رہا ہے کہ الیکشن جیتنے کے بعد اسمبلی کے اراکین خطے کی بین الاقوامی قانونی حیثیت کو پس پشت ڈال کر فیصلہ سازی کرتے ہیں۔ اسی وجہ سے آج عوام اپنی ملکیتی زمینوں، چراگاہوں اور قدرتی معدنی وسائل مسلسل کھو رہے ہیں۔ این ایف سی میں شامل نہ ہونے کی وجہ سے نہ تو وسائل پر رائلٹی مل رہی ہے اور نہ ہی اسلام آباد سے رائلٹی حاصل کرنے کا کوئی واضح میکنزم موجود ہے۔ خطے میں اب تک کوئی معیاری میڈیکل یا انجینئرنگ یونیورسٹی قائم نہیں ہو سکی۔اس کے علاوہ بغیر کسی منصوبہ بندی کے سیاحت کے نام پر ماحولیاتی آلودگی میں اضافہ ہو رہا ہے جس سے گلیشئر تیزی سے پگھل رہے ہیں۔ یہ آنے والے وقتوں میں بڑا انسانی المیہ بن سکتا ہے۔لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ اس سیاسی شطرنج کے کھیل میں عالمی قوانین اور کشمیر کے تناظر میں گلگت بلتستان کی قانونی حیثیت کو بھی سمجھا جائے۔ صرف اقتدار کی تقسیم اور آئینی ترامیم کے لین دین سے آگے بڑھ کر خطے کے عوام کے حقیقی مسائل اور مستقبل پر بھی توجہ دی جائے۔


