کبھی کسی بھوکے انسان کی آنکھوں میں غور سے دیکھیے۔ وہاں صرف روٹی کی طلب نہیں ہوتی، وہاں ایک سوال بھی چھپا ہوتا ہے۔۔۔ ایسا سوال جو معاشرے کے سارے دعووں، ترقی کے تمام نعروں اور تہذیب کی پوری عمارت کو کٹہرے میں کھڑا کر دیتا ہے۔ بھوک ایک عجیب شے ہے۔ یہ صرف معدے میں نہیں لگتی، یہ انسان کی عزتِ نفس، اس کے خوابوں اور اس کی امیدوں کو بھی چاٹ جاتی ہے۔ دنیا کی سب سے بڑی بدقسمتی شاید یہ نہیں کہ کچھ لوگ بھوکے ہیں، بلکہ یہ ہے کہ ہم بھوک کو ایک معمول کا منظر سمجھنے لگے ہیں۔ سڑک کنارے پھیلا ہوا ہاتھ، کچرے میں رزق تلاش کرتا بچہ یا چولہے کی ٹھنڈی راکھ کو تکتی ماں اب ہمیں چونکاتی نہیں۔ گویا محرومی ہمارے عہد کا سب سے عام اور بے حس تماشہ بن چکی ہے، اور یہی وہ لمحہ ہے جب ضمیر آہستہ آہستہ اپنے دروازے بند کرنا شروع کر دیتا ہے۔
غربت صرف خالی جیب کا نام نہیں۔ غربت ایک احساس ہے، ایک کیفیت ہے، ایک مسلسل محرومی کا نام ہے۔ ایک غریب آدمی صرف روٹی کا محتاج نہیں ہوتا، وہ عزت، مواقع، تعلیم، صحت اور اعتماد کا بھی محتاج ہوتا ہے۔ ہم اکثر غربت کو اعداد و شمار میں ناپتے ہیں۔ فلاں ملک میں اتنے فیصد لوگ خطِ غربت سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں، فلاں علاقے میں بے روزگاری کی شرح اتنی ہے۔مگر غربت کا اصل چہرہ کسی معاشی رپورٹ کے صفحات پر نہیں، بلکہ اس ماں کی خاموش نگاہوں میں نظر آتا ہے جو بچوں کی بھوک کو اپنی ممتا سے چھپانے کی کوشش کرتی ہے۔
عجیب تضاد ہے کہ انسان نے چاند پر قدم رکھ لیا، مصنوعی ذہانت پیدا کر لی، دنیا کو ڈیجیٹل ویلیج بنا دیا، مگر ابھی تک زمین پر کروڑوں لوگ دو وقت کی روٹی کے لیے ترس رہے ہیں۔ ترقی کے اس شور میں بھوک کی خاموش چیخ شاید سنائی نہیں دیتی۔ گودام بھرے ہوئے ہیں مگر دسترخوان خالی ہیں۔ دولت کے دریا بہہ رہے ہیں مگر پیاسے کنارے اب بھی موجود ہیں۔یہاں ایک سوال جنم لیتا ہےکہ کیا خیرات غربت کا حل ہے؟ بظاہر جواب ہاں میں نظر آتا ہے، مگر حقیقت اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔ خیرات زخم پر مرہم تو رکھ سکتی ہے، مگر بیماری کا مستقل علاج نہیں بن سکتی۔ اگر ایک شخص کو آج کھانا دے دیا جائے تو اس کی آج کی بھوک مٹ سکتی ہے، مگر کل کا کیا ہوگا؟ اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہم غربت کے اسباب پر کم اور اس کے نتائج پر زیادہ توجہ دیتے ہیں۔اسلام نے صدقہ و زکوٰۃ کا تصور صرف رحم دلی کے اظہار کے لیے نہیں دیا بلکہ ایک معاشی توازن قائم کرنے کے لیے دیا۔ زکوٰۃ دراصل دولت کی گردش کا نظام ہے۔ یہ اس سوچ کو چیلنج کرتی ہے کہ دولت چند ہاتھوں میں جمع ہو جائے اور باقی معاشرہ محرومی کا شکار رہے۔ اسلام دولت کے حق کو تسلیم کرتا ہے مگر اس کے ساتھ غریب کے حق کو بھی تسلیم کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ زکوٰۃ کو احسان نہیں بلکہ حق قرار دیا گیا۔
