بچہ ، سکول اور نصاب/شاہد محمود

انسان جب اس دنیا میں آتا ہے تو سوالوں کے ساتھ آتا ہے۔ وہ ہر چیز کو چھو کر، دیکھ کر اور محسوس کر کے سمجھنا چاہتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہر بچے میں ایک فطری تجسس رکھا ہے تاکہ وہ اس کائنات کے ہمہ گیر نظام کو سمجھ سکے۔
‎یہی تجسس اسے آگے بڑھاتا ہے۔ جب وہ حیرت کی نگاہ سے دنیا کو دیکھتا ہے تو اس کے اندر مزید سوال جنم لیتے ہیں۔ گویا جاننا ہر انسان کی فطرت اور بنیادی تقاضا ہے۔
‎اسی فطری تقاضے کو پورا کرنے کے لیے انسان کو رہنمائی کی ضرورت پیش آتی ہے۔ ایک ایسا نظام اور ایسے ماہرین جو بچے کی اس تشنگی کو حقیقی علم اور درست سمت دے سکیں، تاکہ یہ تجسس محض سوال نہ رہے بلکہ شعور اور سمجھ میں تبدیل ہو جائے۔

‎انسان کی اس بنیادی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے ایسے اداروں کا تصور پیدا ہوتا ہے جہاں ماہرین بچوں کے تجسس کو برقرار رکھتے ہوئے انہیں سیکھنے میں رہنمائی اور سہولت فراہم کریں۔
‎بچوں میں سیکھنے کی خواہش فطری طور پر موجود ہوتی ہے، بس انہیں ایسے ماحول کی ضرورت ہوتی ہے جہاں وہ  خود کو محفوظ محسوس کریں اور جہاں انہیں غلطی کرنے کی اجازت ہو، کیونکہ غلطی بھی سیکھنے کے عمل کا ایک اہم حصہ ہے۔ غلطی کرنے پر بچے کو شرمندہ کرنا یا سزا دینا سیکھنے کے عمل میں رکاوٹ پیدا کرتا ہے۔
‎بچہ دنیا میں تجسس اور سوال لے کر آتا ہے، لیکن اسے محض جوابات یاد کروانے کے بجائے اگر تجربہ کرنے، مشاہدہ کرنے اور خود دریافت کرنے کا موقع دیا جائے تو اس کی سیکھنے کی صلاحیت کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔

‎سکول کا تصور بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے، جہاں بچے کو اس کے فطری تقاضوں کی تکمیل کے لیے بھیجا جاتا ہے۔ چونکہ سکول ایک سماجی ادارہ ہے، اس لیے اسے گھر کے ماحول سے ہم آہنگ ہونا چاہیے، تاکہ بچہ خود کو جسمانی اور جذباتی طور پر محفوظ محسوس کرے۔

‎ہم آج بھی سکول اور طریقہِ تعلیم کے اسی فرسودہ تصور کو سینے سے لگائے بیٹھے ہیں جو نوآبادیاتی (Colonial) دور کی پیداوار ہے؛ جہاں استاد کا کام محض املا کروانا اور بچے کا واحد مقصد رٹا لگانا تھا۔ لیکن ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ آج کا دور ‘جین زی’  اور ‘جین الفا’  کا دور ہے، جہاں معلومات ان کی انگلیوں کی پوروں کے نیچے موجود ہیں۔ اب دنیا اس حقیقت کو تسلیم کر چکی ہے کہ موجودہ عہد میں ‘آئی کیو’ (IQ) سے زیادہ ‘ای کیو’ (EQ) یعنی بچے کی جذباتی مضبوطی پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ گویا نصاب کی از سر نو تشکیل لازمی ہے۔

‎اگر ہم آج بھی یہی سمجھتے ہیں کہ نصاب پہلے سے طے شدہ کوئی ایسا جامد فیصلہ ہے جو بچوں پر تھوپ دیا جائے اور انہیں اس کا پابند بنا دیا جائے، تو یہ ہماری فکری پسماندگی کے علاؤہ اور کچھ نہیں ۔ وقت کا تقاضا ہے کہ اب نصاب کو مرکز مان کر بچے کو قربان نہ کیا جائے، بلکہ بچے کو مرکز مان کر نصاب اس کی نفسیات، سماجی اور معاشرتی زندگی کے مطابق تشکیل دیا جائے۔ ایک ایسا نصاب جو بچے کی روزمرہ زندگی سے میل نہ کھاتا ہو، اور اس کے حقیقی تجربات و مشاہدات سے یکسر مختلف ہو، وہ بچے کے لیے کبھی ‘راہِ نجات’ اور وسیلہِ علم نہیں بن سکتا۔

‎اور ویسے بھی، نصاب کوئی آسمان سے اتری ہوئی ایسی مقدس چیز نہیں ہے جس میں تبدیلی نہ ہو سکے، بلکہ یہ تو دنیا میں موجود انسانیت کی اجتماعی دانش کا ایک متحرک اظہار ہے۔ درحقیقت، نصاب تو زندگی سے جڑی ہوئی ایک زندہ اور سانس لیتی ہوئی حقیقت ہے۔ یہ صرف ان درسی کتابوں کا نام نہیں ہے جو بچوں کو رٹوا دی جائیں، بلکہ نصاب تو ایک ایسی شاہراہ ہے جس پر چل کر بچہ شعور، فہم اور ادراک کی صورت میں اپنی حقیقی منزل کی طرف گامزن ہوتا ہے۔”

‎ہمیں اس حقیقت کو تسلیم کر لینا چاہیے ،کہ ایک لچکدار نصاب، جدید طریقہِ تعلیم اور بچے کی نفسیات سے ہم آہنگ ماحول کے بغیر ہم نئی نسل کو حقیقی تعلیم نہیں دے سکتے۔ آج کے دور کا تقاضا محض روایتی ‘ایجوکیشن’ نہیں ہے جو صرف ڈگریاں دے  اور کلرک پیدا کرے، بلکہ وقت کی اصل ضرورت  تو ‘ہولسٹک ایجوکیشن’ (Holistic Education) یعنی ایسی ہمہ جہت تعلیم ہے جو بچے کی مجموعی شخصیت کی تعمیر کرے۔

‎ہولسٹک ایجوکیشن کا مقصد صرف معلومات فراہم کرنا نہیں، بلکہ بچے کے ذہن، جسم، جذبات اور روح کے درمیان ایک خوبصورت توازن پیدا کرنا ہے۔ جب ہم ‘جین زی’ اور ‘جین الفا’ کو ایسی کلیاتی تعلیم دیں گے، تبھی وہ معلومات کے اس طوفان میں خود کو سنبھال سکیں گے، جذباتی طور پر مضبوط بنیں گے، اور مستقبل کے چیلنجز کا سامنا ایک باشعور انسان کی حیثیت سے کر سکیں گے۔ اب یہ ہمارے تعلیمی نظام، اساتذہ اور پالیسی سازوں پر منحصر ہے کہ وہ نصاب کی اس شاہراہ کو بچوں کے لیے قید خانہ بناتے ہیں یا ان کی پرواز کے لیے ایک کھلا آسمان”۔

اپنا تبصرہ لکھیں