ہمارے سماج میں جانوروں کے ساتھ رشتوں کی بنیاد کہیں افادی ہے، کہیں ماحولیاتی اور کہیں مذہبی ۔کچھ کے ہاں جانور کو گھر کا فرد سمجھا جاتا ہے، کہیں پر اس کی قیمت محض ایک’ شے‘ سے زیادہ نہیں۔
کچھ روز پہلے میرے آفس کے ایڈمن محمد علی نے مجھے ایک واقعہ سنایا ، اس نے کہا کہ ہم نے گاوں میں پندرہ سولہ جانور پال رکھے تھے جو اس عید الضحیٰ پر قربانی کے قابل ہو چکے تھے۔ کچھ جانوروں کو ہم نے رکھ لیا ، کچھ کو قربان کرنے کا فیصلہ کیا جب کہ کچھ کے بارے میں گھر والوں نے فیصلہ کیا کہ ان کو منڈی میں جا کے بیچ دیا جائے۔بقول محمد علی ، اگرچہ دیہات میں یہ معمولی بات ہے کہ جانوروں کو بیچ یا ذبیح کر دیا جائے مگر ہم سب دل گردے کے ساتھ اپنے ہی پالے ہوئے جانوروں کو اس عید پر ذبیح کرنے اور بیچنے کےلیے نکلے ۔ اس سلسلے میں ایک عجیب اور دلچسپ واقعہ یہ پیش آیا کہ ہمارے گھر میں دو سال تک پلنے والا ایک بکرا جس کی پیدائش بھی ہمارے گھر ہوئی ، اس کی ماں ابھی تک ہمارے پاس موجود ہے، منڈی سے بِک بکا کے ہماری ہی گلی میں چند گھر چھوڑ کے ایک صاحب نے خرید لیا ۔ یہ صاحب ہمارے والد کے دوست بھی تھے۔ اگلے ہی دن میرے والد ان کے گھر کسی کام سے گئے تو بکرے نے فوراً پہچان لیا۔ محمد علی نے مجھے بہت جذباتی ہوکے بتایا کہ ’’اس دن والد گھر آئے تو کچھ اداس تھے۔ مجھے کہنے لگے کہ وہ ہمارا بکرا ہماری گلی میں قربان ہونے کے لیے آ گیا ہے ۔ مجھے دیکھتے ہی فوراً بولنے لگا۔ میں کچھ دیر اس کے سر پر ہاتھ پھیرتا رہا۔ مجھے اندازہ نہیں تھا کہ یہ جانور اس قدر ہمیں یاد رکھتے ہیں۔ میں نے اسے پیار کیا اور اندر ہی اندر شدید کرب کا شکار ہو کے واپس آیا ہوں۔‘‘
اصل میں ہم جانوروں کو سمجھتے ہی نہیں۔ ہم بیک وقت جانوروں سے شدید محبت بھی کرتے ہیںاور نفرت بھی۔ اگرچہ محبت والے لوگ اب بہت کم ہوتے جا رہے ہیں ۔ رہی سہی اس محبت کی ایک وجہ گاوں کا ماحول بھی ہے۔ دیہات کے پس منظر میں دیکھا جائے تو یہ لائیو سٹاک ہی نہیں بلکہ گھر کے افراد تصور کئے جاتے ہیں۔ ان کے ساتھ شب و روز کا رشتہ ہوتا ہے۔ ان کے جذبات ، ضروریات اور تعلق کے گہرے رشتوں کو پوری طرح سمجھا جاتا ہے۔ مگر دوسری ہی سمت ہمارے سماج میں جانور کو ایک گالی بھی قرار دیا گیا ہے۔ اس حوالے سے کتا اور سؤر سے نفرت کی بنیاد خود ساختہ مذہبی تصورات ہیں۔ سمجھ سے باہر ہے کہ بے زبان کو کس طرح بد اعمالیوں کا متبادل سمجھ لیا جاتا ہے۔ یہی میرے دوست محمد علی نے ایک دن گفتگو کے دوران کہا کہ اگر ہم ایک کتے کی گردن میں کیمرہ باندھ دیں اور پورے چوبیس گھنٹے کے بعد اس ریکارڈنگ کو دیکھیں تو بطور انسان ہمیں شرم آئے کہ ہم ایک بے زبان جانور کو مذہبی اور سماجی اخلاقیات میں کیا تصور کرتے ہیں اور اس کے ساتھ کیا سلوک کر رہے ہیں۔
