ہم زندہ قوم ہیں، پائندہ قوم ہیں، ہم سب کی ہے پہچان ، پاکستان پاکستان پاکستان۔ اس جیسے دل کو چھو لینے والے تمام ملی نغمے جب بھی کانوں میں رس گھولتے ہیں، ہمارا جذبہ حب الوطنی سال بھر سے نیند کے خراٹے دار مزے لینے کے بعد 23 مارچ اور 14 اگست کو ایسا بیدار ہوتا ہے جیسے یکجہتی اور آپس کی محبت کے خشک سوتے ہمیشہ کے لئیے ابل پڑے ہوں۔ مگر بیداری کی یہ لہر، صرف چند پہر قیام کے بعد، بے مہر مزاج والوں کے گھر سے رخصت ہو کر، فراموشی کی دھند میں کہیں چھپ جاتی ہے۔
سواۓ عناد اور دشمنی کے بھول جانا ہماری عادت ہے۔ بلکہ ہم نے اپنے آپ کو بھی خود فراوشی کا شکار کر رکھا ہے۔ ہم اپنی دلچسپیوں کے آگے اپنے عزیز رشتے داروں کو بھول جاتے ہیں، دوستوں یاروں کو بھول جاتے ہیں، اپنی دنیاداری کے آگے دین کو بھول جاتے ہیں۔ رنجشوں میں آپس کی وفاداری کو بھول جاتے ہیں۔ بحیثیت شہری کے اپنی ذمے داریؤن کو بھول جاتے ہیں۔ ہماری شناخت کیا ہے، اس کو بھی بھول جاتے ہیں۔ پیسہ، مال و دولت حرص و طمع پیش نظر ہو تو اپنی کوتاہیوں کی تابکاری کو بھول جاتے ہیں۔ (یہاں ہم یہ عرض کردیں کہ اس ‘ ہم ‘ میں سب شامل نہیں بلکہ اس میں کافی مستثنیات بھی ہیں۔ اس لئے سب یہ نہ سوچیں کہ ہمارے نزدیک سب ایک تھیلی کے چٹے بٹے ہیں). یہ حقیقت ہے کہ ہم نے اپنی تہذیب کو پس پشت ڈال رکھا ہے۔
تہذیب کے معنی راستے یا چلنے/ جانے کے ہیں۔ رسم و رواج، بات چیت، برتاؤ و سلوک، انداز فکر، ادب و ثقافت اور فنون کی وہ تمام جہتیں اور سمتیں جو ہمارے راستے کو متعین کرتی ہیں، تہذیب کے دائرے میں آتی ہیں۔ اس کے علاوہ ہماری تعلیم وتربیت، اخلاقیات اور اچھی بری عادات، یہاں تک کہ جرائم اور انصاف کے تقاضے بھی تہذیب کے اسکوپ کووسیع کرتے ہیں۔
کچھ قومیں تعلیم یافتہ ہوتی ہیں، کچھ مہذب یعنی تہذیب یافتہ اور کچھ ترقی یافتہ ہونے کے ساتھ ساتھ تہذیب یافتہ بھی۔ ہم اکثر مشاہدہ کرتے ہیں کہ گھر گھر میں والدین ضدی، شرارتی اور ڈھیٹ بچوں کو بد تمیز اور بد تہذیب کہہ کر ڈانٹ ڈپٹ کرتے ہیں۔ اس طرح معاشرے کے وہ عناصر جو آوارہ منش، چور اچکے اور راہزن ہوتے ہیں انہیں بد معاش اور بد قماش کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ وہ حضرات جو ٹی وی چینلز پر یا اپنی ویڈیوز کے ذریعے معاشرتی اصلاح سے متعلق لیکچرز دیتے ہیں ان کا مطمح نظر یہ ہوتا ہے کہ حتی الوسع لوگوں کے عمدہ اخلاق، نفیس گفتگو، تحمل مزاجی، عفو و درگز، برداشت اور نا موافق حالات میں صبر و استقامت کا درس دیا جاۓ تاکہ ہم بحیثیت مجموعی مہذب اور تہذیب یافتہ کہلاسکیں۔
جہاں تک ہمارے معاشرتی کردار کا تعلق ہے ہم اس ضمن میں ناقص العمل ہیں۔ بلا شبہ ہمارے درمیان ایسے مخلص، قابل، روادار، تعلیم یافتہ اور ذہنی طور پر نیک سوچ کے حامل افراد موجود ہیں جن کی وجہ سے ہمارے معاشرے کو نظر استحسان سے دیکھا جاتا ہے۔ لیکن ہمیں افسوس کے ساتھ اس بات کا ااعتراف بھی کرنا پڑتا ہے کہ ہمارے بیچ کثیر تعداد ایسے افراد کی ہوتی ہے جو جہلاء یا نیم خواندہ لوگوں پر مشتمل ہوتی ہے. ایسے افراد جو غیر منظم ہوں اور بری عادات اور ناگوار روئیے کے اعتبارسے اچھا انسان کہلانے کے مستحق نہیں ہوتے۔ ان کے نزدیک اخلاقیات کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی۔ وہ انتہائی خود غرض، مال کی ہوس کے شکار، زبان کے خراب اور اکھڑ مزاج ہوتے ہیں۔ انہیں اپنے لباس، حلیے اور جسم کی صفائی کا کوئی پاس نہیں ہوتا۔ دیانتداری اور ایمانداری انکی فطرت کا حصہ نہیں ہوتی۔ جہاں تک جہالت اور عدم تعلیم کی وجوہات کا تعلق ہے، اس میں کوئی شک نہیں کہ ہماری آبادی کی اکثریت گاؤں دیہات اور قصبوں میں رہتی ہے، جہاں تعلیم کی سہولت میسر نہیں ہوتی جس کی وجہ سے انکی فطری صلاحیتوں کو پنپنے کا موقع نہیں ملتا۔ اس سہولت سے محرومی ہمیں مہذب آبادی کے مقابلے میں نسبتاً نا پسندیدہ بناتی ہے۔
یہ تہمت نہیں، حقیقت ہے کہ ہم میں سے بیشتر افراد صفائی، ستھرائی اور پاکیزگی سے نا بلد ہوتے پیں۔ اپنے گھر کا کوڑا گھر سے اٹھا کر خالی پلاٹ پہ پھینک دیتے ہیں۔ تمام تفریحی مقامات ہماری ان خرابی بسیار کا مونہہ بولتا ثبوت ہیں۔ ساحل سمندر ہوں یا بچوں کے پارک بچے تو بچے بڑے بھی کچرے کو ڈسٹ بن میں ڈالنے کی بجاۓ آس پاس پھینک دیتے ہیں۔ شمالی علاقہ جات کی خوبصورت پہاڑوں، جھیلوں اور آبشاروں اورحسین نظاروں کا حسن ہماری گند پھیکنے کی وجہ سے گہنا جاتا ہے۔ حالانکہ ہمارا دین ہمیں بتاتا ہے کہ صفائی نصف ایمان ہے۔ اسلام ہمیں پانچوں وقت با وضو نماز پڑھنے کی تاکید کرتا ہے۔ مگر ہم اس کو نظر انداز کرکے خود کو بے شعور اور غفلت کا شکار ثابت کرنے پر تلے ہوتے ہیں۔ ہم جگہ جگہ پبلک مقامات پر تھوکتے رہتے ہیں۔ اکثر دیوار کی اوٹ کو پیشاب گاہ بنالیتے ہیں۔
جہاں تک قانون اور ضابطوں کی پابندی کا تعلق ہے، اس معاملے میں بھی ہماری بے ضابطگیاں ہمارے غیر مہذب ہونے کی نشان دہی کرتی ہیں۔ ٹریفک کے اشارے کو توڑنا، دوسری گاڑیوں کو راستہ نہ دینا، ہسپتالوں اور تعلیمی اداروں کے قریب گاڑیوں کے ہارن بجا بجا کر مریضوں اور طلباء کا ذہنی سکون برباد کرنا۔ دھواں چھوڑتی گاڑیوں سے پیدا ہونے والی فضائی آلودگی ہماری خرابی صحت کی وجہ بنتی ہے۔ مگر ہم اس سے لا تعلق رہ کر اپنے غیر ذمہ دارانہ طرز عمل کو اختیار کرتے ہیں۔ اس میں ہمارے پڑھے لکھے اور سوٹڈ بوٹڈ لوگ بھی شامل ہوتے ہیں۔ تو پھر معاشرے میں پھیلی بد تہذیبی کی وبا کے مجموعی طور پر پم سب شکار ہیں۔
ہم میں سے بیشتر افراد غصے میں بھرے رہتے ہیں۔ ان کی گفتگو مغلظات سے بھری ہوتی ہے۔ صرف یہی نہیں بلکہ چھوٹی چھوٹی باتوں پر لڑائی مار کٹائی پر تیار رہتے ہیں چھوٹے بچوں سے بری طرح پیش آتے ہیں خواتین کے احترام اور بزرگوں کے ادب سے ناواقف رہتے ہیں۔ وہ کیسے مہذب کہلا سکتے ہیں۔
طاقتور کمزور کو دباتے ہیں۔ لوگوں کو اغواء کرکے انکے گھر والوں سے تاوان مانگا جاتا ہے۔ چوری بھی کی جاتی ہے اور سینہ زوری بھی۔ اس میں پولیس والوں کا کردار بھی انتہائی معاندانہ ہوتا ہے۔ ہسپتالوں میں مریضوں سے بد سلوکی، بازاروں میں خریداروں سے برا برتاؤ، بسوں اور ویگنوں میں مسافروں سے بد تمیزی, یہ وہ خرابیاں ہیں جو ہماری فطری جمالیات کے منافی نظر آتی ہیں۔ اس میں ہر حکومت وقت کی عدم توجہ اور اصلاح کاری کا فقدان بھی دکھائی دیتا۔ بہر کیف ہمارے یہ روئیے ہمارے غیر مہذب ہونے کی چغلی کھاتے ہیں.


