جنگ ختم، دستخط باقی /عارف انیس

آخر آج صبح وہ خبر آگئی، جس کے لیے پوری دنیا نے دم سادھا ہوا تھا.

اقوام عالم کے فیصلے پاکستان میں ہوں گے یا نہیں، مگر اکیسویں صدی کی مہلک جنگ کی ڈیل کا اعلان پاکستانی وزیراعظم نے کیا ہے. وزیراعظم شہباز شریف نے ایکس پر لکھا، بھرپور مذاکرات کے بعد امریکہ اور اسلامی جمہوریہ ایران کے درمیان امن معاہدہ طے پا گیا ہے، اور دونوں فریقوں نے تمام محاذوں پر، بشمول لبنان، فوجی کارروائیوں کے فوری اور مستقل خاتمے کا اعلان کر دیا ہے۔ منٹوں بعد ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر تصدیق کی، ایران کے ساتھ معاہدہ مکمل ہو چکا ہے۔ اور پھر وہ جملہ جو تیل کی منڈیوں کا دل دھڑکا گیا، “میں آبنائے ہرمز کو بلا محصول کھولنے اور بحری ناکہ بندی فوراً ہٹانے کی اجازت دیتا ہوں۔ دنیا کے جہازو، اپنے انجن چلاؤ، تیل بہنے دو۔”

یہ پانچواں موقع تھا جب ایسے اعلان ہوئے، مگر اس بار فرق یہ ہے کہ ایران کے نائب وزیرخارجہ نے بھی، تہران کے سرکاری میڈیا کے ذریعے، متن کے حتمی ہونے کی تصدیق کر دی۔ کاظم غریب آبادی نے اسے ایران کی فتح کے طور پر پیش کیا۔ دونوں اطراف سے تصدیق، یہی اس بار کی نئی بات ہے۔

ایران امریکہ جنگ پر بہت لکھا اور حتمی طور پر یہی کہا کہ عارضی جنگ بندی کے بعد، منہ سے جتنے بھی میزائل چل جائیں، جنگ دوبارہ نہیں بھڑکے گی. مختصراً بتاتا ہوں کہ معاہدے میں ہے کیا، تاکہ آپ کے سامنے پوری تصویر آ جائے۔

پہلا، فوری اور مستقل جنگ بندی، تمام محاذوں پر، لبنان سمیت۔ دوسرا، ساٹھ دن کا عبوری عرصہ جس میں تفصیلی مذاکرات ہوں گے۔ تیسرا، آبنائے ہرمز فوراً کھل رہی ہے، اور امریکی بحری ناکہ بندی ختم۔ ٹرمپ کے بقول بارودی سرنگیں ہٹانے کا کام دستخط کے بعد شروع ہو گا۔ چوتھا، اور یہاں دھیان سے سنیے، یہ معاہدہ ایران کے جوہری مواد کا مسئلہ صرف اصولی طور پر حل کرتا ہے۔ ٹرمپ خود مان گئے ہیں کہ افزودہ یورینیم کی حوالگی فی الحال نہیں ہو رہی، صرف آئندہ مذاکرات کی بنیاد رکھی جا رہی ہے۔ معاہدے میں ایران کا یہ وعدہ شامل ہے کہ وہ جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرے گا، مگر ذخیرہ ابھی اسی کے پاس ہے۔

اور یہاں وہ بات جو کم لوگ نوٹ کر رہے ہیں۔ امریکہ نے دو پرانے مطالبے میز سے ہٹا دیے۔ میزائل پروگرام پر پابندی نہیں، اور حزب اللہ، حماس، حوثیوں کی پشت پناہی پر پابندی نہیں۔ یہ وہی دو نکات تھے جن پر ایران ہفتوں سے اڑا ہوا تھا۔ جیت کس کی ہوئی، یہ آپ خود طے کر لیں۔

دستخط کہاں ہوں گے؟ پہلے دونوں فریق الیکٹرانک طریقے سے دستخط کریں گے۔ یہ دنیا کی پہلی ایسی جنگ بندی ہوگی جب ریموٹ دستخط ایک بڑا معاہدہ سیل کریں گے. پھر باقاعدہ تقریب جمعہ، انیس جون کو سوئٹزرلینڈ میں ہو گی، جنیوا میں، عین اُس وقت جب قریبی فرانسیسی شہر میں جی سیون سربراہ اجلاس ختم ہو رہا ہو گا۔ قطری ثالث آج صبح تہران گئے، سترہ گھنٹے کی نشست کے بعد لوٹے، اور اگلے ہفتے دوحہ میں دونوں فریقوں سے الگ الگ تیاری کی ملاقاتیں ہوں گی۔