یہاں تو پورے پورے محاورے بنے ہوئے ہیں جس میں اینٹ یا پتھر کا کتے سے تعلق کو لازمی جزو قرار دیا جاتا ہے۔ سؤر اور نجس اور ناپاکی کے تصور سے اس قدر جوڑا گیا کہ اس پر کتے چھوڑے جاتے ہیں ، اس کو چیر پھاڑ کے دیکھنے کی ’’لذت‘‘ کو عین مذہبی سمجھا جاتا ہے۔ حالاں کہ ایسا کوئی مذہبی موجود نہیں کہ کسی کتے یا سؤر یا کسی بھی جان دار کو ایذا یا تکلیف دی جائے۔ میرے محلے میں ایک کتیا نے چھے سات بچے دئیے مگر ایک آدمی کو ان سے شدید رنج تھا کہ یہ بڑے ہوکے ’’کتے ‘‘ بنیں گے۔ ایک دن اس نے انھیں اٹھایا اور ساتھ ویران جگہوں پر چھوڑ آیا۔ اگلے ہی دن ان معصوم دودھ پیتے بچوں کو گیدڑوں نے چیر پھاڑ ڈالا ۔ اس کی ماں آج بھی اسی طرح اِن گلیوں میں پھر رہی ہوتی ہے۔
یہ بات بھی عجیب ہے کہ ماحولیاتی تھیوریز میں جانور پر بہت کم گفتگو ہوئی ہے حالاں کہ جانور کسی بھی ماھول کا سب سے مضبوط کمپوننٹ ہے۔ مغرب میں جانوروں پر بحث ضرور ہوئی لیکن وہ ماحولیاتی تھیوریز کے اندر نہیں ہوئی بلکہ اس کے لیے ایک بالکل الگ شعبہ بن گیا جسےاینمل اسٹڈیز یا اینمل رائٹس کہا جاتا ہے۔یہ تو دیکھا کہ شاعری یا فکشن میں دریا، پہاڑ اور جنگل کیسے دکھائے گئے ہیں، لیکن فکشن میں جانوروں کی موجودگی یا ان کے ساتھ انسان کے وجودی رشتے کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ماحولیاتی تھیوریز اوزون، گلیشیئرز اور درختوں کو بچانے کے سائنسی فارمولوں میں مگن رہتی ہیں۔ اس لیے کہ ماحولیاتی تھیوریز نے جدیدیت یعنی انسان مرکزیت کے فلسفے سے جنم لیا تھا۔ اس کی بنیادی تحریک انسانی اور مادی بقا ہے۔ یہ کہتی ہے کہ اگر ہم نے درخت کاٹے، ہوا آلودہ کی یا پانی ضائع کیا، تو اوزون کی تہہ ختم ہو جائے گی، گلوبل وارمنگ ہوگی وغیرہ وغیرہ۔ اس طرح انسان حیاتیاتی طور پر ختم ہو جائے گا۔ یعنی یہاں فطرت کو بچانے کا محرک اب بھی انسان کی اپنی مادی بقا ہے۔
جانور ہمارے ماحول کا فطرت کے دیگر عناصر کی طرح ہی حصہ ہیں۔ بلکہ یہ فطرتی مادی عناصر سے زیادہ اہم ہو جاتے ہیں کیوں کہ یہ جان دار بھی ہیں۔ انسان جس طرح گلوب پر پھیلتا جا رہا ہے،اس کی وجہ سے تیزی سے جانوروں کی بقا کو خطرہ لاحق ہو گیا ہے۔ آپ کبھی جنگلوں یا گھنے درختوں سے گزریں ، آپ کو حیرانی ہوگی کہ کئی کئی کلومیٹرز تک کوئی جانور نظر نہیں آتا۔(اسلام آباد میں ماگلہ کے پہاڑوں میں بندروں کے علاوہ کسی جانور کا نظر آنا واقعہ ہوتا ہے) اگر جانور نےجنگل میں نہیں ہونا تو کہاں ہونا ہے۔ اس کا مطلب کہ جانور کہیں چلے نہیں گئے بلکہ ختم ہوتے جا رہے ہیں۔
ایکو سسٹم میں محض اپنی بقا کی جنگ لڑنے اور خود غرضانہ ایکو سسٹم کے تحفظ کے لیے کام کرنے کی بجائے پوری ایکالوجی کے لیے نکلیں۔ بے زبان جانوروں کا دکھ سمجھیے اور اپنے اردگرد ان کو بھی اپنے گھر کا فرد سمجھیے۔ پرندوں ، حشرات،جل تھلیوں، جنگلی اور پالتوجانوروں ، سب کو اپنے گھر کے افراد سمجھیے ۔ انھیں جیتا جاگتا جذبات سے بھرا جان دار مانیں۔ ماحول کی بقا کو محض مغربی بنیادوں پر نہ سمجھیے بلکہ ان کے ساتھ فطری رشتہ قائم کریں۔


