تعارفی نوٹ:
یولیسس کا نام سنتے ہی ہمارے ادبی حلقوں میں عموماً دو طرح کے لوگ فوراً نمودار ہوجاتے ہیں۔ ایک وہ جنہوں نے اسے پڑھا نہیں، مگر اس کی عظمت پر ایسا پختہ ایمان رکھتے ہیں جیسے ناول نہیں، کسی مقدس صحیفے کی گواہی دے رہے ہوں؛ دوسرے وہ جنہوں نے اس کے دو چار صفحے پڑھ کر کتاب بند کردی اور اب اس یقین کے ساتھ پھرتے ہیں کہ جیمس جوائس نے ناول نہیں لکھا، قاری سے کوئی پرانا ذاتی بدلہ لیا ہے۔ ان دونوں جماعتوں کے درمیان وہ بے چارہ قاری کہیں دکھائی نہیں دیتا جو نہ عقیدت کی دھونی رمانا چاہتا ہے، نہ دشواری کے پہلے پتھر سے ٹھوکر کھا کر واپس لوٹنا چاہتا ہے؛ وہ صرف یہ جاننا چاہتا ہے کہ آخر اس نثر کے اندر ایسا کیا ہے جس نے ایک دن، ایک شہر اور چند معمولی انسانوں کی روزمرہ زندگی کو جدید ناول کی سب سے بڑی مہمات میں بدل دیا۔
اردو میں یولیسس کا ذکر تو بہت ہوا، مگر اسے اصل انگریزی متن کے ساتھ بیٹھ کر پڑھنے، اس کے جملوں کی گرہیں کھولنے، اس کی آوازوں کو سننے، اس کے لفظی شرارت خانوں میں داخل ہونے اور اس کی نحوی بھول بھلیوں میں راستہ بنانے کا کام بہت کم ہوا۔ یہاں عموماً یا تو جوائس کو اتنی بلندی پر بٹھا دیا جاتا ہے کہ قاری گردن اٹھاتے اٹھاتے تھک جائے، یا اسے اس قدر دشوار قرار دے دیا جاتا ہے کہ کتاب کھولنے سے پہلے ہی تعزیتی مجلس منعقد ہوجائے۔ حالاں کہ یولیسس کو سمجھنے کے لیے سب سے پہلے اس کے گرد قائم کی گئی اسی ہیبت کو ذرا ایک طرف رکھنا ضروری ہے۔ جوائس مشکل ضرور ہے، مگر وہ محض مشکل ہونے کے لیے مشکل نہیں۔ اس کی دشواری کے پیچھے زبان، تاریخ، مذہب، اسطورہ، روزمرہ جسم، شہری زندگی، یادداشت، مزاح اور انسانی شعور کا ایک نہایت منظم مگر بظاہر منتشر نظام کام کرتا ہے۔
اس سطر بہ سطر قرأت کو میں نے ایک روایتی شرح یا خشک تدریسی کتاب کی صورت دینے کے بجائے تھیٹریکل اور سینمائی روپ میں مرتب کیا ہے۔ اس طرزِ پیشکش کی تشکیل میں انیس ناگی، مظفر علی سید اور احمد حسام کے ساتھ یولیسس کی قرأت، جیمس جوائس کے فنی طریقِ کار، ترجمے کے مسائل، یورپی جدیدیت، اطالوی و انگریزی تعبیرات اور ناول سے متعلق مختلف مباحث کے دوران تیار ہونے والے میرے نوٹس نے بنیادی مدد فراہم کی ہے۔ ان اہلِ علم سے ہونے والی گفتگوؤں نے مجھے بار بار یہ احساس دلایا کہ یولیسس کو صرف لغت اور حاشیے کی مدد سے نہیں پڑھا جاسکتا؛ اس کی نثر کو بولتے، حرکت کرتے، اپنا چہرہ بدلتے اور ایک آواز سے دوسری آواز میں منتقل ہوتے ہوئے دیکھنا بھی ضروری ہے۔
یہی سبب ہے کہ اس قرأت میں کلاس روم محض کلاس روم نہیں رہتا۔ کبھی وہ سینڈی کوو کا مارٹیلو ٹاور بن جاتا ہے، کبھی ڈبلن کی گلی، کبھی کلیسا، کبھی شراب خانہ، کبھی اخباری دفتر، اور کبھی کسی کردار کے ذہن کی تاریک راہداری۔ یہاں پروفیسر ڈی۔ ایچ۔ لارنس کی ایک تخلیقی اور ڈرامائی شبیہ اپنے طلبہ و طالبات کو جوائس پڑھاتی ہے۔ لارنس اس ناول کا سرکاری ترجمان نہیں، نہ جوائس کا عاجز مرید۔ وہ اس سے الجھتا ہے، اس پر اعتراض کرتا ہے، کبھی اس کی ذہنیت سے اکتا جاتا ہے اور کبھی کسی ایک جملے کے سامنے ٹھہر کر مان لیتا ہے کہ یہاں زبان نے واقعی زندہ جسم اختیار کرلیا ہے۔ اس فرضی تدریسی تصادم سے مقصود دو بڑے جدید ادیبوں کے درمیان کوئی مصنوعی مقابلہ کھڑا کرنا نہیں، بلکہ جوائس کی نثر کو ایک ایسی متحرک تنقیدی فضا میں رکھنا ہے جہاں سوال، اختلاف اور حیرت ساتھ ساتھ چل سکیں۔
