ایف سی کالج پاکستان کا اہم تعلیمی ادارہ ہے جس کی ڈیڑھ سو سالہ شاندار تاریخ ہے،اس ادارے نے پاکستان کے تمام شعبوں میں نمایاں لوگ دیے،صحافت ہو یا سیاست،بیوروکریسی ہا یا پھر فارن سروس،یہاں سے پڑھے ہوئے طالب علم پوری دنیا میں اپنے وطن اور ملت کا نام روشن کر رہے ہیں۔اس ادارے کا نام سنتے ہی آنکھیں ادب اور محبت سے جھک جاتی ہیں،لوگ اس ادارے سے جڑنا اور یہاں اپنے بچوں کو تعلیم دلانا اعزاز سمجھتے ہیں مگر پنجاب حکومت کے ایک فیصلے نے پوری قوم کو گہرے کرب اور ندامت سے دوچار کر دیا ہے،یہ فیصلہ ہے ایف سی کالج کے تاریخی ایونگ ہال کا جو نیلا گنبد کے پاس موجود ہے۔پنجاب حکومت نے بدھ کے روز ایف سی کالج کی انتظامیہ کو چوبیس گھنٹے کا وقت دیتے ہوئے اس تاریخی عمارت کو خالی کرنے کا حکم دیا ہے،یہ حکم وہاں زیر تعلیم ہزاروں طالب علموں،اساتذہ کرام اور انتظامیہ کے لیے باعث تشویش بنا اور تکلیف دہ بھی،یہ زمین ایف سی کالج کے پاس 2015ء سے ہے یعنی لیز پر،ایک تعلیمی ادارے کے لیے دی گئی زمین،واپس لینا کہاں کی دانش مندی ہے۔
شہباز شریف کی تعلیم دوستی کے واقعات ہم برسوں سنتے آئے ہیں،آج کہاں گئی وہ تعلیم دوستی اور تاریخی ورثے کے حفاظت کی ذمہ داری۔خالی عمارتیں تاریخی ورثہ نہیں ہوتیں بلکہ ان عمارتوں کا شاندار ماضی اسے تاریخی بناتا ہے،ایونگ ہال ایک اہم ترین تاریخی اور تہذیبی ورثہ ہے اور سب سے بڑی بات یہ پاکستان میں اقلیت کے تحفظ کی علامت ہے،اگر آج پنجاب حکومت اس عمارت پر قبضہ کرتی ہے یا منہدم کرتی ہے،ہم پوری دنیا میں کیا منہ دکھائیں گے۔ حکومت کا یہ اعتراض ہے کہ ایونگ ہال کی زمین تعلیمی مقاصد کے لیے لیز پر دی گئی تھی،ایک تو یہ زمین 2015ء کے بعد ان مقاصد کے لیے استعمال نہیں ہو رہی اور دوسرا 1975ء کے بعد سے لیز کرایہ بھی ادا نہ کیا گیا۔یہ دونوں باتیں ایسی تو نہیں جن پر ٹیبل ٹاک نہ ہو سکے یا جن پر دونوں فریقین بات نہ کر سکیں،ایونگ ہال میں ایف سی کالج کا ہاسٹل ہے اور یہ بلاشبہ زیر تعلیم طالب علموں کا ہاسٹل ہے اور جہاں تک بات کرایہ نہ ادا کرنے کی ہے تو اس پر بھی ادارے کی انتظامیہ کا موقف سننا اور اس کو افہام و تفہیم سے حل کرنے میں کیا مضائقہ ہے۔
ایف سی کالج یونیورسٹی انتظامیہ کا موقف بھی سنا جانا چاہیے،ریکٹر ڈاکٹر جوناتھن ایڈلٹن نے جمعہ کے روز ایونگ ہال کے سامنے گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا کہ ایونگ ہال کی تاریخی عمارت ایک طویل عرصے سے ایف سی کالج کے کیمپس کا حصہ رہی ہے،اس عمارت کا ابتدائی لیز معاہدہ 1915ء میں طے پایا جس کے بعد متعد دباراس معاہدے کی تجدید ہوئی اور تازہ ترین توسیع کے مطابق یہ معاہدہ 2040ء کی دہائی تک موثر ہے،جناب ریکٹر کا یہ بھی کہنا تھا کہ’’ بدھ کے روز ہمیں ایک ٹیلی فون کے ذریعے اطلاع دی گئی کہ چوبیس گھنٹے کے اندر تمام سامان کہیں اور منتقل کیا جائے۔