گلگت بلتستان میں الیکشن کی تیاریاں عروج پر ہیں مگر افسوسناک طور پر یہ عمل آزاد، منصفانہ اور شفاف انتخابات کی بجائے سیاسی انتقام، انتخابی ہیرا پھیری اور ایک مخصوص سیاسی جماعت کے خلاف منظم مہم جوئی کا شکار دکھائی دے رہا ہے۔
پاکستان تحریک انصاف کے رہنماؤں کو علاقے میں داخل ہونے سے قبل روکا جا رہا ہے، انہیں گرفتار کیا جا رہا ہے اور علاقہ بدر کیا جا رہا ہے۔ دوسری جانب مسلم لیگ ن، پیپلز پارٹی اور دیگر جماعتوں کے رہنماؤں کو VIP پروٹوکول، مکمل سکیورٹی اور آزادانہ نقل و حرکت کی سہولتیں فراہم کی جا رہی ہیں۔ یہ واضح دوہرا معیار نہ صرف انتخابات کی ساکھ پر سوالیہ نشان ہے بلکہ بنیادی سیاسی حقوق کی بھی کھلی خلاف ورزی ہے۔
گلگت بلتستان میں پاکستان تحریک انصاف کی قانونی اور بین الاقوامی حیثیت بالکل ویسی ہی ہے جتنی دیگر وفاقی جماعتوں کی ہے۔ لہٰذا انہیں انتخابات میں دیوار سے لگانے کی کوشش خطے میں سیاسی انتشار پھیلانے کی سازش کے مترادف ہے اور الیکشن چوری کرنے کے برابر ہے۔ تحریک انصاف کی قیادت کو گلگت بدر کرنا، ان کے جلسوں اور جلوسوں پر پابندیاں عائد کرنا اور رہنماؤں کی گرفتاریاں اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ گلگت بلتستان میں بھی فارم 47 والا نظام نافذ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
چیف الیکشن کمشنر راجہ شہباز کی ہنگامی پریس کانفرنس اس صورتحال کو مزید تشویش ناک بنا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو امیدوار ہار رہے ہیں وہ ووٹر لسٹ کا پروپیگنڈہ کر رہے ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ چیف الیکشن کمشنر یہ کیسے جانتے ہیں کہ کون ہار رہا ہے اور کون جیت رہا ہے؟ یہ بیان خود ان کا اقرار جرم ہے جو انتخابات کی شفافیت پر سنگین سوالات اٹھاتا ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر کوئی وفاقی وزیر یا گورنر الیکشن ایکٹ کی خلاف ورزی کرے گا تو اسے علاقہ بدر کیا جائے گا۔ مگر افسوسناک بات یہ ہے کہ الیکشن ایکٹ کا وہ کون سا شق ہے جس کی خلاف ورزی کا علم انہیں صرف پاکستان تحریک انصاف کے رہنماؤں کے گلگت بلتستان پہنچنے سے پہلے ہی ہو گیا؟ ان کی یہ پریس کانفرنس دراصل ان کے خلاف خود ایک چارج شیٹ ہے۔ گلگت بلتستان چیف کورٹ کو اس معاملے میں فوری نوٹس لیتے ہوئے چیف الیکشن کمشنر سے باقاعدہ جواب طلب کرنا چاہیے۔
چیف الیکشن کمشنر نے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا پر الزام لگایا کہ وہ انتخابات میں رخنہ ڈالنا چاہتے ہیں۔ اس الزام کی بنیاد صرف سہیل آفریدی کا چیف جسٹس گلگت بلتستان کے نام لکھا گیا خط تھا، جو ہر شہری کا بنیادی آئینی حق ہے۔ اس خط پر اعتراض دراصل اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ انتخابات عوامی امنگوں اور عوامی ووٹ کے مطابق نہیں بلکہ پہلے سے طے شدہ منصوبے کے مطابق کرائے جا رہے ہیں۔
یہ بھی تشویش کا باعث ہے کہ پنجاب پولیس کے کتنے جوان گلگت بلتستان میں تعینات کیے جا رہے ہیں اور پولنگ اسٹیشنوں کی سیکیورٹی کا بندوبست کس طرح کیا جا رہا ہے۔ کیا گلگت بلتستان پولیس اور گلگت بلتستان اسکاؤٹس کے جوانوں پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا؟ یقیناً پنجاب پولیس کی گلگت بلتستان الیکشن میں انڑی انتہائی مضحکہ خیز اور سوالیہ نشان ہے ۔
دیکھا جائے تو گلگت بلتستان ایک مہمان نواز، سادہ لوح اور پرامن خطہ رہا ہے۔ فرقہ واریت کے زخموں کے بعد اب یہاں سیاسی عدم برداشت کو پروان چڑھایا جا رہا ہے۔ یہ کام کسی عبوری حکومت کا نہیں بلکہ ان عناصر کا ہے جو 78 سال سے اس متنازعہ خطے کو کالونیل طرز کے نظام کے تحت چلا رہے ہیں اور اس کے سیاسی و معاشی وسائل پر مسلط ہیں۔
اگر گلگت بلتستان کے انتخابات میں ایک پارٹی کو مکمل طور پر خارج کرنے کی کوشش کی گئی تو یہ نہ صرف خطے کے عوام کے ساتھ ناانصافی ہوگی بلکہ پاکستان کے وفاقی جمہوری نظام کے لیے بھی خطرناک مثال قائم ہوگی۔ انتخابات وہ جگہ ہیں جہاں صرف عوام فیصلہ کرتے ہیں، نہ کہ کوئی ادارہ یا شخص پہلے سے فیصلہ کر کے ان پر مسلط کرے۔
لہذا الیکشن کمیشن آف گلگت بلتستان کو اس بات کا ادراک ہونا چاہیے کہ شفاف، آزادانہ اور منصفانہ انتخابات ہی اس خطے میں دیرپا استحکام لا سکتے ہیں۔ سیاسی انتقام اور انتخابی ہیرا پھیری صرف عدم اعتماد بڑھائے گی اور خطے کے مستقبل کو مزید تاریک کر دے گی۔ گلگت بلتستان کے عوام حق خود ارادیت اور حقیقی نمائندگی کے حقدار ہیں۔ انہیں یہ حق دینے کا وقت آ چکا ہے۔


