پوسٹ بجٹ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے وزیر خزانہ نے بتایا کہ مرکز نے فیصلہ کیا ہے کہ پاکستان کے دفاعی اخراجات کی مد میں صوبے تین سالہ انتظام کے تحت مرکز کو گرانٹس فراہم کریں گے۔ یاد رہے کہ صوبے یہ گرانٹس این ایف سی ایوارڈ اور اپنی آمدن سے مرکز کو فراہم کریں گے۔ یہ رقم ان پیسوں سے الگ ہوگی جو صوبے پہلے ہی گزشتہ دو سال سے اپنے بجٹ سے مرکز کو فراہم کر رہے ہیں۔ صوبے مرکز کو دفاعی اور دیگر اخراجات پورے کرنے کے لیے اپنے بجٹ میں سالانہ ترقیاتی پروگرام، تعلیم، صحت اور دیگر شعبوں پر کٹ لگا کر فنڈز فراہم کر رہے ہیں۔ مرکز خود بھی اپنے سالانہ ترقیاتی پروگرام کو اس سال منجمد کر چکا ہے، جبکہ گزشتہ سال اس میں 50 فیصد کٹوتی کی گئی تھی۔
اس پریس کانفرنس میں وزیر خزانہ نے بتایا کہ حکومت کارپوریٹ سیکٹر کے منافع پر لگائے گئے سپر ٹیکس سے پاکستان کے ایکسپورٹ سیکٹر کو مکمل طور پر مستثنیٰ کر رہی ہے۔ حکومت اس سے پہلے پاکستان کے صنعتی شعبے کو بجلی کی مد میں 512 ارب روپے کی سبسڈی دے چکی ہے، جو دراصل بجلی کے صارفین پر فکسڈ چارجز لگا کر فراہم کی گئی۔
تین ٹریلین روپے کے دفاعی بجٹ میں مسلح افواج کی تنخواہیں اور پنشن شامل نہیں ہیں، جو مشرف دور سے سویلین بجٹ سے ادا کی جا رہی ہیں۔ اسی طرح گرین کمپنی کو دی جانے والی گرانٹس اور سپلیمنٹری گرانٹس بھی اس میں شامل نہیں ہیں، بلکہ یہ بھی مرکز اور صوبے الگ سے فراہم کرتے ہیں۔
پاکستان کی مسلح افواج فوجی فاؤنڈیشن کے تحت تقریباً 82 کمرشل اور کاروباری کمپنیاں چلا رہی ہیں، اور یہ تمام کمپنیاں انکم ٹیکس اور سپر ٹیکس سے مستثنیٰ ہیں۔ ان کا آڈٹ بھی آڈیٹر جنرل آف پاکستان کے دائرہ اختیار میں نہیں آتا۔
وزیر خزانہ نے قوم کو یہ بھی بتایا کہ حکومت کم از کم اگلے سال تک پٹرولیم لیوی اور بجلی، تیل اور گیس پر عائد دیگر ٹیکسز میں کوئی کمی نہیں کرے گی۔
اس وقت پاکستان اپنی مجموعی قومی پیداوار (GDP) کا تقریباً 52 فیصد قرضوں کی ادائیگی پر خرچ کر رہا ہے۔ اگر دفاعی اخراجات، قرضوں کا دفاعی حصہ، فوجی کمپنیوں کو دی گئی ٹیکس چھوٹ، تنخواہیں، پنشن اور دیگر گرانٹس کا مکمل حساب عوام کے سامنے لایا جائے، تو یہ واضح ہو سکے گا کہ ریاستی آمدنی کا کتنا حصہ عسکری و بیوروکریٹک ڈھانچے پر خرچ ہو رہا ہے۔
باقی 48 فیصد آمدنی میں سے اگر سویلین حکومت کے 21 تا 26 فیصد اخراجات نکال دیے جائیں تو تقریباً 22 تا 27 فیصد رقم بچتی ہے، جس سے ترقیاتی منصوبے، تعلیم، صحت، رہائش، ٹرانسپورٹ، ریلوے، صنعت، ٹیکنالوجی، ماحولیات اور سیاحت جیسے اہم شعبے چلائے جاتے ہیں۔
دوسری طرف صوبائی حکومتوں نے آج تک این ایف سی ایوارڈ کو پی ایف سی ایوارڈ میں مؤثر انداز میں تبدیل نہیں کیا اور نہ ہی یہ واضح کیا کہ اضلاع میں فنڈز کس بنیاد پر تقسیم کیے جاتے ہیں۔ مثال کے طور پر، پنجاب میں جنوبی پنجاب کی آبادی تقریباً 33 تا 35 فیصد ہے، مگر اسے بجٹ میں محض 20 فیصد فنڈز دیے گئے، جو اس سے پہلے سال سے بھی کم ہیں۔
اگر غربت، پسماندگی، تعلیم اور صحت کے اشاریوں کو مدنظر رکھا جائے تو جنوبی پنجاب ان شعبوں میں شدید پسماندہ ہے، مگر وسائل کی تقسیم میں اسے نظرانداز کیا جاتا ہے۔ یہی صورتحال دیگر صوبوں—سندھ، بلوچستان، خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر—میں بھی کسی نہ کسی حد تک موجود ہے، بلکہ بلوچستان کی حالت سب سے زیادہ تشویشناک ہے۔
مثال کے طور پر، کوئٹہ کے سول ہسپتال میں ایک تیزاب گردی کا شکار خاتون ڈاکٹر کا علاج ممکن نہ ہو سکا اور اسے کراچی منتقل کرنا پڑا۔ یہ صورتحال اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ بنیادی صحت کی سہولیات تک ناکافی ہیں۔
یہ تمام حالات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ملک میں وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم، کمزور گورننس اور طاقت کے غیر متوازن ڈھانچے نے عوامی مسائل کو بڑھا دیا ہے۔ نتیجتاً مختلف علاقوں میں عوامی حقوق کی تحریکیں ابھر رہی ہیں۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ عوامی نمائندہ قوتیں منظم ہو کر ایک قومی سطح کی مشترکہ حکمت عملی اختیار کریں، تاکہ حقیقی جمہوری نمائندگی اور عوامی حقوق کا حصول ممکن بنایا جا سکے۔ جب تک اقتدار حقیقی عوامی نمائندوں کے ہاتھ میں نہیں آتا، تب تک استحصالی ڈھانچے میں تبدیلی ممکن نہیں۔
عوام اور ان کے نمائندوں کو فعال سیاست کے ذریعے ہی اس نظام میں تبدیلی لانا ہوگی،یہی نجات کا واحد راستہ ہے۔


