قومیں صرف آئین، جھنڈے اور جغرافیے سے زندہ نہیں رہتیں، ان کے وجود کو اصل زندگی وہ لوگ دیتے ہیں جو اپنے آج کو قوم کے کل پر قربان کر دیتے ہیں۔ تاریخ کے اوراق پر نظر ڈالیں تو معلوم ہوتا ہے کہ ہر محفوظ شہر کے پیچھے کسی سپاہی کی جاگتی آنکھ ہوتی ہے، ہر لہلہاتے کھیت کے پیچھے کسی شہید کا لہو اور ہر آزاد فضا کے پیچھے کسی ماں کی قربانی چھپی ہوتی ہے۔ پاکستان بھی انہی حقیقتوں کا امین ہے۔ یہ ملک صرف ایک سرزمین نہیں بلکہ لاکھوں خوابوں، دعاؤں، ہجرتوں اور قربانیوں کا حاصل ہے۔ ایسے میں جب وطن کے گرد سازشوں کے بادل منڈلا رہے ہوں، جب اندرونی انتشار اور بیرونی خطرات ایک ساتھ سر اٹھا رہے ہوں، تو یہ سوال پہلے سے زیادہ اہم ہو جاتا ہے کہ آخر وہ کون لوگ ہیں جو خاموشی سے اس وطن کی سانسوں کی حفاظت کر رہے ہیں؟
رات کے پچھلے پہر جب شہروں کی روشنیاں مدھم پڑنے لگتی ہیں، بازار خاموش ہو جاتے ہیں، گھروں کے دروازے بند ہو جاتے ہیں اور لوگ اپنے خوابوں کی دنیا میں گم ہو جاتے ہیں، تب کہیں برف پوش چوٹیوں پر، تپتے صحراؤں میں، سنگلاخ پہاڑوں کے درمیان اور سرحدی چوکیوں پر کچھ آنکھیں ایسی بھی ہوتی ہیں جو نہیں سوتیں۔ وہ جاگتی ہیں تاکہ قوم سکون سے سو سکے۔ وہ سردی، گرمی، بارش، طوفان اور موت کے سائے کے درمیان کھڑی رہتی ہیں تاکہ وطن کے اندر زندگی اپنی معمول کی رفتار سے چلتی رہے۔یہ محض ایک فوجی کی ڈیوٹی نہیں، یہ ایک تہذیبی ذمہ داری ہے۔ یہ اس عہد کی پاسداری ہے جو 1947ء میں لاکھوں قربانیوں کے بعد وجود میں آنے والی ریاست کے ساتھ کیا گیا تھا۔تاریخ کا ایک عجیب مزاج ہے۔ وہ قوموں کو صرف زمین کے ٹکڑوں سے نہیں پرکھتی بلکہ ان کے اجتماعی شعور سے پہچانتی ہے۔ پاکستان بھی صرف ایک جغرافیہ نہیں، ایک نظریہ، ایک خواب اور ایک قربانی کا نام ہے۔ اس خواب کی تعبیر کے لیے کتنے قافلے اجڑے، کتنی ماؤں کی گودیں ویران ہوئیں، کتنے بچے یتیم ہوئے اور کتنی عصمتیں لٹیں، اس کا اندازہ صرف تاریخ کی کتابوں سے نہیں بلکہ ان نسلوں کی خاموش آنکھوں سے ہوتا ہے جنہوں نے تقسیم کا المیہ دیکھا تھا۔
آج جب دنیا غیر روایتی جنگوں کے دور میں داخل ہو چکی ہے، جب توپ اور ٹینک کے ساتھ ساتھ افواہ، پروپیگنڈا، نفرت اور انتشار بھی ہتھیار بن چکے ہیں، تب کسی ملک کی حفاظت صرف سرحدوں پر نہیں بلکہ ذہنوں کے اندر بھی کی جاتی ہے۔ دشمن اب صرف بارڈر پر نہیں آتا، وہ سوشل میڈیا کی پوسٹ میں بھی چھپا ہوتا ہے، وہ جھوٹی خبروں کے ذریعے بھی حملہ آور ہوتا ہے اور وہ قوموں کے درمیان بداعتمادی پیدا کر کے بھی اپنے مقاصد حاصل کرنا چاہتا ہے۔ایسے وقت میں قومی اداروں پر اعتماد محض جذباتی نعرہ نہیں بلکہ ایک قومی ضرورت بن جاتا ہے۔یہ حقیقت اپنی جگہ موجود ہے کہ ہر ادارے کی طرح کسی بھی ادارے پر تنقید کا حق معاشرے میں موجود رہتا ہے۔ مہذب معاشرے سوال بھی کرتے ہیں اور اصلاح بھی چاہتے ہیں۔ لیکن سوال اور دشمنی میں فرق ہوتا ہے، احتساب اور نفرت میں فرق ہوتا ہے، اختلاف اور تخریب میں فرق ہوتا ہے۔ جب کوئی قوم اپنے ہی ستونوں کو گرانے لگتی ہے تو عمارت صرف ستونوں پر نہیں گرتی، اس کے ملبے تلے پوری قوم دب جاتی ہے۔
