سائیکل کا عالمی دن/ڈاکٹر شاہد ایم شاہد

ہر سال 3 جون کو دنیا بھر میں سائیکل کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ یہ دن اقوامِ متحدہ نے 2018ء میں باقاعدہ طور پر مقرر کیا تھا۔ اس وقت سے لے کر تا حال یہ دن ایک تسلسل کے ساتھ عوام الناس کی فلاح و بہبود کے لیے منایا جا رہا ہے۔
واضح ہو امسال سائیکل کا عالمی دن منانے کی آٹھویں سالگرہ ہے۔یہ دن ہم سب کو اس بات کی یاد دلاتا ہے کہ جہاں سائنس نے انسان کو آسائشیں مہیا کیں ہیں۔وہاں اس کے جھولی میں کمزوری اور نکما پن بھی ڈال دیا ہے۔مثلاً انسان چھوٹے چھوٹے کاموں کے لیے موٹر سائیکل یا دیگر وسائل کا بھی دریغ استعمال کررہا ہے۔یہ انسانیت کے لیے ایک لمحہ فکریہ ہے جہاں ورزش نہ کرنے کے سبب سے انسان متعدد بیماریوں کا شکار ہوا ہے۔خاص طور پر معدہ ، جگر ، سانس کی بیماریاں ، دمہ اور اعصابی کمزوری واضح طور پر دیکھی جا سکتی ہے۔اقوام متحدہ کے زیر اہتمام سینکڑوں دن منائے جاتے ہیں۔ ہر دن کی اپنی قدر و قیمت ہے۔ سماجی دنوں سے لے کر بیماریوں تک عالمی سطح پر اس بات کا شعور اجاگر کرنا کہ زندگی میں بہتری کیسے لائی جا سکتی ہے؟ اس تعریف و توصیف کی مستحق اقوام متحدہ ہے۔ہر ماہ کوئی نہ کوئی دن انسان کی فلاح و بہبود کے لیے مقرر ہے۔اسی طرح سائیکل کا عالمی دن بھی دنیا بھر کو اس بات کی یاد دہانی کرواتا ہے کہ جہاں ہر دور کی دریافت نے انسان کو حیران کر رکھا ہے۔اسی طرح تم مجھے بھی استعمال کر کے اپنی صحت کو بہتر بنا سکتے ہو۔یہ کائنات کا سنہرا اصول ہے کہ ہر چیز اپنے اندر مثبت و منفی احساس رکھتی ہے۔ البتہ شعوری معاملہ کسی بھی چیز کے استعمال پر ہے کہ ہم اسے کس زاویہ و دل چسپی کے تحت استعمال کرتے ہیں۔ یہ دن انسانوں کو سائیکل کے باقاعدہ استعمال، صحت مند طرزِ زندگی اور ماحول دوست نقل و حمل کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔دنیا بھر میں ہر روز کوئی نہ کوئی نئی دریافت کی خبر منظر عام پر آ رہی ہے۔ ہر انسان کسی نہ کسی مقصد کے تحت کام کر رہا ہے۔ الگ الگ شعبہ جات ہونے کی وجہ سے دل چسپی میں خاطرخواہ اضافہ ہوا ہے۔ آج تک جتنی بھی دریافتیں اور ایجادیں منظر عام پر آئی ہیں۔ان سب میں مغربی لوگوں کا خاص کردار شامل ہے۔ایک عام مشین سے لے کر انسان کے علاج تک کی مشینیں مغربی مفکرین کی درینہ کاوشوں کا نتیجہ ہے۔اس امر کے ساتھ ساتھ مشرقی باشندوں نے بھی اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہے۔طب سے سائنس تک کے تمام شعبہ جات ان کی توجہ کا مرکز رہے ہیں۔
اگر سائیکل کی بات کی جائے تو یہ دنیا کے تقریباً ہر ملک میں چلائی جاتی ہے۔یہ ایک سستا قابل اعتماد اور اور ماحول دوست ساتھی ہے ، جس پر سفر کرنے کے لیے ڈیزل یا پٹرول کی ضرورت نہیں رہتی بلکہ اسے بڑی آسانی کے ساتھ
ایک بچے سے لے کر بوڑھے تک چلا سکتا ہے۔بس ٹانگوں اور بازوں میں سکت ہونی چاہیے۔
سائیکل تقریباً دنیا کے ہر ملک میں چلائی جاتی ہے، لیکن بعض ممالک میں یہ روزمرہ زندگی، آمدورفت اور ثقافت کا اہم حصہ ہے۔دنیا کے جن ممالک میں سائیکل کا بہت زیادہ استعمال کیا جاتا ہے۔ان میں دنیا کا سب سے مشہور سائیکل دوست ملک نیدرلینڈ ہے جہاں بڑی تعداد میں لوگ روزانہ سائیکل پر سفر کرتے ہیں۔دیگر ممالک میں ڈنمارک ، جرمنی ، بلجیم ، سویڈن ، چین ، جاپان بھارت اور پاکستان بھی شامل ہے۔
البتہ موٹر سائیکل ، کار جیپ ، کوسٹر اور دیگر ٹرانسپورٹ نے سائیکل کی اہمیت کم کر دی ہے۔اس امر کے باوجود بھی دنیا میں اب بھی بہت سے ایسے لوگ موجود ہیں جو سائیکل بڑے شوق سے چلاتے ہیں۔سائیکل نہ صرف سستی سواری ہے بلکہ ورزش کا ذریعہ بھی ہے۔ اسیے باقاعدہ چلانے سے ہڈیاں پٹھے اور اعصاب مضبوط ہوتے ہیں۔گردشِ خون بہتر ہوتی ہے۔جسم صحت مند رہتا ہے۔ایندھن کی بچت ہوتی ہے۔فضائی الودگی میں خاطرخواہ کمی آ جاتی ہے۔دل اور خون کی گردش بہتر ہو جاتی ہے۔پھیپھڑوں کی کارکردگی میں اضافہ ہوتا ہے۔ٹانگوں کے پٹھے مضبوط ہو جاتے ہیں۔جسمانی برداشت بڑھ جاتی ہے۔باقاعدہ چلانے سے وزن نہیں بڑھتا۔کیلوریز جلتی ہیں۔چربی کم ہو جاتی ہے۔موٹاپا کم ہو جاتا ہے۔ذہنی دباؤ اور تناؤ کم ہو جاتا ہے۔مزاج میں بہتری آ جاتی ہے۔تازگی اور توانائی کا احساس بڑھ جاتا ہے۔فضائی اُلودگی میں خاطر خواہ کمی ہو جاتی ہے۔ٹریفک کے مسائل کم سے کم پیدا ہوتے ہیں۔مختصر فاصلے جلد طے ہو جاتے ہیں۔حادثات بھی کم ہوتے ہیں۔پارکنگ کے لیے جگہ بھی زیادہ نہیں چاہیے۔
بائی سائیکل چلانا صحت، معیشت اور ماحول تینوں کے لیے مفید ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر میں سائیکل کے استعمال کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے، خصوصاً 3 جون کو منائے جانے والے دن ان لوگوں کو خراج تحسین پیش کیا جاتا ہے جو اپنی روز مرہ زندگی میں چھوٹے موٹے کام کاج سائیکل کی مدت سے مکمل کر لیتے ہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں