میرا خیال ہے ہم آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کو پاکستانی وفاق میں شامل کرنے میں بہت تاخیر کر چکے ہیں۔ اس میں مزید تاخیر معاملات کو مزید بگاڑے گی۔
ان کے بارے میں فیصلے کا اختیار تو مقامی عوام کو ہی ہے۔ میں اپنی معصومانہ رائے ہی دے سکتا ہوں۔ اور وہ یہ ہے کہ ان دو علاقوں کو انتظامی صوبے قرار دے کر سینیٹ میں نصف نمایندگی دے دینی چاہیے۔ نصف اس لیے تاکہ بلوچستان کی سینیٹ میں نمایندگی کا فی صد تناسب کم نہ ہو جائے اور دوسرے اس لیے کہ کشمیر کا ابھی مستقل حل سامنے نہیں آیا۔ گلگت بلتستان خاص طور پر یہ مطالبہ کرتا رہا ہے کہ اسے صوبہ قرار دیا جائے۔
آزاد کشمیر میں یہ مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ جموں اور وادی کشمیر کے مہاجرین کی بارہ نشستیں ختم کی جائیں۔ اس مطالبے میں یہ دلیل معقول ہے کہ خاص طور پر وادی کے مہاجرین چند سو ووٹ لے کر منتخب ہوتے ہیں اور پھر پانچ پانچ سال وزارت کے مزے لیتے ہیں۔ جموں کی نشستوں پر ووٹوں کی تعداد زیادہ ہے۔ اس کا حل یوں نکالا جا سکتا ہے کہ جموں کے مہاجرین کی نشستوں کی تعداد چار اور وادی کے مہاجرین کی نشستیں دو کر دی جائیں۔
آزاد کشمیر پاکستان کا واحد انتظامی یونٹ ہے جہاں سن 85 سے اب تک 41 سال سے مسلسل جمہوریت اور الیکشن جاری ہیں۔ عوامی الیکشن کمیٹی اگر اپنے مطالبات منوانا چاہتی ہے تو آیندہ الیکشن میں حصہ لے جس کے شیڈول کا آج اعلان ہو گیا ہے۔ آزاد کشمیر اسمبلی نے متفقہ قرارداد منظور کی ہے کہ مہاجرین کی نشستیں ختم نہ کی جائیں۔ ان تمام جماعتوں کی بھی آزاد کشمیر میں کوئی نہ کوئی حیثیت تو ہوگی۔ آزاد کشمیر کے بھائیوں کو وہ مسائل درپیش نہیں جو اسی ملک میں بلوچستان کے شہریوں کو درپیش ہیں۔ ریاست کشمیریوں کو لاڈ پیار سے ہی ڈیل کرتی رہی ہے۔ ریاست کو ایسا موقع نہیں دینا چاہیے کہ اس لاڈ پیار میں کمی ہو۔ الیکشن میں شرکت مطالبات منظور کرانے کا پرامن ترین راستہ ہے۔ باقی جو کشمیری دوستوں کی رائے۔