ہمیں خود سے پوچھنا چاہیے کہ کیا ہم نے کبھی اس سپاہی کے بارے میں سوچا ہے جو عید کی نماز اپنے بچوں کے ساتھ نہیں بلکہ مورچے میں ادا کرتا ہے؟ کیا ہم نے کبھی اس ماں کے دل کا حال جاننے کی کوشش کی ہے جس کا بیٹا وطن کی خاطر شہادت کا جام پی لیتا ہے؟ کیا ہم نے کبھی ان خاندانوں کے دکھ کو محسوس کیا ہے جو ایک پرچم میں لپٹے جنازے کو سینے سے لگا کر یہ کہہ دیتے ہیں کہ “وطن سلامت رہے”؟ شہادت کا فلسفہ محض موت کا فلسفہ نہیں، زندگی کا سب سے بلند تصور ہے۔ کچھ لوگ اپنے لیے جیتے ہیں اور کچھ لوگ آنے والی نسلوں کے لیے مر جاتے ہیں۔ تاریخ ہمیشہ دوسری قسم کے لوگوں کو یاد رکھتی ہے۔بدقسمتی یہ ہے کہ ہمارا معاشرہ کئی دہائیوں سے سیاسی تقسیم، ذاتی مفادات، گروہی وابستگیوں اور وقتی جذبات کا شکار رہا ہے۔ ہم اکثر شخصیات کے گرد جمع ہو جاتے ہیں مگر اصولوں کے گرد نہیں۔ ہم نعروں کے پیچھے دوڑتے ہیں مگر حقیقتوں پر غور نہیں کرتے۔ یہی وجہ ہے کہ دشمن کو کبھی کبھی ہماری سرحدوں سے زیادہ ہمارے اختلافات میں امکانات نظر آتے ہیں۔قومی سلامتی صرف بندوق کی طاقت سے قائم نہیں رہتی بلکہ قومی اتحاد سے قائم رہتی ہے۔ ایک منتشر قوم کے پاس اگر دنیا کا سب سے جدید اسلحہ بھی ہو تو وہ کمزور رہتی ہے، جبکہ ایک متحد قوم محدود وسائل کے باوجود ناقابلِ شکست بن جاتی ہے۔
1965ء کی جنگ کا ذکر صرف ایک فوجی معرکے کے طور پر نہیں ہونا چاہیے۔ وہ دراصل قومی وحدت کا استعارہ تھی۔ اس وقت ریڈیو پر نشر ہونے والے ترانے، مساجد میں اٹھنے والی دعائیں، گھروں میں موجود جذبہ اور محاذ پر لڑنے والے جوان ایک ہی مقصد کے لیے متحد تھے۔ قوم اور فوج کے درمیان اعتماد کا وہ رشتہ دشمن کے تمام اندازوں پر بھاری پڑ گیا تھا۔آج کا دور مختلف ہے مگر چیلنج کم نہیں ہوئے۔ سرحدی خطرات اپنی جگہ موجود ہیں، دہشت گردی کے خطرات بھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے، معاشی مشکلات بھی درپیش ہیں اور فکری انتشار بھی بڑھ رہا ہے۔ ایسے میں یہ سوال مزید اہم ہو جاتا ہے کہ ہم اپنے اختلافات کو قومی مفاد کے تابع کرنے کے لیے کتنے تیار ہیں؟ ہم اپنے گھر کی دیوار میں معمولی دراڑ دیکھ کر پریشان ہو جاتے ہیں، مگر قومی دیوار میں پڑنے والی دراڑوں کو اکثر نظر انداز کر دیتے ہیں۔ ہم اپنے بچوں کے مستقبل کے لیے فکرمند رہتے ہیں مگر وطن کے مستقبل کے بارے میں کم سوچتے ہیں۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ اگر ریاست مضبوط ہو گی تو خاندان محفوظ ہوں گے، معیشت مستحکم ہو گی اور آنے والی نسلیں پُرامن زندگی گزار سکیں گی۔پاک فوج کی اصل طاقت اس کے ہتھیار نہیں بلکہ اس کے جوانوں کا حوصلہ ہے۔ دنیا کی عسکری تاریخ گواہ ہے کہ جنگیں صرف اسلحے سے نہیں جیتی جاتیں، بلکہ عزم، تربیت، نظم و ضبط اور قربانی کے جذبے سے جیتی جاتی ہیں۔ یہی وہ خصوصیات ہیں جنہوں نے پاکستان کی مسلح افواج کو دنیا کی پیشہ ور افواج میں ممتاز مقام عطا کیا ہے۔