کالج انتظامیہ ہر طرح کا تعاون کرنے کو تیار ہے مگر یہ سب فریقین کے درمیان مذاکرات اور گفتگو سے ہونا چاہیے ،جلد بازی میں عمارت مسمار کرنے میں کسی فریق کا بھی فائدہ نہیں ‘‘۔جلد بازی میں کیے گئے اس فیصلے سے حکومتی انا کی تسکین تو شاید ہو جائے مگر تعلیمی ادارے کو اس سے شدید نقصان پہنچ سکتا ہے کیوں کہ اس وقت ایونگ ہال کی عمارت میں کروڑوں کا سامان موجود ہے،انتظامیہ کو نہ تو مناسب وقت دیا جا رہا ہے اور نہ ہی ان سے مثبت مذاکرات کیے جا رہے ہیں اور پنجاب حکومت کا یہی رویہ مختلف حلقوں میں تشویش کا باعث بن رہا ہے۔
لاہور کنزرویشن سوسائٹی کلیکٹیو اور ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان سمیت ملک بھر کی تنظیموں،فارمن ایلومنائی اور اساتذہ کی طرف سے اس قبضے پر گہری تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے ،اس وقت ملک بھر سے ایک ہی آواز اٹھ رہی ہے کہ ایک تاریخی تعلیمی ادارے کو نقصان سے بچایا جائے اور یک طرفہ فیصلے کی بجائے کوئی متوازن راہ نکالی جائے جس سے فریقین کا نقصان بھی نہ ہوں اور ایک اہم ترین تعلیمی ادارے کی انتظامیہ کو تشویش سے نکالا جائے،تاریخی ورثے کی سے کسی کو انکار نہیں مگر تعلیمی اداروں کے معاملے میں اس پالیسی میں نرمی ضروری ہے اور ایف سی کالج کے شاندار ڈیڑھ سو سالہ تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ ایسے ادارے ملک و قوم کی ترقی اور کامیابی میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں اور اگر حکومتیں ایسے اداروں کے ساتھ مذاکرات یا بات نہیں کریں گی اور ان پر اپنے احکامات ذبردستی مسلط کریں گی تو دنیا بھر میں پاکستان کی شناخت کیسی ہو گی؟ مریم نواز ایک طرف مسیحی برادری کے دکھ کو اپنا کہتی ہیں اور دوسری طرف ایونگ ہال کا مسئلہ،کیا یہ کھلا تضاد نہیں ہے؟پاکستان کی ترقی اورخوشحالی میں جتنا کردار ہمارا ہے،اتنا ہی مسیحی برادری کا بھی ہے،یہ لوگ بھی اس ملک سے اتنی ہی محبت کرتے ہیں،جتنے ہم سب کرتے ہیں اور اگر ایسی صورت حال میں ہم ایونگ ہال کو واپس لیتے ہیں یا اس معاملے کو محبت کی بجائے محض غصے اور انا کی آنکھ سے دیکھتے ہیں تو آپ خود سوچیں یہ رویہ قابل مذمت نہیں ہوگا،ہم بین المذاہب ہم آہنگی کے پرچارک ہیں اور وطن عزیز میں تمام اقلیتوں کو تحفظ اور حقوق دینے کی بات کرتے ہیں اور پھر ایف سی کالج تو سب کا سانجھا ادارہ ہے،یہاں زیر تعلیم طلبہ مسلمان بھی ہیں اور مسیحی و ہندو بھی،یہاں کے سٹاف میں سینکڑوں مسلمان ہیں اور مسیحی بھی،ہم اس ادارے اور ایونگ ہال کو تعصب یا طاقت کی آنکھ سے نہیں محبت اور رواداری کی آنکھ سے دیکھنا ہوگا اور تمام اختلافات،تحفظات اور معاملات کو افہام و تفہیم سے حل کرنا ہوں گے اور اگر یہ معاہدہ2040ء تک موجود ہے حکومت ِ وقت کو ہوش کے ناخن لینے چاہیے۔
مجھے یہاں س ۔ش ۔عالم کے کچھ اشعار یاد آ گئے:
جن سے منسوب ہے تاریخ رواداری کی
آندھیو! ایسے درختوں کو گرا مت دینا
جو مکاں لمس شناسائی کا ہنر جانتے ہیں
ان کو دستک کی ضرورت ہے صدا مت دینا