اس سلسلے میں ناول کی ہر عبارت کو اصل انگریزی متن کے ساتھ پڑھا جائے گا۔ الفاظ کی لغوی اور سیاقی معنویت، گرائمر، نحوی ساخت، صوتی آہنگ، مقامی آئرش استعمال، لاطینی و یونانی فقروں، کلیسائی اصطلاحات، ادبی اقتباسات، اساطیری حوالوں اور جوائس کی دانستہ لفظ شکنی کو الگ الگ کھولا جائے گا۔ یہ بھی دیکھا جائے گا کہ کوئی جملہ عام انگریزی ترتیب سے کیوں ہٹتا ہے، کوئی لفظ اچانک کیوں بگڑ جاتا ہے، کوئی مذہبی عبارت بازار، تجربہ گاہ یا غسل خانے کی زبان میں کیسے داخل ہوتی ہے، اور ایک معمولی آواز کسی کردار کے شعور میں تاریخ، اسطورے اور ذاتی یادداشت کا پورا سلسلہ کیوں جگا دیتی ہے۔
ترجمے کو بھی یہاں کسی پولیس محرر کی طرح اصل عبارت کے پیچھے چلنے پر مجبور نہیں کیا جائے گا۔ لفظی، بامحاورہ اور ادبی ترجمے کے امکانات الگ الگ سامنے رکھے جائیں گے، تاکہ قاری خود دیکھ سکے کہ ایک زبان سے دوسری زبان میں جاتے ہوئے معنی کہاں محفوظ رہتا ہے، آواز کہاں چھوٹ جاتی ہے، مزاح کہاں مرجاتا ہے اور کبھی مترجم کو اصل کے ساتھ وفاداری نبھانے کے لیے لفظی وفاداری سے انحراف کیوں کرنا پڑتا ہے۔ جوائس کے ہاں ایک لفظ بسا اوقات لغت سے کم اور اپنے تلفظ، املا، ثقافتی حافظے اور دوسرے لفظوں سے پوشیدہ رشتے کے ذریعے زیادہ معنی پیدا کرتا ہے؛ اس لیے صرف اردو مترادف لکھ دینا اکثر ترجمہ نہیں، ادبی واردات کے مقام سے ثبوت مٹا دینا ہوتا ہے۔
اس کوشش کا بنیادی مقصد اردو ادب کے اس سنجیدہ قاری کی مدد کرنا ہے جو یولیسس کو اس کے اصل انگریزی متن کے ساتھ پڑھنا چاہتا ہے، مگر ہر دوسرے جملے پر لغت، مذہبی انسائیکلوپیڈیا، یونانی اساطیر، آئرش تاریخ اور جوائس کے شارحین کی الگ الگ عدالتوں میں حاضر ہونے کی مہلت نہیں رکھتا۔ یہ قرأت انگریزی زبان و ادب کے طالب علموں کے لیے بھی بے حد مفید ہوسکتی ہے، خصوصاً ان طلبہ و طالبات کے لیے جو جدید ناول، شعور کی رو، آزاد بالواسطہ اسلوب، بین المتونیت، صوتی نثر، نوآبادیاتی زبان، ترجمہ اور مذہبی طنز کے مباحث کو محض تعریفوں کی صورت میں نہیں بلکہ متن کے اندر وقوع پذیر ہوتے ہوئے دیکھنا چاہتے ہیں۔
یہ نہ تو یولیسس کی آخری شرح ہے، نہ جوائس کے ہر لفظ پر کوئی الہامی فیصلہ۔ ایک عظیم متن کی یہ بدقسمتی ہوگی کہ اس کی آخری اور قطعی تشریح لکھی جاسکے۔ یہ محض ایک ایسی رفاقت کی کوشش ہے جس میں قاری کو دشوار راستے پر اکیلا نہ چھوڑا جائے۔ جہاں معنی واضح ہے، اسے واضح کیا جائے؛ جہاں اختلاف ہے، اسے اختلاف ہی رہنے دیا جائے؛ اور جہاں جوائس نے جان بوجھ کر دھند پیدا کی ہے، وہاں شارح اپنی طرف سے سورج نکالنے کی کوشش نہ کرے۔
اب پردہ اٹھتا ہے۔
صبح کی ہلکی ہوا میں ایک زرد چوغہ لہرا رہا ہے۔ ایک فربہ نوجوان صابن کے جھاگ کا پیالہ اٹھائے سیڑھیوں کے دہانے سے نمودار ہوتا ہے۔ پیالے پر آئینہ اور استرا باہم صلیب بنائے پڑے ہیں۔ وہ اسے قربان گاہ کے جام کی طرح بلند کرتا اور لاطینی میں اعلان کرتا ہے:
Introibo ad altare Dei.
اور اسی ایک جملے کے ساتھ حجامت، عبادت، مسخرا پن، جسم، تاریخ اور زبان کا وہ کھیل شروع ہوجاتا ہے جسے دنیا یولیسس کے نام سے جانتی ہے۔
(جاری ہے )