تاہم قوموں کی ترقی صرف فوج کے بل بوتے پر نہیں ہوتی۔ ایک مضبوط فوج کے ساتھ مضبوط معیشت، مضبوط تعلیمی نظام، مضبوط عدالتی ڈھانچہ اور مضبوط اخلاقی اقدار بھی ضروری ہیں۔ اس لیے حب الوطنی کا مطلب صرف نعرے لگانا نہیں بلکہ دیانت داری سے ٹیکس دینا، قانون کی پابندی کرنا، کرپشن سے اجتناب کرنا اور اپنے فرائض ادا کرنا بھی ہے۔یہاں ایک تلخ سوال جنم لیتا ہے کہ کیا ہم سب اپنے اپنے محاذ پر اتنی ہی ذمہ داری نبھا رہے ہیں جتنی ایک سپاہی اپنی چوکی پر نبھا رہا ہے؟اگر ایک استاد تعلیم میں خیانت کرے، ایک تاجر دیانت چھوڑ دے، ایک سیاست دان قومی مفاد کو ذاتی مفاد پر قربان کر دے اور ایک شہری قانون شکنی کو معمول سمجھنے لگے تو پھر صرف فوج سے تمام مسائل کے حل کی توقع کرنا انصاف نہیں ہوگا۔قومیں اجتماعی کردار سے بنتی ہیں۔آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے قومی بیانیے میں نفرت کے بجائے امید، تقسیم کے بجائے اتحاد اور مایوسی کے بجائے اعتماد کو جگہ دیں۔ تنقید ہو مگر تعمیری ہو۔ اختلاف ہو مگر قومی مفاد کے دائرے میں ہو۔ سیاست ہو مگر ریاست سے بالاتر نہ ہوکیونکہ ریاست کمزور ہو جائے تو سیاسی جماعتیں بھی محفوظ نہیں رہتیں، ادارے بھی کمزور ہو جاتے ہیں اور عوام بھی مشکلات کا شکار ہو جاتے ہیں۔
ذرا تصور کریں کہ کسی برفانی چوکی پر کھڑا ایک نوجوان سپاہی رات کی تاریکی میں دور افق کی جانب دیکھ رہا ہے۔ شاید اسے اپنے گھر کی یاد آتی ہو، اپنی ماں کی دعائیں یاد آتی ہوں، اپنے بچوں کی مسکراہٹ یاد آتی ہو۔ لیکن وہ اپنی جگہ سے ہٹتا نہیں۔ کیوں؟ اس لیے کہ اسے معلوم ہے کہ اس کے پیچھے ایک پورا وطن کھڑا ہے۔اب سوال یہ ہے کہ کیا واقعی اس کے پیچھے ایک متحد قوم کھڑی ہے؟اگر ہم اس سوال کا جواب “ہاں” میں دینا چاہتے ہیں تو ہمیں اپنے رویوں، ترجیحات اور سوچ کو بدلنا ہوگا۔ ہمیں اختلاف کے باوجود قومی یکجہتی کو مقدم رکھنا ہوگا۔ ہمیں اپنے شہداء کی قربانیوں کو محض تقریروں کا موضوع نہیں بلکہ عملی کردار کا معیار بنانا ہوگاکیونکہ تاریخ کا فیصلہ ہمیشہ میدانوں میں نہیں ہوتا، بعض اوقات قوموں کے دِلوں میں ہوتا ہے۔ اور جس دن ایک قوم اپنے محافظوں، اپنے نظریے اور اپنے مستقبل کے بارے میں ایک صفحے پر آ جاتی ہے، اس دن دشمن کی سب سے بڑی شکست شروع ہو جاتی ہے۔وطن صرف زمین کا نام نہیں، یہ ایک امانت ہے اور امانت کی حفاظت صرف سرحدوں پر نہیں، دِلوں میں بھی کی جاتی ہے۔


