رینوویشن ۔۔صادقہ نصیر رانا

رینو ویشن ۔۔
دیکھ لیا بہت دیر تک ایک خوش گمان، خوش جمال؛
منظر ،پس منظر۔
خوبصورت تھا بہت ،
اچھا بھی تھا۔
کٹ گیا ،ہٹ کر نظروں سے؛
نظر میں ٹھہر گیا۔
اب پامال رہ گذاروں سے پاتال رستوں کی دلدل موڑ مڑنے کا اشارہ دیتی ہے ۔۔
پاتال رستوں کو فاصلے درکار ہیں۔
اب تخیل مائل بہ پرواز ہے۔
رستوں پر سے اپنے قدموں کے زخم مندمل کرتے ہوئے؛
چلو اسی پرانے منظر کو نئے گمان و معنی سے دیکھیں۔
یا پھر کوئی نیا منظر ڈھونڈتے ہیں ۔
تازہ بستی میں تازہ مکان اور رہنے کا؛
جواز ڈھونڈتے ہیں ۔
زندگی تو یونہی بسر ہوگی۔۔
اور خوب ہوگی پروان حیات نو۔
ہزار ہا شجر سایہ دار اور مسافر نواز بہتیرےہیں۔
ایک چراغ کہنہ سے ذرا سی آگ لے کر۔۔
نیا چراغ جلاتے ہیں۔۔
سیاہی کا نقش وہیں پس طاق دیوار پر چھوڑتے ہیں۔۔۔
پینٹنگ کی طرح۔۔۔۔۔
امید بہار پر
پھولوں کی رہگزر پر ایک
نیا جہاں بسانے کے،
نئے گماں کے امکاں ابھی باقی ہیں ۔
وقت کی بھی یہ آواز ہے۔
نئے دل نئے دماغ کے ساتھ،
نئے سلیقےنئے چلن سیکھتے ہیں۔۔
ایک نہر تازہ سے بہاو
کے جھرنے اور
آبیاری کے نئے نسخے ساتھ لے کر
نئے غنچے ،نئے پتے، نئی ٹہنیاں ؛ نئی کھاد کے ساتھ اگاتے ہیں ۔
ہم کمیاب و نایاب ہی سہی ۔
تعمیر نو لازم ہے ۔
۔
اپنا تبصرہ لکھیں