مگر ہمارے ہاں ایک اور المیہ جنم لے چکا ہے۔ ہم نے صدقے کو اکثر وقتی جذبات سے جوڑ دیا ہے۔ رمضان آیا تو دل نرم ہو گئے، راشن کےچند تھیلے تقسیم کر دیے، چند تصویریں بنوا لیں، سوشل میڈیا پر چند پوسٹیں لگا دیں اور سمجھ لیا کہ ذمہ داری پوری ہو گئی۔ سوال یہ ہے کہ کیا غربت صرف رمضان میں موجود ہوتی ہے؟ کیا بھوک کا موسم بھی کوئی خاص مہینہ ہوتا ہے؟اصل ضرورت یہ ہے کہ خیرات کو احساسِ ذمہ داری میں تبدیل کیا جائے۔ ایک ایسا احساس جو سال کے بارہ مہینے زندہ رہے۔ ایک ایسا شعور جو صرف روٹی دینے تک محدود نہ ہو بلکہ کسی انسان کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے کی فکر بھی کرے۔ اگر کسی نوجوان کو روزگار مل جائے، کسی بچے کو تعلیم مل جائے، کسی عورت کو ہنر مل جائے تو یہ صدقہ محض ایک دن نہیں بلکہ پوری زندگی سنوار سکتا ہے۔
انسانی نفسیات کا ایک دلچسپ پہلو یہ بھی ہے کہ ہم دور کے دکھوں پر زیادہ گفتگو کرتے ہیں اور قریب کے دکھوں کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ ہمیں عالمی غربت کے اعداد و شمار یاد ہوتے ہیں مگر اپنے محلے کے سفید پوش خاندان کی خبر نہیں ہوتی۔ ہم بین الاقوامی کانفرنسوں میں غربت کے خاتمے کی بات کرتے ہیں مگر اپنے اردگرد موجود ضرورت مند لوگوں کی خاموش فریاد نہیں سن پاتے۔شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ غربت کا سامنا ہمیں اپنے ضمیر کے سامنے کھڑا کر دیتا ہے۔ ایک بھوکا انسان صرف مدد نہیں مانگتا، وہ ہمارے سماجی نظام پر سوال بھی اٹھاتا ہے۔ وہ پوچھتا ہے کہ اگر معاشرہ واقعی مہذب ہے تو پھر میں محروم کیوں ہوں؟ اگر ترقی واقعی سب کے لیے ہے تو پھر میرے حصے میں اندھیرا کیوں آیا؟
وقت کے ساتھ ساتھ ہماری ترجیحات بھی بدل گئی ہیں۔ آج انسان اپنی ضروریات سے زیادہ اپنی خواہشات کا غلام بن چکا ہے۔ ایک نئی گاڑی، ایک نیا موبائل، ایک بڑا گھر، ایک اور آسائش۔۔۔خواہشات کا یہ سفر ختم نہیں ہوتا۔ مسئلہ دولت کمانے میں نہیں، مسئلہ دولت کے ساتھ تعلق میں ہے۔ جب دولت انسان کی خدمت کرنے کے بجائے اس پر حکومت کرنے لگے تو دلوں میں تنگی پیدا ہو جاتی ہے۔انسانی تجربہ اور تاریخ دونوں اس بات پر متفق ہیں کہ حد سے بڑھی ہوئی معاشی تفریق کسی بھی تہذیب کی بقا کو خطرے میں ڈال دیتی ہے۔ محرومی جب مستقل شکل اختیار کر لے تو صرف غربت نہیں رہتی، وہ بے چینی، نفرت اور عدم استحکام کو جنم دیتی ہے۔ بھوک صرف جسم کو کمزور نہیں کرتی، یہ امید کو بھی کھا جاتی ہے اور جب امید مرنے لگے تو معاشرے کی بنیادیں ہلنے لگتی ہیں۔