منڈیوں کا ردعمل فوری تھا۔ امریکی خام تیل ساڑھے چار فیصد گر کر اسی ڈالر فی بیرل پر آ گیا، مارچ کے پہلے ہفتے کے بعد کم ترین سطح۔ برینٹ بھی چار فیصد گر کر تراسی ڈالر پر۔ ادھر یورپ نے بھی فوراً ہاتھ بڑھایا، برطانیہ، جرمنی، فرانس اور اٹلی نے کہا کہ وہ ایران پر پابندیاں ہٹانے کو تیار ہیں، بشرطیکہ تہران جوہری پروگرام پر قابلِ تصدیق اقدام کرے۔

اب اصل سوال، اس پورے ڈرامے کا فاتح کون؟ نائب صدر جے ڈی وینس نے خود کہا کہ مشرقِ وسطیٰ میں امن میں وقت لگے گا۔ یہ احتیاط بے سبب نہیں۔ کیونکہ ابھی تک یہ صرف ایک یادداشتِ مفاہمت ہے، معاہدہ نہیں۔ پانچ دن باقی ہیں دستخط میں، اور اِن پانچ دنوں میں اسرائیل کی لبنان پر کوئی ایک کارروائی پورے بندوبست کو دھماکے سے اڑا سکتی ہے۔ نیتن یاہو پہلے ہی کہہ چکا ہے کہ اسرائیل اس معاہدے کا فریق نہیں۔ یہی وہ کمزور کڑی ہے جس پر سب کی نظر ہے۔

اور پاکستان؟

دوستو، یہ لمحہ ٹھہر کر دیکھنے کا ہے۔ ساڑھے تین مہینے کی اس آگ میں، جس میں امریکہ، اسرائیل، ایران، چین، روس، یورپ سب کود پڑے، اعلان کرنے والا پہلا ہاتھ پاکستانی وزیراعظم کا تھا۔ قطر نے بھی اپنے بیان میں اس کامیابی کا سہرا پاکستان کے ساتھ اپنی شراکت کو دیا۔ یہ پاکستان کی ثالثی تھی، فیلڈ مارشل عاصم منیر کی تہران یاترائیں تھیں، اسلام آباد کا وہ پل تھا جو واشنگٹن اور تہران کے درمیان بنا۔ پاکستان ثالث سے ضامن بن گیا، اور یہ 1947 کے بعد اس کی سب سے بڑی سفارتی کامیابیوں میں سے ایک ہے۔

مگر ایک بات صاف کر دوں۔ معاہدہ ابھی کاغذ پر ہے، قلم ابھی اٹھنا باقی ہے۔ ایران کی سرزمین پر اصل طاقت اب بھی سپاہِ پاسداران کے ہاتھ میں ہے، اور سپاہ امن سے زیادہ جنگ میں طاقتور رہتی ہے۔ مگر یہ بھی یاد رہے کہ ایران کوئی ایٹمی طاقت نہیں۔ اُس کے پاس افزودہ یورینیم ہے، ہتھیار نہیں۔ اِس پورے خطے میں اسلامی دنیا کی واحد ایٹمی طاقت پاکستان ہے، اور آج کی ساری سفارت کاری اِسی ایک حقیقت کے گرد گھومی ہے۔

پچھلے چار دن پرتگال کے سابقہ وزیر اعظم اور یورپین کمیشن کے صدر ہوزے باروسسو کے ساتھ گزرے. وہ بھی پاکستان کے قائدانہ رول کے مداح نکلے، مگر ان کی بھی خواہش تھی کہ پاکستان اس موقع کو صرف تالیوں کے لیے نہیں، بلکہ ملک اٹھانے کے لیے استعمال کرسکے اور یہی اصل امتحان ہوگا. تاہم ان کا اصرار تھا کہ مڈل ایسٹ میں کوئی بھی ایسی جنگ بندی، اگلی جنگ کے درمیان کا وقفہ ہے. یہ بندوبست انڈے کے چھلکوں ہر بنے گا اور زیادہ تر اسرائیل کی طرف سے ٹوٹے گا.

میں ماسکو سے کرغزستان کی طرف والی فلائٹ میں ہوں اور ایک ایسی خبر پڑھ رہا ہوں جو ہرمز کے پانیوں سے اٹھی، اور جس کا پہلا اعلان میرے اپنے ملک سے ہوا۔

جنگ ختم ہونے کا اعلان ہو گیا ہے۔ مگر تاریخ نے ہمیں سکھایا ہے کہ اعلان اور دستخط کے درمیان کا فاصلہ، کبھی کبھی سب سے خطرناک فاصلہ ہوتا ہے۔

اگلے جمعہ تک، سانسیں زرا مدھم رکھیے۔ رب خیر کرے گا.

اپنا تبصرہ لکھیں