یہاں صدقہ صرف مالی عمل نہیں رہتا بلکہ ایک اخلاقی اور روحانی رویہ بن جاتا ہے۔ ایک مسکراہٹ، ایک حوصلہ افزائی، ایک روزگار کا موقع، ایک طالب علم کی فیس، ایک بیمار کی دوا، ایک یتیم کی کفالت، یہ سب صدقے کی مختلف شکلیں ہیں۔ انسانیت کی خوبصورتی بھی یہی ہے کہ دینے کے لیے صرف دولت ضروری نہیں، دل کا وسیع ہونا بھی کافی ہے۔لیکن ہمیں ایک اور حقیقت کا سامنا کرنا ہوگا۔ غربت کا خاتمہ صرف مخیر افراد کی ذمہ داری نہیں، یہ ریاست، معاشرے اور فرد تینوں کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ ایک فلاحی ریاست وہ نہیں جو صرف امداد تقسیم کرے بلکہ وہ ہے جو ایسے مواقع پیدا کرے جہاں لوگ امداد کے محتاج نہ رہیں۔ عزتِ نفس کے ساتھ روزگار، معیاری تعلیم، بنیادی صحت اور انصاف پر مبنی نظام غربت کے خلاف سب سے مضبوط ہتھیار ہیں۔
بدقسمتی سے ہم اکثر غربت کو غریبوں کا مسئلہ سمجھ لیتے ہیں، حالانکہ یہ پورے معاشرے کا مسئلہ ہے۔ اگر ایک بچہ تعلیم سے محروم رہتا ہے تو صرف اس کا نقصان نہیں ہوتا، پورا معاشرہ ایک ممکنہ استاد، سائنس دان، شاعر یا مفکر کھو دیتا ہے۔ اگر ایک نوجوان بے روزگار رہتا ہے تو صرف اس کی زندگی متاثر نہیں ہوتی، معاشی ترقی کا ایک پہیہ رک جاتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ صدقہ و خیرات کا فلسفہ صرف لینے والے کی مدد نہیں کرتا بلکہ دینے والے کی اصلاح بھی کرتا ہے۔ یہ انسان کو یاد دلاتا ہے کہ دولت ہمیشہ اس کی ذاتی کامیابی کا نتیجہ نہیں ہوتی۔ اس میں معاشرے کا حصہ بھی شامل ہوتا ہے، مواقع کا حصہ بھی اور خدا کی عطا بھی۔ جب یہ شعور پیدا ہوتا ہے تو تکبر کی جگہ عاجزی اور خود غرضی کی جگہ ہمدردی آ جاتی ہے۔
سوچیے، اگر ہر صاحبِ استطاعت شخص صرف ایک خاندان کی خودکفالت کی ذمہ داری لے لے، اگر ہر تاجر ایک نوجوان کو روزگار سکھا دے، اگر ہر تعلیمی ادارہ چند مستحق بچوں کی کفالت کر لے، اگر ہر محلہ اپنے ضرورت مندوں کی خبر رکھے، تو کیا غربت کی تصویر کچھ مختلف نہیں ہو جائے گی؟اصل انقلاب نعروں سے نہیں، رویوں سے آتا ہے۔ بھوک کے خلاف جنگ صرف حکومتی منصوبوں سے نہیں جیتی جا سکتی، یہ دِلوں کے بدلنے سے جیتی جاتی ہے۔ جب انسان دوسروں کے درد کو اپنا درد سمجھنے لگے تو معاشرے بدلنے لگتے ہیں۔آج بھی وقت ہمارے دروازے پر دستک دے رہا ہے۔ کیا ہم ان لوگوں میں شامل ہوں گے جو خالی دسترخوانوں کے پاس سے گزر گئے اور نظریں چرا لیں؟ یا ان لوگوں میں جنہوں نے اندھیروں میں ایک چراغ جلانے کی کوشش کی؟کیونکہ تاریخ عمارتوں، سڑکوں اور دولت کے انباروں کو زیادہ دیر یاد نہیں رکھتی۔ تاریخ ان ہاتھوں کو یاد رکھتی ہے جنہوں نے کسی گرتے ہوئے انسان کو سہارا دیا ہو اور شاید انسان کی اصل عظمت بھی یہی ہے کہ وہ اپنے حصے کی روشنی دوسروں تک پہنچا دے۔کہیں ایسا نہ ہو کہ کل جب ہم اپنے اعمال، اپنی کامیابیوں اور اپنی مصروف زندگیوں کا حساب کر رہے ہوں تو ہمارے سامنے وہی سوال کھڑا ہو جائے جو آج ایک بھوکے بچے کی آنکھوں میں موجود ہےکہ “تمہارے شہر میں اتنی روشنی تھی، پھر میرے حصے میں اندھیرا کیوں آیا؟”
یہ سوال صرف اس بچے کا نہیں، ہمارے ضمیر کی سب سے بڑی دستک ہے۔


